میرے بچپن میں پنجاب ٹیکسٹ بُک بورڈ سے منظور شدہ دوسری جماعت کے قاعدے میں حکمرانِ وقت کے بارے میں بھی یہ ڈیڑھ سطر شامل تھی۔ ‘فیلڈ مارشل محمد ایوب خان پاکستان کے ہر دل عزیز صدر ہیں۔ انہیں ہر دم ملک و قوم کی ترقی کا خیال رہتا ہے۔’
انیس سو ستر میں وقت بدلا تو اسی قاعدے میں صرف نام بدلا۔ ‘جنرل آغا محمد یحیی خان پاکستان کے ہر دل عزیز صدر ہیں، انہیں ہر دم ملک و قوم کی ترقی کا خیال رہتا ہے۔’ انیس سو بہتر میں شائع ہونے والے اسی قاعدے میں صدر ذوالفقار علی بھٹو کو ہر دم ملک و قوم کی ترقی کا خیال رہنے لگا۔ تب سے اب تک اس نصابی پل کے نیچے سے ویسا ہی پانی رنگ بدل بدل کے بہے چلا جا رہا ہے۔
Browsing: کالم
میانوالی کا ’یوسف ثانی‘ تو خطہ پوٹھوہار کا دست کاشتہ پودا ہے۔ عمران خان اور اس کے حامیوں کا بیانیہ تو کسی بوناپارٹ کی شجاعت، کسی ظہیر الاسلام اور فیض حمید کی انگلیوں سے بندھے دھاگوں کا ناٹک ہے۔
ایران کی جانب سے دکھائی مزاحمت مگر مین لینڈ امریکا میں ویسی بے یقینی اور مایوسی نہیں پھیلارہی جو پاکستان کا ایران جنگ میں براہ راست ملوث نہ ہونے کے با وجود مقدر ہوئی نظر آرہی ہے۔ میں اس جانب توجہ مبذول رکھتا ہوں تو حارث خلیق جیسے مہربان دوست بھی ناامیدی کی یکسانیت کا ذکر کرتے ہوئے ذہن کو مزید مفلوج بنانا شروع ہوگئے ہیں۔
اصول یہ ہے کہ طلاق حاصل کرنے والے جوڑے کے نام پر جو مشترکہ اثاثہ جات ہوں گے اُن کی مساوی تقسیم ہوگی لیکن دو پیشگی شرائط کے ساتھ۔ اوّل، اثاثے اُن کی شادی کے دوران دونوں کے مشترکہ تعاون سے بنائے گئے ہوں، دوم، اُن اثاثوں کو بنانے میں فریقین کی کاوشوں اور باہمی تعاون اور شراکت کا واضح تعین نہ ہو سکے۔ اپنے ہاں تو حال یہ ہے کہ برسوں عورت اپنے شوہر اور اُس کے خاندان والوں کی محنت کرتی ہے اور اگر ون فائن مارننگ شوہر اُس کو طلاق کے ساتھ حق مہر کے بیس ہزار روپے دے کر فارغ کر دے تو اُس کے پاس رہنے کو کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا۔
مشتاق کھوکھر کی نرینہ اولاد کی تعداد چار تھی جو پیدائشی معذور تھی اور وہ سب بچے وقفہ وقعہ سے انتقال کر گئے پھر ان کی اہلیہ مقصودہ بیگم بھی دنیائے فانی سے کوچ کرگئیں۔بعدازاں مشتاق کھوکھر نے معذور بچوں کی دیکھ بھال کیلئے ’’مقصودہ بیگم میموریل سوسائیٹی ‘‘ کے نام سے ایک فلاحی ادارہ قائم کیا۔ اور پھر اسی ادارہ کے زیراہتمام بھرپور ادبی محافل کا انعقاد کرواتے رہے۔
بین الاقوامی ڈیجیٹل رپورٹس کے مطابق پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں فحش ویب سائٹس تک رسائی کی شرح حیران کن حد تک زیادہ ہے۔ اسی طرح نیشنل چائلڈ پروٹیکشن رپورٹس میں یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ کم عمر بچوں میں جنسی مواد تک رسائی کی عمر مسلسل کم ہو رہی ہے، اور اس کی ایک بڑی وجہ یہی غیر رجسٹرڈ ڈاؤن لوڈ شاپس ہیں جہاں نہ عمر پوچھی جاتی ہے، نہ شناخت اور نہ ہی مواد کی نوعیت پر کوئی سوال۔
ہمارے بہت سے پڑھے لکھے افراد بہتر مستقبل کے لیے مغربی ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ وہ وہاں کی آزادی، عقلیت پسندی، علم، دیانتداری، اور سائنس و تحقیق میں ترقی سے متاثر ہوتے ہیں اور ان سے سیکھتے ہیں۔ لیکن وہ جنسی آزادی سے خائف رہتے ہیں۔ وہ ہم جنس پرستی کو قبول نہیں کرتے کیونکہ یہ ان کے مذہبی تصورات سے متصادم ہے، اور بغیر شادی کے تعلقات کی بھی مذمت کرتے ہیں۔
وہ سب دانا ہیں، لیکن کسی بااثر آدمی کے زیرِاثر نہیں۔ وہاں کوئی بااثر آدمی اپنا اثر قائم رکھنے کے لیے اپنی مرضی نہیں کرتا، بلکہ دانا آدمیوں کے مشوروں پر چلتا ہے اور اسی طرح بڑے آدمی اور سب سے بڑے آدمی بھی
امریکہ اور ایران کے مابین خفیہ،خاموش اور بالواسطہ روابط کی خبر ابھی تک کسی بھی مستند ذریعے سے منظر عام پر نہیں آئی ہے۔ اس کی عدم موجودگی میں یہ طے کرنا ممکن نہیں کہ منگل کی صبح تک ٹرمپ کے دئے 48گھنٹے گزرجانے کے بعد حالات کیا شکل اختیار کرچکے ہوں گے۔ کامل بے یقینی کی یہ کیفیت میں نے عمر تمام صحافت کی نذر کئے 40کے قریب برسوں میں ایک بار بھی محسوس نہیں کی ہے۔
پنجاب ٹیکسٹ بورڈ نے’ نظریہ پاکستان اور نصابی کتب ‘کے عنوان سے ایک تین روزہ سیمینار منعقد کیا جس میں پاکستان بھر سے اسلام پسند دانشور مدعو کیے گئے۔ اس مذاکرے میں صرف جسٹس حمود الرحمن، پروفیسر حمید احمد خان اور انتظار حسین کو سچ بولنے کی توفیق ہو سکی۔ پروفیسر وارث میر کی تقریر تو مذہبی منافرت کا شاہکار تھی۔
