رضوان فیصلکالملکھاری

اساتذہ کا دھرنا: مفروضے اور حقائق ۔۔رضوان فیصل

دنیا بھر کے مہذب معاشروں میں اساتذہ کو بے پناہ عزت و تکریم سے نوازا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے وطنِ عزیز میں گنگا الٹی ہی بہتی ہے چند دن پہلے کی بات ہے جب ایک طالب ِ علم نے بہاولپور کے صادق ایجرٹن کالج میں شعبہ انگریزی کے استاد پر وفیسر خالد حمید کو بے دردی سے قتل کر دیا اور ارباب ِ اختیار کے کان پر جوں نہیں رینگی بھئی ایک استاد تھا، مر گیا تو کیا ہے اور بھرتی کرلیں گے اس میں ایسی ترد د کی کیا بات ہے آخر۔ لوگ تو ذرا سی بات کا بتنگڑ بنا لیتے ہیں۔ کچھ دنوں سے اساتذہ کی جانب سے اپنے مطالبات کے حق میں پنجاب اسمبلی کے باہر دھرنا جاری ہے۔ ہم تو پہلے ہی اس بات کے قائل ہیں کہ لوگ ایسے ہی حکومت کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں کوئی با ت بھی نہیں ہوتی اور شور مچا دیتے ہیں۔لیکن دل متجسس تھا کہ دیکھو تو سہی بھائی آخر ہو ا کیا ہے؟ کیا بات ہے کہ یہ اساتذہ جو علم کی شمع روشن کرتے ہیں۔ طالب علموں کے علمی و ادبی ذوق کی آبیا ری کرتے ہیں، ذہن سازی کے فرائض سر انجام دیتے ہیں، نسل ِ نو کی تعمیر کرتے ہیں، اچھے، برے کی تمیز سکھاتے ہیں، اپنے طالب علموں کے خود سے زیادہ ترقی کرنے کی دعا مانگتے ہیں۔ آخر ایسی کیا بات ہے کہ بیچارے سڑکوں پر آکر بیٹھ گئے ہیں، بلند آہنگ نعرے لگا رہے ہیں، جوش و جذبہ عروج پر ہے، ہجوم ہے کہ اس میں ہر گزرتے منٹ کے سا تھ اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے اور عزم و یقین کسی طور کم ہونے میں ہی نہیں آرہا۔ دل میں سوالوں کا انبار لئے ہم بھی دھرنے میں پہنچ گئے۔اور پوچھا بھلے مانسو ، آخر کیا بات ہے، کیا آفت مچارکھی ہے، بتاؤ تو سہی کہ آخر کیا چاہتے ہو۔؟؟



انتہائی محترم اساتذہ نے ہمیں جن تفصیلات سے آگاہ کیا آپ بھی سنیے۔ ان کا مؤقف تھا کہ ہمارا پہلا اور بنیادی مطالبہ پے پروٹیکشن کا ہے۔ہم نے کہا بھائی ہم بچپن سے ہی ذرا کند ذہن واقع ہوئے ہیں ہمیں ذرا تفصیلا ت سے آگاہ کر و۔کہنے لگے حکومت نے 2002ء ، 2005ء ، 2009ء ، 2012ء سے پہلے اور بعد میں جن پروفیسروں کو تعینات کیا ان کی سروس پہلے دن سے شمارکی جاتی ہے۔ جبکہ یہ بیچ بالترتیب 2009ء ، 2010ء ، 2013ء ، 2015ء میں مستقل ہوئے۔ اب معاملہ یہ ہو ا کہ 2002ء بیچ کے اساتذہ کی 8 سالانہ انکر یمنٹ، 2005ء والوں کی 5 سالانہ انکریمنٹ، 2009ء والوں کی 4 سالانہ انکریمنٹ جبکہ 2012ء والوں کی بھی 4 سالانہ انکریمنٹ ختم کر دی گئی اور ان سب کو اتنا عرصہ سروس کر نے کے باوجود پہلے دن والی تنخواہ پر دھکیل دیا گیا۔ گویا وہ سروس اور تنخواہ کے اعتبار سے اتنا عرصہ ملازمت کرنے کے باوجود پہلے دن پر آگئے۔ اس پر مستزاد یہ کہ 2015ء اور 2017 ء کے پروفیسروں کو پہلے دن سے ہی مستقل کیا گیا۔ اس امتیازی سلوک سے اول الذکر پروفیسروں میں احساسِ کمتری کا جذبہ پروان چڑھنے لگا ہے۔ ان کا مطالبہ یہ ہے کہ حکومت ہمارے ساتھ امتیازی سلوک کیو ں برت رہی ہے۔ ہمیں بھی پہلے دن سے ہی ریگولر کیا جائے اور ہماری سروس کو ریکارڈ کا حصہ بنا یا جائے۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ کا 2016ء میں دیا گیا فیصلہ بھی دلیل ہے کہ جس میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار بھی شامل تھے کہ حکومت کسی بھی ملازم کو پہلے دن سے ریگولر کرنے کی مجاز ہے اور حکومت کو کوئی حق نہیں ہے کہ وہ ملازم کو دی جانے والی کوئی بھی انکریمنٹ واپس لے۔ لیکن حکومت سپریم کورٹ کے اظہر من الشمس فیصلے کو بھی ماننے کے لئے تیا ر نہیں ہے۔ حکومت ان بیجز سے پہلے والے تمام پروفیسروں کو پہلے دن سے ریگولر بھی مانتی ہے اور سالانہ انکریمنٹ میں بھی کو ئی کٹوتی نہیں کر تی تو پھر ان پر وفیسروں کی داد رسی کیوں نہیں کی جاتی۔



اس کے بعد دوسرا بنیادی اور اہم مطالبہ پانچ درجاتی فارمولے کے اجرا کا ہے۔حکومت نے کالج اساتذہ کو چا ر عہدوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ جو لیکچرار، اسسٹنٹ پروفیسر، ایسوسی ایٹ پروفیسر اور پروفیسر پر مشتمل ہے۔ ان کے بی۔پی۔ ایس بالترتیب ۷۱، ۸۱،۹۱ اور ۰۲ ہوتے ہیں۔ لیکن حکومت نے اساتذہ کے لئے ۱۲ گریڈ کا عہدہ ہی نہیں رکھا۔ ہمارا حکومت سے مطالبہ یہ ہے کہ وہ ہمارے لئے بھی باقی محکموں کے ملازمین کی طرح گر یڈ ۱۲ کی پوسٹوں کا اجرا کرے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جس پانچ درجاتی فامولے کا مطالبہ ہم کر رہے ہیں وہ حکومت نے خیبر پختونخواہ کے کالج اساتذہ کو پہلے سے ہی دیا ہوا ہے۔ جب ایک صوبے کے اساتذہ ترقی کے بہتر فامولے سے مستفید ہو رہے ہیں تو کیا باقی صوبوں کے اساتذہ کو کس امر کی سزا دی جارہی ہے۔ منا سب تو یہ تھا کہ حکومت خود سروس سٹر کچر میں تبدیلی کرکے پانچ درجاتی فامولے کو لاگو کر دیتی اور صورتحال یہ ہے کہ پر امن احتجاج کے باوجود بھی اس مطالبے کو تسلیم کرنے میں ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔
ہم نے دھرنے کی صورتحال کا جائزہ لیا تو دیکھا کہ دھرنے میں بیٹھا ہر ایک شخص پر عزم ہے۔انتہائی پر امن، ریسرچ کی باتیں، علم و ادب پر گفتگو، شاعری کی محفل، کتابوں کا تعارف، بس ایسے ہی وقت گزار رہے ہیں اب ان دیوانوں کو کون سمجھائے، کہ ارضِ وطن میں ایسے احتجاج کی قدر نہیں کی جاتی، اہل ِ اقتدار جلاؤ گھیراؤ پسند کرتے ہیں، اشتعال پسندی کی قدر کرتے ہیں، توڑ پھوڑ پر متوجہ ہوتے ہیں، یہ اس ملک کے اعلی ترین تعلیم حاصل کرنے والے ہیں۔ ہماری نسلوں کی اپنے خونِ جگر سے پرورش کرنے والے ہیں۔یقین کیجیے اساتذہ کی ایسی بے توقیری ہمارے بد ترین معاشرتی رویوں، سماجی پسماندگی،اور ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ جانے کی ایک تصویر ہے۔ ہم اساتذہ کو یہی مقام دیتے ہیں اور پھر وقت ہمیں وہی مقام دیتا ہے جس پر ہم موجود ہیں۔ان کا قصور ہے تو محض اتنا ہے کہ پڑھ لکھ گئے ہیں اور مقدس پیشہ اپنالیا ہے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker