کالملکھارییاسر پیرزادہ

یہ قوم پاگل ہو چکی ہے ۔۔ یاسر پیرزادہ

سرائیکی علاقے کے ایک نواب صاحب نے رولس رائس خرید لی۔ گاڑی خریدنے کے بعد مسئلہ یہ تھا کہ اسے چلائے کون۔ رولس رائس کا ڈرائیور بڑی مشکل سے ملتا تھا۔ آخر کار بڑی تلاش کے بعد ایک نوجوان ڈرائیورکو نوکری پر رکھ لیا گیا۔ ایک دن نواب صاحب گھر آئے تو دیکھا کہ ڈرائیور اُن کی بیوی کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف ہے۔ نواب صاحب کا خون کھول اٹھا۔ انہوں نے کھڑے کھڑے اسے نوکری سے نکال دیا۔ کچھ دن گذرے تو نواب صاحب کو رولس رائس کی فکر ہوئی۔ اب کوئی ڈرائیور نہ ملے۔ کسی نے انہیں بتایا کہ پرانا ڈرائیور اب بھی شہر میں موجود ہے۔ نواب صاحب اسے ڈھونڈنے نکلے تو وہ بازار میں مل گیا۔ نواب صاحب کو دیکھ کر نظریں چرانے لگا۔ نواب صاحب اُس کے پاس جاتے تو وہ منہ موڑ لیتا۔ تنگ آ کر نواب صاحب نے اُس کا کندھا دبایا اور سرائیکی میں گالی دے کربولے ” ہُن رُسّا ای توں ودا ایں“ (اب ناراض بھی تم ہی ہو)۔
یہ لطیفہ پنجاب بار کونسل کی پریس ریلیز دیکھ کر یاد آیا جس میں وکلا کے ساتھ ہونے والی ”زیادتی “ کے نتیجے میں بار نے ہڑتال کی کال دی ہے۔ چارروز پہلے وکیلوں نے پنجاب کارڈیالوجی پر حملہ کیا تھا جہاں انہوں نے سرکاری املاک تباہ کیں اور اسپتال میں گھس کر تھوڑ پھوڑ کی جس سے تین مریض جان جاں بحق ہوگئے مگر کس قدر زیادتی کی بات ہے کہ اُلٹا پرچہ بھی وکلا کے خلاف ہی کاٹ دیا گیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جن بہادر وکلا نے اسپتال پر حملہ کر کے تاریخ رقم کی اُن کے اعزاز میں ایوان صدر میں ایک پُر شکوہ تقریب منعقد کی جاتی جہاں انہیں ملک کے سب سے اعلی ٰ سول ایوارڈ سے نوازا جاتا تاکہ ہماری نوجوان نسل یہ جان سکتی کہ ہم اپنے ہیروزکی کتنی قدر کرتے ہیں۔ جس معاشرے میں کسی شخص۔ گروہ یا طبقے کو اِس بات کا علم ہو کہ وہ قانون سے مستثنیٰ ہے۔ انگریزی میں جسے impunity کہتے ہیں۔ اُس معاشرے میں وہی کچھ ہوتا ہے جو آج ہم دیکھ کر رہے ہیں۔ اِس میں حیرت کی کوئی بات نہیں۔ ہم نے معاشرے میں ایسے گروہوں کی خود پرورش کی ہے جنہیں قانون سے استثتنی ٰ حاصل ہے۔ وکیلوں نے جب یہ حملہ کیا تو انہیں یقین تھا کہ کوئی اُن کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا اور اُن کا یقین ٹھیک تھا۔
زیادہ پرانی بات نہیں اگست 2017میں ملتان بار کے ایک عہدیدار نے جج صاحب سے بھری عدالت میں بد تمیزی کی۔ لاہور ہائی کورٹ نے اِس کا نوٹس لیا۔ اس عہدے دار کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے۔ اس” گستاخی“ کے خلاف وکلا نے لاہور ہائی کورٹ پر حملہ کر دیا۔ یہ دلفریب مناظر آج بھی انٹر نیٹ پر موجود ہیں۔ پھر عدالت عظمیٰ میں معاملہ رفع دفع ہو گیا۔ جن صاحب نے جج سے بد تمیزی کی تھی وکلا نے اُن پر گل پاشی کی اور کندھوں پر اٹھا کر عدالت سے باہر نکلے۔
اس مرتبہ ہم ایک قدم اور آگے بڑھے ہیں اور اسپتال پر حملہ کیا ہے۔ پرچہ توہو گیا ہے مگر ملزمان کی تعداد گھٹا دی گئی ہے۔ عام ملزم ہوتے تو ان کا کیس ٹرائل کورٹ میں سنا جاتا جبکہ وکلا کے لیے عدالت نے خصوصی بینچ بنا دیا ہے۔ یہ بات اِس خاکسار کی نوٹ کر لی جائے کہ انہیں نہ صرف ضمانت ملے گی بلکہ یہ سب با عزت بری ہوں گے۔ کوئی وکیل بھائی بہن اِن کے مقدمے کی پیروی نہیں کرے گا۔ کوئی اِن کے خلاف پیش نہیں ہوگا۔ بار کونسل کے عہدے داروں کی گفتگو آپ نے ٹی وی پروگراموں میں سُن لی۔ ہومیو پیتھک مذمت کے علاوہ کچھ نہیں۔ وہ بھی اگر مگر چونکہ چنانچہ کے ساتھ۔
یہ واقعہ اگرآج سے بیس سال پہلے ہوا ہوتا توکسی نے یہ ماننا ہی نہیں تھا کہ وکیلوں نے کچھ غلط کیا ہے۔ آج درجنوں ویڈیو کلپس کی موجودگی میں دھڑلے سے جو لوگ اِس واقعے کاجواز دینے کی کوشش کر رہے ہیں اُن سے یہ امید رکھنا کہ وہ ان ملزمان وکلا کے لائسنس منسوخ کریں گے۔ حماقت ہی ہوگی۔ یہ مغالطہ بھی اب ہمیں دور کر لینا چاہیے کہ کوئی ادارہ یا گروہ اپنا احتساب خود کر سکتا ہے۔ میڈیا نے یہی دلیل کئی سال تک استعمال کی کہ انہیں کسی ریگولیٹری باڈی کی ضرورت نہیں وہ میڈیا تنظیموں کے ذریعے اپنا محاسبہ خود کر لیں گے۔ یہ بات غلط ثابت ہوئی۔ روزانہ لوگوں کی پگڑیاں اچھالی جاتی ہیں۔ جھوٹے سکینڈلز کے ذریعے کردار کشی کی جاتی ہے مگر کبھی یہ نہیں سنا کہ کسی میڈیا تنظیم نے فلاں اینکر یا صحافی پر پابندی لگا دی ہو۔اب میڈیا یہی سوال وکلا تنظیموں سے کر رہا ہے کہ کیا آپ ان مجرمان کا لائسنس منسوخ کریں تو جواب مجھ سے سُن لیں کہ کسی کا اجازت نامہ منسوخ نہیں ہوگا بالکل اسی طرح جیسے کسی بلیک میلر صحافی پر کسی اخبا ر میں لکھنے پر کوئی پابندی نہیں۔ ینگ ڈاکٹروں کا بھی یہی حال ہے۔ کم از کم میرے علم میں نہیں کہ اسپتالوں میں مریضوں کی جان سے کھیلنے والے کتنے ڈاکٹروں کا لائسنس ان کی اپنی تنظیم نے منسوخ کیا یا ہڑتال پر جانے والے ڈاکٹروں کے خلاف ان کی تنظیم نے کیا کارروائی کی؟ خود احتسابی کی دلیل سوائے فریب نظر کے کچھ نہیں۔
ایک سوال یہ بھی ہے کہ پڑھے لکھے لوگ ایسی حرکتیں کیسے کر لیتے ہیں۔ اسپتال پر حملہ تو دشمن ملک نہیں کرتا کجا کہ قانون کے محافظ یہ کام کریں۔ دراصل یہ بھی ایک غلط فہمی ہے کہ یہ لوگ پڑھے لکھے ہیں۔ کوئی بھی شخص کسی اسکول یا کالج میں داخلہ لینے یا وہاں سے ڈگری کے نام پر کاغذ کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے سے پڑھا لکھا نہیں بن جاتا۔ جس شخص کو تعلیم کے نتیجے میں شعور نہیں مل سکا یا اس میں تنقیدی سوچ پروان نہیں چڑھ سکی وہ چاہے لنکنز ان سے نکل کر بیرسٹر ہی کیوں نہ بن جائے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ لوگ پڑھے لکھے نہیں۔ انہیں زیادہ سے زیادہ سند یافتہ کہہ سکتے ہیں۔
کبھی کبھی تو مجھے یوں لگتا ہے جیسے پوری قوم پاگل ہو چکی ہے اور اِس قوم کا علاج کم ازکم ہماری زندگیوں میں تو ممکن نہیں۔ جس ملک میں لوگ مذاق مذاق میں کسی کی جان لے لیں۔ آئل ٹینکر سے بہتا ہوا تیل چرانے کے لیے زندہ جل جائیں۔ گیس سلینڈر کی بداحتیاطی سے چلتی ٹرین میں دھماکے کر دیں۔ بچوں سے لدے ہوئے رکشے کے ساتھ ریلوے پھاٹک پار کرنے کی کوشش میں معصوم بچوں سمیت کچلے جائیں۔ اسپتال پر حملہ کر کے لاچار مریضوں کو مار دیں اور جس ملک میں خاتون اسسٹنٹ کمشنر پوری ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی موجودگی کے باوجود بے بسی اور خوف کے عالم میں اپنے عقیدے کی وضاحت دینے پر مجبور ہو، وہاں یہی کچھ ہوگا جو ہم گزشتہ چار دن سے دیکھ رہے ہیں۔
خاطر جمع رکھیں اگلا واقعہ اس سے بھی زیادہ خوفناک ہوگا۔ اب کوئی جی دار اپنی توہین پر مریضوں کو آئی سی یو سے نکال کر سڑک پر تیل چھڑک کر آگ لگائے گا اور ہم ایسے ہی سینہ کوبی کرکے چُپ ہو جائیں گے۔ جس روز ہم اپنے نو عمر بچے کو بغیر لائسنس کے موٹر سائیکل دے کر سڑک پر بھیجتے ہیں یا اسے پندرہ سال کی عمر میں گاڑی کی سیٹ پر بٹھا کر کہتے ہیں کہ جا میرے شہزادے۔ چلا گاڑی۔ اُس روز دراصل ہم اس کے دماغ میں یہ راسخ کر دیتے ہیں کہ اِس ریاست کے قانون کی کوئی وقعت نہیں۔ اگر تم طاقت ور ہو تو کوئی تمہارا بال بھی بیکا نہیں کر سکے گا۔ لاہور میں یہی ہوا۔ آئندہ بھی یہی ہوگا کیونکہ ریاست کے آئین اور قانون کو ہم نے لونڈی بنا رکھا ہے۔ اس کے ساتھ جیسا دل کرتا ہے، ویسا سلوک کرتے ہیں۔
( بشکریہ :‌ہم سب ۔۔لاہور)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker