سید مجاہد علیکالملکھاری

اندر کی خبر، فوج کا کردار اور سیاسی احتجاج۔۔ سید مجاہد علی

اسے اتفاق سے زیادہ پاکستانی سیاست کی سنگین ستم ظریفی کہنا چاہئے کہ گزشتہ روز وزیر اعظم عمران خان اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے اپنے اپنے طور پر سیاست اور فوج کے بارے میں ایک ہی بات کہی ہے۔ یعنی فوج اس وقت تحریک انصاف کی حکومت اور عمران خان کی مکمل حمایت کررہی ہے۔ لاریب ہر قومی ادارے کو حکومت کے بارے میں یہی رویہ اختیار کرنا چاہئے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا فوج نے ہمیشہ اور ہر حکومت کو ایسی ہی حمایت فراہم کی ہے؟


یہی سوال دراصل اس ملک میں سیاسی قیادت کی ناکامی اور جمہوری سفر کے لئے مشکلات کا سبب بنتا رہا ہے۔ اس میں بھی کوئی شبہ نہیں ہے کہ یہ صورت حال پیدا کرنے کے لئے سیاسی لیڈروں کو معاف نہیں کیا جاسکتا ۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش میں ہر سیاسی لیڈر نے اپنے طور پر فوج کی خوشنودی حاصل کرنے اور برسر اقتدار یا معتوب حکومت سے بہتر ’حق نمک‘ ادا کرنے کا وعدہ کیا تاکہ انہیں پہلی بار یا ایک بار پھر برسر اقتدار آنے کا موقع مل جائے۔ اس طرح اسٹبلشمنٹ کے پاس ہمیشہ یہ ’چوائس‘ موجود رہا ہے کہ وہ کسے وزیر اعظم کی کرسی پر بٹھانا چاہتی ہے یا کس پارٹی کو انتخاب میں جیتنے کا موقع دیا جائے۔ سیاسی قوتوں کے علاوہ گزشتہ عشرہ کے دوران بادشاہ گر بننے کے خواہاں یا گمان میں مبتلا اینکرز، سینئر صحافیوں یا میڈیا پرسنز نے بھی درحقیقت اسٹیبلشمنٹ کے معاون کا کردار ادا کیا ہے۔
مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے تناظر میں اگرچہ کہا جارہا ہے کہ بھارت کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی، مقبوضہ کشمیر کی صورت حال اور لائن آف کنٹرول پر تصادم کی صورت حال میں ملک اس وقت قومی احتجاج، لاک ڈاؤن یا اسلام آباد کو بند کرنے جیسے حالات کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ لیکن اس کے باوجود خود کو نمایاں کرنے کے شوقین یا حکومت اور خاص حلقوں کی خدمت گزاری پر مامور صحافیوں اور اینکرز نے گزشتہ روز سے مولانا فضل الرحمان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ملاقات اور اس میں ہونے والی گفتگو کی تفصیلات سامنے لاکر اشتعال ، بے یقینی اور سیاسی بے چینی کی نئی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔
حکومت یا پاک فوج کے ترجمان نے اس قسم کی ’درون خانہ‘ خبروں کا نوٹس لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ پہلے تو یہ جاننا چاہئے کہ اگر اس وقت ملک میں واقعی سیاسی ہم آہنگی اور حکومت و اداروں کے اشتراک عمل کی شدید ضرورت ہے تو سیاسی انتشار پیدا کرنے والی خبروں کی تردید یا تصدیق کا اہتمام کرنے کی ضرورت کیوں محسوس نہیں کی جاتی؟ وزیر اعظم ہاؤس اور آئی ایس پی آر کیوں ایک ایسی رپورٹ پر چپ سادھے ہوئے ہیں، جس سے اداروں کے کردار پر سوال اٹھتے ہیں اور حکومت کی زبوں حالی کا پول کھلتا ہے۔


جن دو سینئر اینکرز اور صحافیوں نے مولانا کی جنرل باجوہ کے ساتھ ملاقات کی خبردی ہے، انہیں حکومت اور اس کی سرپرستی کرنے والی فوج کے قریب سمجھا جاتا ہے۔ جب ایسے لوگ کوئی بات کہیں یا تو یہ درست خبر ہوتی ہے یا متعلقہ ادارے اسے پلانٹ کروانا چاہتے ہیں۔ بدنصیبی سے جدید صحافت میں خبروں کی دو قسمیں ہوتی ہیں۔ ایک وہ جو وقوعہ کی بنیاد پر رپورٹ ہوتی ہے اور دوسری وہ جو کسی وقوعہ کے بغیر پروپیگنڈا کے نقطہ نظر سے پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کام میں قومی میڈیا کے بعض ’جاں باز اور محب وطن‘ صحافی پوری دل جمعی سے سرکاری ذرائع کا آلہ کار بنتے ہیں۔ عام طور سے حالت جنگ میں دشمن کو گمراہ کرنے کے لئے اس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کئے جاتے ہیں لیکن پاکستان کی سیاست کو مستقل طور سے میدان کارزار بنا کر عوام کو وہ ’دشمن‘ تصور کرلیا گیا ہے جنہیں گمراہ کرنا مقصود ہے۔


جنرل قمر جاوید باجوہ اور مولانا فضل الرحمان کی ملاقات کا معاملہ صرف اسے رپورٹ کرنے تک محدود نہیں رہا۔ بلکہ اس کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’ آرمی چیف نے اس ملاقات میں کہا کہ وہ جمہوریت اور آئین کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم وہی کر رہے ہیں جو آئین ہم سے مطالبہ کرتا ہے۔ مولانا کو ذمہ دار سیاسی رہنما کے طور پر خطے کی پریشان کن صورت حال کا اندازہ ہونا چاہئے ۔ آرمی چیف نے مولانا سے کہا کہ یہ دھرنے کیلئے درست وقت نہیں ہے کیونکہ ملکی معیشت کو دن رات محنت سے درست سمت کی طرف لے جایا گیا ہے۔ آرمی چیف نے واضح کیا کہ وہ اس وقت کسی بھی طرح کے عدم استحکام کی اجازت نہیں دیں گے۔ آرمی چیف نے مائنس عمران کے امکانات کو بھی مسترد کر دیا کیونکہ عمران خان ہی آئینی وزیراعظم ہیں۔ انہوں نے مولانا کو بتایا کہ آپ اور نہ ہی میں انہیں مائنس کر سکتے ہیں۔ اس اطلاع کے مطابق آرمی چیف نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر مولانا نے احتجاج پر اصرار کیا تو کچھ اور لوگ مائنس ہو سکتے ہیں۔ استحکام کیلئے اگر جانی نقصان ہوا اور آئین میں اس کی اجازت بھی ہوتو وہ ایسے کسی اقدام سے نہیں گریز نہیں کریں گے‘۔
سوال تو یہ ہے کہ دو اہم افراد کی ملاقات میں ہونے والی باتوں تک رسائی صرف دو اینکرز کو ہی کیوں ہوسکی ہے۔ یہ دونوں صاحبان اس خبر کو منکشف کرنے سے پہلے صحافیوں کے اس گروپ میں شامل تھے جنہیں وزیر اعظم سے ملاقات کے لئے پی ایم ہاؤس بلایا گیا تھا۔ خبر کو شروع سے آخر تک پڑھ لیجئے، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک خاص سیاسی ایجنڈے کے تحت تیار کی گئی ہے۔ اور اسے باقاعدہ پھیلانے اور ملک میں ’سازشی نظریہ‘ کو شدید کرنے کی غرض سے منظر عام پر لایا گیا ہے۔ اگر آرمی چیف یا مولانا فضل الرحمان اس ملاقات کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کرنا چاہتے تو ان کے ترجمان یہ کام بخوبی کرسکتے ہیں ۔ اس صورت میں صرف دو ’خاص اور قابل اعتماد‘ صحافیوں کا انتخاب کرنے کی ضرورت محسوس نہ ہوتی۔


تاہم اس حوالے سے سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ پاک فوج کے متحرک اور فعال شعبہ تعلقات عامہ اور اس کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور کو بھی گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران اس خبر کی تردید کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ حالانکہ اس میں جنرل باجوہ سے ایسی باتیں منسوب کی گئی ہیں جو آرمی چیف کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔ ان سے ایسی گفتگو کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ مثال کے طور پر آرمی چیف کسی سیاسی لیڈر کو کیسے بتا سکتے ہیں کہ وہ کب، کیسے اور کیوں احتجاج کریں؟ یا وہ کیسے یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ اگر حالات بگاڑنے کی کوشش کی گئی تو ملک میں خوں ریزی بھی ہوسکتی ہے اور لاشیں بھی گر سکتی ہیں۔ یا وہ فوج کے سربراہ کے طور پر کیسے یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ حکومت کے اقدامات کی وجہ سے معیشت پاؤں پر کھڑی ہورہی ہے۔ اب کسی کو صورت حال خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ملک میں ابھرنے والے سیاسی احتجاج کی صورت حال میں یہ ساری باتیں عمران خان اور تحریک انصاف کے ہاتھ مضبوط کرنے اور عام لوگوں کو خوفزدہ کرنے کی سوچی سمجھی کوشش ہیں۔ پھر آئی ایس پی آر اس پر خاموشی اختیار کرکے کون سا آئینی فرض ادا کررہا ہے؟


اعلیٰ سطحی خفیہ ملاقات کا احوال بتانے والے صحافی نے محض یہی بتانا کافی نہیں سمجھا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کیسے مولانا فضل الرحمان کی غلط سیاسی حکمت عملی کو مسترد کیا بلکہ اس سے آگے بڑھتے ہوئے یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ مولانا نے اس ملاقات کے بعد آشیرباد حاصل کرنے کے لئےکسی شخص کو فون کال کی ۔ اس میں مولانا نے یقین دہانی کروائی کہ وہ دھرنا نہیں دیں گے اور کوئی عوامی اجتماع بھی نہیں ہوگا۔ بس انہیں مارچ کی اجازت دے دی جائے۔ ’خبررساں ‘کے مطابق مولانا کو ایسا کرنے سے سختی سے منع کر دیا گیا۔ میز کے دونوں طرف سے خبریں لانے والے اس تجربہ کار صحافی اور اینکر نے یہ بھی بتا دیا ہے کہ اس کے بعد مولانا فضل الرحمان شدید مایوس اور پریشان ہوگئے ہیں۔
خبر کے اس حصے کو اگر درست تناظر میں دیکھا جائے تو یہ فوج کے ڈسپلن اور یک جہتی کے بارے میں شبہات پیدا کرنے کی مذموم کوشش سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ مولانا نے آرمی چیف سے ’ڈانٹ‘ کھانے کے بعد جس بھی شخصیت کو فون کیا، وہ اسٹیبلشمنٹ کی کسی ایسی پوزیشن پر فائز ہوگی جو آرمی چیف کی مرضی و منشا کے بغیر کسی سیاسی لیڈر کو احتجاج کرنے کا گرین سگنل دینے کا اختیار رکھتی ہے۔ وزیر اعظم نے گزشتہ روز صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے مولانا کے احتجاج کے بارے میں اسے بالواسطہ طور سے بھارت کا ایجنڈا اور قومی مفاد کے خلاف سازش قرار دیا ہے۔ وزیر اعظم کو اب یہ بتانا چاہئے کہ فوج کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا کرنے والی خبریں پھیلانا کیا کسی قومی مفاد کا ایجنڈا ہے یا اسے بھی دشمن کی سازش ہی کہا جائے گا؟


خبر لانے یا پھیلانے کے اس واقعہ کو عمران خان کے دعوے اور شہباز شریف کی شکایت کے ساتھ ملاکر پڑھنے کی ضرورت ہے۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ فوج پوری طرح حکومت کی پشت پر ہے۔ جبکہ شہباز شریف کا شکوہ ہے فوج عمران خان کی نااہل حکومت کا مکمل ساتھ دے رہی لیکن مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو دس فیصد حمایت بھی نہیں دی گئی تھی۔ گویا ملک کا وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر عوام کی حمایت یا ساتھ کو اہمیت دینے کی بجائےیہ بتا رہے ہیں کہ حکومت کی کامیابی کا راز اس بات میں پوشیدہ ہے کہ فوج کس حد تک اس کے ساتھ ہے۔
یہ ساری خبریں ، دعوے اور شکائتیں ایک ہی بات واضح کرتی ہیں کہ فوج ملک کے سیاسی منظر نامہ میں اہم ترین عنصر کی حیثیت رکھتی ہے۔ آئین کی بالادستی کا اعلان کرنے والے جنرل قمر جاوید باجوہ ہی بتا سکتے ہیں کہ وہ اس ناجائز تاثر کو ختم کرنے کے لئے کیا کریں گے۔ یا یہ تاثر قائم رکھنا ہی فوج اور ملک کے مفاد میں ہے؟
(بشکریہ :کاروان ۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker