Browsing: ڈونلڈ ٹرمپ

کیرولین لیویٹ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ امریکہ اب تک ایران میں 11000 سے زیادہ فوجی اہداف کو نشانہ بنا چکا ہے۔
لیویٹ نے مزید یہ بھی کہا کہ ’صدر ٹرمپ نے ایران میں فوج بھیجنے کے امکان کو رد نہیں کیا، تاہم سفارت کاری اب بھی اُن کی پہلی ترجیح ہے۔‘

جس ملک کے بارے میں یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ وہ امریکہ کی طرف سے جنگ بندی کی مزاحمت کررہا ہے، وہ متحدہ عرب امارات ہوسکتا ہے۔ یو اے ای نے اس جنگ میں سب سے زیادہ نقصان اٹھایا ہے اور پاکستان و ترکیہ کی طرف سے امن کی کوششوں میں بھی اس نے کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی۔ دوسری طرف ایرانی ذرائع متنبہ کرتے رہے ہیں کہ ایرانی جزائر پر حملوں کے لیے (جن میں تیل کی برآمدات میں کلیدی اہمیت کا حامل جزیرہ خرگ بھی شامل ہے) متحدہ عرب امارات امریکی فوج کی سہولت کاری کررہا ہے ۔

سینیئر عہدیدار نے رائٹرز کو مزید بتایا کہ امریکا کی ملاقات کی درخواست پر ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا اور نہ ہی امریکی درخواست کا جواب دیا گیا ہے۔
رائٹرز کے بقول ایران کے سینیئر عہدیدار نے اس مجوزہ ملاقات کے مقام یا اس سے متعلق مزید تفصیلات کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔

انہیں شبہ ہے کہ پاکستان دورمارمیزائلوں کے جدید ترین ورژن تیار کرنا چاہ رہا ہے ۔ جو متعددحساس معاملات پر ہمیں امریکہ کو انکار کے قابل بناسکیں۔
امریکہ کے جاسوسی کارندوں کی جانب سے پاکستان کے ایٹمی اور میزائل پروگرام پر شکوک وشبہات کا برسرعام اظہار عین ان دنوں دہرایا گیا ہے جب اسرائیل کے ساتھ مل کر امریکہ ایران ہی نہیں اس کے قدرتی وسائل سے مالا مال تمام خلیجی ہمسایوں کو کامل ابتری وانتشار کے سپرد کرنے میں مصروف ہے ۔

یہ ایسی سہہ طرفہ جنگ ہے جو خدا کے نام پر خدا کی مخلوق سے لڑی جا رہی ہے۔ خدا جانے کیا نتیجہ نکلے گا۔
جب لوگ یہ کہتے ہیں خدا دیکھ رہا ہے
میں دیکھنے لگتا ہوں کہ کیا دیکھ رہا ہے
(سید مبارک شاہ)

اس وقت امریکہ ، ایران کو ’فتح‘ کرنے کے لیےجنگ کررہا ہے۔ اس حوالے سے بطور خاص سوشل میڈیا گوسپ کے ذریعے یہ ’معلومات ‘ عام کی جارہی ہیں کہ ایران کے بعد پاکستان، امریکہ کے نشانے پر ہوسکتا ہے۔ ایسے رائے اور تبصروں سے پاکستانی عوام میں احساس عدم تحفظ پیدا ہونا فطری ہے۔

ایران کیخلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کو مذہبی رنگ کون دے رہا ہے؟ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تو جنگ کا اصل مقصد ایران کی ایٹمی صلاحیت کو ختم کرنا قرار دیا تھا لیکن اوول آفس میں مسیحی پادریوں اور مذہبی لیڈروں کے ہمراہ جنگ میں کامیابی کیلئے خصوصی دعا کا اہتمام کس نے کیا؟ عالمی میڈیا نے اس خصوصی دعا کی ایک تصویر نشر کی ہے جس میں پادری گریگ لاری سمیت کئی مذہبی لیڈر ٹرمپ کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر ایران کیخلاف جنگ میں کامیابی کی نوید دے رہے ہیں- یہ سب لوگ سال ہا سال سے امریکیوں کو ظہورِ دجال سے پہلے ایک بڑی جنگ کیلئےتیار کر رہے تھے جسے Armageddon (ہر مجدون) کہا جاتا ہے ۔ برطانوی اخبار ’’دی گارڈین “سمیت کئی مغربی اخبارات نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی فوج میں مذہبی آزادی کے تحفظ کیلئے کام کرنے والے ادارے (ایم آر ایف ایف) کو اب تک دو سو سے زائد شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج کے کمانڈرز اپنے ماتحتوں کو بتا رہے ہیں کہ ٹرمپ کو حضرت عیسٰی علیہ السلام نے ایران پر حملے کا اشارہ دیا ہے کیونکہ وہ زمین پر واپس آنیوالے ہیں اور یہ وہی ہرمجدون ہے جس کا ذکر بائبل میں بھی آچکا ہے ۔

پاکستانی عوام دو پاٹوں کے بیچ خاموش تماشائی بننے کے سوا کچھ نہیں کرسکتے۔ بحرانوں اور بیرونی خطرے میں یک مشت ہوجانے والی قوم اس وقت شدید اندیشوں کی صورت حال کے باوجود کئی سطح پر تقسیم ہے اور قومی اتفاق رائے مشکل دکھائی دیتا ہے۔