رضی الدین رضیسرائیکی وسیبکالمکتب نمالکھاری

ڈاکٹر مقصود زاہدی ۔۔میری محبوب شخصیت ( وفات : 6 نومبر 1996 ء ) ۔۔ رضی الدین رضی

مجھے اپنے مضمون کا آغاز 1956 ء کے اس واقعے سے کرنا ہے جو ڈاکٹر انور زاہدی نے اپنی کتاب ’’سید مقصود زاہدی- شخصیت و فن‘‘ کے صفحہ نمبر 92 پر تحریر کیا ہے ۔ 1956ء میں انور زاہدی چھٹی یا ساتویں جماعت کے طالبعلم تھے۔ ملتان میں کل پاک و ہند مشاعرہ منعقد ہوا جس میں شرکت کے لیے جوش ملیح آبادی یہاں تشریف لائے تھے۔ انور زاہدی جوش ملیح آبادی کا آٹو گراف لینے اپنی سائیکل پر نواب مرید حسین کی حویلی پر پہنچے۔ جوش ملیح آبادی نے جب انہیں آٹو گراف دیا تو انور زاہدی خوشی اور گھبراہٹ کی ملی جلی کیفیت سے دو چار تھے۔ چھٹی جماعت کے طالبعلم انور زاہدی نے شاعرِ انقلاب سے جو آٹو گراف لیا تھا وہ آج بھی ان کے پاس محفوظ ہے ۔ اسی نوعیت کا ایک واقعہ اس واقعے کے 23 برس بعد ملتان میں ہی پیش آیا ۔ 1979ء میں کم و بیش اسی قسم کی کیفیت کے ساتھ نویں جماعت کے ایک طالبعلم نے اپنی محبوب شخصیت سے آٹو گراف لیا تھا ۔ انور زاہدی کے مقابلے میں وہ طالبعلم زیادہ گھبراہٹ کا شکار تھا کیونکہ وہ اپنی زندگی کا پہلا آٹو گراف لے رہا تھا ۔ اس طالبعلم نے تو آٹوگراف بک خریدی ہی اس لیے تھی کہ اسے اپنی محبوب شخصیت کے ساتھ ملنے کا کوئی جواز مل جائے۔ وہ طالبعلم خود میں تھا اور وہ محبوب شخصیت ڈاکٹر انور زاہدی کے والد ڈاکٹر مقصود زاہدی تھے۔ انور زاہدی کی کتاب کے مطالعے کے دوران یوں تو ہر صفحے اور ہر سطر پر میں ڈاکٹر مقصود زاہدی کے ساتھ ہمکلام ہو ا لیکن جب انور زاہدی نے جوش ملیح آبادی کے آٹوگراف کااحوال بیان کیا تو میں یکدم 15 دسمبر 1979ء کے اس لمحے میں پہنچ گیا جب ڈاکٹر مقصود زاہدی سے میری پہلی ملاقات ہوئی تھی ۔


ڈاکٹر مقصود زاہدی کے ساتھ میرے تعارف کا ذریعہ امروز بنا تھا ۔ امروز میں ان کے مضامین، نظمیں اور رباعیات میں گاہے گاہے پڑھتا رہتا تھا اور پھر جب ایک روز صدر بازار سے گزرتے ہوئے میں نے ایک دکان پر ڈاکٹر مقصود زاہدی کے نام کا بورڈ دیکھا تو میرے قدم وہیں رک گئے ۔ میں نے دکان میں جھانکا تو ڈاکٹر صاحب سر جھکائے کسی کتاب کے مطالعے میں مصروف تھے ۔ جی چاہا کہ دکان میں جا کر انہیں سلام کرلوں مگر حوصلہ نہ ہوا۔ کہاں میں آٹھویں جماعت کا طالبعلم کہاں وہ اتنے بڑے شاعر اور ادیب ۔ اس زمانے میں ان کی کتاب ’’ یادوں کے سائے‘‘ بھی شائع ہوئی تھی ۔ یہ ان کے تحریر کیے ہوئے خاکوں کا مجموعہ تھا۔ میں نے وہ کتاب خریدی اورایک ہی رات میں پڑھ ڈالی۔مقصد یہ تھا کہ اس کتاب کے مطالعے کے بعد ہی کسی بہانے ان سے مل لوں گا لیکن اس کے باوجود ملنے کا حوصلہ نہ ہوا۔کم و بیش ایک سال اسی شش و پنج میں گزر گیا کہ ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کیسے اور کس بہانے کی جائے۔ پھر آٹوگراف کا بہانہ ذہن میں آیا۔ میں نے کارواں بک سنٹر سے دو یا تین روپے میں ایک آٹوگراف بک خریدی۔ یہ دو یا تین روپے بھی شاید میں نے دو تین ماہ میں جمع کئے تھے۔ پھر 15 دسمبر 1979ء کی شام کا وہ لمحہ آیا جب میں آٹوگراف بک تھامے ڈاکٹر صاحب کے روبرو تھا۔ ڈاکٹر مقصود زاہدی نے مسکرا کر مجھے دیکھا ، میرا نام پوچھا، کس کلاس میں پڑھتے ہیں آپ؟ کہاں رہتے ہیں؟ان کے لہجے میں اتنی ملائمت اور محبت تھی کہ ایک ہی لمحے میں میرا سارا خوف جاتا رہا۔ پھر انہوں نے ایک مصرع میری آٹوگراف بک پر تحریر کر دیا ’’ صبر و محنت میں ہے سر افرازی‘‘۔ یہ صرف ایک مصرع نہیں تھا ان کی زندگی کے تمام تجربات کا نچوڑ تھا۔ ایک قد آور اور نامور شاعر اور ادیب ایک نوآموز لکھاری کو زندگی کا بنیادی اصول بتا رہے تھے۔ وہ آٹوگراف بک ڈاکٹر صاحب کے ساتھ میرے تعلق کی بنیاد بنی اور جس طرح انور زاہدی نے جوش ملیح آبادی کے آٹوگراف والی وہ کاپی سنبھال رکھی ہے بالکل اسی طرح وہ آٹوگراف بک آج بھی میرے پاس محفوظ ہے جس کا پہلا صفحہ ڈاکٹر مقصود زاہدی کے اس نصیحت آموز مصرعے سے آراستہ ہے۔
انور زاہدی نے ڈاکٹر مقصود زاہدی کی شخصیت اور فن کے بارے میں کتاب چند برس قبل جب مجھے ارسال کی تو 1979 ء کا وہ لمحہ میرے پاس لوٹ آیا۔ صرف وہی لمحہ نہیں ایسے اور بہت سے خوبصورت لمحات بھی لوٹ آئے۔ وہ لمحہ جب میں نے پہلی بار ڈاکٹر مقصود زاہدی کے کلینک پر فارغ بخاری کو دیکھا تھا یا جب اسی کلینک پر میں نے پہلی بار ڈاکٹر انور سدید کو دیکھا تھا جو ان دنوں کوٹ ادو میں تعینات تھے اور جب بھی ملتان آتے ڈاکٹر صاحب کے پاس ضرور آتے تھے۔یہی وہ کلینک تھا جہاں میں نے پہلی بار ڈاکٹر عرش صدیقی اور جابر علی سیدکو دیکھا۔ادب کی یہ تمام قد آور شخصیات ڈاکٹر مقصود زاہدی کے پاس آتیں اور میں قریب ہی بیٹھا ان کے مابین ہونے والی علمی گفتگو سنتا ۔ بعد کے دنوں میں شاکر حسین شاکر اور اظہر سلیم مجوکہ بھی اس محفل کے مستقل رکن بن گئے ۔ اس دوران انور زاہدی ایران سے پاکستان واپس آ چکے تھے۔ اب کلینک ایک تھا اور مسیحا دو۔یہا ں محفلیں بھی دو جمتی تھیں ۔ پہلی محفل ڈاکٹر مقصود زاہدی اور دوسری ڈاکٹر انور زاہدی کے پاس۔


ہم خوش قسمت تھے کہ ہمیں اپنے ادبی سفر کے اوائل میں ڈاکٹر مقصود زاہدی جیسی قد آور شخصیت کی رہنمائی حاصل ہوئی۔ شائستگی، دھیماپن، وضعداری، محبت، اپنائیت، خلوص، گرم جوشی اور چہرے پر ایک دل آویز مسکراہٹ ۔یہ سب ان کی خوبصورت شخصیت کا حصہ تھا۔ وہ کلینک نہیں ایک ادبی بیٹھک تھی جس میں صرف ہم ہی نہیں اور لوگ بھی آیا کرتے تھے۔ ہم آج بہت فخر سے بتاتے ہیں کہ جن شخصیات نے ادب کے میدان میں ہماری تربیت اور رہنمائی کی ان میں سب سے پہلا اور نمایاں نام ڈاکٹر مقصود زاہدی کا ہے۔ آج ہماری شخصیت میں اگر کوئی خوبی ہے تو وہ ان بزرگوں کی دین ہے اور اگر کوئی خامی ہے تو اس کے ذمہ دار ہم خود ہیں کہ ہم ایسے شاندار لوگوں کی رفاقت حاصل ہونے کے باوجود اپنی خامیاں دور نہیں کر سکے۔
