موجودہ حکومت غریب عوام کی صحت کیلۓ بہت فکر مند دکھائی دیتی ہے اس کو دیکھتے ہوۓ پنجاب میں چار سو ارب روپے کے صحت کارڈ جاری کیے جا رہے ہیں جن سے ہر خاندان دس لاکھ روپے تک مختلف بیماریوں کا علاج مختلف ہسپتالوں سے کروا سکتا ہے مگر ابھی تک عوام ہیلتھ کارڈ سے استفادہ نہیں کر رہی۔ عوام سرکاری ہسپتالوں میں آ کر بھی مفت ادویات اور ٹیسٹ کی سہولت مانگتے ہیں مگر پنجاب حکومت کی جانب سے صحت کارڈ کا شاندار منصوبہ عوام کی بہترین فلاح کرتا دکھائی نہیں دے رہا ملتان شہر کے بیچوں بیچ شہر کا ڈسٹرکٹ ہسپتال جو شہباز شریف ہسپتال کہلاتا ہے گھنٹہ گھر کے قریب واقع ہے گزشتہ دنوں ہسپتال جانا ہوا بہت خوبصورت بنا ہوا ہسپتال دیکھ کر اچھا لگا کہ عام آدمی کسی بھی ناگہانی کی صورت میں یہاں جا کر اپنا علاج کروا سکتے ہیں ڈسٹرکٹ حکومت نے شہر سے باہر مضافاتی علاقوں میں عوام کی سہولت کے پیش نظر او پی ڈی کو رات آٹھ بجے تک فعال رکھنے کی ہدایت کی ہے جو قابل تحسین عمل ہے اس کے بر عکس شہباز شریف ہسپتال یوں تو چوبیس گھنٹے عوام کیلۓ کھلا ہے جہاں کروڑوں روپے لگا کر جدید ترین آپریشن تھیٹر بناۓ گۓ تاکہ مریضوں کو بر وقت طبی امداد دی جا سکے تین آپریشن تھیٹر تعمیر کیۓ گئے جہاں مختلف مریضوں کے آپریشن کیۓ جاتے ہیں مگر یہ آپریشن تھیٹر دن ایک بجے تک ہی فعال ہوتے ہیں۔
میں ایک دوست کو لیکر اس ہسپتال پہنچا جس کا گھنٹہ گھر کے قریب ہی ایکسیڈنٹ ہوا تھا ہسپتال قریب ہونے کی وجہ سے ہم یہاں آگئے مگر یہاں ڈیوٹی پہ صرف ایک ڈاکٹر موجود تھے جو عمومی مریضوں کو چیک کر رہے تھے ایمرجینسی کے حوالے سے یہاں دو بجے کے بعد کسی قسم کی سہولت میسر نہیں ہے مجھے مریض کو نشتر ہسپتال یا کسی پرائیویٹ ہسپتال منتقل کرنے کا مشورہ دیا گیا میرے وہاں بیٹھے بیٹھے کچھ اور مریض بھی آۓ جنہیں وہاں سے کسی اور ہسپتال جانے کا مشورہ دیا گیا اس دوران ایک خاتون تین یا چار سالہ بچے کو لیکر آئی جسے آوارہ کتے نے کاٹ لیا تھا اب اس کی ویکسین وہاں موجود نہیں ۔
وہ عورت غالبا اس بچے کی دادی تھی کہنے لگی کہ بیٹا اب میں اکیلی اس بچے کو لیکر کہاں دھکے کھاؤں حیرت کی بات ہے اتنے بڑے ہسپتال میں یہ سہولیات موجود ہی نہیں دور سے آۓ مریضوں کو دوسرے ہسپتال بھیج دیا جاتا ہے ایسا بھی ہوا کہ کسی مریض کو ٹانکے لگانے کیلۓ بھی ڈاکٹر موجود نہیں جبکہ ہسپتال میں ماہر ڈاکٹروں کی کوئی کمی نہیں ہے ملتان کے بہترین ڈاکٹر اس ہسپتال میں ڈیوٹی سر انجام دیتے ہیں ادویات کے حوالے سے بھی موجود ڈسپنسری کو بھی چوبیس گھنٹے بلا تعطل کھلا رکھنا چاہیے کیا ہی اچھا ہو کہ اس ہسپتال کو چوبیس گھنٹے ہر طرح کی ایمرجینسی کیلۓ فعال رکھا جاۓ۔
اس حوالے سے ایک اور مسئلہ بھی زیر بحث آیا ہے کہ شہباز شریف جنرل ہسپتال اور اس کے ساتھ متصل وومن فاطمہ ہسپتال جو زچہ بچہ اور خواتین کے گائنی سے متعلق ہے ۔ وہاں ڈیلیوری کے لئے لائے گئے مریضوں اور ورثا کے لئے کوئی کینٹین تک نہیں ۔ انتظامیہ اس جانب بھی اپنی توجہ مرکوز کرے اس سے حکومت کو ٹھیکے کی مد میں آمدنی میں اضافہ ہو گا اور عوام کو کھانے پینے کی سہولت بھی میسر ہو گی ہسپتال میں چوبیس گھنٹے تمام سہولتیں ملنے پر عوام کو اپنے مریضوں کو بروقت طبی امداد مل سکے گی جس سے ایک طرف تو ارد گرد کے لوگوں کو سہولت ملے گی اور عوام کا فائدہ بھی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ عملہ کی تعیناتی چوبیس گھنٹے کیلۓ کی جاۓ ضلعی حکومت اور محکمہ صحت اس حوالے سے اقدامات اٹھاۓ تاکہ مریض استفادہ کر سکیں
فیس بک کمینٹ

