سرائیکی وسیبشاکر حسین شاکرکالملکھاری

حسین سحر کا گھر، مکان میں کیسے تبدیل ہوا؟ : کہتا ہوں سچ / شاکر حسین شاکر

جناب افتخار عارف نے کہا تھا:
مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے
مَیں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کر دے
یہ شعر جب بھی کسی نے پڑھا ہو گا تو اس نے دُعا مانگی ہو گی کہ مجھے گھر مل جائے اور مکان سے نجات۔ یہ بات مَیں نے اس لیے لکھی کہ 15 ستمبر 2016ءسے 15 ستمبر 2018ءتک ملتان کے ایک محلے چاہ بوہڑ والا میں ایک ہنستا بستا گھر مکان میں تبدیل ہو گیا۔ 15 ستمبر 2016ء سے پہلے چاہ بوہڑ والا کے ریلوے روڈ پر ”علی منزل“ کے نام سے اس گھر میں بہت رونق ہوا کرتی تھی۔ دنیا جہان کے ادیب، شاعر، سماجی کارکن، محلے دار، علما، مصور، خطاط، ماہر تعلیم، فنکار، گلوکار غرض ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے علی منزل کے اس گھر میں آیا کرتے تھے جہاں پر پروفیسر حسین سحر 1980ءسے قیام پذیر تھے۔ 15 ستمبر 2016ءکی صبح جب حسین سحر ملتان کے کارڈیالوجی ہسپتال میں دَم توڑتے ہیں تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا کہ وہ گھر دو برس میں مکان میں تبدیل ہو جائے گا۔ 15 ستمبر کی صبح انتقال، سہ پہر کو تدفین، اگلے دن سوئم، سوا مہینے بعد چہلم، سال بعد پہلی برسی اور اب یہ دوسری برسی پر کالم آپ کے سامنے ہے۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ پروفیسر حسین سحر کے انتقال کے بعد دونوں بیٹے اپنے اپنے گھروں (دبئی اور اسلام آباد) میں اور بیٹیاں اپنے گھروں میں۔ 1980ءسے بنا ہوا علی منزل کے احاطے کا پہلا گھر خالی ہو گیا۔ ہر کمرے میں کتابوں کا ہجوم جن کو حسین سحر کی آنکھیں پڑھا کرتی تھیں۔ گھر کے دروازے بند، مقیم قبروں کا حصہ، اور گرد و غبار آہستہ آہستہ در و دیوار پر نمایاں ہونے لگی۔ بچوں نے سوچا ہم تو اپنے والدین کی وجہ سے آیا کرتے تھے جب وہ نہ رہے تو اس گھر کا کیا کرنا ہے۔ کیا ہوا سب سے پہلے اس گھر میں سب سے زیادہ چیزوں کے بارے میں فیصلہ کیا گیا۔ وہ چیزیں نہیں بلکہ کتابیں تھیں۔ بچوں نے اپنی اپنی پسند کی کتابوں کا انتخاب کیا اور پھر بچی ہوئی کتابوں کے بارے میں یہ فیصلہ کیا وہ کتابیں گورنمنٹ سول لائنز کالج کے شعبہ اُردو کو عطیہ کر دی جائیں جہاں پر انہوں نے اپنی زندگی کے تیس سے زیادہ سال گزارے۔ فرنیچر، کچن کا سامان، فریج، ڈیپ فریزر، ڈریسنگ ٹیبلز، درجنوں ایوارڈز اور ہزاروں کتابیں اس گھر سے جب نکل گئیں تو حسین سحر کے ہاتھوں سے بنایاہوا گھر مکان میں تبدیل ہو گیا۔ اب مَیں روزانہ علی منزل جاتا ہوں، حسین سحر کے مکان سے متصل ان کے چھوٹے بھائی حاجی عاشق حسین کا گھر، اس کے برابر میں چچا ڈاکٹر ذوالفقار حسین کا مکان، اس کے آگے میرے والدِ محترم کا گھر اور پھر بھائیوں کے گھر۔ علی منزل جو خاندان میں مرکزِ نگاہ تھا اب مکان اور گھر کی بحث میں تبدیل ہو چکا ہے۔
یہ سارا انقلاب دو سال میں آیا۔ اور ثابت ہوا کہ گھر اور مکان اپنے مکین سے بارونق ہوتے ہیں۔ جب رہنے والے ہی نہ ہوں تو گھر کتنا ہی عالیشان کیوں نہ ہو تو وہ مکان ہی کہلائے گا۔ مجھے پروفیسر حسین سحر کی موت کا دُکھ جتنا ہوا تھا اتنا ہی دکھ اُن کے گھر کو مکان میں تبدیل ہوتے ہوئے دیکھ کر ہوا۔ کہ اس گھر میں مَیں نے سینکڑوں بار قہقہے لگائے۔ اپنی چچی کی موت پر بین بھی ڈالے، کئی مرتبہ بہت سی ادبی تقریبات کے منصوبے اور درجنوں کتابوں کی اشاعت کے خاکے اسی گھر میں بنائے۔ ڈاکٹر وزیر آغا، ڈاکٹر انور سدید، حفیظ تائب اور دیگر اہلِ قلم سے پہلی ملاقات اسی گھر کی اُس بیٹھک میں ہوئی جہاں ہم گھنٹوں بیٹھا کرتے تھے۔ اب جا کر یہ احساس ہو رہا ہے کہ جب زندگی میں کوئی شخص اُٹھ جاتا ہے تو پیچھے رہ جانے والوں کے دُکھ کتنے عجیب ہو جاتے ہیں۔ وہ علی منزل جس کو حاجی عاشق حسین نے اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر خریدا۔ اسی گھر میں پہلا جنازہ میری پھوپھی ریاض بیگم کا اُٹھا۔ اور دوسرا جنازہ میرے دادا حاجی برکت علی کا تھا۔ دادی نواب بی بی کا انتقال 2007ءمیں ہوتا ہے اور اس کے بعد 2015ءمیں اہلیہ حسین سحر اور 2016ءمیں حسین سحر۔ چند برسوں میں اس گھر میں جو تبدیلیاں آئیں وہ ناقابلِ بیان ہیں۔ اور اب جب ستمبر 2018ءکا آغاز ہوا تو مجھے اس گھر کے ہر مکین سے دریافت کرنا ہے کہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب ہم ماضی میں تہواروں پر اکٹھے بیٹھتے تھے تو جگہ کم ہونے کے باوجود تنگی کا گلہ نہیں کرتے تھے اور اب جگہ کم ہونے کے باوجود بھی بیٹھنے والی جگہ پر ہم سب آرام سے بیٹھ جاتے ہیں اور تنگی کا شکوہ نہیں کرتے۔ عید ہر سال آتی ہے۔ میرے ابوجی کے گھر روایت کے مطابق کھانا ہوتا ہے لیکن کھانے والوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس کم ہوتی تعداد کو دیکھ کر حسین سحر کے بچوں نے سوچا کہ جس گھر میں گھر والے ہی نہ ہوں تو اس کو مکان کر دیا جائے۔ بس حسین سحر کی دوسری برسی پر یہی نوحہ کافی ہے کہ علی منزل کے مرکزی دروازے کے باہر اُردو میں معروف ادیب شاعر پروفیسر حسین سحر کے نام کا جو بورڈ لگا ہوا ہے وہ اب صرف بورڈ ہی ہے کہ اب وہاں حسین سحر نہیں رہتے۔ ان کا مستقل پتہ حسن پروانہ قبرستان ہے جہاں پر اُن کے دوست اور کولیگز شاید ہی کبھی گئے ہوں۔ البتہ اُن کے بچے، بھائی اور دیگر عزیز باقاعدگی سے قبر پر جاتے ہیں۔ دُعا کے لیے ہاتھ بلند کرتے ہیں کہ اُن کو یاد اور ان سے ملاقات کرنے کے لیے اب حسن پروانہ قبرستان کا رُخ کرنا پڑتا ہے۔ خاص طور پر اُن کے بچے تو یہ شعر پڑھ کر قبر پر حاضری دیتے ہیں۔
میرے لیے تو سانس بھی لینا محال ہے
یہ کون زندگی کی دُعا دے گیا مجھے
کہ اُن کو یقین ہے کہ قبر میں لیٹے ہوئے بھی اُن کو زندگی کی دُعائیں دے رہے ہیں۔
( بشکریہ : روزنامہ ایکسپریس)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker