شاکر حسین شاکرکالملکھاری

اپنے ہمزاد کی بارگاہ میں۔۔کہتا ہوں سچ/شاکر حسین شاکر

قمر رضا شہزاد کی شاعری جب پڑھتا ہوں تو یوں لگتا ہے کہ یہ میری شاعری ہے۔ وہ جب بات کرتا ہے، جب قہقہہ لگاتا ہے میرے برابر سڑک پر چلتا ہے، کھانے کی میز پر بیٹھ کر گفتگو کرے اور بعد میں چائے کی سِپ پر ہم سب کا خاکہ اڑاتا ہے تو یوں لگتا ہے کہ وہ قمر رضا شہزاد نہیں شاکر حسین شاکر ہے۔ میرے اور اس کے تعلق کو قائم ہوئے کتنے برس، کتنے ماہ، کتنے ہفتے، کتنے دن، کتنے گھنٹے اورکتنے سیکنڈ ہو گئے یہ تو کبھی سوچا ہی نہیں۔ لیکن جب کبھی اس کو دیکھتا ہوں تو یہ سوچ کر دیکھتا ہوں کہ مَیں اپنی تصویر دیکھ رہا ہوں۔ پھر قمر رضا شہزاد کے برابر کھڑے ہو کر مجھے اس لیے بھی اچھا لگتا ہے کہ اس میں تو کوئی بری عادت ہی نہیں۔ کیونکہ اس میں اگر کوئی بری عادت کا مَیں ذکر کروں گا تو اس کا مطلب ہے کہ مَیں اپنی برائی کا تذکرہ کروں گا۔
وہ سراپا شاعر ہے، شاعری نے اسے اپنے حصار میں لے رکھا ہے۔ شاعری اس کے لیے آکسیجن کا کام کرتی ہے۔ اگر وہ شاعری نہ کرتا تو پھر شاید اتنا جی بھی نہ سکتا۔ شاعری نے اسے توانا رکھا ہوا ہے۔ وہ شاعروں کے ہجوم میں ایک ایسا شاعر ہے جس کی خوشبو پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے۔ شعر سناتے ہوئے اس پر لگتا ہے کچھ نازل ہو رہا ہے۔ وہ قمر رضا جو گھنٹوں ہمارے ساتھ بیٹھتا ہے دنیا جہان کی باتیں کرتا ہے مَیں اس کا چہرہ پڑھتا ہوں، اس کے چہرے پر لگی ہوئی عینک کا فریم دیکھتا ہوں۔ عینک کا فریم اس کے چہرے پر آ کے خوبصورت ہو جاتا ہے لیکن جب وہ اسی فریم کو چہرے سے ہٹا کر اپنی بیاض پر نظریں گاڑ کر غزل سناتا ہے تو تب قمر رضا شہزاد کبھی مجھے پکاسو لگتا ہے تو کبھی صادقین۔ کبھی وہ عبدالرحمن چغتائی کی شکل بن جاتا ہے تو کبھی وہ مجھے سعدی، رومی، حافظ، فردوسی اور خیام لگتا ہے۔
اس کی شاعری معمولی شاعری نہیں، وہ ایک غیر معمولی شاعر ہے۔ اسی لیے وہ خود کہتا ہے:
مَیں سرجھکائے کھڑا ہوں جہاں زمانوں سے
پتا کرو مری اپنی ہی بارگاہ نہ ہو
غزل اس کی محبوبہ ہے اور غزل کہتے ہوئے وہ اس کے خال و خد خود ہی نکھار دیتا ہے۔ اسی لیے تو وہ کہتا ہے کہ ”غزل کے ساتھ اتنی طویل رفاقت نے شاید میرے وجود کو بھی غزل کر دیا ہے کیونکہ اب مَیں شعر کی زبان میں سوچتا، دیکھتا اور بولتا ہوں۔ میرے لیے اس سے بڑا انعام اور کیا ہو سکتا ہے۔ مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ میرا شعری مقام کیا ہے۔ مجھے تو بس یہی سرشاری بہت ہے کہ میری زندگی لمحہ لمحہ شاعری میں بسر ہو رہی ہے۔“
قمر رضا شہزاد کے شعری سفر کی زندگی چالیس برس ہے۔ بیتے ہوئے ان چار عشروں میں مَیں اُس کے ایک ایک مصرعے کا گواہ ہوں اس نے شعر کہتے ہوئے کبھی بددیانتی نہیں کی۔ اور جب بھی کبھی نئی غزل کی تو اس نے نہ تو اردگرد نہ ماضی حال اور نہ ہی دور پار میں کہے ہوئے اشعار سے استفادہ کیا۔ وہ اپنا خیال اپنی مٹی سے اٹھاتا ہے۔ شعر کہتا ہے اور پھر اس شعر کو شہر کے داخلی دروازے پر لگا کر کہتا ہے کہ مَیں اپنے اشعار کو ”پیاس بھرے مشکیزے“ میں لے کر آیا تھا جس کو یہ شاعری چاہیے تو وہ ”خامشی“ سے آئے اور اپنے ”ہارے ہوئے عشق“ کو یاددہانی کے ذریعے عطا کر دے۔
وہ جس طرح کے مضامین کو اپنی غزل میں لا رہا ہے وہ بالکل نویکلے ہیں اور زندگی کو جس انداز سے وہ اپنے اشعار میں پرنٹ کر رہا ہے وہ اس سے پہلے تو کبھی کسی نے نہیں کیا۔ کبھی مجھے لگتا ہے کہ قمر رضا شہزاد احمد مشتاق کو بہت پڑھتا ہے لیکن پھر یہ میرا وہم ثابت ہوتا ہے مَیں قمر رضا کا تعاقب کرتے ہوئے عرفان صدیقی کا کلیات کھول کر بیٹھ جاتا ہوں تو یہاں پر بھی میرا یہ ہمزاد سرخرو ہوتا ہے۔ جمال احسانی ہو یا ثروت حسین، اظہار الحق ہو یا خورشید رضوی قمر رضا شہزاد تو ان سب سے الگ تھلگ کھڑا ہے۔ وہ اپنی بات اپنے انداز سے کرنے کا عادی ہے اور اس کی ہر نئی غزل اس کو آنے والے دنوں میں نئی غزل کہنے کا راستہ بھی دیتی ہے۔ کبھی کبھار مَیں سوچتا ہوں کہ اگر مجھے قمر رضا شہزاد کی شاعری کا انتخاب کرنا پڑ گیا تو وہ انتخاب کرنا ایک مشکل کام ہو گا۔ کہ اس کی شاعری ایک چراغ کی طرح روشن ہے جس کی روشنی سے شاعری کا آنگن چمک رہا ہے۔
چراغ کی لو سے ایک چہرہ بنا رہا ہوں
اسی لیے مَیں چہار سو جگمگا رہا ہوں
”بارگاہ“ قمر رضا شہزاد کا پانچواں پڑاؤ ہے اور یہ پہلے پڑاؤ کی طرح تازہ دَم ہے۔ اس پڑاؤ‌میں خیال تھا کہ کچھ دیر بیٹھ کر سانس لے گا، کچھ پرانی چیزیں نئے مصرعوں میں ڈھالے گا لیکن یہ جو میرا ہمزاد ہے ہر مرتبہ نئی بات کہنے کا ہنر رکھتا ہے۔ اسی لیے تو وہ کہتا ہے
جو دل میں میل جمی تھی وہ دھو بھی آیا ہوں
مَیں اپنے سامنے جی بھر کے رو بھی آیا ہوں
ابھی یہ لوگ تو احرام باندھنے میں ہیں
مَیں ربِ خیر کی جانب سے ہو بھی آیا ہوں
تمام رات تماشا رہے مجھے کیا فکر
مَیں خواب دیکھ بھی آیا ہوں سو بھی آیا ہوں
یہ وہ باتیں ہیں جو مَیں ہر وقت سوچتا رہتا ہوں اور قمر رضا یہ باتیں اپنی غزلیات میں کہہ رہا ہے۔ اس کی نئی کتاب ”بارگاہ“ ایک ایسا تحفہ نایاب ہے جو ہر دل پر نہیں اتر سکتا۔ کہ جو بات قمر رضا شہزاد کہہ سکتا ہے وہ کوئی اور نہیں کہہ سکتا کہ وہ میرا ہمزاد ہے اور اپنے ہمزاد کی بارگاہ مَیں بھی چند ٹوٹے پھوٹے لفظ لے کر کھڑا ہوں کہ میرا قمر اُن لفظوں پر راضی ہو جائے کہ مجھے میرا سفر بھی مکمل لگے۔ لفظوں کی یہ استدعا، درخواست اور منت قمر کی شاعری کی بارگاہ کے سامنے رکھی کہ میرے لفظوں کو بھی اذنِ زندگی ملے۔
( بشکریہ :روزنامہ ایکسپریس )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker