سید مجاہد علیکالملکھاری

قومی مفاد اور دوہری شہریت۔۔ سید مجاہد علی

پاکستان کی سپریم کورٹ نے دوہری شہریت اورسرکاری ملازمتوں کے بارے میں ایک سو موٹو معاملہ کا فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ دوہری شہریت رکھنے والے لوگ ’قومی مفاد کے لئے خطرہ ہیں‘ اس لئے انہیں یا تو دوسری شہریت چھوڑنا ہو گی یا وہ سرکاری ملازمت سے مستعفی ہوجائیں۔ 52 صفحات پر مشتمل فیصلہ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے یہ بھی قرار دیا ہے کہ حکومت اس سلسلہ میں مناسب قانون سازی کرے تاکہ دوہری شہریت رکھنے والے لوگ ملک میں کسی اعلیٰ سرکاری عہدہ پر فائز نہ ہو سکیں۔
سپریم کورٹ نے یہ حکم بھی دیا ہے کہ آئندہ اگر مرکزی یا صوبائی حکومت کسی ایسے شخص کو جس کے پاس پاکستان کے علاوہ کسی دوسرے ملک کی شہریت بھی ہو کوئی عہدہ دینا چاہتی ہے تو کابینہ سے اس کی منظوری لی جائے۔ ان میں ان لوگوں کو بھی شامل کیا گیا ہے جنہوں نے دوہری شہریت رکھنے والے مرد یا عورت سے شادی کررکھی ہے۔ گویا سپریم کورٹ نے سرکاری ملازمتوں کے علاوہ کسی بھی حیثیت میں دوہری شہریت رکھنے والے پاکستانیوں کو پاکستان کے مفاد کے لئے خطرہ قرار دیا ہے جن پر خصوصی نظر رکھنے کی ضرورت ہوگی۔ فیصلہ میں حکم دیا گیا ہے کہ جو سرکاری ملازم اس کے بعد ایک مقررہ مدت تک ملازمت یا شہریت ترک نہیں کریں گے، انہیں قانونی کارروائی کے ذریعے اپنے عہدوں سے برطرف کیا جائے۔
ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کا یہ حکم بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے خلاف شدید عدم اعتماد کا اظہار ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار سمیت ملک کے تمام اعلیٰ عہدے دار اور سیاست دان یہ اعتراف کرتے نہیں تھکتے کہ ملک کی تعمیر میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے گراں قدر خدمات سرانجام دی ہیں۔ چیف جسٹس تو حال ہی میں برطانیہ کا دورہ کرکے آئے ہیں جہاں انہوں نے متعدد تقاریب سے خطاب کرتے ہوئے ’ڈیم فنڈ‘ کے لئے چندہ دینے کی اپیل کی تھی۔ اس موقع پر وہ برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کی حب الوطنی پر رطب اللسان رہے تھے۔ اس سے پہلے عمران خان نے اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد قوم سے خطاب کرتے ہوئے بیرون ملک پاکستانیوں سے ’ڈیم فنڈ‘ میں ایک ہزار ڈالر فی کس چندہ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک کی معیشت کے لئے تارکین وطن پاکستانی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد متعدد مواقع پر عمران خان یہ اقرار کرچکے ہیں کہ تارکین وطن پاکستانیوں کی ترسیلات کے بغیر پاکستان معاشی لحاظ سے انتہائی مشکلات کا شکار ہوسکتا ہے۔
وزیر اعظم کے اقرار کے علاوہ ماہرین گزشتہ کئی برس سے اس حقیقت کی نشاندہی کرتے رہے ہیں کہ ایک طرف پاکستان کی برآمدات میں کمی کا رجحان رہا ہے اور آمدنی کے دیگر ذرائع میں کمی واقع ہوئی ہے تو دوسری طرف بیرون ملک پاکستانیوں نے کثیر زرمبادلہ وطن روانہ کرکے معیشت کو انتہائی بحرانی دور میں سہارا دیا ہے۔ ان پاکستانیوں کی طرف سے پاکستان بھیجے جانے والے سالانہ فنڈز کی مقدار 20 ارب ڈالر سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ یہ رقم پاکستان کو برآمدات یا انکم ٹیکس کی مد میں وصول ہونے والے فنڈز سے بھی زیادہ ہے۔
