رضی الدین رضیسرائیکی وسیبلکھاری

ملتان مرا رومان : یادیں (33 ) ۔۔ رضی الدین رضی

ملتانی ہنر مندوں کے محلے

کسی بھی شہر کی تہذیب کوسمجھنے کےلئے یہ بات بھی بہت اہم ہے کہ وہاں ہنرمندوں کی تعداد کتنی تھی۔ملتان کے مختلف محلے آج بھی اس بات کے شاہد ہیں کہ یہ ہنرمندوں کاشہر تھا۔یہ ہنر مند محنت مشقت کرتے تھے اور اپنے ہنر کو اپنی روزی کاذریعہ بناتے تھے شاید ہی کسی شہر میں اتنے بہت سے محلے ہنرمندوں کے نام سے موسوم ہوں جتنے ملتان میں ہیں۔سرسری جائزہ بھی لیں تو شہر میں آج بھی بہت سے محلے ایسے موجودہیں جو اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ان محلوں میں پہلے ایک ہی پیشے سے وابستہ افراد رہتے تھے۔جیسے کئی علاقے مختلف ذاتوں اور قوموں کے حوالے سے پہچانے جاتے ہیں اسی طرح ملتان کے یہ محلے اپنے ہنرمندوں کی وجہ سے آج بھی معروف ہیں۔

کاشی گروں ، کمان گروں اور کمہاروں کی آبادیاں

کاشی گری اس شہر کا قدیم فن ہے۔اس فن سے وابستہ لوگوں کی اکثریت محلہ کاشی گراں میں رہتی تھی جو آج بھی ملتان میں موجودہے۔محلہ کمنگراں ان ہنرمندوں کی یاد دلاتاہے جو کمانیں بناتے تھے۔کمان گراں سے تبدیل ہو کر یہ محلہ کمنگراں کہلانے لگا۔ملتان کے دوعلاقے کمہارمنڈی اور چوک کمہاراں والا برتن سازوں کی یاددلاتے ہیں۔محلہ سوتری وٹ یہ ظاہر کرتاہے کہ یہاں سوت بنانے والے کاریگر رہتے تھے۔محلہ باغ ویڑہ باغبانی سے وابستہ افراد کامحلہ تھا۔قصاب پورہ تو ظاہرہے قصابوں کا محلہ ہوگا۔گلی بن لوہاراں لوہاروں کی یاد دلاتی ہے۔تو صابن والی گلی میں صابن سازرہتے ہونگے۔

نشاط روڈ اور کفناں والی گلی

ایک گلی ایسی بھی ہے جس کی مثال شاید کسی اور شہر میں نہیں ملتی۔کفناں والی گلی ظاہرکرتی ہے کہ پانچ ہزار سال پرانے شہر میں کفنوں کی ضرورت اتنی بڑی تعداد میں پڑتی رہی کہ کفن تیار کرنے والوں کا ایک پورا محلہ آباد ہوگیا۔اورحرم گیٹ کے باہر نشاط روڈ تواپنے نام سے ہی ظاہر کرتا ہے کہ یہ علاقہ عیش و نشاط کا مرکز ہواکرتاتھا۔طبلے اورگھنگھروﺅں کی آوازیں سرشام یہاں سنائی دیتی تھیں ۔یہاں موسیقار بھی تھے اور گلوکاربھی۔یہ سب فنکار ،سب موسیقار،سب دستکار ،سب ہنرمند اپنے اپنے فن اور اپنے اپنے ہنر کے ذریعے ہردور میں اس شہر کے تہذیب اور تمدن کو نیا روپ دیتے رہے ۔

زبانوں کا ملاپ اور سرائیکی زبان کی تشکیل

پانچ ہزار سال کے نشیب وفراز پرنظرڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر دور میں مختلف مذاہب ،مختلف تہذیب ،مختلف ثقافت،مختلف رسوم ورواج کے باوجود شہر کی ایک مجموعی معاشرت اورایک مجموعی تہذیب بھی تشکیل پائی۔اس تہذیب پرمختلف مذاہب کے ساتھ ساتھ اسلامی تہذیب وتمدن اور ثقافت کے گہرے اثرات موجودہیں۔مختلف قوموں کے ملاپ نے یہاں کی معاشرتی زندگی کو ایک نیا رخ دیا۔زبانوں کے ادغام نے اس خطے میں بولی جانے والی سب سے بڑی زبان سرائیکی پربھی اثرات مرتب کیے۔

آم کی مٹھاس اور غلاموں کی عاجزی

آم جیسا پھل یہاں کے لہجے میں مٹھاس لایا۔گردگرما گدا وگورستان کی روایت نے یہاں کے باسیوں کو عاجزی اور انکساری سے روشناس کرایا۔مختلف ادوار میں حملہ آوروں کی یلغار کا مقابلہ کرنے اور محکوم رہنے والے آج بھی ہاتھ جوڑ کر اور گھٹنوں کو ہاتھ لگا کر سلام کرتے ہیں۔اگرچہ اسے خلوص اوراحترام کی روایت قراردیاجاتا ہے لیکن طویل غلامی کی تاریخ پر نظررکھنے والے اسے اسی زاویے سے دیکھتے ہیں۔

دریائے چناب سے منسوب محبت اور بے وفائی کی داستان

ایک بڑی آبادی آج کے دورمیں بھی وڈیروں ،جاگیرداروں اور مخدوموں کی غلام ہے۔دریائے چناب نے ایک الگ انداز میں شہر کی تہذیب و ثقافت پر اثرات مرتب کیے۔اس دریا سے وابستہ لوک کہانیوں اور روایات پر نظرڈالیں تو چناب محبت کا دریا ہے۔کہاجاتا ہے یہ محبت ،یہ خلوص ہمیں ملتانیوں کی مزاج میں بھی ملتا ہے۔لیکن اسی دریا کے ساتھ بے وفائی کی روایت بھی تومنسلک ہے کہ جب بات وفاکی آئے تو ساتھ ہی کہیں بے وفائی بھی جڑی ہوتی ہے۔سو یہ بے وفائی ہمیں ہمیشہ سے اس حکمران طبقے میں دکھائی دی جس نے ہردور میں حملہ آوروں کے ہاتھوں ملتانیوں کا سودا کیا اس کے عوض جاگیریں اور خلعتیں حاصل کیں اوریہاں کے عوام ہردورمیں محکوم ہی رہے۔

رواداری ، ہم آہنگی اور امن کی روایت

محکومی کایہ سفر پانچ ہزار سال سے جاری ہے۔اس وقت سے جب ملتان کی حدود منصورہ تک پھیلی تھیں اورجب اسے حضرت داتا گنج بخش نے یکے از مضافات لاہور قراردیاتھا۔تہذیب اور ثقافت کے ان رنگوں نے ملتانیوں میں رواداری اور ہم آہنگی کو فروغ دیا ۔ اسی شہر میں شا ہ شمس سبز واری جیسی روحانی ہستی کا قیام رہا جن کے عقیدت مندو ں میں صرف مسلمان ہی نہیں سکھ، ہندو اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے بھی شامل رہے ۔صوفیا نے امن کا جو درس دیا یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ ملتان دہشت گردی کے اس ماحول میں بھی ایک پر امن شہر ہے ۔یہاں کے لوگ امن اور محبت کی روایات کو آج بھی فروغ دے رہے ہیں
( جاری )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker