اہم خبریں

ہجوم کے ہاتھوں مشال خان کے قتل کو تین سال بیت گئے

مردان :توہین مذہب کے الزام میں ہجوم کے ہاتھوں قتل ہونے والے طالب علم مشال خان کی تیسری برسی 13 اپریل کو منائی جا رہی ہے ۔ مشال خان یوسفزئی 1994ء میں پیدا ہوئے ، وہ عبد الولی خان یونیورسٹی مردان کے طالبعلم تھے جنھیں اپریل 2017 میں مذکورہ جامعہ کے حدود میں مشتعل ہجوم نے توہین مذہب کے الزام میں قتل کیا۔ ان پر مبینہ طور پرفیس بک پر مذہب متعلق توہین آمیز مواد نشر کرنے کا الزام تھا۔انسپکٹر جنرل آف پولیس کے مطابق ” ہمیں توہین مذہب کے حوالے مشال، عبد اللہ اور زبیر کے خلاف سے کوئی ثبوت نہیں ملے” تھے مشال کے دوست کے بیان کے مطابق ،جو انھوں نے پولیس کو جمع کرایا، وہ ایک راسخ العقیدہ مسلمان تھے جبکہ ان پر حملے کی وجہ ان دونوں کی جانب سے جامعہ کی انتظامیہ کے خلاف تنقید تھی اس واقعہ کے بعد 45 افراد حراست میں لیے گئے۔ ان میں سے کچھ کو سزائیں بھی سنائی گئیں لیکن بعد ازاں سب بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے ۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker