سید مجاہد علیکالملکھاری

جمہوری آوازوں کو کچلنے پر آمادہ حکومت اپنے انجام پر بھی غور کر لے۔۔ سید مجاہد علی

پاکستان کے ایوان بالا سینیٹ نے کثرت رائے سے منظور کی گئی ایک قرارداد میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں کے خلاف حکومتی ریفرنس کی مذمت کی ہے۔ قرار داد میں کہا گیا ہے کہ یہ ریفرنس جس خفیہ انداز میں بھیجے گئے ہیں، اس سے اس شبہ کو تقویت ملتی ہے کہ اس اقدام کاتعلق ججوں کے حالیہ فیصلوں سے ہے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے سینئر جج قاضی فائز عیسیٰ نے اس سال فروری میں فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ لکھا تھا اور اس میں فوج کے کردار پر نکتہ چینی کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ اس فیصلہ میں قرار دیا گیا تھا کہ 2014 کے دھرنے میں ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا گیا تھا، اسی لئے لبیک تحریک کو بھی نومبر 2017 میں فیض آباد پر دھرنا دینے کا حوصلہ ملا تھا۔ اس فیصلہ کی وجہ سے فوج اور تحریک انصاف کی حکومت، دونوں ہی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ہیں اور انہیں اپنی سیاست اور سیاسی معاملات میں مداخلت کی حکمت عملی کے لئے خطرہ سمجھتے ہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اگر اس ریفرنس کے نتیجہ میں برطرف نہ کئے گئے تو وہ اگست 2023 میں ملک کے چیف جسٹس بن سکیں گے۔ قیاس کیاجارہا ہے کہ اس اندیشے سے نمٹنے کے لئے ابھی سے قاضی فائز عیسی ٰ سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس معاملہ پر قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی اپوزیشن کی طرف سے قرارداد پیش کی گئی تھی۔ لیکن حکومت اور اپوزیشن کے اراکین کے درمیان ججوں کے خلاف ریفرنس بھیجنے اور پشتون تحفظ موومنٹ کے ارکان محسن داوڑ اور علی وزیر کے بارے میں وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان کی بدکلامی کے پر ہونے والی ہنگامہ آرائی میں اس قرارداد پر رائے دہی نہیں ہوسکی۔ یوں بھی حکومتی اتحاد کو قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل ہے اور وہ اپوزیشن کی قرارداد کو مسترد کرنے کی پوزیشن میں تھا۔ جبکہ سینیٹ میں حکمران تحریک انصاف اقلیت میں ہے۔
 قومی اسمبلی کے اجلاس کے بعد بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں کے اراکین نے میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے حکومتی طرزعمل اور طریقہ کار کی شدید مذمت کی اور اسے پرویز مشرف کے آمرانہ ہتھکنڈوں کے مماثل قرار دیا۔ مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے ججوں کے خلاف حکومتی ریفرنس کو ججوں کی ’ٹارگٹ کلنگ‘ کے مترادف بتایا۔
ایوان میں پشتون تحفظ موومنٹ کے دو ارکان اسمبلی علی وزیر اور محسن داوڑ کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے ان دونوں زیر حراست ارکان کے پروڈکشن آرڈر کے لئے اسپیکر کو خط لکھا تھا لیکن اسپیکر کی طرف سے بتایا گیا کہ انہیں یہ خط موصول ہی نہیں ہؤا۔ اپوزیشن اسپیکر کے اس جواب کو جھوٹ سمجھتے ہوئے ابھی اسی پر نالاں تھی کہ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے انتہائی غیر پارلیمانی انداز میں قومی اسمبلی کے اراکین علی وزیر اور محسن داوڑ کی حب الوطنی پر شبہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے لوگوں کو اسمبلی کا رکن رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ ان کی رکنیت ختم ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ’ پی ٹی ایم کے یہ ارکان پاکستان دشمن جذبات کی پرداخت کرتے ہیں اور افغان انٹیلی جنس ایجنسی کے ٹاؤٹ ہیں‘۔ علی محمد خان کی اس غیر پارلیمانی اور اشتعال انگیز تقریر پر بلاول بھٹو زرداری سمیت پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے اراکین نے شدید احتجاج کیا اور اسی ہنگامہ آرائی میں اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا گیا۔
بعد میں اپوزیشن کے دیگر لیڈروں کے ساتھ میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا یہ حکومت آمرانہ ہتھکنڈوں پر عمل کررہی ہے اور خود مختار عدلیہ کو زیر نگین رکھنے کے طریقے اختیار کئے جارہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ’حکومت نے ججوں کے خلاف ریفرنس بھیج کر عدلیہ کو تباہ کرنے کے منصوبے کا آغاز کیا ہے۔ ان ریفرنسز کو واپس لیا جائے‘۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن حکومت کے غیر جمہوری اقدامت کی سخت مزاحمت کرے گی۔
 اس موقع پر بات کرتے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے موجودہ حکومت کو ڈھونگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’اس وقت پاکستان میں صرف نام کی جمہوریت ہے۔ یہ حالات اور تحریک انصاف کی حکومت کا طریقہ کار ماضی کی آمرانہ حکومتوں جیسا ہے۔ ان ججوں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے جنہوں نے ملک کی ان طاقتوں کو چیلنج کیا تھا جنہیں چھؤا بھی نہیں جا سکتا۔ ان حالات میں ہم سب کا فرض ہے کہ جمہوریت کی حفاظت کے لئے ہر ممکن قدم اٹھائیں۔ تاکہ جمہوریت کے لئے پاکستانی عوام کی قربانیاں رائیگاں نہ جائیں‘۔
گزشتہ دو ہفتے کے دوران یکے بعد دیگرے رونما ہونے والے واقعات نے ایک طرف حکومت کے جمہوری مزاج کے بارے میں سنگین سوالات اٹھائے ہیں تو دوسری طرف یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کیا عمران خان کی حکومت کے پاس کسی قسم کا کوئی اختیار ہے بھی یا اس کی حیثیت محض کٹھ پتلی کی ہے۔ یوں تو  جولائی 2018 کے انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے عمران خان کو ’سیلکٹڈ‘ وزیر اعظم قرار دیا جاتا رہا ہے۔ اپوزیشن کے اس سخت گیر طرزعمل کو سیاسی ہتھکنڈا سمجھتے ہوئے ملک کے عوام بہر حال یہ محسوس کرتے رہے ہیں کہ سیاست میں تحریک انصاف نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا متبادل فراہم کیا ہے۔ عمران خان اچھی شہرت کے نئے لیڈر ہیں۔ اس لئے امید کی جا رہی تھی کہ ماضی کی حکومتوں کے برعکس تحریک انصاف زیادہ عوام دوست منصوبوں کا آغاز کرے گی۔
حکومت کی معاشی نااہلی اور سیاسی شدت پسندانہ نعرے بازی کی وجہ سے عوام میں تبدیلی کی اس حکومت کے بارے میں قائم ہونے والی خوش فہمیاں تیزی سے ختم ہورہی ہیں۔ ملک کے اقتصادی معاملات کو سنبھالنے اور ان کے بارے میں کوئی مثبت منصوبہ بندی کرنے کی بجائے وزیر اعظم اور ان کے ساتھیوں نے سابقہ حکومتوں اور خاص طور سے نواز شریف اور آصف زرداری کی کردار کشی کا طرز عمل اختیار کیا۔ حالانکہ اقتدار میں آنے کے بعد ان سے گالم گلوچ کی بجائے سیاسی تدبر اور اہم قومی معاملات میں تمام پارلیمانی پارٹیوں کو ساتھ لے کر چلنے کی امید کی جا رہی تھی۔ تاہم عمران خان اپنے تبدیل شدہ کردار  کی ضرورت اور نزاکت کو سمجھنے سے قاصر رہے ہیں۔
آج قومی اسمبلی میں وزیر مملکت علی محمد خان نے دو منتخب ارکان کے بارے میں جو زبان استعمال کی اور جس طرح انہیں پاکستان کا غدار قرار دینے کی کوشش کی ہے، اس سے تحریک انصاف کی کم ظرفی اور نااہلی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ علی محمد خان نے مقدس سمجھے جانے والے ایوان میں علی وزیر اور محسن داوڑ پر جوالزامات عائد کئے ہیں، وہ انہیں کسی عدالت میں ثابت کرنے کے اہل نہیں ہیں۔ کیوں کہ اگر حکومت یا اس کے سرپرستوں کے پاس پی ٹی ایم کے لیڈروں کی ’غداری‘ کے کوئی ثبوت ہوتے تو انہیں ایک فوجی چیک پوسٹ پر حملہ کے مشتبہ مقدمہ میں گرفتار کرنے کا اقدام نہ کیا جاتا۔
ملک میں انتہا پسندی کے خاتمہ اور سیاسی و مذہبی رائے کی بنیاد پر تقسیم کو ختم کرنے کے لئے افہام و تفہیم پیدا کرنے اور اختلاف رائے برداشت کرنے کے حوصلے کی ضرورت ہے۔ عمران خان اور ان کے ساتھی بار بار یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ اختلاف برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنا اقتدار قائم رکھنے کے لئے مخالف سیاسی قائدین کی کردار کشی کو سب سے مؤثر ہتھیار سمجھتے ہیں۔ آج علی محمد خان نے یہ ہتھیار قومی اسمبلی کے فلور سے استعمال کیا ہے۔ حکومت سے ملک میں الزام تراشی اور فتوی فروشی کا طریقہ کار ختم کرنے کی امید کی جاتی ہے۔ وزیر مملکت پارلیمانی امور کی تقریر سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت اس طریقہ کار کو سرکاری حکمت عملی کے طور پر اختیار کر رہی ہے۔ یہ رویہ نہ صرف جمہوریت بلکہ معاشرہ میں صحت مند سماجی اور سیاسی مزاج کی تشکیل کے لئے نہایت مہلک ثابت ہوگا۔
گزشتہ اتوار کو خڑ کمر چیک پوسٹ پر ہونے والے حملہ کے تناظر میں منتخب حکومت پر اس کی ذمہ داری قبول کرنے اور واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کروانے کا فرض عائد ہوتا تھا۔ اس کے برعکس حکومت الزام تراشی اور غداری کے طعنوں سے کام چلانے کی کوشش کررہی ہے۔ اسی طرح عدالتوں پر اعتبار کرنے، ان کے فیصلوں کا احترام کرنے اور ان پر عمل درآمد کروانے کی صحت مند روایت قائم کرنے کی بجائے سپریم کورٹ کے ایک ایسے جج سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو فیض آباد دھرنا کے بارے میں بعض ایسے حقائق کو سامنے لائے تھے جن کی بنیاد پر ملک میں ہمہ وقت افواہ سازی کا ماحول گرم رہتا ہے لیکن اس معاملہ پر کھل کر بات کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔
یہ حکومت صرف ایسے احتساب بیورو، ایسے ججوں اور صرف ان فیصلوں کو مانتی ہے جن سے اس کے اپنے سیاسی مقاصد پورے ہوتے ہوں۔ یا درپردہ قوتوں کی بالادستی کو تسلیم کرنے کا اصول چیلنج نہ ہوتا ہو۔ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل کروانا اگر حکومت کا کام ہے تو عمران خان کی حکومت کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس بھیجنے سے پہلے اس بات کا جواب دینا چاہئے کہ فیض آباد دھرنا کیس پر دیے گئے حکم پر کس حد تک عمل کروایا گیا ہے؟
یہ قرین قیاس ہے کہ اس وقت تحریک انصاف اور اسٹبلشمنٹ اس لحاظ سے ایک پیج پر رہنے پر مجبور ہیں کہ وہ ایک دوسرے کی مجبوری اور ضرورت بنے ہوئے ہیں۔ اداروں اور منتخب حکومت کے اس اشتراک سے جمہوری اقدار کو پامال کیا جارہا ہے اور بنیادی حقوق متاثر ہورہے ہیں۔ انہی حقوق کے لئے آواز بلند کرنے پر پی ٹی ایم کا گلا گھونٹنے کی کوشش ہورہی ہے۔
عمران خان کو باور کرنا چاہئے کہ ان ہتھکنڈوں سے وہ تاحیات وزیر اعظم تو نہیں رہ سکیں گے لیکن جن طاقتوں کے بل بوتے پر وہ جمہوی روایت کو کچل رہے ہیں، کل ضرورت پڑنے پر وہی قوتیں ان کی قربانی بھی چاہیں گی۔ تب کوئی جمہوریت پسند ان کی حفاظت کے لئے سامنے نہیں آئے گا۔ کیوں کہ علی محمد خان جیسے عاقبت نااندیش انہی آوازوں کو دبانے کے درپے ہیں۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)
فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker