مردان :توہین مذہب کے الزام میں ہجوم کے ہاتھوں قتل ہونے والے طالب علم مشال خان کی تیسری برسی 13 اپریل کو منائی جا رہی ہے ۔ مشال خان یوسفزئی 1994ء میں پیدا ہوئے ، وہ عبد الولی خان یونیورسٹی مردان کے طالبعلم تھے جنھیں اپریل 2017 میں مذکورہ جامعہ کے حدود میں مشتعل ہجوم نے توہین مذہب کے الزام میں قتل کیا۔ ان پر مبینہ طور پرفیس بک پر مذہب متعلق توہین آمیز مواد نشر کرنے کا الزام تھا۔انسپکٹر جنرل آف پولیس کے مطابق ” ہمیں توہین مذہب کے حوالے مشال، عبد اللہ اور زبیر کے خلاف سے کوئی ثبوت نہیں ملے” تھے مشال کے دوست کے بیان کے مطابق ،جو انھوں نے پولیس کو جمع کرایا، وہ ایک راسخ العقیدہ مسلمان تھے جبکہ ان پر حملے کی وجہ ان دونوں کی جانب سے جامعہ کی انتظامیہ کے خلاف تنقید تھی اس واقعہ کے بعد 45 افراد حراست میں لیے گئے۔ ان میں سے کچھ کو سزائیں بھی سنائی گئیں لیکن بعد ازاں سب بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے ۔
اتوار, فروری 15, 2026
تازہ خبریں:
- ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: بھارت نے پاکستان کو 61 رنز سے شکست دے دی
- ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی بیٹنگ جاری، 78 رنز پر 7 کھلاڑی آؤٹ
- بھارت کا 6 طیارے گرنے پر تاحال غصہ برقرار، آج بھی ہینڈ شیک نہ کیا
- ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ : پاکستان کے خلاف بھارت کی ایک رن پر پہلی وکٹ گرگئی
- ملتان پریس کلب کو قبضہ مافیا اور سوداگروں سے نجات دلائیں: مقبول حسین تبسم کا کالم
- فیلڈ مارشل کی امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال
- راولپنڈی: عمران خان کے علاج سے متعلق اہم پیشرفت
- ٹی 20 ورلڈ کپ، کولمبو میں میدان سج گیا، روایتی حریف پاکستان اور بھارت آج آمنے سامنے
- جمشید رضوانی کا کیا بنے گا : ناصر محمود شیخ کا کالم
- پریس کلب کو فعال اور باوقار بنائیں گے،سب کی رسائی ہو گی : اشفاق احمد