ڈاکٹر انور زاہدی نے اپنی کتاب میں جو واقعات بیان کئے ہیں ان میں سے بیشتر ہم ڈاکٹر صاحب کی زبانی سناکرتے تھے۔ اس کتاب کے مطالعے کے دوران مجھے مسلسل یہ احساس ہوا کہ میں یہ سب کچھ انور زاہدی کی زبانی نہیں خود مقصود زاہدی کی زبانی سن رہا ہوں۔ ان کی محبت بھری آواز مسلسل میرے کانوں میں گونجتی رہی ۔ یہ ایک سیلف میڈ انسان کی کہانی ہے۔ ایک ایسے شخص کی کہانی جوپانچ ،چھ برس کی عمر میں اپنے والد کی شفقت سے محروم ہوا۔ اس نے سوتیلے باپ کے مظالم سہے اور پھر بہت کم عمری میں عملی زندگی کا آغاز کیا۔ ان کا صحافت کے ساتھ بھی تعلق رہا۔ سیاست کے خارزار میں بھی قدم رکھا، ترقی پسند تحریک سے وابستہ رہے، سرکاری ملازمت بھی کی اور پھر ایک مسیحا کے طور پر باقی عمر انسانیت کی خدمت میں گزار دی۔ ’’صبر و محنت میں ہے سرافرازی‘‘کی نصیحت کرنے والے ڈاکٹر مقصود زاہدی خود بھی اس مصرعے کی عملی مثال تھے۔ انہیں زندگی میں بارہا کٹھن حالات کا سامنا کرنا پڑا لیکن انہوں نے صبر اور محنت کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ چھوڑا۔
1950ء میں پشاور سے ہجرت کر کے ملتان آنے والے ڈاکٹر مقصود زاہدی اس شہر کی ادبی اور ثقافتی زندگی کا خوبصورت اور مضبوط حوالہ ہیں ۔ انہوں نے اس شہر میں ترقی پسند مصنفین کی تحریک کی بنیاد رکھی۔ رحمان فراز بتاتے ہیں کہ قلعہ قاسم باغ پر دمدمہ کے سامنے والے پلاٹ میں اس تنظیم کا اجلاس ہوتا تھا۔ ڈاکٹر مقصود زاہدی اس کے سیکرٹری تھے۔ باسم میواتی، ملک عطا اللہ، قسور گردیزی، اشفاق احمد خان(سابق سفیرویت نام)، کامریڈجمال بوٹا اور خود رحمان فراز ان اجلاسوں میں باقاعدگی سے شریک ہوتے تھے ۔ اس پلاٹ میں ترقی پسندوں کے اس مختصر سے اجتماع کے قریب خفیہ والوں کا بھی ڈیرہ ہوتا تھا ۔ آزادی ، انصاف ، انسانی حقوق اور مساوات کے خواب دیکھنے والوں کو اس زمانے میں بھی ملک دشمن ہی سمجھا جاتا تھا ۔ ایوب خان کا دور آیا تو قدرت اللہ شہاب نے رائٹرز گلڈ کی بنیاد رکھی۔ ملتان میں عرش صدیقی رائٹرز گلڈ کے سیکرٹری منتخب ہوئے ۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ گلڈ ہوٹل کا نام اس زمانے میں رائٹرز گلڈ کے حوالے سے ہی گلڈ ہوٹل رکھا گیا تھا ۔ اس ہوٹل میں ادیبوں کے ہفتہ وار اجلاس ہوتے تھے۔عرش صدیقی کے بعد ڈاکٹر مقصود زاہدی رائٹرز گلڈ کے سیکرٹری منتخب ہوئے ۔ اسی رائٹرز گلڈ سے عرش صدیقی کی قیادت میں ناراض ادیبوں کے ایک گروپ نے الگ ہو کر اردو اکادمی کی بنیاد رکھی جو آج بھی ملتان میں ہفتہ وار اجلاس منعقد کر رہی ہے۔پھر ایک روز یوں ہوا کہ ڈاکٹر مقصود زاہدی خاموشی کے ساتھ گلڈ ہوٹل کی سیکرٹری شپ سے مستعفی ہو گئے ۔ اس کے ساتھ ہی ملتان میں رائٹرز گلڈ کا ایک زریں دور اپنے اختتام کو پہنچا۔ بتانا صرف یہ چاہتا ہوں کہ ملتان میں تنقیدی اجلاسوں کی جس روایت کو بعد ازاں اردو اکادمی نے آگے بڑھایا وہ روایت اس شہر میں عرش صدیقی اور ڈاکٹر مقصود زاہدی نے شروع کی تھی ۔


مقصود زاہدی بہت اچھے شاعر تھے مگر مشاعروں میں شریک نہیں ہوتے تھے۔ وہ بہت اچھے افسانہ نگار بھی تھے۔ ان کی ادبی زندگی کا آغاز ہی 1941 ء میں افسانوں کے مجموعے ’’ذکر و فکر‘‘ کی اشاعت سے ہوا جس کا پیش لفظ ساغر نظامی نے تحریر کیا تھا ۔ اس مجموعے میں ان کا شہرہ آفاق افسانہ ’’میلے کو ‘‘بھی شامل ہے لیکن ڈاکٹر مقصود زاہدی نے بعد کے دنوں میں افسانہ نگاری پر توجہ نہ دی۔ ’’یادوں کے سائے‘‘ 1976 ء میں منظر عام پر آئی تو ادبی حلقوں میں ان کی خاکہ نگاری کی دھوم مچ گئی۔ جتنا انہوں نے کام کیا وہ سب منظر عام پر نہیں آ سکا۔ ان کے مضامین اور شاعری تسلسل کے ساتھ اخبارات اور جرائد کی زینت بنے لیکن انہوں نے یہ سب کچھ کتابی صورت میں شائع نہ کیا۔ ان کی رباعیاں ان کی وفات سے کچھ عرصہ قبل ’’چہا ر سو‘‘ کے نام سے شائع ہوئیں ۔ رباعی گو شاعرکی حیثیت سے ملک بھر میں ان کا مقام تھا ۔ انہوں نے شاعری میں اظہار کے لیے ایک مشکل صنف سخن کا انتخاب کیا اور اسے اپنے لئے آسان بنالیا۔ جوش ملیح آبادی کے بعدہمیں اس صنف میں اگر کوئی نام نظر آتا ہے تو وہ مقصود زاہدی کا ہی ہے۔کم و بیش چالیس برس ملتان میں قیام کے بعد ڈاکٹر صاحب 1990میں اسلام آباد منتقل ہو گئے اور وہیں 6نومبر 1996ء کوان کا انتقال ہوا۔
انور زاہدی نے اس کتاب کے ذریعے ڈاکٹر مقصود زاہدی جیسی ہمہ جہت شخصیت کی زندگی کے روشن پہلوؤں کو محفوظ کر دیا ہے ۔ یہ کتاب صرف ہمارے لیے ہی نہیں آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک اثاثے کی حیثیت رکھتی ہے ۔ اس کتاب میں ڈاکٹر مقصود زاہدی کی زندگی کے بہت سے گوشے پہلی بار منظر عام پر آئے ہیں ۔ یہ کتاب پڑھ کر نئی نسل کو معلوم ہو گا کہ جو لوگ محبت، قناعت، وضعداری اور اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے زندگی بسر کرتے ہیں ان کا نام ہمیشہ جگمگاتا رہتا ہے ۔ شہروں پر حکومت کرنے والوں کے نام ان کے جاہ و جلال کے ساتھ دفن ہو جاتے ہیں۔ دلوں پر حکومت کرنے والے ڈاکٹر مقصود زاہدی کو ہم ان کی وفات کے 23 برس بعد بھی یاد کر رہے ہیں ۔ ہم انہیں کبھی مرحوم نہیں لکھتے۔
مجھے آج بھی احساس ہوتا ہے کہ میں 15دسمبر 1979ء کی اس شام میں موجود ہوں۔ ڈاکٹر مقصود زاہدی مجھے آٹوگراف کی صورت میں جیون گزارنے کا ہنر سکھا رہے ہیں اور میں خوشی اور گھبراہٹ کے ملے جلے جذبات کے ساتھ گھر واپس آ رہا ہوں بالکل اسی طرح جیسے انور زاہدی 1956ء میں جوش ملیح آبادی سے آٹوگراف لے کر واپس آئے تھے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker