آنچلافسانےصائمہ نورین بخاریلکھاری

سیلفی ۔۔ صائمہ نورین بخاری

خود پسند لوگوں کی نرگسیت کا آئینہ یعنی سیلفی جس میں ذات کے کھنڈر چھپ جاتے ہیں اور چہرے کے رنگ بدل جاتے ہیں۔۔۔دھندلی خوشیوں کو کیمرے کی آنکھ سے “بیوٹی پلس ” میں کھنگال کر بے پناہ خوشی محسوس کرنے والی معمولی شکل وصورت اور بھاری بھر کم خواتین کے اس بظاہر غموں سے بے نیاز ٹولے میں کٹھ پتلی والے کی پتلی جیسی بیگم نرگس رئیس سب سے زیادہ سیلفی کے بخار میں مبتلا ہونے کا اعزاز پا چکی تھیں ۔۔۔۔۔چند برس پہلے تک اخبارات میں جب ان کی تصویر اپنے فلاحی کاموں کے حوالے سے شائع ہوتی تھی تو وہ ایک دن کیا ،ایک ہفتہ فوٹو گرافر کی فوٹو گرافی پہ لعنت ملامت بھیجتے ہوئے گزارتی تھیں کہ اسے تصاویر کے وہ زاوئیے لینے نہیں آتے جس سے وہ سلائی مشین لینے والی حسنہ بی بی کو قدرتی بدصورت اور مسز نرگس رئیس کو “مس یونیورس “دکھا سکے ۔۔۔۔جب سے انہوں نے عمر عزیز کے چالیس برس کو پار کیا تھا ان کے انداز اطوار میں ٹھہراؤ کی بجائے اور زیادہ بے چینی عود کر آگئی تھی ۔۔۔بوٹا کس انجیکشنوں اور آئی فونوں کے ایپ تلاش کرتی مسز خان نے خود کو اتنا “سیلفی زدہ ” کر لیا تھا کہ ان کے سارے شوق اس سیلفی میں چھپے نظر آتے تھے ،سیلفی سٹک تھام کر سیلفییاں بنانا اور سوشل میڈیا پہ اپ لوڈ کرنا ۔۔۔ان کا نشہ بن چکا تھا۔۔۔سوشل میڈیا میں وہ “سیلفی کوئین ” کے نام سے کیا مشہور ہوئیں نرگسیت کے حصار میں جکڑی گئیں اب سیلفی پہ جب تک سو نہیں ہزار لائک کے “کے” کو نہ پڑھیں تو دل کو تسلی نہیں ہوتی تھی ۔۔”۔۔سو بیوٹی فل “قلو پطرہ ” اور “بہت حسین ” کے القابات ان کی سانولی رنگت کو سرخی بخشتے رہتے تھے ،برینڈڈ کپڑے اور جوتوں کی خریداری ان کے ڈائٹنگ کی اذیت سہارتےناتواں جسم کو ان جانی توانائی بخشتی رہتی تھی اور یوں وہ اپنے وجود اور اپنی زندگی کے حصہ دار شوہر نامدار کے رئیسانہ مشغلوں سے بے نیاز رہتی تھیں ۔۔۔رئیس عزیز نے نرگس بیگم کو خاصی ڈھیل دے کر اڑتی ہواؤں کو چھونے کی آرزوؤں میں مگن رکھا ہوا تھا۔۔۔اور وہ اپنی دنیا میں مگن ہر لمحہ سیاست اور تجارت سے کرنسی کشید کرنے کے طریقے تلاشتے رہتے تھے ۔۔۔۔۔اسی لیے دونوں ایک دوسرے کے “کو آپریٹو لائف پارٹنر” بھی کہلاتے تھے ۔۔۔رئیسں عزیز ایک ناکام فلمی ہدایت کار مگر بیگم کے سامنے ایک کامیاب اداکار کی حیثیت لیے ایک پرائیویٹ نیوز چینل کے مالک بھی تھے اس لیے خبروں میں رہنا اور سیاست دانوں اور تاجروں کو خوش رکھنا انہیں بیگم کو خوش رکھنے سے زیادہ آسان لگتا تھا۔۔۔۔۔۔۔ اپنے سراہے جانے والے حلقوں میں “میڈم“ پرفیکشنسٹ اور اپنے بد خواہوں میں ” مس سیلفی ” کے نام سے مشہور بیگم نرگس رئیس نے ہر فیشن پہلے خود اپناؤ کا نعرہ لگایا اور ایک فیشن ویک کا اہتمام کیا ۔ایک نیا ۔۔جعلی توصیفی ٹولہ تشکیل پا گیا۔۔۔ “مسز رئیس لگتا ہے آپ تو اپنے نوکروں کو بھی ڈرائی کلین کرواتی ہیں گھر ہے گویا چمکتا ہوا محل ۔۔۔۔خوشبو، سجاوٹ ،لباس اور سواری میں امارت نہ چھلکے ۔۔۔تو امارت نہیں عمارت ہی رہ جاتی ہے۔”۔۔۔توصیفی ٹولے کی ایک اہم رکن شیش کبابوں پہ ہاتھ صاف کرتے ہوئے شیش ناگ لگتے ہوئے بولیں ۔۔۔ اتنی صفائی پسند خاتون ہیں مسز رئیس کہ مجھے تو ڈر لگتا ہے، نوکروں کے ہاتھ منہ دھلوانے والے صابن میں تیزاب ہی نہ ڈلوا دیں ۔۔۔”مسز رئیس کی سارس جیسی گردن اور لمبی ہو گئی اور قد دروازے کو چھونے لگا۔۔۔۔فوراً اس مسرت بھرے لمحے کو سیلفی کی صورت میں قید کرنا چاہا تو سامنے بختو مائی کی چھوٹی بچی ہاتھ میں ٹرے لیے سامنے آتی ہوئی نظر آئی ، نرگس جی نے چائلڈ لیبر کے متوقع طعنوں سے گھبرا کر اپنے آئی فون سے ایک این جی او کی کارکن کو پکارا اور ننھی بچی کو من چاہی صرف توصیفی ٹولے کی تسلی کی خاطر سنانی شروع کر دی سارے غریبوں کی کہانی میں اہم کردار نکھٹو باپ ادا کرتا ہے سو اس کہانی کی تخلیق کا ذمہ دار بھی وہی تھا ۔”۔۔۔چائلڈ لیبر کے نام پہ کسی بچے کو ہم گھر پہ رکھنا نہیں چاہتے اس کا والد ہم سے پیسے لے کر اس بچی کو ہمارے کام کاج کے لیے چھوڑنا چاہتا ہے ،آپ اس کے خلاف عمل کر یں ،یہ بچی آپ کی تحویل میں دینا چاہتی ہوں ،ان غریبوں کو کون سمجھائے،دس دس بچے پیدا کر لیتے ہیں پھر امیروں کو مجبور کرتے ہیں کہ انہیں خرید لو “غصے کے گھونٹ پیتی ہوئی نرگس جی نے بختو مائی کو فنکشن کے بعد سبق سکھانے کی ٹھان لی تھی کہ توپوں کا رخ چینل کی رپورٹر نازیہ گل کی طرف ہوگیا۔۔” تم اس قدر لیٹ کیوں آئی ہو ، بی بی نازیہ گل ولد خستہ گل تم میری سمجھ سے باہر ہو۔۔۔۔۔۔نازیہ گل نے حسب عادت خاموشی کی چادر اوڑھ لی ۔۔۔۔ وہ خود پسندوں کی اس محفل سے دور ہی رہنا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔
ڈائٹنگ پلان پہ سختی سے عمل کرنے کی وجہ سے مسز نرگس رئیس سب کو کھانے کے لیئے تیار تھیں “یہ آیا سکینہ کہاں مر گئی ہے ،کتنے جاہل ہیں یہ لوگ جانوروں ایسی زندگی گزارتے گزارتے مر جائیں گے مگر خود کو سدھاریں گے نہیں ۔۔ ؟‘‘ گلابی چائے کے گرما گرم گھونٹ بھرتی ،میوے چباتی ہوئی،نرم صوفوں میں دھنسی تمخسرانہ مسکراہٹیں ، پریشانی کا ڈھونگ رچاتے ہوئے سراپا سوال ہو گئیں ۔۔۔۔۔
ارے نرگس جی اب کونسا جانور دیکھ لیا آپ نے ہمیں بھی دکھائیے ” انگوٹھیوں بھری مخروطی انگلیوں ،اور چمکتی بھوری آنکھوں والی نرگس رئیس خود کو پروقار رکھنے کی کوشش میں ناکام ثابت ہو رہی تھیں آہستگی سے لفظ چباتے ہوئے اپنے مقامی مخصوص لہجے میں اردو سموتے ہوئےبولیں ۔۔۔۔یہ ہمارے نیوز چینل کی رپورٹر ہے نا ۔۔۔نازیہ گل یہ ہمارے علاقے کی ہے دو چار جماعتیں کیا پاس کر لیں نام بدنام کر دیا ہمارے علاقے کا، قبیلے کا۔۔۔حلیہ دیکھو میری بختو مائی اور آیا سکینہ کا اچھا ہوگا۔۔۔۔یہ شرمندہ شکلوں والیاں منہ پہ سادگی کے دوپٹّے اوڑھے یہ چہرے کیا رپورٹنگ کریں گے ،کم بخت نے میرے این جی او والے فنکشن کی رپورٹنگ ایسے کی ہے جیسے مرگ پہ آئی ہو۔۔۔۔۔۔”
تو پھر بدل لجیے اسے رئیس صاحب سے کہلوا کر ،وہ تو آپ کے غلام ہیں فوراً حکم کی تعمیل ہوگی ” دو من کی مسز قدوسی کے پاس ہر مسئلے کا حل بدلنے میں تھا ۔۔۔ “نہیں گرومنگ کی ضرورت ہے ۔۔۔ویسے بھی خوب صورت لڑکی ہے ۔۔۔مصنوعی لہجے اور میکپ زدہ رپورٹرز کی عام لوگ ویسے ہی عزت نہیں کرتے ۔۔۔۔کبھی آپ نے سی این این یا بی بی سی کی نیوز میں کسی رپورٹر کو چھمک چھلو بنے دیکھا ہے۔۔۔۔” مسز شفقت تھکے تھکے لہجے میں پیار سے سمجھانے لگیں ۔۔۔۔۔۔ ” بس لگا دیا نا نصیحت کا تڑکا۔۔۔۔۔ارے مسز شفقت آپ اپنی دنیا میں رہنا چھوڑ دیں ۔۔۔۔شفقت صاحب سے زیادہ آپ کو آپ کی کتابیں کھا گئیں ۔۔۔۔اس لائبریری کو آپ کے مرنے کے بعد کسی نے نہیں پوچھنا ۔۔۔بچوں نے ساری کتابیں اٹھا اولڈ بک ہاؤس میں جمع کروا دینی ہیں ۔۔۔آپ کی یہ سرکاری ٹی وی والی نصیحتیں اب پرائیویٹ چینلوں میں نہیں چلتی ہیں ۔۔کیسی خوش لباس لڑکیاں ہمارے چینل پہ خبریں “بریک” کرتی نظر آتی ہیں ۔ان رپورٹرز کی سادگی کیوں اور کس لئیے۔۔۔” اب بیگم صاحبہ سے بریکنگ نیوز کے معیارات پہ بحث کون کرتا “بس دعوت اُڑاؤ اور جی نہ جلاؤ “کی سیاسی و سماجی بصیرت پہ سیلفی دور شروع ہوا۔۔۔۔خوب لقوہ مارکہ پاوٹ بنا بنا کر “سیلفی کوئین”کا خطاب سمیٹنے میں مصروف مسز نرگس رئیس نے ایک پہاڑی لڑکی کی فرمائش پہ پہاڑوں کے تفریحی دورے کا اعلان کردیا۔۔۔ چند روز کی ہوش ربا خریداری اور پیکنگ کے بعد یہ سیلفی گروپ رئیس عزیز صاحب کی ہم راہی میں روانہ ہوا۔۔۔۔۔ رئیس صاحب بظاہر صرف حسین چہرے دیکھنے کا ڈھونگ رچانے میں مصروف تھے مگر انہیں اپنے نیوز چینل کے لیےخوب صورت اینکروں کی تلاش کے ساتھ ساتھ دوسری بیگم کی کھوج بھی ستا رہی تھی ۔وہ پندرہ سال پرانے نرگس کے پھولوں سے اکتا گئے تھے ۔۔۔ شور شرابے سے لبریز اس خوب صورت سفر کا آغاز سیلفی سے ہوا۔۔۔پھر حسین بادلوں کے ساتھ سیلفی ، سبز گھاس پہ سفید پھولوں کے ساتھ سیلفی ۔۔۔۔فائیو سٹار ہوٹل کے قیام وطعام کے تمام حوالوں کے ساتھ سیلفی ،سرخ گالوں پہ سیاہ میلے دھبے والے بچوں کے ساتھ سیلفی ، ۔۔۔۔کئی پردوں میں ڈھکی ڈری ڈری بے چہرہ سی پہاڑی عورتوں کے ساتھ سیلفی ۔۔۔اس دوران ان کی غربت سے زیادہ ان کے بدبودار کپڑوں اور جراثیموں کا ذکر عروج پہ تھا۔۔۔۔نازیہ گل نے تمام سفر کی کوریج بادل نخواستہ مکمل کی ۔۔۔آخری دن کے قیام کی میٹنگ کے بعد مسز خان نے ایک لاحاصل خطاب کی کوریج چاہی۔۔۔اور نازیہ گل نے مقامی اخبار کی کوریج کے لیے سب خواتین کے ایک گروپ فوٹو کی درخواست کی ۔۔”۔۔ارے میری انچارج ، میری میڈیا رپورٹر تم نوکیا کے باریک پن والے چارجر کی تلاش جاری رکھو۔ تم اس زمانے کی عورت نہیں ہو “۔۔۔۔۔۔نازیہ گل کی رنگت غصے میں گلابی سے سرخ ہوگئی ۔۔۔۔۔۔وہ روٹھی ہوئی برسات کی مانند دکھنے لگی جو برسنے کے لیے تیار نہیں تھی ۔۔۔کمال ضبط سے کھردرے لہجے میں بولی ۔۔۔پلیزمسز رئیس آپ سوشل میڈیا کے لایکس کو اتنی اہمیت کیوں دینے لگی ہیں ۔۔۔۔۔یہ سیلفی اگر سارس بھی لگا لے گا تو بے کار لوگ اسے بھی ایک ہزار لائک دینے کے لیے تیار ہوجائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔ایسے مہربانوں کی فضول عنایتوں سے ڈرنا چاہیئے کہیں نظر ہی نہ لگا دیں بے چارے سارس کو “۔۔۔۔۔مسز خان کا کمزور جسم سارس کا طعنہ سہنے کے لیے تیار نہ تھا۔۔۔” ۔۔۔تمہیں پتہ ہے نازیہ گل اور ایکٹنگ کرنے پر ۔۔۔۔۔آج کل رپورٹرز تھپڑ کھا رہی ہیں وہ بھی جھنجھلے پولیس والوں سے ۔۔۔۔۔۔”اب بدمزاج کہلانے والی نازیہ گل کچھ مزید بولتی تو مشکل ہو جاتی اس نے اس منزل پہ ریاضت کو رسوائی سے مقدم جانا ۔۔۔۔اور اس ماحول سے باہر نکل گئی”۔۔۔پتہ نہیں اس سڑیل کو کیوں بھرتی کر رکھا ہے رئیس صاحب نے ۔پہلے ۔۔۔گروپ فوٹو جب اخبار میں چھپتا تھا تو اچھی بھلی شکلیں مجرموں جیسی لگتی تھیں اب تو مرحوموں جیسی لگنے لگی ہیں ۔۔۔۔۔بس ایک سیلفی گروپ میں ہوجائے ۔کافی ہے ۔”۔۔سوشل میڈیا کے فوائد گنواتے ہوئے۔واپسی کا سفر بارش میں بھیگ کر اور حسین ہوگیا تھا۔۔۔۔رئیس عزیز اپنی عزیزی کی لاج رکھتے ہوئے گاڑی میں ان کے تعاقب میں بار بار احتیاط کا ہارن بجاتے ہوئےزچ ہو رہے تھے ۔ “پتہ نہیں اب کتنی سیلفیاں باقی ہیں اس خود پسند عورت کی”۔۔۔۔خواتین کا نیاز مندی سے بھرپور ٹولہ فکر مند تھا کہ مسز نرگس رئیس کو دو گھنٹے سے سیلفی اور بارش کا خیال کیوں نہیں آیا تھا ۔۔۔۔۔نازیہ گل تھکن سے چور آنکھیں بند کرنے کے احساس میں ڈوبی ہی تھی ۔۔۔کہ ۔۔۔۔اس کی سماعتوں میں نرگس رئیس کی آواز ٹکرائی “گاڑی روکو ۔۔۔”۔۔۔۔۔۔۔۔۔اف اس ٹھنڈے ٹھنڈےدریا کے پانی میں کیوں نہ سیلفی ہوجائے۔۔۔۔۔۔بیگم رئیس کی ہم نو ائیں تھک چکی تھیں ۔۔۔۔۔ارے نہیں نرگس ۔۔۔۔موسم خراب ہے ۔۔۔۔۔یہ بڑا خطرناک دریا ہے ۔۔۔۔شور تو سنو ذرا اس کا۔۔۔۔۔۔”۔۔نہیں تو “۔کوئی شور نہیں آرہا بس راستہ کچھ خراب سا لگ رہاہے ۔۔۔۔۔”نرگس اپنی نرگسیت کے حصار میں شاخ ساروں کے تیر بھی سہنے کو تیار تھی ۔۔۔”۔۔بہت خوب صورت میڈم ۔”۔۔۔۔۔۔”سیلفی کی دنیا کی ملکہ” ۔۔۔۔۔۔”سو بیوٹی فل فیس، چارمنگ پرسنیلیٹی ” ۔۔۔۔۔۔۔۔انجانے بے چہرہ لوگوں کی صدائیں اس کے اردگرد لپٹ گئیں ۔۔۔اس کے قدم سیلفی سٹک تھامے شور مچاتے دریا کی طرف بڑھنے لگے ۔۔۔۔۔۔۔مگر اس کے دور نکلنے پہ احتیاط پسند لفظوں نے خاموشی اوڑھ لی تھی ۔۔۔۔۔آوازوں کی لہروں پہ بھی خاموشی چھا گئی ۔۔۔۔۔۔مغرور دریا ۔۔۔۔۔گہریے بادلوں ،پراسرار تیز ہوا اور دھیمی بارش میں بپھرنے لگا۔۔۔۔کیمرے کی آنکھ کا منظر دھندلا گیا۔۔۔۔۔۔نرگس کا پاؤں نرگسی آنکھوں کو بند کرتے ہوئے ایسا پھسلا کہ سیلفی اسٹک کا سہارا بھی دریا کی مٹی میں تنکے کی طرح بہہ گیا۔۔۔۔۔۔چاروں طرف آوازیں تھیں مگر دریا کسی کی نہیں سن رہا تھا۔۔۔۔۔
اگلے دن مسز نرگس رئیس کی سفید کفن اور سرخ پھولوں میں لپٹی ہوئی میت کے ساتھ نازیہ گل نے اپنی سیلفی فیس بک پہ پوسٹ کی ۔۔۔۔۔اور سب حیران تھے کہ سادہ،کھردری ،سنجیدہ ،سارے رستے بادلوں سے ہم کلامی کرنے والی نازیہ گل اپنی اس پہلی سیلفی میں مسکرا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker