اس زمانے کے ککڑ برائلر کی طرح سست الوجود اور ساکت نہیں ہوتے تھے، وہ کبھی چھت پر چڑھ جاتے کبھی بستروں کے اوپر جاکر بیٹھ جاتے ،بڑی تگ ودو کے بعد ’’چوچا‘‘ گرفتار ہوتا تو ذبح کرنیوالے کی تلاش ہوتی یہ دیسی چوچے بڑی مشکل سے قابو آتے تھے انہیں پھڑ پھڑاتے اور زور لگاتے ہوئے پکڑ کر چھری پھیرنی پڑتی تھی
Browsing: کالم
ممکنہ ہنگاموں کے خوف سے ہزاروں کیمروں کی تنصیب سے ’سیف‘ بنائے اسلام آباد کی مرکزی شاہراہوں پر لگائے پولیس ناکے شہریوں کو تسلی دینے کے بجائے مزید خوفزدہ بنادیتے ہیں۔ سرکار مائی باپ کو مگر اس حقیقت کا ہرگز ادراک نہیں ہے۔
ماضی کے کئی صاحبان اقتدار کی گردن میں سریےپڑے اور پھر جب وہ روبہ زوال ہوئے تو نہ ان کی عزت رہی اور نہ مقام۔ موجودہ حکومت کو خبردار ہوشیار اور تیار کرنے کا مطلب اسے متنبہ کرنا ہے۔ اس سے درخواست کرنا ہے کہ اپنے زوال کو روک لے خود کو تبدیل کرے وگرنہ تقدیر کا پہیہ گھومے گا اور پھر’’ لاد چلے گا بنجارہ‘‘
حکمران اشرافیہ خوش ہے کہ تمام تر اختلافات کے باوجود ان کے مابین ریاست کے مائیکرو ڈھانچے کو برقرار رکھنے کا فارمولا طے ہوگیا ہے ۔ خلق خدا کا مگر کیا ہوگا جس کی اکثریت خطِ غربت سے نیچے گرنے کے خوف سے کاملاََ مایوس و مفلوج محسوس کرنا شروع ہوگئی ہے ۔
اصل مسئلہ فورسز کی تعداد نہیں بلکہ ان کے مقاصد اور کارکردگی ہیں۔ عوام کو تحفظ، انصاف اور سہولت چاہیے۔ اگر کسی ادارے کی تشکیل واقعی عوامی مسائل حل کرنے کے لیے ہو تو یقیناً قابلِ ستائش ہے، لیکن جب عام آدمی کو ہر طرف وردی ہی وردی نظر آنے لگے تو اس کے ذہن میں سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ کہیں اگلا نمبر ہمارا تو نہیں؟
اگلی بار موبائل میں جب کوئی نام سیو کرنا تو ‘اللہ دتہ منجی والا’ یا ‘ خیر الدین بوٹ پالش’ ٹائپ کا مردانہ نام مت لکھنا ۔ کیونکہ بار بار کے تجربات سے بھابھی اب اتنی بھولی نہیں رہیں۔ اس لئے اب کی بار کسی نسوانی نام مثلاً شیداں تندور والی ۔ماسی خیراں دم بلکہ اک دم والی۔
آئی ایم ایف کو امریکہ کی جانب سے پاکستان کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرنے کی کوئی ہدایت نہیں ملی ہے۔ ٹرمپ بہت تیزی سے امریکہ کے ریاستی اداروں پر اپنا کنٹرول کھورہا ہے۔
ٹی وی سکرینوں پر جناتی معاشی اصطلاحوں کے استعمال سے پاکستان کے ہر شہری کو ٹیکس چوری کا مجرم قرار دیتے ہوئے آئی ایم ایف کے سدھائے ’’ماہرین معیشت‘‘ مجھے ایک روز بھی اس حقیقت کا احساس کرتے سنائی نہیں دیتے کہ پاکستان میں نچلے متوسط طبقے سے آگے بڑھنے کی امید چھن چکی ہے۔
پاکستان میں آئندہ کئی نسلوں تک اسی طبقے کی ذریات حکومت کریں گی جس نے ہماری آنکھوں میں دھول جھونک کر ایسے وسائل جمع کر لیے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو بیرون ملک تعلیم دلا سکتے ہیں۔ ان بچوں کی بڑی تعداد پاکستان واپس نہیں آئے گی۔ جو تھوڑے بہت یہاں لوٹیں گے انہیں محمد شعیب، معین قریشی، شوکت عزیز اور باقر رضا جیسے موسمی پرندوں میں شمار کیجیے۔
ماہرین کی ’تحقیق‘ یہ بھی تھی کہ اسے بہت زیادہ چمک والے جوتے نہیں پہننے چاہئیں کیونکہ ایسے جوتے مہنگے وکلا اور بینکرز پہنتے ہیں سو جوتوں کی چمک کچھ کم ہونی چاہیے مگر اتنی کم بھی نہ ہو کہ اشرافیہ اسے گھٹیا سمجھے اور اتنی زیادہ بھی نہ ہو کہ عام بندہ اسے اشرافیہ میں سے سمجھے سو اُس کی ٹیم نے ’مناسب چمک‘ کا معیار طے کرنے کے لیے ایک کنسلٹنٹ کو 7300 ڈالر دیے اور یقینی بنایا کہ وہ انتخابی مہم کے دوران اس طرح کے جوتے پہنے۔مکمل کالم پڑھنے کے لیے پہلے کمینٹ میں موجود لنک کھولیں ۔
