شاعری

رضوانہ تبسم درانی کی تازہ غزل

‎عجب ہیں چہرے جہان اندر

‎کہ زندہ لاشے مکان اندر

‎یہ حوصلہ اور یہ عزم دیکھو

‎ہیں پھر بھی کوشاں تھکان اندر

‎زمانے بھر میں پکار ہے یہ

‎ہیں سب لٹیرے دوکان اندر

‎بہت نوازش ہے دوستوں کی

‎رہے نہ تیر اب کمان اندر

‎یہ رُخ بدلتے ہزاروں چہرے

‎ہے اب کیا اِن کے گمان اندر

‎کہ رُوکھی سُوکھی پہ لڑ رہے ہیں

‎وہ بھوکے بچےَ مکان اندر

‎ہے فرق قول اور فعل میں یوں

‎تضاد بھی ہے بیان اندر

‎بس اک تبسم تمھاری خاطر

‎سجا لیا ہے ، جہان اندر

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker