ایک سال ہونے چلا ہے کہ میں روز ملتان کے اس مسیحا کو دو سے تین مرتبہ فون کرتا ہوں، ان کے کورونا وارڈ میں داخل اپنے عزیز و اقارب کے مریضوں کی خیریت دریافت کرتا ہوں، پھر ہر مریض کے بارے میں فکر کا اظہار کرکے جب فون بند کرتا ہوں ،تو بند کرتے ہوئے وہ مجھے یہ احساس نہیں دلاتے ہیں کہ میں نے ان کو فون کیوں کیا؟
قارئین کرام آپ کے امتحان کا وقت ختم ہوا چاہتا ہےاور میں آپ کو بتائے دیتا ہوں کہ اس مسیحا کا نام نامی ڈاکٹر سید آفتاب حیدر ہے ۔جو کورونا کی آمد سے پہلے بھی نشتر ہسپتال ملتان میں انتہائی نگہداشت وارڈ کی سربراہی کر رہےتھے کہ ملک میں کورونا حملہ آور ہو گیا ۔ پھر کورونا کا خوف اتنا پھیلا کہ ہسپتالوں میں کورونا وائرس میں مبتلا مریضوں کا علاج کرنے کے لیے کوئی بھی تیار نہ ہوا کہ کورونا کے آغاز میں پوری دنیا میں یہ خوف بھی پھیلا کہ کورونا لاعلاج مرض ہے، اس کی دوا بھی کسی مریض پر اثر نہیں کر رہی تھی اور طریقہ علاج بھی واضح نہیں تھا ۔ایسے حالات میں جن ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ہنگامی طور پر خدمات سر انجام دیں ان کا نام تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا کہ ان کے ایثار کی مثال ماضی میں بھی کبھی دیکھنے کو نہیں ملتی ۔ اب نشتر ہسپتال کے کورونا وارڈ کی صورت حال یہ ہے کہ وہاں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف کے ڈیوٹی پر آنے کا وقت تو ہے لیکن ان کی واپسی کا کوئی وقت طے نہیں ہے کہ اس وارڈ میں جس جانفشانی سے ڈاکٹر آفتاب حیدر زیدی اپنی انتھک ٹیم کے ہمراہ ڈٹے ہوئے ہیں اس ہمت و دلیری کی مثال کم کم دیکھنے کو ملتی ہے۔
ڈاکٹر آفتاب حیدر کے بارے میں بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ وہ اپنے گھر کے واحد کفیل ہیں، سرکاری تنخواہ لے کر شکر کا کلمہ پڑھتے ہیں ، کہ وہ رزق حلال کی برکت پر یقین کامل رکھتے ہیں ۔ کورونا وارڈ میں کام کرتے صرف ایک بات کا انہیں خوف رہتا ہے کہ یہ موذی مرض ان پر حملہ آور نہ ہو جائے کہ ان کی والدہ محترمہ گزشتہ کئی برسوں سے شدید علیل ہیں، انہوں نے اپنے گھر کے ایک کمرے کو آئی سی یو کادرجہ دے رکھا ہے، اپنی والدہ محترمہ کا خود ہی علاج کرتے ہیں ،والدہ کی وجہ سے وہ خدا سے دعا گو رہتے ہیں کہ یہ موذی مرض کہیں ان کو نقصان نہ پہنچائے ۔
ڈاکٹر صاحب سے میرا تعلق گزشتہ کئی برسوں سے ہے، ان کی دونوں بییٹاں بھی ہر وقت اپنے عظیم والد گرامی کے لیے دست دعا بلند رکھتی ہیں کہ ڈاکٹر آفتاب حیدر زیدی کی اہلیہ کا کئی سال پہلے ٹریفک حادثے میں انتقال ہو چکا ہے، اپنی وفا شعار اہلیہ کے انتقال کے بعد انھوں نے اپنے آپ کو دونوں بیٹیوں بہنوں ،والدہ صاحبہ کے علاوہ نشتر ہسپتال ملتان کے لیے وقف کر رکھا ہے،میں نے اپنے پورے تعلق کے دوران ان کو کبھی گہری نیند سے کسی مریض کے لئے جگایا تو کبھی علی الصبح، لیکن ان کی آواز میں کبھی اکتاہٹ یا بے زاری سننے کو نہیں ملی ۔وہ ملتان کے ایسے مسیحا ہیں جن سے بات کرتےہوئے یا ان کو کسی مریض کے بارے میں کہتے ہوئے مجھے کبھی شرمندگی نہیں ہوئی کہ مجھے علم ہے کہ ان کی تشکیل ایسی مٹی سے ہوئی ،جہاں سے ہمشیہ ٹھنڈک کا احساس نمو پاتا ہے ۔ ابھی کل ہی بات ہے کہ ایک جگہ ان سے ملاقات ہوئی تو میں نے ماسک پہنا ہوا تھا جبکہ ڈاکٹر صاحب بغیر ماسک کے دکھائی دئیے ۔میں نے حیران ہو کر پوچھا
کیا کورونا ختم ہو گیا ہے؟
تو ہنس کر بولے
آج میں نے کئی ماہ بعد نشتر ہسپتال سے آرام کی خاطر چھٹی کی ہے، پورا دن گھر میں آرام کر کے ابھی کچھ سامان خریدنے نکلا ہوں تو لوگوں کو بغیر احتیاطی تدابیر اختیار کئے دیکھا تو معلوم ہوا کہ کورونا تو ملک سے ختم ہو چکا ہے ۔ پھر میں نے بھی اپنا ماسک جیب میں ڈالا اور اس ہجوم کا حصہ بن گیا جو بغیر ماسک کے گزشتہ کئی ماہ سے کورونا کو اس کی اوقات یاد دلا رہا ہے، یہ کہتے ہوئے ان کے چہرے پر ایک معنی خیز مسکراہٹ تھی ۔جس کے پس پردہ وہ کرب اور دکھ تھا جس کو وہ روزانہ کورونا کی وجہ سے جاں بحق ہونے والے لواحقین کے چہروں پر روزانہ دیکھ رہے ہوتے ہیں ۔
ڈاکٹر آفتاب حیدر آج بھی لوگوں سے کہتے ہیں کہ کورونا ابھی ختم نہیں ہوا ،اور یہ آج بھی اتنا ہی خطرناک ہے جتنا یہ پہلے دن تھا ۔وہ اپنے وارڈ میں داخل ہونے والے ہر مریض کے لواحقین کو دست بستہ درخواست کرتے ہیں کہ کورونا کا وارڈ بہت خطرناک ہے ،اس لئے آپ تیمار داری کے لیے مت آئیں ہم آپ کے مریض کی تیمار داری بھی کریں گے اور علاج بھی ۔بالکل ایسے جیسے بیرون ممالک میں ہسپتالوں میں ہوتا ہے ۔ڈاکٹر آفتاب حیدر اپنی انتھک ٹیم کے ہمراہ روزانہ درجنوں مریضوں کی زندگی و موت کی جنگ لڑتے ہیں کبھی ان کو شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو کبھی وہ فتح یاب ہو کر مزید ہمت مجتمع کر کے پھر خدمت خلق میں مصروف ہو جاتے ہیں ۔میں نے پوچھا کہ اس انتھک محنت کے پس پردہ کون سے عوامل ہیں جو آپ کو تھکنے نہیں دیتے، تو چہرے پر اطمینان کی کیفیت لا کر کہنے لگے سب سے پہلے میری والدہ محترمہ کی دعائیں، پھر نشتر ہسپتال کے وائس چانسلر، پرنسپل، پروفیسرز، پیرا میڈیکل سٹاف کا دیا ہوا حوصلہ اور سب سے اہم لواحقین کی دعائیں ۔جو مجھ پر آسمان کی طرح سایہ رکھتی ہیں بس یہی میری زندگی کا حاصل ہے کہ کورونا وارڈ میں سوا سال کام کرنے کے بعد یہ احساس ہوا ہے کہ میری زندگی ضائع نہیں ہوئی کہ کورونا نے مجھے نیا جنم دیا اور اب میں اس جنم پر نازاں ہوں ۔
فیس بک کمینٹ

