فیض کو یاد کرنے کے لیے نہ تو ان کی پیدائش کا مہینہ دیکھنا پڑتا ہے اور نہ ہی وفات کا دن۔ ان کی یادیں ہمیشہ چاروں اور پھیلی رہتی ہیں۔ سادہ لوح منکسر المزاج، خوش بیان اور من موہنی شخصیت کے پس منظر میں ہم فیض صاحب کو دیکھ سکتے ہیں۔ فیض صاحب ملتان سے بہت محبت کرتے تھے۔ یہاں پر اُن سے محبت کرنے والوں کی تعداد ہمیشہ سے اُن کی منتظر رہی۔
قسور گردیزی کا گھر ہو یا محترمہ ثریا ملتانیکر کی صحبت، عفت ذکی کا وہ گھر جس کے بارے میں انہوں نے فیض صاحب سے کہا کہ میرا گھر آپ کے رہنے کے قابل نہیں لیکن اس کے باوجود آپ میری عزت افزائی کرتے ہیں، جس پر فیض صاحب یہ جواب دیتے، ”بھئی کوئی بات نہیں، ہم پانچ سال جیل میں بھی تو رہے ہیں۔“
ملتان کے نامور مجسمہ ساز صادق علی شہزاد نے ایک مرتبہ بتایا کہ میری عمر اس وقت چوبیس پچیس برس کی ہو گی۔ 1973ءکا زمانہ تھا کہ مَیں اپنی دکان بیرون بوہڑ گیٹ میں موجود تھا کہ گاڑی آ کر رُکی، اور آرٹس کونسل کا ایک ملازم مجھے کہنے لگا کہ فیض صاحب آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ مَیں فوراً دکان سے نکل کر اس گاڑی کی طرف گیا جہاں فیض احمد فیض موجود تھے، دروازہ کھول کے مَیں نے اُن کو خوش آمدید کہا، ان سے گزارش کی آپ نے مجھے حکم کیا ہوتا، مَیں خود حاضر ہو جاتا۔ لیکن فیض صاحب کہنے لگے مَیں نے آپ کے مجسمے آرٹس کونسل میں دیکھے تو مَیں نے سوچا کہ اس خطے کے بہت بڑے فنکار سے خود جا کر مل آتا ہوں۔ اس لیے مَیں حاضر ہو گیا۔ صادق علی شہزاد کہتے تھے میری آنکھوں سے وہ لمحہ کبھی بھی اوجھل نہیں ہوا کہ اُردو کا بہت بڑا شاعر میرے فن پارے دیکھنے کے لیے بوہڑ گیٹ موجود تھا۔
آغاز میں ہم نے سیّد قسور علی گردیزی کا ذکر کیا، قسور گردیزی کا گھر سیاست دانوں، ادیبوں، دانشوروں کا مرکز بنا رہتا تھا۔ قسور گردیزی کے پاس بھی فیض صاحب بہت آتے جاتے تھے لیکن اُن کا قیام عفت ذکی کے گھر ہوتا تھا۔ رضی الدین رضی فیض کی یادوں کے حوالے سے اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں ”یہ بات 1968ءکی ہے فیض صاحب نشتر میڈیکل کالج کی تقریبات کے سلسلے میں ملتان آئے اور انہوں نے ایک مشاعرے میں شرکت کی۔ اس مشاعرے کی ایک تصویر اقبال ارشد کے پاس موجود تھی جس کو وہ زندگی کا اثاثہ جانتے تھے۔ تصویر میں فیض احمد فیض نمایاں دکھائی دے رہے ہیں۔ اس تصویر میں کشور ناہید اور احمد فراز بھی موجود ہیں۔ اور جب بھی اقبال ارشد اس تصویر کو یاد کرتے تھے تو کہتے تھے اسی مشاعرے میں فیض صاحب نے میری غزل سننے کے بعد مجھے بہت سی داد دی اور تھپکی سے نوازا۔“ بظاہر یہ ایک چھوٹی سی تصویر کی کہانی ہے لیکن اس تصویر میں موجود بڑے لوگوں کی موجودگی نے اسے یادگار بنا دیا ہے۔
یہ کالم لکھنے سے چند لمحے پہلے مَیں پروفیسر ڈاکٹر صلاح الدین حیدر کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، ڈاکٹر صلاح الدین حیدر کو ہم ڈاکٹر اس لیے کہتے ہیں کہ انہوں نے فیض صاحب پر پی۔ایچ۔ڈی کی ہے۔ ان سے جب بھی فیض صاحب کے متعلق بات ہوئی وہ ہمیشہ ایک ہی بات کہتے ہیں میری زندگی کا تمام تخلیقی سفر ایک طرف اور میرا فیض صاحب پر پی۔ایچ۔ڈی کرنا اس کے برابر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فیض صاحب پر کام کرتے ہوئے انہوں نے بے شمار لوگوں سے گفتگو کی، کتابیں پڑھیں اور اس کے بعد وہ ڈاکٹر ہوئے۔ جب انہیں یہ ڈگری ایوارڈ ہوئی تو سب سے زیادہ خوشی ملتان میں موجود پروفیسر لطیف الزماں خاں کو ہوئی تھی۔ جو خود تو انگریزی ادب کے استاد تھے لیکن تمام عمر غالب، اقبال اور فیض سے محبت کرتے رہے۔
اس خاکسار نے فیض صاحب کی تمام کتابوں کے اوّلین ایڈیشن انہی کی لائبریری میں دیکھے۔ لطیف الزماں خاں نے ان تمام کتابوں کو اتنے سلیقے سے سنبھال رکھا تھا کہ ان کو دیکھ کر یہ لگتا ہی نہیں تھا کہ یہ تمام کتابیں چالیس پچاس سال پرانی ہیں۔
ملتان میں فیض صاحب کے چاہنے والوں کی تعداد ہمیشہ بہت زیادہ رہی ہے۔ کالونی ٹیکسٹائل ملز کا مشاعرہ ہو یا قلعہ کہنہ ملتان میں جشنِ ملتان کی تقریبات، فیض صاحب ہمیشہ ملتان مشاعرہ پڑھنے بڑی محبت سے تشریف لاتے۔ عفت ذکی کا ذکر کیے بغیر یہ کالم کیسے مکمل ہو سکتا ہے۔ فیض صاحب کا اُن سے خطوط اور ٹیلیفون پر ہمیشہ رابطہ رہتا تھا۔ عفت ذکی کہتی ہیں جب فیض صاحب میرے ہاں قیام پذیر ہوتے تو شہر کے لوگ اتنے فون کرتے کہ ایک مرتبہ وہ کہہ اٹھے ”عفت تمہارا ٹیلیفون مزاجِ یار سے کہیں بدتر ہے۔ لاہور میں تو خیر وقت اپنا ہوتا ہے، اس کی کج ادائیوں سے فرق نہیں پڑتا لیکن کسی دوسری جگہ ایک آدھ کوشش کے بعد ہار ماننی پڑتی ہے۔“ فیض صاحب عفت ذکی کو جب بھی خط لکھتے تو آخر میں ”بہت سا پیار“ لازمی لکھتے۔ ایک مرتبہ عفت ذکی نے ان کو تنگ کرنے کی خاطر یہ کہہ دیا آپ صرف بہت سا پیار لکھتے ہیں لیکن …. جواب آیا اب کے تمہارے خط سے دل خوش بھی ہوا اور کچھ اداس بھی۔ خوش اپنے لیے یہ جان کر کہ بقول جوانی، خزاں کے باوجود چمن میں بوئے یاسمین باقی ہے اور اداس تمہارے لیے اس خیال سے کہ تمہیں آزارِ وفا کی اس وقت سوجھی جب دوائے دردِ دل بیچنے والے دکان بڑھانے کی فکر میں ہیں۔ بہرطور آج کل دلوں کی خانہ ء ویرانی کے دور میں بزم چراغاں کرنے کی کوئی صورت تو پیدا ہوئی، دور سے ہی سہی۔
ایک مرتبہ عفت ذکی نے فیض صاحب کو لکھا تنہائی بہت ستاتی ہے۔ سب کے ہوتے ہوئے بھی یہ محسوس ہوتا ہے کہ میرا کوئی نہیں، بچوں پر تو روایتی ماؤ ں والا پیار بھی نہیں آتا۔ شاید مجھ میں مامتا کی کمی ہے۔ اس کے جواب میں فیض صاحب نے لکھا تنہائی تو ایک طرح سے سمجھو انسانوں کے مقدر میں لکھی ہے اس لیے ﷲ میاں نے آدم و حوا کی تخلیق میں ہی اُن کے درمیان جدائی کا ایک پردہ ڈال دیا تھا۔ البتہ تنہائی کا احساس صرف حساس دلوں کو عطا کیا گیا جسے غالب نے آشوبِ آگہی کا نام دیا ہے۔ اور یہ آشوب صرف تم سے مخصوص نہیں، یہاں تک تو تمہارا کہنا ٹھیک ہے لیکن مامتا سے انکار والی بات ہم نہیں مانتے۔ یہ تو یونہی تمہارا وہم ہے۔ سب ماؤ ں کے دل ایک ہی ڈیزائن پر بنوائے گئے ہیں صرف کوئی کوئی پرزہ ذرا مختلف ہوتا ہے اور وہ بھی اسی آشوبِ آگہی کے سبب۔
( بشکریہ : روزنامہ ایکسپریس )
فیس بک کمینٹ

