شاکر حسین شاکرکالملکھاری

مَیں آج کل اسرائیل میں ہوں….(2) .. شاکر حسین شاکر

ڈاکٹر کاشف مصطفی پیشے کے اعتبار سے کارڈیک سرجن ہیں۔ لوگوں کے دلوں کی بے ترتیب دھڑکنوں کو ترتیب میں لاتے ہیں۔ اس سے قبل ہم نے ایک اور ڈاکٹر انجم جلال کو دیکھا تھا جو دل کے آپریشن کرنے کے بعد جو وقت ملتا تھا لفظوں کی خطاطی کر کے انہیں ترتیب میں لاتے تھے۔ یادِ بخیر آج سے چند سال پہلے کی بات ہے کہ وہ سعودی عرب سے ملتان کے چوہدری پرویز الٰہی کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹ میں بطور کارڈیک سرجن کے تشریف لائے تو سرجری کے فلور پر جگہ جگہ ان کے تخلیق کردہ قرآنی فن پارے آویزاں تھے۔ معلوم یہ ہوا کہ جن انگلیوں سے وہ سرجری کرتے ہیں انہی انگلیوں سے وہ اتنی شاندار کیلی گرافی کرتے ہیں کہ اگر وہ ڈاکٹر نہ بھی ہوتے تو تب بھی ان کے روزگار کا کوئی مسئلہ نہ ہوتا۔ بہرحال ذکر ہو رہا ہے ڈاکٹر کاشف مصطفی کا جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ مصروفیت سے وقت نکالا اور اس سرزمین میں پہنچ گئے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسرائیل کا جغرافیہ مختصر، تاریخ طویل اور فساد لامتناہی ہے۔ یعنی وہی اسرائیل جس کے بارے میں کاشف مصطفی کا دورانِ پرواز اپنے ہمسفر سے پہلا مکالمہ ہوا تو یہی اس کتاب کا حاصل ہے۔ وہ ہم سفر یہودی تھا اور کاشف مصطفی سے کہہ رہا تھا:
”اسرائیل ایک مقدس سرزمین ہے آپ کا عقیدہ کچھ بھی ہو۔ آپ وہاں سے خالی ہاتھ نہیں لوٹتے۔“




فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker