شاکر حسین شاکرکالملکھاری

مظہر عباس راں کیسے ہارے .. شاکرحسسیں شاکر

یہ پندرہ جنوری 2019ء کی رات کا قصہ تھا۔ مَیں خلافِ معمول ٹی وی کے سامنے بیٹھا ہوا قومی اسمبلی میں آصف علی زرداری اور شہباز شریف کی تقاریر کے اقتباسات دیکھ رہا تھا کہ اچانک ٹی وی سکرین پر ٹکر چلنے لگا کہ رکن صوبائی اسمبلی مظہر عباس راں کی طبیعت اچانک خراب ہونے پر انہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ یہ خبر دیکھ کر مجھے فکر ہوئی کہ کہیں کوئی زیادہ مسئلہ نہ ہو کیونکہ مظہر عباس راں تو بظاہر صحت مند دکھائی دیتے تھے اور شہر کی سرگرمیوں میں بھی خوب متحرک رہتے کہ وہ ایک عرصے سے اس دشت کی سیاحی میں مصروفِ عمل تھے۔ پی پی ہو یا مسلم لیگ وہ ہر دو پارٹیوں میں احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ ان کا تعلق ملتان کے نواحی علاقے قادرپور راں سے تھا جہاں سے قریشی، گیلانی خاندان سیاست میں نبردآزما رہتے تھے۔ مظہر عباس راس نے زمانۂ طالب علمی میں پی پی میں شمولیت اختیار کی۔ پھر وہ کبھی مسلم لیگ ن میں رہے تو کبھی پی پی میں شامل ہوئے۔ شاید ق لیگ میں بھی زندگی کے چند سال گزارے لیکن ان کی اصل روح تو اپنے علاقے کے عوام کے مسائل کے گرد گھومتی رہتی۔ مجھے یاد ہے جب سیّد یوسف رضا گیلانی وزیراعظم بنے تو مظہر عباس راں ان دنوں مسلم لیگ ن میں تھے۔ مخدوم شاہ محمود قریشی جب قومی اسمبلی کی نشست سے مستعفی ہوئے تو ضمنی انتخابات میں علی موسیٰ گیلانی کو پی پی کے ٹکٹ پر کامیابی ملی تو قادرپور راں سے ن لیگ میں ہونے کے باوجود انہوں نے سیّد یوسف رضا گیلانی سے دیرینہ تعلقات کی بنا پر علی موسیٰ گیلانی کی حمایت گی یوں علی موسیٰ گیلانی اچھے مارجن سے ضمنی انتخاب میں کامیاب ہوئے۔ سید یوسف رضا گیلانی بطور وزیراعظم اپنے بیٹے کی کامیابی کا جشن اور علاقے کی عوام کا شکریہ ادا کرنے این ایف سی انسٹی ٹیوٹ کے وسیع و عریض میدان میں ایک جلسہ کرنے آئے تو انہوں نے مظہر عباس راں کو اپنے برابر جگہ دی۔ تو یوں محسوس ہوا کہ مظہر عباس راں ن لیگ کو خیرباد کہہ دیں گے لیکن انہوں نے اپنی تقریر میں کہا میرا تعلق اگرچہ ن لیگ سے ہے لیکن میرا اس سے بھی پرانا تعلق سیّد یوسف رضا گیلانی سے ہے۔ تو مَیں نے اس تعلق کو نبھاتے ہوئے علی موسیٰ گیلانی کی حمایت کی۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ مَیں نے ن لیگ کو چھوڑ دیا ہے تو یہ بات قبل از وقت ہے۔ پھر مظہر عباس راں نہ صرف مسلم لیگ ن میں رہے بلکہ 2013ء کے انتخابات میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر ایم پی اے بنے۔ اس مرتبہ ایم پی اے منتخب ہونے کے بعد ان میں ایک تبدیلی دکھائی دی کہ انہوں نے اسمبلی کے فلور پر جنوبی پنجاب کی محرومی کا مقدمہ تواتر سے لڑا۔ انہوں نے ہر مرتبہ اپنی تقریر کو اپنے فیس بک پر بھی شیئر کیا۔ ن لیگ کے دورِ حکومت میں وہ مسلسل جنوبی پنجاب صوبے کے لیے آواز بھی بلند کرتے رہے۔ اور وہ اپنی تمام تقاریر دوستوں کو بھی بھجواتے تھے۔
پی ٹی وی کے اکثر پروگراموں میں وہ میرے مہمان ہوتے تھے اور مَیں نے کبھی بھی انہیں حکومتِ وقت کی ناجائز حمایت کرتے نہیں دیکھا وہ ہمیشہ اپنے علاقے کے مسائل کے حل کے لیے کوشاں رہے۔ میری ان سے آخری ملاقات ظفر آہیر کے بیٹے کے ولیمہ پر ہوئی تو وہ مجھے صحت مند ہی لگے۔ مجھے دیکھتے ہی کہنے لگے کہ آپ نے ایک عرصہ ہو گیا ہے اپنے کسی ٹی وی پروگرام میں نہیں بلایا۔ مَیں نے کہا آپ نے 6 جولائی 2018ء کو ن لیگ کو خیرباد کہا اور پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے، 26 جولائی 2018ء کو ایم پی اے بن گئے اور اس کے بعد آپ سے آج ملاقات ہو رہی ہے۔ آپ خود مصروف ہو گئے ہیں تو اس میں ہمارا کیا دوش؟ کہنے لگے یہ جنوری کا پہلا ہفتہ ہے مَیں جنوری کے تیسرے ہفتے آپ کو اپنے گھر دعوت پر یاد کروں گا، اگر ممکن ہو تو تشریف لائیے گا۔ مَیں نے کہا آپ کی سیاسی مصروفیت اتنی ہو گی کہ آپ کو یاد ہی نہیں رہے گا کہ آپ نے مجھ سے دعوت کا وعدہ کیا تھا۔ ہنس کر کہنے لگے اس مرتبہ میری طرف سے کوئی بہانہ نہیں ہو گا آپ نے وقت نکالنا ہے اور ہم نے اکٹھے بیٹھ کر مستقبل کی سیاست پر گپ شپ کرنی ہے۔ یہ بات 5 جنوری کی دوپہر کی ہے جہاں ہم نے کھانا اکٹھے کھایا اور دوبارہ جلد ملنے کے عہد و پیمان پر رخصت ہو گئے۔
16 جنوری 2019ء کی صبح اٹھا تو مختلف واٹس ایپ گروپ میں مظہر عباس راں کے انتقال کی خبر نے افسردہ کر دیا۔ اس کے ساتھ مختلف اخبارات میں ایک ہی تصویر دیکھ کر مزید دکھی ہو گیا کہ مظہر عباس راں کو پنجاب اسمبلی کے ملازمین سہارے سے لا رہے تھے کہ تصویر کے کیپشن میں لکھا تھا کہ ایم پی اے مظہر عباس راں کو اچانک طبیعت خراب ہونے پر اسمبلی سے باہر لایا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے شوکت مزاری بھی اسی اسمبلی ہال میں تقریر کرتے ہوئے دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے اور مظہر عباس راں نے ہسپتال جا کر دَم توڑا۔ ان کی آخری تصویر سے بالکل نہیں لگ رہا تھا کہ انہیں شدید دل کا دورہ پڑا ہے۔ خبروں میں صرف یہ آ رہا تھا کہ بلڈ پریشر بڑھنے کی وجہ سے ان کو ہسپتال داخل کرایا گیا اور راتوں رات مظہر عباس راں کو اتنی تکلیف بڑھ گئی کہ وہ بدھ 16 جنوری کی صبح انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کی خبر ملتان اور ان کے علاقے میں جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ میت لاہور سے ملتان لائی گئی۔ ان کے چاہنے والے دل گرفتہ تھے کہ اس مرتبہ وہ اپنے علاقے کے لیے کچھ اور کرنا چاہتے تھے کہ انہوں نے ماضی میں قادر پور راں میں بچیوں اور بچوں کے لیے کالج بنوایا۔ ترقیاتی کام کرائے اور 2018ء کے انتخابات میں وہ ایم پی اے منتخب ہو گئے۔ خیال تھا کہ وہ پنجاب کابینہ میں لیے جائیں گے یا انہیں مشیر بنایا جائے گا لیکن درویش صفت مظہر عباس راں کی انا نے کب گوارا کیا ہو گا کہ وہ اپنے لیے عہدہ طلب کریں گے۔ وہ دلوں پر حکمرانی کا ہنر جانتے تھے۔ تعلق کو نبھانا ان سے کوئی سیکھے۔ مجھے یاد ہے ابھی انہوں نے ن لیگ کو خیرباد نہیں کہا تھا اور ایک دن الخدمت کا سالانہ پروگرام تھا۔ وہ بطور سامع کے اس تقریب میں پہلی رو میں موجود تھے۔ اُسی دن نواز شریف کا ملتان میں جلسہ تھا مَیں ان کو الخدمت کی تقریب میں دیکھ کر حیران ہو گیا اور پھر سوچنے لگ گیا کہ وہ ن لیگ کو خیرباد کہہ دیں گے۔ کسی کے علم میں نہیں تھا کہ ان کا اگلا پڑاؤ کہاں ہو گا؟ کچھ دنوں بعد وہ کھلاڑی بن گئے اور کیا معلوم تھا کہ وہ اپنی زندگی کا انتخابی میچ جیتنے کے بعد موت سے ہار جائیں گے اور اس میدان میں جس کو اسمبلی کہتے ہیں کہ اس طرح تو کوئی بھی جیتی بازی نہیں ہارتا جس طرح مظہر عباس راں زندگی کی بازی ہارے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker