افسانےطلعت جاویدلکھاری

باس(2)۔۔طلعت جاوید

( گزشتہ سے پیوستہ )
دوسری صبح ہرلے کو ہوٹل سے لیا اور ہم لوگ نوشہرہ اور درگئی کے راستے شام تک مینگورہ پہنچ گئے۔ میں زندگی میں پہلی بار اس راستہ پر آیا تھا۔ پھلوں سے لدے باغات، سرسبز اونچے پہاڑ سیاہ گہرے بادل اور دلکش وادیاں اور نظارے نہایت دلفریب تھے۔ راستے میں جا بجا لیویز کی چیک پوسٹیں تھیں۔ ہر جگہ ایک سفید فام خاتون کے ہمراہ ہونے کے باعث ہمیں محتاط رہنے کی ہدایت دی جاتی تمام راستے ہرلے خوبصورت مناظر دیکھنے اور فلمبند کرنے کیلئے گاڑی رکواتی رہی ڈرائیور کی درخواست پر ڈرائیور ہوٹل کی لذیذ چائے بھی پلائی گئی جو اسے بے حد پسند آئی اگرچہ اس ملغوبے کو چائے کہنے میں اسے کچھ تامل تھا کافی کا ڈبہ ہمراہ تھا مگر کوئی کافی بنانے کا طریقہ نہ جانتا تھا لہٰذا اُسے کافی خود بنانا پڑی جو خاص طور پر اس نے میرے لیے بھی مکس کی تھی۔
ہرلے کا مجھے کافی تیار کر کے دینا میری حد سے زیادہ حوصلہ افزائی تھی۔ سوات کے خالصتاً قبائلی ماحول کے پیش نظر ہرلے کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اوڑھنی میں ملبوس رہے جو نقوی صاحب نے خاص طور پر انار کلی سے منگوائی تھی۔ راستے بھر ہرلے میری تعلیم گھر بار اور مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں سوال کرتی رہی۔ اسے حیرت اس بات پر تھی کہ اس کمپنی میں میری ملازمت کسی شوق کے باعث نہیں بلکہ ملازمت مل جانے کے باعث ہوئی ہے۔ میں نے اسے بتایا کہ دراصل میرا ارادہ تعلیمی اداروں میں ملازمت کا تھا کیونکہ مجھے ایم فل اور اس کے بعد پی ایچ ڈی کرنا تھی۔ ہرلے نے کہا کہ دستاویزی فلم بنانا اس کا Passion ہے اور وہ بڑی محنت کے بعد اس میدان میں آئی ہے۔ وہ ایک علیحدگی شدہ والدین کی اولاد تھی اور اس کی پرورش اس کی ماں نے کی تھی۔ ایک بھائی بھی تھا مگر ایک عرصہ ہوا کسی کا اس سے رابطہ نہ تھا۔ باپ سے زندگی بھر اس کی ملاقات نہ ہوئی تھی۔ ماں ایک اولڈ ہوم میں رہائش پذیر تھی کبھی کبھار ہرلے اسے مل آتی اور کچھ رقم پس انداز کر کے کرسمس یا کسی اور تہوار پر ماں کے لیے کوئی تحفہ لے جاتی تھی وہ حیران تھی کہ پاکستان میں لوگ کیسے ایک اجتماعی خاندان کے طور پر رہتے ہیں اور زندگی بھر والدین اور بہن بھائیوں سے رابطہ رکھتے ہیں۔ اس نے مجھے کہا ”مسٹر شاہ تم لوگ بیحد خوش قسمت ہو۔ ہم امریکی تو اپنی شناخت ہی کھو بیٹھے ہیں۔“
ہرلے دستاویزی فلم تیار کرنے کی ماہر تھی۔ وہ اپنے سبجیکٹ کی پوری تحقیق کرتی تھی نہایت عمدہ فلم تیار کرتی اور پھر سٹوڈیو میں واپس آ کر ایک ماہر صداکار کی طرح تصاویر اور مناظر کی تفصیلات ریکارڈ کرتی۔ کئی ہفتوں کی شب و روز محنت کے بعد وہ دستاویزی فلم اس قابل ہو جاتی کہ کمپنی اس کے حقوق خرید سکے اور یوں اس دستاویزی فلم کو مختلف نشریاتی اداروں کو بھیج دیا جاتا۔ ان دنوں ہرلے کمپنی کی باقاعدہ ملازم نہ تھی بلکہ معیار کی چھان بین کے بعد اسے تیار کی ہوئی فلم کی ایک مناسب رقم مل جاتی تھی۔
ہمیں مرغزار میں واقع والی سوات کی سرکاری رہائشگاہ سفید محل کی ایک دستاویزی فلم بنانا تھی اور پھر مینگورہ میں کھنڈرات کی۔ سوات میں ہمارا قیام چار روز کا تھا اس دوران ہم بحرین اور کالام بھی گئے۔ مناظر اس قدر خوبصورت تھے کہ دل چاہتا تھا کہ ہم گھنٹوں بیٹھ کر انہیں دیکھتے رہیں۔ ہرلے اپنے سوات کے دورے سے بیحد خوش اور مطمئن تھی اس دوران وہ نہایت بے تکلفی سے میرے ساتھ محو گفتگو رہتی اور خوش خلقی سے پیش آتی رہی۔ ہم گھنٹوں دریائے سوات کے ٹھنڈے پانی میں پاؤں لٹکائے بڑے پتھروں پر بیٹھے رہتے اور سامنے بلند و بالا پہاڑوں کو تکتے رہتے تھے ۔ ہرلے وادی سوات کے حسن میں کھو کر رہ گئی تھی اس کا کہنا تھا کہ اس کی روح کہیں اسی علاقے میں سے اڑ کر اس کے جسم میں داخل ہوئی ہے۔ میرے دل میں اب ہرلے کے لیے کوئی گلہ نہ تھا۔ ہم لاہور واپس آ گئے چند روز بعد ہرلے کو واپس جانا تھا۔ اس ایک ہفتے کی ہم سفری کا یہ فائدہ ہوا کہ ہرلے مجھے اسسٹنٹ سے زیادہ ایک دوست سمجھنے لگی۔
لاہور میں قیام کے دوران بھی میں نے ہرلے کو مینار پاکستان ، بادشاہی مسجد، قلعہ، شالا مار باغ، مقبرہ جہانگیر اور اندرون شہر کی سیر کرائی تھی۔ ہرلے کا خیال تھا کہ سوات سے زیادہ اہم دستاویزی فلم لاہور کے اندر کے مقامات کی بن سکتی تھی جس کا اسے پہلے علم نہ تھا۔ لہٰذا اس نے خواہش ظاہر کی کہ ’پہلی فرصت‘ میں وہ دوبارہ پاکستان آئے گی اور لاہور شہر کے مقامات کی دستاویزی فلم بنائے گی۔ جس روز ہرلے واپس چلی گئی نجانے کیوں میں اس روز بیحد اداس تھا۔ جاتے ہوئے اس نے کہا تھا ”مسٹر شاہ میں تمہیں مِس کروں گی اور جلد واپس آؤں گی پہلی فرصت میں اور پھر بہت دن لاہور میں رہوں گی تمہاری کمپنی میں۔“
ہرلے کو یہ ’پہلی فرصت‘ چار سال کے بعد ملی۔ اس دوران ہمارا رابطہ قائم رہا ، خطوط، تہینتی کارڈ، تحفے تحائف اور کبھی کبھار ٹیلیفون پر گفتگو۔ ہرلے کی والدہ کا اولڈ ہوم میں ہی انتقال ہو گیا تھا اور اب وہ دنیا میں تنہا تھی۔ اس چار سال میں مَیں اور ہرلے دور رہنے کے باوجود بہت قریب آ گئے تھے۔ میں ترقی کرتے ہوئے نائب منیجر بن گیا تھا۔ ہرلے سے متاثر ہو کر میں نے بھی دستاویزی فلم بنانے میں مہارت حاصل کر لی تھی پاکستان اور امریکہ میں ہیڈ آفس والے میری کارکردگی سے اور کمپنی کے بڑھتے ہوئے منافع سے بیحد خوش تھے۔ کمپنی کی مالی اعانت سے میں نے ایک سیکنڈ ہینڈ گاڑی خرید لی تھی مگر میری رہائش بدستور اندرون شہر کرایہ کے ایک مکان میں تھی۔
جس روز ہرلے کو پاکستان آنا تھا میں بیحد خوش تھا۔ اسے خوش آمدید کہنے میں خود ائرپورٹ گیا تھا۔ ہرلے کی رہائش کا انتظام ہوٹل انٹرنیشنل ہی میں کیا گیا تھا۔ ہرلے ائرپورٹ لاؤنج سے نکل کر جس طرح مجھے بے تکلفی سے ملی میں خود کو نہایت خجل محسوس کر رہا تھا نقوی صاحب میرے ساتھ تھے اور زیرلب مسکرا رہے تھے۔ ہوٹل تک وہ ہمارے ساتھ آئے اور پھر معذرت کر کے اپنے گھر چلے گئے۔ کمرے میں سامان رکھ کر ہرلے ڈائننگ ہال میں آ گئی۔ ہم دونوں جھروکوں میں رکھی ہوئی بید کی میز کرسیوں پر بیٹھ گئے ہرلے اس روز بیحد خوبصورت لگ رہی تھی اس کی صحت پہلے سے بہتر ہو گئی تھی اور اس کی ایک ایک ادا سے شوخی جھلک رہی تھی۔ وہ بیحد خوش تھی کہنے لگی ”شاہ میں واپس آ گئی ہوں وعدے کے مطابق اب تم اپنے وعدے کے مطابق مجھے لاہور شہر کی سیر کراؤ گے۔“ ہرلے اب براڈ وے میں واقع کمپنی کے ہیڈ آفس میں باقاعدہ ملازم ہو گئی تھی اور اپنی سالانہ چھٹیوں کے دوران جو اسے لاہور میں میرے ساتھ گزارنا تھیں وہ لاہور کے مقامات پر دستاویزی فلم بنانا چاہتی تھی۔ دن بھر ہم دستاویزی فلم کی تکمیل کے سلسلے میں مصروف رہتے اور رات گئے لبرٹی، فورٹریس اور ڈیفنس کی نئی مارکیٹوں کی سیر کرتے رہتے تھے انہی دنوں بسنت کا تہوار بھی آ گیا۔ میں نے ایک دوست کی حویلی میں ہرلے کو مدعو کیا جو اس تہوار سے بیحد لطف اندوز ہوئی رات بھر روشنیوں میں پتنگیں اڑتے دیکھ کر اور لذیذ خوان سجتے دیکھ کر ہرلے بہت خوش رہی جی بھر کے تصاویر اتاریں اور فلمیں بنائیں۔
لبرٹی مارکیٹ کے قریب ایک پرانی کوٹھی میں ایک نیا ریستوران کھلا تھا بڑے بڑے بیڈ روم کھانے کے کمرے بنائے گئے تھے غالباً پہلی بار ویلٹ پارکنگ کا بندوبست بھی کیا گیا تھا بلیک اینڈ وائٹ تصاویر فریم کی ہوئی دیواروں پر آویزاں تھیں نہایت عمدہ ماحول تھا۔ ایک بڑی کھڑکی کے ساتھ میز پر ہرلے اور میں بیٹھے سوپ سے لطف اندوز ہو رہے تھے کہ وہ یکدم سنجیدہ ہو گئی ہرلے نے کہا۔ ”شاہ میں اس ماحول کا حصہ بنناچاہتی ہوں ہمیشہ کے لیے یہاں رہنا چاہتی ہوں۔“ میں نے ہنس کر کہا کہ ”ابھی ریستوران والوں سے بات کر لیتے ہیں۔“ ہرلے نے کہا کہ ”شاہ تم آج بھی اتنے ہی احمق ہو جتنے چار سال قبل میرے کمرے میں بلا اجازت آ کر بیٹھ جانے کے وقت نظر آ رہے تھے تم واقعی ایڈیٹ ہو اور ان چار سالوں نے تمہارا کچھ نہیں بگاڑا بھئی میں تم سے شادی کرنا چاہتی ہوں نان سنس!“ ہرلے نے اتنی بڑی بات اتنی آسانی سے کر دی تھی کہ لمحہ بھر میں سوپ کا چمچ ہونٹوں کے پاس رکھے سوچتا رہا کہ کیا جواب دوں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ میں ہرلے کے قریب ہو گیا تھا مگر شادی کا میں نے کبھی سوچا نہ تھا۔ وہ مجھے اچھی لگتی تھی ہماری گہری دوستی تھی مگر وہ نسبتاً مالدار امریکی تھی اور میں ابھی اپنے قدموں پر کھڑا ہو رہا تھا۔ واجبی سی آمدن تھی، کرایہ کا گھر تھا بوڑھے والدین اب کئی سالوں کے بعد گاؤں سے آکر میرے ساتھ لاہور میں آباد ہوئے تھے دو بہنوں کی شادی ہونا باقی تھی۔ انیسہ میری خالہ زاد بچپن سے میری منگیتر تھی۔ مجھے اتنی گہری سوچ میں ڈوبا دیکھ کر ہرلے نے موضوع تبدیل کر دیا میں رات بھر سوچتا رہا کہ ہرلے نے اپنا دل کھول کر میرے سامنے رکھ دیا ہے اور میں ہوں کہ اپنی مجبوریوں اور رشتوں کی زنجیر سے خود کو آزاد نہیں کر پا رہا۔ دل میں کئی بار خیال آیا تھا کہ کاش ہرلے میری زندگی کی ساتھی بن جائے مگر یہ بات مجھے دیوانے کا خواب لگتی تھی۔ مجھے قطعی اندازہ نہ تھا کہ ایک روز ہرلے خود مجھے پرپوز کرکے امتحان میں ڈال دے گی۔ شاید میں خود کو اس قابل نہ سمجھتا تھا۔ رات بھر میں سو نہ سکا۔ مجھے یہ تجویز قابل عمل نہیں لگ رہی تھی۔ کیا میں ہرلے سے شادی کر کے باہر چلا جاؤں گا اور تمام اہلخانہ سے قطع تعلق کر لوں گا؟ کیا میں اسے بیاہ کر پاکستان میں رکھوں گا؟ کیا وہ یہاں رہ سکے گی؟ مجھے یہ سب کچھ مشکل لگ رہا تھا۔ مجھے احساس تھا کہ میں ہرلے سے محبت کرنے لگا ہوں مگر میں اتنے بڑے فیصلے کے لیے خود کو تیار نہیں کر پا رہا تھا میں شدید احساس کمتری میں مبتلا ہو گیا تھا کم ہمتی آڑے آ رہی تھی۔ مجھے کوئی راستہ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔ ہرلے نے دوبارہ اس سلسلے میں کوئی بات نہیں کی میں نے اسے بتا دیا تھا کہ ہمارے ہاں بچپن میں نسبت طے کر دینے کی روایت ہے اور میں بھی اپنی خالہ زاد کے ساتھ منسوب ہوں۔ ہرلے خاموش رہی چند روز کے بعد اسے واپس امریکہ چلے جانا تھا۔ ائر پورٹ جانے سے پہلے ہم پھر ہوٹل انٹر نیشنل میں بید کی بنی ہوئی کرسیوں اور میز پر آمنے سامنے بیٹھے تھے ہرلے نے کہا کہ ”مجھے قطعی اس بات کا افسوس نہیں کہ میں نے محبت کے اقرار میں پہل کی۔ جو میرے اختیار میں تھا وہ میں نے کر دیا جو تمہارے اختیار میں نہیں تم نہیں کر سکتے اور مجھے اس کا کوئی گلہ نہیں۔ تم اپنی شادی سے مجھے ضرور مطلع کرنا اپنی بیوی کا خیال رکھنا اور کبھی اسے دکھ نہ دینا تمہاری جو بات مجھے اچھی لگی ہے وہ یہ ہے کہ تم نے محض میری خوشنودی کے لیے شادی کی حامی نہیں بھری بلکہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے مجھے تم سے گہری محبت تھی اور رہے گی اور یہ لاہور کے مقامات کی دستاویزی فلم بنانا میری ضرورت نہ تھی میں صرف تمہارے قریب رہنا چاہتی تھی ہم امریکی یوں تو بیحد حقیقت پسند ہوتے ہیں مگر کچھ جذبے ضرورت سے ماورا بھی ہوتے ہیں۔“ ہرلے کے سفید فام جسم کے اندر ایک دیسی روح تھی۔
( جاری )

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker