سید مجاہد علیکالملکھاری

جناب چیف جسٹس! عدلیہ نے ایک وزیر اعظم کو پھانسی بھی دے رکھی ہے۔۔سید مجاہد علی

وزیر اعظم عمران خان کی اس درخواست کے جواب میں کہ عدلیہ قانون اور انصاف پر لوگوں کا اعتماد بحال کرے، چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں طاقت ور لوگوں کا آلہ کار ہونے کا طعنہ نہ دیا جائے۔ اب عدلیہ تبدیل ہوچکی ہے۔ ہماری نظر میں قانون ہی بالا تر ہے۔
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا دعویٰ ہے کہ نواز شریف کو حکومت نے ملک سے باہر جانے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ لاہور ہائی کورٹ نے تو صرف اس کی شرائط طے کرنے میں مدد کی ہے۔ اپنی بے خوفی کا ثبوت دینے کے لئے چیف جسٹس نے باور کروایا ہے کہ سپریم کورٹ نے کسی سے کیا ڈرنا ہے اس نے تو ایک وزیر اعظم معزول کیا اور دوسرے کو سزا دی ہے۔ پھر انہوں نے پرویز مشرف کے انداز میں مکے لہراتے ہوئے کہا کہ سابق فوجی سربراہ کے بارے میں بھی فیصلہ آنے والا ہے۔
جناب چیف جسٹس عمران خان کو دھمکاتے ہوئے یہ بتانا بھول گئے کہ سپریم کورٹ ایک وزیر اعظم کو پھانسی پر بھی چڑھا چکی ہے بلکہ پارلیمنٹ کی ایک متفقہ قرار داد میں ذوالفقار علی بھٹو کی سزا کو عدالتی قتل قرار دیا جاچکا ہے۔ اس قرار داد کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت کے دور میں بھٹو کیس پر نظر ثانی کی اپیل بھی دائر کی گئی تھی۔ اس پر کوئی کارروائی نہ کرکے دراصل عدالت عظمیٰ نے ایک وزیر اعظم کو پھانسی دینے کے فیصلہ پر بدستور اصرارکیا ہے جو قومی اسمبلی کی قرار داد سے متصادم رویہ ہے۔
یہی نہیں ملک کی یہی بے خوف عدلیہ چار فوجی آمروں کو ملک پر مسلط کرنے میں شریک بھی رہی ہے۔ فوجی حاکموں کے ہاتھوں ملکی آئین کی پامالی کو نظریہ ضرورت کے تحت جائز سمجھتے ہوئے پی سی او کے تحت حلف اٹھانا عین انصاف قرار دیا گیا تھا۔ یہ عدلیہ طاقت ور کے سامنے سر جھکا دینے کو انصاف، عقل مندی اور قانون و آئین کے عین مطابق سمجھتی رہی ہے، اسی لئے اس کے بیشتر ججوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے کو کبھی آئین سے روگردانی یا ضمیر پر بوجھ نہیں سمجھا۔ ایسے میں اگر سپریم کورٹ کے جج آئین سے فٹ بال کھیلنا بھی چاہیں تو کون ان کا ہاتھ پکڑ سکتا ہے۔ اب اگر ان سے آئین کے انسانی پہلوو?ں کو نظر انداز کرکے عقوبت خانے قائم کرنے اور چلانے کو جائز قرار دینے کا مطالبہ کیا جارہا ہے تو ماضی کے آئینے میں یہ کون سا ’ناجائز‘ مطالبہ یا خواہش ہے؟
جسٹس آصف سعید کھوسہ کا اصرار ہے کہ عدلیہ 2009 کے بعد تبدیل ہو چکی ہے۔ اب اسے اس کی کارکردگی کی روشنی میں دیکھا جائے۔ اب یہ غور کیا جائے کہ اس کے 3100 ججوں نے صرف سال گزشتہ کے دوران 36 لاکھ مقدمات کے فیصلےکیے ہیں جن میں عام اور غریب لوگوں کو ہی انصاف فراہم کیا گیا ہے۔ اعداد و شمار کے ساتھ کسی بھی ادارے کی صلاحیت کا معیار مقرر کرنا اتنا ہی سہل ہوتا تو تحریک انصاف کی وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بنک مسلسل ایسے کاغذی زائچے پیش کررہے ہیں جن میں ملکی معیشت بحران سے نکل کر ترقی کی جانب تیزی سے سفر کررہی ہے، قومی خسارہ کم ہورہا ہے اور خزانہ ڈالروں سے لبالب بھر چکا ہے۔ فرق صرف اتنا ہی ہے کہ ان دعوو?ں سے غریب کے گھر کا چولہا نہیں جلتا اور نہ ہی بے روزگاروں کو کام ملتا ہے۔ مہنگائی اور کساد بازاری کی صورت حال میں عام لوگوں کو ملک کی معاشی ترقی دکھائی نہیں دیتی۔
اسی طرح جب تک عدالتیں اصولوں پر مفاہمت کا چلن ترک نہیں کرسکتیں، لاکھوں مقدمات میں انصاف کی فراہمی اس ایک فیصلہ پر کمزوری دکھانے سے کم تر رہے گی جس میں بنیادی حقوق اور آئینی تقاضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اسے نظریہ ضرورت یا آئینی تشریح کا نام دیا جاتا ہے۔ زیادہ دور کیا جانا، کیا موجودہ چیف جسٹس کی زیر نگرانی کام کرنے والی سپریم کورٹ نے اپنے پیش رو جسٹس (ر) ثاقب نثار کے ڈیم فنڈ کے بارے میں سوال اٹھایا کہ اس معاملہ پر عدالت عظمی کا نام اور اختیار استعمال کرکے، انہوں نے کس حد تک اپنے آئینی اختیار اور سپریم کورٹ کے ضابطہ اخلاق و طریقہ کار سے تجاوز کیاتھا؟
2009 کے بعد تبدیل شدہ عدالتی نظام کا دعویٰ بھی اس وقت تک قابل قبول نہیں ہوسکتا جب تک یہ نو دریافت شدہ عدلیہ ماضی میں کی گئی غلطیوں کو تسلیم کرتے ہوئے ان سے دست برداری کا اعلان نہ کرے۔ جب تک پاکستان کی سپریم کورٹ نظریہ ضرورت ایجاد کرنے اور چار فوجی آمروں کے آئین پامال کرنے کے فیصلوں کی امانت دار بنی رہے گی، اس وقت تک یہ تسلیم کرنا ممکن نہیں ہے کہ عدلیہ ’آزاد‘ ہوچکی ہے۔ جو عدالت اپنے ماضی سے آزاد نہیں ہوسکتی وہ طاقت ور کا سامنا کیسے کر سکے گی۔ اسی طرح جب تک ذولفقار علی بھٹو کے مقدمہ کی دوبارہ سماعت کے بعد شواہد، حقائق اور سچ کی بنیاد پر نیا فیصلہ صادر کرنے کا حوصلہ نہیں کیا جاتا، اس وقت تک یہ باور کرنا ممکن نہیں ہے کہ عدالتیں انصاف فراہم کرنے میں مکمل خود مختار ہوچکی ہیں۔ اور ان کے نزدیک قانون و آئین ہی بالا دست ہے۔
اس نو دریافت شدہ عدلیہ نے موجودہ چیف جسٹس ہی کی قیادت میں پانامہ کیس کے معاملہ میں جو رویہ اختیار کیا اور جس طرح ایک منتخب وزیر اعظم کو معزول کرکے اسے سزا دلوانے کا اہتمام کیا گیا، وہ عدالتوں کی حوصلہ مندی سے زیادہ ان کی مجبوری کی علامت ہے۔ پانامہ کیس میں نواز شریف کو سزا اقامہ پر دی گئی تھی۔ شواہد اور ثبوت کو حتمی ماننے والے موجودہ چیف جسٹس نے ہی اقامہ کا عذر تلاش کرکے نواز شریف کو وزارت عظمی اور پھر سیاست سے بے دخل کیا تھا۔ لیکن آج تک اس سوال کا جواب دینے کی زحمت نہیں کی کہ ایک ایسے شخص کو پاناما اسکینڈل میں سزا دینے کے بعد جس کا نام تک ان کاغذات میں شامل نہیں تھا، اسی عدالت یا اس کی زیریں عدالتوں نے پاناما پیپرز میں سامنے آنے والے دیگر 400 کے لگ بھگ معاملات میں کتنا انصاف فراہم کیا ہے؟
چیف جسٹس ایک ماہ بعد ریٹائر ہونے والے ہیں۔ گزشتہ روز ان کی تقریر میں عدلیہ کی آزادی اور خود مختاری کا مقدمہ پیش کیا گیا ہے۔ لیکن اسی عدلیہ کے ججوں پر مشتمل سپریم جوڈیشل کونسل نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک جج کو چند دنوں کی سماعت کے بعد صرف اس جرم میں برخواست کردیا تھا کہ اس نے ایک مقدس ادارے کی دیانت کا پردہ فاش کرنے کی کوشش کی تھی۔ کیا جسٹس آصف سعید کھوسہ نہیں جانتے کہ شوکت عزیز صدیقی کو کس جرم کی سزا دی گئی تھی؟ اس سابق جج کا قصور صرف اتنا ہی تھا کہ اس نے مہربان اداروں کے بارے میں وہ سچ نشر کردیا تھا جو کسی راز کی طرح سینے میں دفن رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
اب بھی سپریم کورٹ کے ایک جج کو صرف اس لئے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا ہے کہ اس نے واقعی عدلیہ کو خود مختار اور جج کو با اختیار سمجھتے ہوئے فیض آباد دھرنا کیس میں مقدس اداروں کے سربراہان کو حکم دیا تھا کہ حلف سے خلاف ورزی کرتے ہوئے دھرنے کی حمایت کرنے والے افسروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اس کیس پر نظر ثانی کے معاملہ پر سپریم کورٹ ابھی تک خاموش ہے لیکن متعلقہ جج سپریم کورٹ ہی کے سامنے اپنی بے گناہی کی لڑائی لڑنے میں مصروف ہے۔
سپریم کورٹ کی طرح بعض دیگر ادارے یقیناً مقدس ہیں۔ لیکن اگر ان پر الزام لگایا جاتا ہے تو اختیار اور طاقت سے اس آواز کو بند کرنا کیا درست طریقہ ہو سکتا ہے؟ کیا ان اداروں کو بھی قانون کے مطابق اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ کب تک توہین عدالت اورقومی سلامتی کی بے معنی اصطلاحات کو غلطیوں اور بے اعتدالیوں کی ڈھال بنایا جاتا رہے گا؟
گزشتہ روز چیف جسٹس نے منتخب وزیر اعظم کے ایک بیان پر اپنی پبلک تقریر میں تبصرہ کرنا ضروری سمجھا ہے۔ وزیر اعظم ایک سیاسی لیڈر ہیں۔ ان کی تقریر سیاسی ایجنڈے کا حصہ ہوتی ہے۔ چیف جسٹس نے اس کا جواب دے کر دراصل سیاسی رویہ اختیار کیا ہے جو درحقیقت ان کے عدالتی منصب کے شایان شان نہیں تھا۔ سیاق و سباق سے ہٹ کر دیکھا جائے تو وزیر اعظم نے عدلیہ پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کی بات کی ہے۔ یہ بات بجائے خود غلط مطالبہ یا مشورہ نہیں ہے۔
کیا چیف جسٹس نہیں جانتے کہ ملک کے نظام عدل پر عوام کا بھروسہ کس حد تک کم ہو چکاہے۔ یہ درست ہے کہ عمران خان نے اپنی تقریر میں اس معاملہ کو سیاسی مقصد سے استعمال کیا تھا لیکن یہ ناقابل فہم ہے کہ چیف جسٹس بھی وزیر اعظم کے ساتھ سیاسی مکالمہ کا آغاز کردیں۔ خاص طور سے ایک ایسے معاملہ میں جو ابھی زیر سماعت ہے۔ نواز شریف کی بیرون ملک روانگی کے معاملہ پر ابھی تک لاہور ہائی کورٹ کا حتمی فیصلہ نہیں آیا ہے۔
اس کے علاوہ اس فیصلہ کے خلاف اگر اپیل دائر ہو تو اس کی سماعت سپریم کورٹ میں ہی ہوگی۔ ایک ایسے معاملہ میں چیف جسٹس کیسے ہائی کورٹ کی طرف سے وکیل صفائی کا کردار ادا کرسکتے ہیں؟ سپریم کورٹ متعدد بار ہائی کورٹس کے فیصلوں کو تبدیل کرچکی ہے۔ قانونی طور سے اس معاملہ میں بھی یہ ممکن ہے۔ پھر چیف جسٹس نے کیوں اس پر رائے زنی کو اپنے منصب کے منافی نہیں سمجھا؟
ملکی سیاست میں اداروں (جن میں سپریم کورٹ بھی شامل ہے ) کی مداخلت کے تاریخی پس منظر کو دیکھتے ہوئے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی تقریر سے کئی نتائج اخذکیے جاسکتے ہیں۔ اس وقت ملک میں موجودہ حکومت اور عمران خان کے خلاف فضا تیار ہونے کی خبریں عام ہیں۔ ان خبروں کو آئی ایس پی آر نے بے بنیاد قرار دیتے ہوئے شبہ کی فضا میں اضافہ کیا ہے۔ اب چیف جسٹس کی تقریر سے یہ قیاس آرائیں یقین میں بدلنے لگیں گی کہ ملک کی مقتدرہ تحریک انصاف کی حکومت سے مطمئن نہیں ہے۔
پراگندہ سیاسی ماحول میں چیف جسٹس نے اپنی باتوں سے ارتعاش پیدا کیا ہے۔ وہ اس بے یقینی میں اضافہ کا سبب بنے ہیں جو ملک میں جمہوریت، معیشت اور وسیع تر قومی استحکام کے لئے نقصان دہ ہے۔ یہ رویہ آزاد عدلیہ اور کسی جج کے وقار اور عہدہ کے شایان شان نہیں ہے۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker