Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
جمعرات, جون 25, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • سید مجاہد علی کا تجزیہ : ایرانی صدر کا دورہ پاکستان کو کیا ملے گا ؟
  • محرم، کربلا اور ایران میں مزاحمت کی سزا : ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
  • بابا فرید کا عرس : بہشتی دروازے پر بھگدڑ میں 89 افراد زخمی ، 25 کی حالت تشویش ناک
  • ماہ رنگ بلوچ کو سزا : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • گوادر میں سکیورٹی اہلکار کی ہلاکت کے مقدمے میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو عمر قید کی سزا
  • کراچی : تیز رفتار گاڑی مجلس عزا کے دوران امام بارگاہ کے احاطے میں جا گھسی 20 افراد زخمی
  • کُکّڑ دی لَت اور پپو دا چُوچا : سہیل وڑائچ کا کالم
  • 9 مئی کے بھوت سے کب نجات ملے گی؟ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • بنوں بم دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد سات ہو گئی
  • روسی ناول:ایک فکری اور ادبی سفر : ڈاکٹر صلاح الدین حیدر کی نئی کتاب شہزاد عمران خان کا اختصاریہ
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»لکھاری»سید مجاہد علی»قانون کی نازک چھڑی یا آئین کی موٹی کھال۔۔سید مجاہد علی
سید مجاہد علی

قانون کی نازک چھڑی یا آئین کی موٹی کھال۔۔سید مجاہد علی

ایڈیٹرنومبر 28, 20190 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
12 may karachi voilence girdopesh.com
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق فوجی آمر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف آئین سے غداری کے الزام میں مقدمہ کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کو فیصلہ جاری کرنے سے روک کر انصاف کا بول بالا کیا ہے۔ تاکہ ایک مفرور ملزم بھی یہ نہ کہہ سکے کہ اسے پاکستانی عدالتوں سے انصاف نہیں مل سکا اور اس کا مو¿قف سنا ہی نہیں گیا۔ دوسری طرف سپریم کورٹ بھی ایسا ہی شفاف انصاف فراہم کرنے کے لئے آج سارا دن جنرل قمر جاوید باجوہ کے عہدے کی مدت میں توسیع کے سوال پر غور کرتی رہی۔ عدالت کا وقت ختم ہونے تک یہ طےنہیں ہو سکا تھا کہ قانون اس بارے میں کیا کہتا ہے اور عدالت کو کون سے قانون کے تحت اپنا فیصلہ سنانا ہوگا۔
پرویز مشرف کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزارت داخلہ کی درخواست کو منظور کرلیا ہے کہ آئین کی شق 6 کے تحت سابق فوجی حکمران کے مقدمہ کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کو فیصلہ سنانے سے روکا جائے۔ وزارت داخلہ کا مو¿قف تھا کہ حکومت نے استغاثہ کی قانونی ٹیم کو برطرف کردیا تھا، اس لئے خصوصی عدالت سرکار کا مو¿قف سنے بغیر فیصلہ صادر کرنے والی ہے جو لاقانونیت اور ناانصافی کے مساوی ہوگا۔ ملک کے حالات دیکھتے ہوئے یہ تو اب طے ہوچکا ہے کہ حکومت ہو یا عدالت، وہ عام آدمی کے سلب ہوتے حقوق پر تو خاموش رہ سکتی ہے لیکن سابقہ حکمرانوں کے معاملہ میں انصاف فراہم کرنے کے لئے قوانین کا باریک بینی سے جائزہ لینا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ ان معاملات پر سرکار کے علاوہ میڈیا کی بھی خاص توجہ مبذول رہتی ہے جس کی وجہ سے غیر اہم معاملات میں بھی ایسی سنسنی پیدا ہو جاتی ہے کہ لوگ اپنی بھوک اور روزمرہ مسائل کو بھول کر ٹیلی ویڑن پر نشر ہونے والی لمحہ بہ لمحہ خبروں اور تبصروں سے پیٹ بھرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس معاملہ کی سماعت کرنے والے ججوں نے اگرچہ پرویز مشرف کیس میں حکومتی طریقہ کار پر سخت نکتہ چینی کی اور سوال اٹھایا کہ کیا حکومت اس مقدمہ کو ختم کرنا چاہتی ہے یا اسے کسی انجام تک پہنچانا چاہتی ہے؟ حکومت خواہ تحریک انصاف ہی کی ہو اور چاہے اس کی دلی خواہش و کوشش ہو کہ کسی طرح پرویز مشرف کو عدالتی چنگل سے بچالیا جائے لیکن ہائی کورٹ میں اس کی نمائیندگی کرنے والے وکیل یہ اعتراف کرنے کا حوصلہ نہیں کر سکے۔ لہذا انہیں عدالت سے ریلیف تو مل گیا لیکن ساتھ ہی یہ حکم بھی صادر ہو¿ا ہے کہ حکومت 5 دسمبر تک استغاثہ کے نئے وکیل مقرر کرے اور خصوصی عدالت جلد از جلد سرکاری وکیلوں اور پرویز مشرف کے ذاتی وکیل کے دلائل سن کر اس معاملہ میں قانون کے مطابق انصاف کر دے۔
انصاف چونکہ عدالتی فیصلوں کو کہا جاتا ہے، اس لئے اسلام آباد ہائی کورٹ سے جاری ہونے ولا آج کا حکم نامہ بھی انصاف ہی کہلائے گا کیوں کہ یہ حکم جاری کرتے وقت یہ کوشش کی گئی ہے کہ کسی بے گناہ کو سزا نہ مل جائے خواہ اس دوران کئی گناہ گار سزا پانے سے بچ جائیں۔ اس حد تک پاکستانی عدالتوں کا رویہ انصاف کرنے اور قانون کو سب کے لئے مساوی ٹھہرانے کے طریقہ کے عین مطابق کہا جائے گا۔ تاہم یہ مانتے ہوئے، یہ بھولنا پڑے گا کہ خصوصی عدالت گزشتہ پانچ برس سے اس مقدمہ میں سر کھپا رہی ہے۔ اس دوران ملزم ملک سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا اور جس عدالتی نظام اور حکومتی انتظام کے تحت اسے باہر جانے کی سہولت فراہم کی گئی، وہ اپنی جگہ پر پہلے جیسی استقامت سے موجود ہے۔ نہ عدالتوں کو شرمندگی ہے اور نہ حکومت ذمہ داری لینے کے لئے تیار ہے۔ بلکہ موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے پرویز مشرف کو آئین سے غداری کے الزام سے بچانے کے لئے ہر جائز و ناجائز ہتھکنڈا اختیار کیا ہے اور ہر بار ہی وہ کامیاب رہی ہے۔
اکتوبر میں جب پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ کا ڈراپ سین ہونے والا تھا اور خصوصی عدالت کے کئی سربراہ تبدیل ہونے اور آئین شکنی کے الزام میں پرویز مشرف کے علاوہ دیگر لوگوں کو ملوث کرنے کا معاملہ بالآخر سپریم کورٹ سے طے ہو گیا تو سرکار کو خیال آیا کہ خصوصی عدالت میں مقدمہ پیش کرنے والی ٹیم تو سابقہ حکومت کی نامزد کردہ تھی۔ لہذا اسے فارغ کرنا ضروری سمجھا گیا۔ آج حکومت نے ہائی کورٹ کے اس سوال کا تو کوئی جواب نہیں دیا کہ وکیلوں کی ایک ٹیم کو برطرف کرنے کے بعد دوسری ٹیم کیوں مقرر نہیں کی گئی۔ اور اگر حکومت پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کو غیر ضروری سمجھتی ہے تو اسے ختم کرنے کا فیصلہ کیوں نہیں کیا گیا۔ البتہ اس مو¿قف کی تائید میں حکم حاصل کر لیا گیا کہ پرویز مشرف نے خواہ کتنا ہی بڑا جرم کیا ہو لیکن قانون ان کے ساتھ عدم مساوات کا برتاو¿ نہیں کرسکتا۔
اسلام ہائی کورٹ کو یہ اصول تسلیم کرنا پڑا۔ ملک کا آئین چونکہ بے زبان اور لاچار ہے لہذا وہ ماضی کی طرح اب بھی خود پر حملہ آور ہونے والوں کے خلاف انصاف حاصل کرنے میں ناکام ہے۔ اگر دستور بھی ایک فرد ہوتا اور اپنے دفاع کے لئے تگڑا وکیل کرکے دلائل دینے کی پوزیشن میں ہوتا تو یہ سوال سامنے آتا کہ قانون ہی آئین شکنی کی حفاظت کرے گا تو اس کی کیا حیثیت باقی بچے گی۔
تاہم خاطر جمع رکھی جائے۔ عدالت نے حکومت کو پابند کیا ہے کہ دسمبر کے پہلے ہفتے تک نئے وکیل مقرر کئے جائیں اور خصوصی عدالت جلد از جلد اس معاملہ کی سماعت مکمل کرے اور آئین کی حفاظت جیسے اہم معاملہ پر فیصلہ صادر کیا جائے۔ تاہم جس نظام میں اہل پاکستان سانس لے رہے ہیں وہاں چند روزہ مہلت کو کئی ماہ اور سالوں پر محیط کرنا کوئی ایسا دشوار کام نہیں ہے۔ ضیا الحق ایک دہائی تک یہ کام نہایت خوبی سے کرتے رہے تھے۔ خصوصی عدالت کے قیام کے وقت بھی کس کو گمان تھا کہ اسے فیصلہ کرنے میں پانچ برس بیت جائیں گے پھر بھی عین اس اعلان سے پہلے زبان بندی کا حکم جاری ہو جائے گا۔
یہ ایک ایسی عدالت ہے جسے صرف ایک معاملہ کا فیصلہ کرنا تھا۔ وہ معاملہ بھی ایسا ہے جس پر ملک میں قانونی یا سیاسی طور سے دو رائے موجود نہیں ہیں۔ اس کے باوجود اس نظام میں ایک عدالتی فیصلہ سننے کی تاب نہیں ہے۔ کیوں کہ پرویز مشرف نے جس ادارے کے سربراہ کی حیثیت میں یہ فیصلہ کیا تھا، اسے آج بھی معاملات پر کامل اختیار حاصل ہے اور وہ آج بھی سابقہ ہی سہی اپنے چیف کے ساتھ وفاداری نبھانے کو ادارے کی عظمت کے لئے ضروری سمجھتا ہے۔ اسی لئے سپریم کورٹ میں آرمی چیف کے عہدے کی مدت میں توسیع کے معاملہ پر ہونے والی بحث میں طویل حجت کے بعد اٹارنی جنرل انور منصور علی خان نے بالآخر اس بات پر اپنی تان توڑی کہ ’بعض اوقات سختی سے چھڑی ٹوٹ جاتی ہے۔ عدالت کو قانون پر اتنا سخت نہیں ہونا چاہئے کہ اس میں کوئی لچک نہ ہو‘۔
سپریم کورٹ میں جنرل قمر جاوید باجوہ کی نئی تقرری یا عہدہ کی مدت میں توسیع کے حوالے سے سارا دن دلچسپ مکالمہ ہوتا رہا۔ تاہم نہ اٹارنی جنرل قانونی نکات اور حکومتی طریقہ کار کی پوری طرح وضاحت کر سکے اور نہ ہی ججوں کو اس معاملہ میں جلدی کرنے کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی۔ البتہ آج کی عدالتی کارروائی شروع ہوتے ہی چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کو یہ وضاحت کرنے کی ضرورت ضرور محسوس ہوئی کہ میڈیا نے عدالتی حکم کو غلط رپورٹ کیا ہے۔ عدالت اب بھی ریاض حنیف راہی کی درخواست پر ہی اس معاملہ کو آگے بڑھا رہی ہے۔
ریاض راہی نے سوموار کو آرمی چیف کے عہدے کی مدت میں توسیع کے خلاف عدالت میں پٹیشن دائر کی تھی لیکن کل خود عدالت میں پیش نہیں ہوئے بلکہ یہ درخواست عدالت کو بھجوا دی کہ وہ یہ مقدمہ واپس لینا چاہتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے مفاد عامہ میں اس پر کارروائی جاری رکھنے کا حکم صادر کیا۔ اسے میڈیا نے شق 184 (3) کے تحت کارروائی یعنی سو موٹو قرار دیا۔ چیف جسٹس نے اس کی تردید کردی ہے اور آج عدالت میں موجود ریاض حنیف راہی سے کہا کہ دیکھیں ہم نے آپ کی درخواست کو زندہ رکھا ہے۔ ہم اس پر کام کررہے ہیں۔ راہی منمناتے ہی رہے کہ ’حضور، حالات بدل گئے ہیں۔ میں درخواست سے دست کش ہونا چاہتا ہوں ‘۔ لیکن زبردست کے سامنے کسی کمزور کی منمناہٹ کون سنتا ہے۔ وہ تو بھلا ہو فراخدل ججوں کا کہ رپورٹنگ میں کوتاہی پر دو چار رپورٹروں اور میڈیا ہاو¿سز کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کرنے سے گریز کیا گیا۔
سوچنا چاہئے کہ وہ کون سی مجبوری ہے کہ عدالت عظمی کے ججوں کو ایک مجبور درخواست گزار کی آڑ میں ملکی تاریخ کے اہم ترین معاملہ پر کارروائی کی ضرورت محسوس ہورہی ہے۔ وہ کون سے عوامل ہیں کہ سپریم کورٹ آرمی چیف کی توسیع کے معاملہ کو اہم اور مفادعامہ میں تو سمجھتی ہے لیکن ا س کے لئے اپنا آئینی اختیار استعمال کرنے سے ہچکچا رہی ہے۔ ایسا کون سا عذر ہے کہ ایک مجبور درخواست گزار کو اپنی ہی درخواست واپس لینے کا ’حق‘ دینے سے انکار کیا جا رہا ہے؟ درخواست گزار خاموش اور جج اور اٹارنی جنرل سینگ پھنسائے معاملہ کے بال کی کھال اتارنے میں مصروف ہیں؟
ظاہر ہے کہ عدالت کو انصاف کرنا ہے۔ یہ بھی ثابت ہے کہ عدالتیں انصاف ہی کرتی ہیں۔ آرمی چیف کے معاملہ میں بھی انصاف ہی ہونا ہے۔ فاضل ججوں نے کہہ دیا ہے کہ ماضی کی غلط کاریوں کا ازالہ ہونا چاہئے۔ سپریم کورٹ میں جاری بلند آہنگ مکالمے میں خبر بھی ہے، سنسنی بھی ہے اور پیغام بھی۔ کون، کیا پیغام، کس کو پہنچانا چاہ رہا ہے۔ یہی اس سارے معاملے کو دلچسپ اور پراسرار بناتا ہے۔ تو آئیے ہم بھی رات گزارنے کی کوشش کریں کہ ایک نیا دن نیا سسپنس لے کر طلوع ہونے کو ہے۔ قانون کی کمزور چھڑی اور موٹی کھال والے دستور کی کہانی کو ابھی مکمل ہونا ہے۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleکلچر کی تلاش میں۔۔عطا ءالحق قاسمی
Next Article ”توسیع“ شاید ”استحکام“ کیلئے ضروری تھی مگر!۔۔نصرت جاوید
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

سید مجاہد علی کا تجزیہ : ایرانی صدر کا دورہ پاکستان کو کیا ملے گا ؟

جون 24, 2026

محرم، کربلا اور ایران میں مزاحمت کی سزا : ڈاکٹر علی شاذف کا کالم

جون 24, 2026

بابا فرید کا عرس : بہشتی دروازے پر بھگدڑ میں 89 افراد زخمی ، 25 کی حالت تشویش ناک

جون 23, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • سید مجاہد علی کا تجزیہ : ایرانی صدر کا دورہ پاکستان کو کیا ملے گا ؟ جون 24, 2026
  • محرم، کربلا اور ایران میں مزاحمت کی سزا : ڈاکٹر علی شاذف کا کالم جون 24, 2026
  • بابا فرید کا عرس : بہشتی دروازے پر بھگدڑ میں 89 افراد زخمی ، 25 کی حالت تشویش ناک جون 23, 2026
  • ماہ رنگ بلوچ کو سزا : سید مجاہد علی کا تجزیہ جون 23, 2026
  • گوادر میں سکیورٹی اہلکار کی ہلاکت کے مقدمے میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو عمر قید کی سزا جون 22, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.