وزیر اعظم عمران خان اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ کہتے رہے ہیں کہ در حقیقت بیرون ملک پاکستانی 20 ارب ڈالر سے کہیں زیادہ ترسیلات وطن روانہ کرتے ہیں لیکن ملک کے ناقص مالی انتظامات کی وجہ سے کافی بڑی تعداد میں فنڈز ہنڈی یا دوسرے غیر قانونی ذرائع سے پاکستان بھجوائے جاتے ہیں۔ اب ان کا کہنا ہے کہ حکومت قانونی طریقے سے زرمبادلہ ملک منتقل کرنے کا انتظام سہل بنائے گی جس کے نتیجے میں یہ ترسیلات 30 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ اس اضافہ سے پاکستان کو ادائیگیوں میں عدم توازن کے مسئلہ سے از خود نجات مل جائے گی۔ کیوں کہ وزیر اعظم بتاتے ہیں کہ پاکستان کو دس ارب ڈالر کے لگ بھگ سالانہ ہی تجارتی لین دین میں خسارہ کا سامنا ہے جو بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات میں اضافہ کے ذریعے آسانی سے پورا کیا جا سکتا ہے۔
ایک طرف حکومت اور وزیر اعظم بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی حب الوطنی اور ملکی مفاد کے لئے ان کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے ملکی معاشی منصوبہ بندی میں ان پاکستانیوں سے حاصل ہونے والے وسائل کو بنیادی اہمیت دیتے ہیں تو دوسری طرف سپریم کورٹ یہ قرار دے رہی ہے کہ دوہری شہریت رکھنے والے پاکستانی ملکی مفاد کے لئے خطرہ ہیں۔ اس لئے انہیں کوئی سرکاری ذمہ داری نہیں سونپی جاسکتی۔ ریاست کے دو اہم اداروں حکومت اور عدالت کے مؤقف میں اس تضاد سے ملکی مفاد کا تحفظ نہیں ہو سکے گا بلکہ اس کے ذریعے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی توہین اور ان کی وطن سے وفا شعاری اور محبت کو مسترد کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اگر کوئی پاکستانی قانونی پیچیدگیوں اور سفری مشکلات سے بچنے کے لئے دوسرے ملک کی شہریت لیتا ہے اور دونوں ملکوں کی باہمی رضا مندی سے وہ پاکستان اور اس ملک کی شہریت بیک وقت اختیار کرلیتا ہے تو اس کی وفاداری پر نئے وطن میں تو سوال نہیں اٹھایا جاتا لیکن جس وطن کے لئے اس نے ہجرت یا ترک وطن کا عذاب جھیلا اور دیار غیر میں بھی وہ جس ملک کے گن گاتا ہے اور اس کی بہبود اور بھلے کے لئے مصروف عمل رہتا ہے، وہاں اس کی وفاداری اور نیت کو سپریم کورٹ کی طرف سے مشکوک قرار دے کر اہم قومی مفاد سے صرف نظر کرنے کی راہ اختیار کی گئی ہے۔
دنیا کے 19 ممالک میں آباد پاکستانی اگر میزبان ملک کی شہریت حاصل کرنے کی شرائط پوری کرتے ہوئے اسے اختیار کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو انہیں بدستور اپنے اصل وطن یعنی پاکستان کی شہریت برقرار رکھنے کا حق حاصل رہتا ہے۔ اصولی طور پر تو اس حق کی روشنی میں کسی بھی ایسے پاکستانی کو اپنے اصل ملک میں جہاں وہ پیدا ہؤا تھا یا اس کے والدین نے وہاں سے ترک وطن کیا تھا، دوہری شہریت کے بعد بھی وہی حقوق حاصل رہنے چاہئیں جو اسے نئے وطن میں حاصل ہو سکتے ہیں۔ لیکن حیر ت انگیز طور پر پاکستان کے لئے اپنے بیرون ملک آباد شہریوں کی اہمیت سے کے باوجود اور اس حقیقت سے قطع نظر کہ اکثر پاکستانی حکومتیں ماضی قریب میں ان پاکستانیوں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرنے کا وعدہ کرتی رہی ہیں۔ یہ پاکستانی اپنے ہی وطن میں بنیادی سہولتوں اور حقوق سے محرومکیے جاتے رہے ہیں۔ ایسے سینکڑوں واقعات ریکارڈ کا حصہ ہیں کہ بیرون ملک رہنے والے پاکستانی نے اگر اپنے وطن میں جائیداد خریدی یا کوئی دوسری سرمایہ کاری کی تو اسے کسی نہ کسی دھوکہ دہی سے ہتھیا لیا گیا اور ملک کا قانونی نظام ان کی داد رسی میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ اس کے باوجود کبھی ان پاکستانیوں نے اپنے اصل وطن سے کوئی گلہ نہیں کیا۔
کسی بھی دوسرے ملک کی شہریت لینے کے بعد عام طور سے ان پاکستانیوں کو میزبان ملکوں میں شہری حقوق اور پاسپورٹ کے علاوہ وہ تمام حقوق و مراعات حاصل ہوجاتی ہیں جو ان کے ہاں پیدا ہونے والے لوگوں کو حاصل ہوتے ہیں۔ ان میں سرکاری ملازمت کا ہی نہیں بلکہ ووٹ دینے کے حق کے علاوہ انتخاب میں حصہ لے کر منتخب نمائندے کے طور پر خدمات سرانجام دینے کا حق بھی شامل ہے۔ ناروے جیسے چھوٹے ملک کی 169 رکنی پارلیمنٹ میں اس وقت تین ارکان پاکستانی نژاد ہیں جنہیں اپنی اپنی سیاسی پارٹی میں نمایاں اہمیت و مقام حاصل ہے۔ برطانیہ اور دوسرے ملکوں میں بھی صورت حال مختلف نہیں ہے۔ کوئی مقامی ادارہ ان لوگوں کی نیک نیتی، اور وفاداری پر سوال نہیں اٹھاتا۔ کیوں کہ قومی مفاد کے خلاف کام کرنا جرم کے ذیل میں آتا ہے اور کسی جرم کو ثابت کرنے کے لئے قانون کے مطابق ثبوت و شواہد فراہم کرنا پڑتے ہیں۔ لیکن پاکستان ایک ایسا انوکھا ملک ہے کہ جس کی سپریم کورٹ اپنے ہی ملک کے شہریوں کو قومی مفاد کے لئے خطرہ قرار دے رہی ہے لیکن اس بارے میں کوئی اعداد و شمار یا شواہد سامنے لانے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔
ناروے کی پارلیمنٹ میں حال ہی میں دوہری شہریت کا حق دینے کے لئے ایک قانونی مسودہ پیش کیا گیا ہے۔ حیرت انگیز طور پر یہ تجویز تارکین وطن کے خلاف سیاسی ایجنڈا رکھنے والی دائیں بازو کی ایک انتہا پسند پارٹی کی طرف سے تیار کی گئی ہے۔ اگرچہ ناروے میں مقیم پاکستانی اس قانون کے حوالہ سے بہت پرجوش ہیں اور یہ انتظار کررہے ہیں کہ یہ قانون منظور ہو تو وہ جذباتی طور سے جس ملک کے ساتھ وابستہ ہیں، اس کی شہریت دوبارہ حاصل کرلیں۔ لیکن اس قانون کی مخالفت کرنے والے نشاندہی کررہے ہیں کہ حکومت کی طرف سے یہ قانون لانے کا مقصد یہ ہے کہ دوہری شہریت کے بعد اگر کوئی ایسا شخص کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہؤا تو اس کی شہریت واپس لے کر اسے اس کے اصل وطن واپس بھیج دیا جائے گا۔ دوہری شہریت کا قانون نہ ہونے کی وجہ سے کسی دوسرے ملک کے سابقہ شہری کو ملک بدر یا اسٹیٹ لیس نہیں کیا جاسکتا۔ حکومت کی اسی منفی سوچ کی وجہ سے وکلا کی تنظیموں اور اپوزیشن کی سیاسی پارٹیوں نے اس قانون کی مخالفت کی ہے۔ اس بارے میں یہ دلیل دی جارہی ہے کہ کسی جرم کی دو سزائیں نہیں ہوسکتیں۔ اگر ملک کے قانون کے تحت کسی جرم کی سزا مقرر ہے تو دوہری شہریت والے سے ناروے کی شہریت واپس لینے کا اقدام دوہری سزا تصور کیا جائے گا۔
ناروے جیسے ملک میں یہ قانونی اور سیاسی بحث کی جارہی ہے لیکن پاکستان کی اعلیٰ ترین مسند انصاف پر بیٹھنے والے منصف ایک جنبش قلم سے لاکھوں پاکستانیوں کو صرف اس جرم میں اپنے وطن میں کام کرنے کا حق دینے سے محروم کررہے ہیں جہاں وہ پیدا ہوئے اور جو اپنے بچوں کو اچھا مسلمان ہونے کے ساتھ اچھا پاکستانی بنانے کا جتن کرتے رہتے ہیں۔ امریکہ یا برطانیہ میں مقیم کوئی پاکستانی خاندان اگر اپنے اعلیٰ تعلیم یافتہ بچوں کو پاکستان میں کام کرنے پر آمادہ کرتا ہے تاکہ وہ اس ملک کی خدمت کرسکیں تو ملک کی سپریم کورٹ ان کے راستے میں دیوار بن کر کھڑی ہورہی ہے کہ انہیں ملک کی فکر میں دبلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ دوہری شہریت رکھنے والے پاکستانیوں کے لئے حوصلہ شکن خبر ہے۔ یہ فیصلہ قومی مفاد کے بارے میں پاکستانی اداروں اور نظام عدل کے بے بنیاد خوف کی بنیاد پر کیا گیا ہے اور اس سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے جذبات اور وطن سے محبت کی توہین کی گئی ہے۔ حکومت کو سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لئے دشواریوں میں اضافہ کرنے کی بجائے ایسا قانون بنانا چاہیے جو قومی مفاد کی غیر واضح اور بے بنیاد تفہیم کی بنیاد پرکیے جانے والے فیصلوں کا راستہ روک سکے۔ اسی صورت میں یہ تسلیم کیا جاسکے گا کہ پاکستان ان لوگوں کی قدر کرتا ہے جو اس کی بہبود اور ترقی کا خواب دیکھتے ہیں اور اس کے لئے مسلسل کام کرتے ہیں۔
(بشکریہ: ہم سب)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker