مردان :توہین مذہب کے الزام میں ہجوم کے ہاتھوں قتل ہونے والے طالب علم مشال خان کی تیسری برسی 13 اپریل کو منائی جا رہی ہے ۔ مشال خان یوسفزئی 1994ء میں پیدا ہوئے ، وہ عبد الولی خان یونیورسٹی مردان کے طالبعلم تھے جنھیں اپریل 2017 میں مذکورہ جامعہ کے حدود میں مشتعل ہجوم نے توہین مذہب کے الزام میں قتل کیا۔ ان پر مبینہ طور پرفیس بک پر مذہب متعلق توہین آمیز مواد نشر کرنے کا الزام تھا۔انسپکٹر جنرل آف پولیس کے مطابق ” ہمیں توہین مذہب کے حوالے مشال، عبد اللہ اور زبیر کے خلاف سے کوئی ثبوت نہیں ملے” تھے مشال کے دوست کے بیان کے مطابق ،جو انھوں نے پولیس کو جمع کرایا، وہ ایک راسخ العقیدہ مسلمان تھے جبکہ ان پر حملے کی وجہ ان دونوں کی جانب سے جامعہ کی انتظامیہ کے خلاف تنقید تھی اس واقعہ کے بعد 45 افراد حراست میں لیے گئے۔ ان میں سے کچھ کو سزائیں بھی سنائی گئیں لیکن بعد ازاں سب بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے ۔
بدھ, جون 24, 2026
تازہ خبریں:
- سید مجاہد علی کا تجزیہ : ایرانی صدر کا دورہ پاکستان کو کیا ملے گا ؟
- محرم، کربلا اور ایران میں مزاحمت کی سزا : ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
- بابا فرید کا عرس : بہشتی دروازے پر بھگدڑ میں 89 افراد زخمی ، 25 کی حالت تشویش ناک
- ماہ رنگ بلوچ کو سزا : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- گوادر میں سکیورٹی اہلکار کی ہلاکت کے مقدمے میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو عمر قید کی سزا
- کراچی : تیز رفتار گاڑی مجلس عزا کے دوران امام بارگاہ کے احاطے میں جا گھسی 20 افراد زخمی
- کُکّڑ دی لَت اور پپو دا چُوچا : سہیل وڑائچ کا کالم
- 9 مئی کے بھوت سے کب نجات ملے گی؟ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- بنوں بم دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد سات ہو گئی
- روسی ناول:ایک فکری اور ادبی سفر : ڈاکٹر صلاح الدین حیدر کی نئی کتاب شہزاد عمران خان کا اختصاریہ

