آج کل سوشل میڈیا پر پرویز ہود بھائی کے متنازعہ انٹرویو کا چرچا ہے جس میں انہوں نے حجاب پہننے والی خواتین کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
اس گفتگو سے مجھے اپنے زمانہء طالب علمی کا ایک واقعہ یاد آ گیا۔ ان دنوں ہم ایم بی بی ایس کے تیسرے سال میں تھے۔ ہمیں فارماکالوجی یا ایلوپیتھک ادویات کا مضمون پروفیسر خورشید احمد قریشی پڑھایا کرتے تھے۔ وہ لبرل نظریات رکھتے تھے اور بہت مزے کی باتیں کیا کرتے تھے۔ میں اور میرے قریبی دوست انہیں ان کے طبی اور غیرطبی علم اور خیالات کی وجہ سے اس وقت بہت پسند کرتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قائد اعظم میڈیکل کالج کے ماحول میں شدید گھٹن تھی۔ وہاں اکثر اساتذہ مولوی تھے اور زیادہ تر جماعت اسلامی کے لیے نرم گوشہ رکھتے تھے۔
ابو عمار عزیز نام کا ایک شیطان صفت جماعتیا ڈاکٹر اس وقت کے مولوی پرنسپل ڈاکٹر اقبال کے بہت قریب تھا۔ وہ ایک شکاری کی طرح پورے کیمپس میں بو سونگھتا پھرتا تھا۔ اس کا شکار وہ نوجوان طلبہ و طالبات ہوتے تھے جن کی آپس میں دوستی ہو جاتی تھی اور وہ شام کو ملا کرتے تھے۔ ان جوڑوں کی ملاقاتوں کی جگہیں ایک سڑک جس کا نام طلبہ نے مٹیار لنک روڈ یا ایم ایل آر رکھا ہوا تھا یا آڈیٹوریم کے باہر کا تھڑا یا فٹ پاتھ ہوا کرتے تھے ۔ابو عمار عزیز نامی شکاری کا کام یہ ہوتا تھا کہ وہ بو سونگھتا ہوا ان جوڑوں کے پاس پہنچتا اور انہیں ایک دوسرے سے ملنے سے روکتا، انہیں دھمکیاں دیتا اور خبردار کرتا، شریف طلبہ و طالبات اس کی غنڈہ گردی کی وجہ سے کالج کی حدود میں ملنے سے اجتناب کرتے تھے۔
ایک دفعہ ابو عمار نے ایک جوڑے پر کالج کی کنٹین میں چھاپہ مارا۔ اس نے ان پر الزام لگایا کہ وہ دونوں قابل اعتراض حالت میں تھے یعنی کسنگ کر رہے تھے۔ بدقسمتی سے کالج کی ڈسپلینری کمیٹی جو جماعتیوں پر ہی مشتمل تھی نے ان دونوں کو ایکسپیل کردیا یعنی کالج سے باہر نکال دیا۔ بعد میں اس جوڑے پر کیا بیتی یہ میں نہیں جانتا۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اس کالج میں طلبہ و طالبات پر ہمہ وقت ابوعمار کا خوف طاری رہتا تھا۔اس کے باوجود کئی بہادر جوڑے ڈنکے کی چوٹ پر شام کو ملا کرتے تھے اور اس شخص کو اپنی جوتی کی نوک پر رکھتے تھے۔
کالج کے نوٹس بورڈ پر اکثر طالبات کے لباس کے بارے میں ہدایات جاری کی جاتی تھیں اور کپلز کو ملنے جلنے سے روکنے کے احکامات بھی دیے جاتے تھے۔ ان سب پابندیوں کے باوجود کالج کے اسٹوڈنٹس فن فیر بھی کرنے کی کوشش کرتے تھے ۔جہاں تک مجھے یاد میرے چھ سال میں وہاں ایک ہی فن فیر منعقد ہوا جس میں لڑکے لڑکیوں نے پرجوش انداز میں شرکت کی اور مولویوں کو خوب مرچیں لگائیں۔ وہاں کلاس فنکشنز بھی کروائے جاتے تھے جو کالج کی حدود کے باہر عموماً فورسیزنز یا پانڈا نامی ہوٹلوں میں منعقد ہوتے تھے۔
وہ نوے کی دہائی تھی، ضیاءالحق کا لگایا ہوا مذہبی انتہاپسندی کا پودا پھل پھول رہا تھا لیکن ابھی یہ فتنہ گھر گھر نہیں پہنچا تھا جیسا کہ آج پہنچ چکا ہے اور کم و بیش ہر گھر میں طالبانیت اپنی جڑیں پھیلا چکی ہے۔ ہم اکثر قائداعظم میڈیکل کالج بہاولپور کا موازنہ نشتر ہسپتال ملتان سے کیا کرتے تھے جہاں کا ماحول ہمارے کالج کی نسبت زیادہ لبرل تھا اور وہاں مذہبی پابندیاں ابھی نہ ہونے کے برابر تھیں۔
ان دنوں طلبہ یونینوں پر پابندی تھی لیکن ہمارے کالج میں دو مذہبی انتہاپسند تنظیمیں جماعت اسلامی کی جمیعت اور ایران پرست تنظیم تحریک جعفریہ کی طلبہ تنظیم امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کافی سرگرم ہوا کرتی تھیں۔ میرے وہاں داخلے سے پہلے غالباً شیعہ طلبہ پر تشدد کے کچھ واقعات ہوئے تھے جس کے نتیجے میں ان طلبہ کو بھی منظم ہونے کی ضرورت پیش آئی۔
شعبہ علم الادویات یا فارماکولوجی کے ہیڈ خورشید صاحب کی باتیں ہم جیسے لبرل طلبا کے لیے کالج کی گھٹن بھری فضا میں خوشگوار ہوا کے جھونکے کی طرح ہوا کرتی تھیں۔ خورشید صاحب پرویز ہود بھائی کی طرح ایک انتہاپسند لبرل تھے اور خواتین کے پردے کے خلاف باتیں کیا کرتے تھے۔ ان باتوں کے ردعمل میں جمیعت طالبات اسلام کی ایک سرگرم کارکن حفضہ اور دعوت اسلامی کے ایک شریف سے مولوی حافظ اطہر نے فارماکولوجی کے کلاس روم میں پردے کے حق میں اترنے والی قرآنی آیات اور احادیث آویزاں یا چسپاں کر دیں۔ خورشید صاحب نے یہ سب دیکھ کر خوب انجوائے کیا لیکن ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ اس حرکت کا جواب وہ کس انداز میں دینے والے تھے۔
تیسرے سال کے سالانہ امتحان میں انہوں نے وائیوا کے دوران سب نقاب پوش خواتین کا چہرہ دیکھنے پر اصرار کیا۔ اس کا جواز انہوں نے یہ پیش کیا کہ نشتر ہسپتال ملتان میں کسی طالبہ نے نقاب پہن کر ایک دوسری طالبہ کی جگہ وائیوا کا امتحان دینے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے طالبات سے کہا کہ وہ ان کے والد جیسے ہیں اس لیے وہ اپنا چہرہ انہیں بلاجھجک دکھا سکتی ہیں۔ طالبات کی اکثریت نے انہیں اپنا چہرہ دکھا دیا لیکن حفضہ نے انکار کر دیا۔ حفضہ کلاس کی ذہین طالبہ تھی اور پوزیشن ہولڈر بھی تھی۔ امتحان کا نتیجہ آیا تو حفضہ اور حافظ اطہر دونوں کو فیل کر دیا گیا۔ ان دونوں ذہین اسٹوڈنٹس کے فیل ہونے پر ہم سب کو بہت تعجب ہوا۔ ہم سب کو اس کی وجہ بھی معلوم تھی۔ ظاہر ہے کہ اس کا تعلق پردے والی بحث اور امتحان میں حفضہ کے چہرہ نہ دکھانے کے واقعات سے تھا ۔ ان دونوں نے اس وقت کوئی احتجاج کیا یا نہیں یہ مجھے یاد نہیں لیکن انہوں نے سپلیمنٹری امتحان میں شرکت کی۔ خورشید صاحب نے حفضہ سے ایک مرتبہ پھر اپنا چہرہ دکھانے کی فرمائش کی، حفضہ نے پھر انکار کیا اور اسے ایک بار پھر سپلی میں بھی فیل کر دیا گیا۔ اس سارے معاملے میں بےچارہ حافط اطہر بھی ساتھ ہی رگڑا گیا۔ اس کے بعد سارے کالج میں ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔خورشید قریشی کے خلاف نہ صرف بہاولپور بلکہ پورے پنجاب کے میڈیکل کالجوں اور یونیورسٹیوں میں مظاہرے ہوئے۔ ان مظاہروں کے نتیجے میں تاریخ میں پہلی مرتبہ انتظامیہ نے سپرا سپلی یعنی سپلی کے بعد ایک اور سپلیمنٹری امتحان کا انعقاد کیا جس میں خورشید قریشی کو بطور ممتحن شرکت کرنے سے روک دیا گیا۔ اس امتحان کے نتیجے میں حفضہ اور حافظ اطہر سمیت باقی تمام چھ سات فیل شدہ طلباء و طالبات بھی کامیاب ہو گئے۔
یہ واقعہ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں لبرل اور مذہبی دونوں طرح کی انتہاپسندی موجود ہے۔ ہم سوشلسٹ ان دونوں انتہاپسند قوتوں کی مذمت کرتے ہیں. ہم سمجھتے ہیں کہ پرویز ہود بھائی کا بیان ان کی لبرل انتہاپسندانہ ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ پردہ کرنا یا نہ کرنا اور مذہبی داڑھی رکھنا یا نہ رکھنا ہر انسان کی اپنی مرضی اور حق ہے اور ایک سوشلسٹ سیکیولر معاشرے میں وہ اپنی زندگی کسی بھی انداز سے گزارنے کے لیے بھی مکمل طور پر آزاد ہو گا۔ شرط یہ ہو گی کہ وہ پرامن رہے گا اور اپنے عقائد کی بنیاد پر سوشلسٹ انقلاب کی راہ میں پر تشدد ہو کر حائل ہونے کی کوشش نہیں کرے گا۔
فیس بک کمینٹ

