اگست 1987 میں جب کتاب نگر کا آ غاز ہوا تو خیال تھا کہ اس خطے کے کتابوں سے محبت کرنے والے دوست باقاعدگی سے کتاب نگر تشریف لایا کریں گے، شروع کے دو تین سال میں نے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر گزارے کہ مجھے معلوم ہی نہیں تھا کہ لوگوں کو کون سی کتابیں پسند ہیں ۔ میں تو مشتاق احمد یوسفی کے مضمون صبغے اینڈ سنز کی مثال بنا ہوا تھا جہاں پورے شوروم میں صرف میری پسند کی کتابیں ہر طرف نظر آ تی تھیں،یہ وہ زمانہ تھا جب ملتان کینٹ میں محمد عمر خان کے کاروان بک سینٹر کا طوطی بولتا تھا اور دوسری جانب گلگشت کالونی میں بیکن بکس پر لوگوں کا ہجوم رہتا تھا ۔ گلگشت میں ہی نیشنل بک فاؤنڈیشن کا شوروم لکھنے پڑھنے والوں کی پسندیدہ جگہ بن چکا تھا اور وہاں پر خضر حیات کام کرتے تھے ۔بیکن بکس پر عبدالجبار بہت زیادہ متحرک نظر آ تے تھے۔جب بیکن بکس اپنے نئے شوروم پر منتقل ہوا،تو یہ بھی پتا چلا کہ ان کے ساتھ محکمہ کسٹم کے اعلٰی افسر فیض صاحب بھی برابر کے حصے دار ہیں۔
میرا شوروم کسی بازار کی بجائے ایک جدید پلازے میں قائم ہوا تھا جہاں پر لوگوں کی بہت ہی محدود آ مد و رفت تھی وقت گزرتا رہا اور شہر میں آہستہ آہستہ کتاب نگر کی شہرت ہوتی گئی، اور میں نے بھی زمانے کے چلن کے مطابق اپنے شوروم میں کتابیں منگوانا شروع کر دی تھیں ۔
ایک دن میں نے دیکھا ایک کار سے کھدر پوش شخصیت اتری،سردیوں کے موسم کی مناسبت سے انہوں نے گرم شال اوڑھی ہوئی تھی انہوں نے آتے ہی مجھ سے پوچھا انگلش کتابوں کا پورشن کس طرف ہے ؟ میں نے ہاتھ کے اشارے سے بتایا آ پ کے دائیں جانب،لمبا قد چہرے پر عینک، بھاری بھرکم وجود، کے ساتھ وہ شخصیت توجہ سے کتابوں کی دنیا میں گم تھی کچھ دیر بعد وہ اردو کتابوں کی طرف چلےگے تقریبا آدھے گھنٹے بعد وہ بزرگ شخصیت کاؤنٹر پر تشریف لائی،میں نے بل بنا کر ان کے سامنے رکھا تو کہنے لگے میرا نام قسور گردیزی ہے ۔ان کا نام سنتے ہی میں کھڑا ہو گیا اور شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے کتاب نگر کو عزت بخشی۔میں نے اپنا تعارف کروایا اور کہا کہ میں بھی لکھتا ہوں انہوں نے کہا اب مجھے معلوم ہوا کہ آ پ کے ہاں کتابوں کا انتخاب اتنا شاندار کیوں ہے۔یہ وہ زمانہ تھا جب کئی برس کے مجھے معلوم ہو گیا کہ کسٹمرز کی پسندیدہ اور معیاری کتابیں کہاں سے ملتی ہیں۔شاہ صاحب نے مجھے اپنے گھر واقع بہاولپور روڈ پر آ نے کی دعوت دی تو میں نے ان سے وعدہ کر لیا کہ جلد ہی قدم بوسی کے لیے حاضر ہو جاؤں گا۔
اس ملاقات کے کچھ ماہ بعد شاہ صاحب دوبارہ تشریف لائے کہنے لگے کہ آپ نے میری لائبریری کا چکر نہیں لگایا۔میں نے ان سے وقت لیا اور پھر ملاقات کے لیے بہاولپور روڈ پر ان کے گھر پہنچ گیا جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے اس ملاقات میں زاہد حسین گردیزی ،حیدر عباس گردیزی سمیت کچھ اور لوگ بھی موجود تھے جن کو میں نہ جانتا تھا انہوں نے جس جگہ مجھے بٹھایا ،اس کمرے کے چاروں جانب خوبصورت بک شیلف میں نادر و نایاب کتابیں دکھائی دے رہی تھیں ۔کسی شیلف میں انسائیکلوپیڈیا تھے تو کہیں پر تاریخی کتب کا انبار لگا ہوا تھا ایک الماری میں خود نوشتوں کے متعلق پرانی کتابیں نظر آ ئیں تو کہیں تقابل ادیان کے بارے میں کتب دیکھ کر جی بہت خوش ہوا کہ ملتان شہر میں ایک ایسی لائبریری موجود ہے جس میں ادب ،سیاست، ثقافت ،سماجیات، مذہب اور دنیا جہان کے تمام موضوعات پر پر انی اور قیمتی کتابیں اپنے پڑھنے والوں کا انتظار کر رہی ہیں۔شاہ صاحب نے کافی کے ساتھ بسکٹ بھی کھلائے اور یہ بھی بتایا ان کتابوں کو خریدنے کے لیے میں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ کتابیں اتنی مہنگی کیوں ہیں؟
ان کے ہاں نشست تقریباً دو گھنٹے رہی اس نشست میں ہم نے ہر موضوع پر گفتگو کی یہ ایک یادگار اور شاندار ملاقات تھی کہ وہ میرے ملتان کی ایک ایسی شخصیت تھے کہ جس نے اپنی اصول پسندی کی وجہ سے ملکی سیاست میں اتنا احترام پایا جو ہمارے ہاں بہت کم سیاستدانوں کو ملتا ہے۔ انھوں نے اپنی زندگی کو کسانوں، مزدوروں، محنت کشوں اور غریبوں کے لئے وقف کر رکھا تھا۔ ان کا شمار ملک کے ان سیاست دانوں میں ہوتا تھا جنہوں نے ملتان بیٹھ کر ملکی سطح کی سیاست میں اپنا نام بنایا۔ زمانہ طالب علمی میں ایم ایس ایف کے ساتھ وابستہ ہو گئے۔ خاندانی پس منظر یہ تھا کہ ان کا تعلق مذہبی تقدس اور دولت و ثروت کے اعتبار سے بڑا اہم تھا۔ پھر ان کی شادی مخدوم مرید حسین قریشی کی بیٹی ( سابق گورنر پنجاب مخدوم سجاد حسین قریشی کی ہمشیرہ ) سے ہوئی اب قسور گردیزی کے لئے ذہنی لحاظ سے دو راستے تھے پہلا راستہ یہ تھا کہ اپنے خاندان اور سسرالی خاندن کے جاہ و حشمت سے فائدہ اٹھاتے اور خاموشی سے آسائش سے بھرپور زندگی گزارتے۔ دوسرا راستہ یہ تھا کہ وہ اپنے خاندان کا نام نامی اس طرح سے روشن کرتے کہ ان کا نام بھی زندہ رہ جاتا اور خاندانی وقار میں بھی اضافہ ہوتا قسور گردیزی نے اپنے مزاج کے باعث دوسرا راستہ اختیار کیا انہوں نے سیاست کی پُرخار وادی کا راستہ اس لئے چنا کہ تکمیل پاکستان کی تحریک کے دوران ان کی ملاقات قائد اعظم محمد علی جناح ؒ سے ہوگئی تھی۔ اس ملاقات نے ان کو قائد اعظم کا مداح بنا دیا اور وہ مسلم لیگ یوتھ ونگ کے ایک فعال رہنما بن کر سامنے آئے۔
قسور گردیزی نے 1947ء میں ملتان بیٹھ کر بھارت سے آنے والوں کو خوش آمدید کہا اور مہاجرین کے لئے اپنا دن رات ایک کئے رکھا ان کے اس رویئے کی وجہ سے ملتان کے مسلم لیگی رہنماؤں نے محسوس کیا اس طرح ہماری دکان داری ختم ہو سکتی ہے تو انہوں نے قسور گردیزی سے اختلاف برائے اختلاف کی صورت پیدا کر لی۔ جب قسور گردیزی نے دیکھا کہ میری وجہ سے ملتان میں مسلم لیگ کو نقصان پہنچ رہا ہے تو انہوں نے مسلم لیگ کی بقاء کی خاطر مسلم لیگ کو چھوڑ دیا اور آزاد پاکستان پارٹی کو جوائن کر لیا۔ یہ پارٹی سابق مسلم لیگی ترقی پسند رہنماؤں شیخ محمد رشید، میاں محمود علی قصوری، میاں افتخار الدین، سردار شوکت حیات اور دیگر دوسرے سیاستدانوں نے بنائی تھی۔ ذہنی اعتبار سے قسور گردیزی کا شمار ہم ترقی پسند سیاست دانوں میں کر سکتے ہیں ان کی ترقی پسندی کی سوچ کہیں پر جا کر نہیں رکتی تھی بلکہ وہ زندگی کے ہر مرحلے پر اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہے۔
ملتان میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لئے انہوں نے ایوان صنعت و تجارت ملتان کو منظم کیا۔ 1952ء میں اس ایوان کے پہلے صدر منتخب ہوئے حالانکہ ان کا تعلق ایک زمیندار گھرانے سے تھا لیکن انہوں نے ملتان میں تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر پہلا قدم اٹھایا آج ایوان صنعت و تجارت ملتان جنوبی پنجاب کا سب سے فعال ادارہ بن چکا ہے۔ کیونکہ اس کی بنیادوں میں قسور گردیزی مرحوم کی محنت اور محبت شامل ہے۔
قسور گردیزی نے اپنی سیاسی زندگی میں بہت سی سیاسی جماعتوں میں کام کیا لیکن اگر ہم ان کی سیاسی جماعتوں کے نظرئیے کو دیکھیں تو جہاں یہ سمجھتے کہ ان کی جماعت ان کے نظریئے کے خلاف کام کر رہی ہے وہ فوراً وہاں سے الگ ہو جاتے تھے۔ پاکستان نیشنل پارٹی ہو یا نیشنل عوامی پارٹی، قسور گردیزی کے سیاسی سفر پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا وہ سیاست کا ایک باوقار اور قابل صد احترام نام ہیں۔ انہوں نے سیاست میں احترام کو بیٹھے بٹھائے نہیں بلکہ عملی طور پر جدوجہد کرنے کے بعد حاصل کیا ایوبی مارشل لاء ہو یا گورنر کالا باغ کا رعب دبدبہ وہ کسی سے ڈرنے والے نہیں تھے۔ جیل کو دوسرا گھر جانتے تھے۔ پھر مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کو کہنا پڑا کہ پورے ملک میں سب سے منظم اور بڑا جلسہ ملتان میں ہوا جس کا سہرا قسور گردیزی کے سر ہے۔ مرحوم قسور گردیزی کو محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت کی قیمت ادا کرنی پڑی لیکن اس کے ماتھے پر کبھی شکن نہ آئی انہوں نے پاکستان کے ہر آمر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی۔ وہ نڈر اور جرات ِ اظہار رکھنے والے انسان تھے۔ ان کی اس عادت کی وجہ سے ملک کے تمام بڑے سیاست دان ان کا احترام کرتے تھے۔ ان کی رائے کو اہمیت دیتے تھے۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ قسور گردیزی ایک سچے اور کھرے انسان ہیں۔
سی او جی کا پلیٹ فارم ہو یا یحییٰ خان کی آمریت بھٹو کا دور یا جنرل ضیاء کا مارشل لاء وہ اپنا مثبت کردار ادا کرتے تھے۔ 1973ء، 1974ء اور 1975ء کے دوران ان کے دو گھر ہوتے تھے وہ جیل اور اپنے گھر کے درمیان شٹل بنے ہوئے تھے۔ جیلوں میں ان کو اذیت بھی دی گئی اور انہوں نے کبھی بھی اپنے اصولوں اور نظریات پر سودا نہیں کیا اسی کشمکش میں وہ دل کے جان لیوا مرض میں مبتلا ہو گئے ڈاکٹر کہتے رہے کہ شاہ جی بس کریں سیاست بہت ہو گئی اب آرام کریں لیکن انہوں نے اپنی صحت کے بجائے عوام کے ساتھ محبت کو ترجیح دی یوں مرض بڑھتا گیا اس دوران انہوں نے اپنے دل کا آپریشن بھی کرایا۔ عزیزوں اور دوستوں کا خیال تھا کہ اس آپریشن کے بعد ان کے معمولات میں فرق آ جائے گا لیکن یوں محسوس ہوا جیسے دل کے آپریشن کے بعد ان کے دل کو مزید طاقت مل گئی ہے وہ ایک بار پھر ملکی سیاست میں سرگرم ہو گئے اور وطن عزیز کے وقار کے لئے آخر دم تک کوشاں رہے۔
قسور گردیزی کی زندگی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے سیاست کے ساتھ ساتھ کتابوں میں جی لگایا ان کی ذاتی لائبریری میں ہزاروں نادر و نایاب کتابیں تھیں۔ شاعری بھی کرتے رہے اور مختلف موضوعات پر لکھتے رہے۔ ان کا گھر ملک کے تمام نامور سیاست دانوں، ادیبوں اور صحافیوں کے لئے ہر وقت کھلا رہتا تھا۔ ملک کا ہر سیاست دان ان کے دستر حوان پر موجود ہوتا تھا ان کی شخصیت میں جو کشش تھی ان کو ہر وقت دوستوں اور پیاروں میں مصروف رکھتی تھی وہ ملتان کا وقار تھے کیونکہ وہ جب تک زندہ رہے انہوں نے ملتان کو بھرپور سیاسی سرگرمیوں کا حصہ بنائے رکھا۔ ان کے انتقال کے بعد اہل ملتان کو محسوس ہوا تھا کہ وہ ایسے رہنما سے محروم ہوئے جو عزم و ہمت کے ساتھ ایثار و محبت کا پیکر تھا۔ ملتان کی سیاست کے جتنے نامور نام تھے یا ہیں ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کو اعزاز سمجھتے تھے۔ ان کے سیاسی سفر میں ملتان کے جتنے نام ہیں وہ بھی قابل صد احترام ہیں ۔ ان کے احباب میں جتنے دوست ہیں وہ آج بھی ان کا حوالہ اور ان کا ذکر بڑے فخر سے کرتے ہیں۔ گیارہ ستمبر 1993ء کو جب ان کا انتقال پر ملال ہوا تو ان کے انتقال کی خبر کو پورے دکھ کے ساتھ سنا گیا۔ ملکی سیاست کا ایک روشن ستارہ جس کے دامن پر کوئی کرپشن اور پرمٹ سیاست کا داغ نہیں تھا۔ وہ تمام زندگی غریبوں کے حقوق کی بالا دستی کے لئے کوشاں رہے انہوں نے سیاست کے راستے میں جو عزت و احترام پایا وہ پاکستانی سیات میں ایک روشن استعارہ ہیں ان کا میٹھا لہجہ اور دھیما اندازآج بھی جب یاد آتا ہے تو آنکھوں میں ستارے جھلمل کرتے ہیں میری دعا ہے کہ ان کی یادوں کے چراغ ہمیشہ دلوں میں جلتے رہیں اور وہ ملتان کی سیاست میں تابندہ ستارہ بن کر چمکتے رہیں اس موقع پر مجھے ملتان کے معروف شاعر اور دانشور منیر فاطمی مرحوم کی نظم یاد آ رہی ہے جو انہوں نے قسور گردیزی کی وفات پر کہی تھی افسوس آج یہ دونوں شخصیات ملتان کے منظر عام پر نہیں ہیں لیکن ان کے نظریات ان کی تخلیقات اور ان کی یادیں ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گی۔ اس نظم کا عنوان ’’قسور گردیزی‘‘ ہے۔
جنگ کچھ لڑتے ہیں اپنی زندگی کے واسطے
جنگ کچھ لڑتے ہیں اپنے آپ سے سب کے لئے
جنگ سب لڑتے ہیں لیکن مختلف حالات میں اپنی اپنی ذات میں
اور پھر ایسے بھی ہیں کچھ صاحب علم و عمل
ذات سے اپنی نکل کر دوسروں کے ہم رکاب
خار چن کر جو اگاتے ہیں زمیں سے پھر گلاب
ساری دنیا کے لئے اور اپنی دھرتی کے لئے
کھینچتے ہیں وہ زمیں پر اپنی قدرت سے سحاب
جنگ لڑتے ہیں وہ ان سے بھیجتے ہیں عذاب
یہ ازل سے سلسلہ ہے وقت کا حالات سے
مصلحت سے وہ مبرا لوگ بھی آئے یہاں
جو سدا زندہ رہیں گے ہر صدی کے واسطے
ایک تیغ بے اماں ہیں ہر بدی کے واسطے
لکھ دیا ہے نام قسور اس صدی کے واسطے
فیس بک کمینٹ

