گلڈ ہوٹل ایک زمانے میں ملتان کا بڑا ادبی مرکز ہوتا تھا ۔ ہم نے اس ہوٹل کی گہما گہمی کا وہ زمانہ تو نہیں دیکھا…
Browsing: رضی الدین رضی
ویسے تو روٹھنا اور منانا دو دھڑکتے دلوں کا معمول اور محبت کا حسن ہے ۔ ہر روٹھنے والے کے دل میں منائے جانے کی خواہش…
بشریٰ رحمان لکھتی ہیں ’’رضی الدین رضی نے یاد نگاری کو نیا موڑ دیا ہے، رسمِ وفا کو زندہ و پائندہ کیا ہے اور بچھڑ جانیوالوں…
رضی کی محبت ہے کہ اس نے "کہانیاں رفتگان ملتان کی” کے دونوں حصے اول و دوم کئی روز پہلے محترم ڈاکٹر انوار احمد صاحب کے…
بلاول سندھ کاچہرہ بلاول اجرکوں والا بلاول سندھ والا خود بلوچسستان بھی تو ہے شہیدوں کا بھی وہ وارث کہ نوڈیرو کے قبرستان میں آباد قبروں…
ہم نے سال 2010 میں ’’ رفتگان ملتان ‘‘ شائع کی تو اس کے لیے پہلا مضمون ’’پہلا جنازہ ‘‘ کے نام سے تحریر کیا ۔…
ملتان۔۔ معروف شاعر، صحافی، دانشو ر اور انچارج اردو سروس ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان رضی الدین رضی اے پی پی ملتان میں تیس سالہ صحافتی…
جیون کے ساٹھ برس مکمل ہوئے تو ملازمت کا طوق بھی گلے سے اتر گیا۔ پچھلے تین روز کے دوران دوستوں نے جس والہانہ انداز میں…
میں نے رضی کی تحریر کو ہمیشہ تازہ ہوا کے طور پر محسوس کیا ہے اس کی شاعری ہو اس کے کالم ہوں یا اس کی تنقید ہو ان سب میں تازہ ہوا ہوتی ہے اور ایک شکایت اور گلے کے عنصر کے ساتھ ساتھ اس کی تحریر میں بڑا تیکھا پن ہے ۔
تبدیلی یا دن بدلنے کی خواہش میں 2025تک پہنچنے والی شاعری انٹرنیٹ پر "دن بدلیں گے خاناں "سے ہوتی ہوئی اس مقام پر آچکی ہے جب ایک دوسرے سے بدلے لینے پر مصر ہوتے ہوئے، ہمیں بالکل یقین نہیں ہے کسی بھی لحاظ سے دن بدلیں گے ۔چلیں کچھ سچی اور سیدھی سادی باتیں کرتے ہیں کیوں کہ بڑے بزرگ کہتے ہیں کہ آج اردو ادب کے طالب علم کو سب کچھ آتا ہے سوائے اردو کے ۔۔۔۔۔رضی الدین رضی صاحب ملتان میں ادب و صحافت کا معتبر حوالہ ہیں۔۔۔
