ملتان اور گردونواح میں حالیہ سیلابی صورتحال انسانیت کے لیے ایک سنگین کربناک منظر پیش کر رہی ہے، جہاں دریاؤں کا بہاؤ صدیوں پرانا لگتا ہے، اور لوگ، خصوصاً خواتین اور بچے، شوریدہ حالت میں دریا کے کناروں پر پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ روتی ہوئی مائیں، بھوک و پیاس سے بلکتے بچے، مقدر کی بے رحم آزمایش میں ایک دوسرے کا سہارا ہیں۔ ایسے حالات میں امداد کے منتظر وہ لوگ جو کبھی دوسروں کی مدد کے لیے تیار رہتے تھے، اب خود روایتی سہاروں سے محروم ہو چکے ہیں۔ ہر طبقہ، چاہے صاحب استطاعت ہو یا مفلس، ایک جیسے بے گھر ہیں—یہ کتنا دردناک لمحہ ہے۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، وسطی پاکستان خصوصاً پنجاب اور ملحقہ علاقوں میں، جون سے جاری مون سون بارشوں، سیلابی ریلوں اور بھارت کی بندوں سے پانی کے اخراج نے تباہی کا طوفان برپا کیا ہے۔ پنجاب میں اس سیلاب سے تقریباً 4.1 ملین یعنی 41 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں، جبکہ تقریباً 2.147 ملین یعنی قریب 21 لاکھ لوگوں کو محفوظ ٹھکانوں پر منتقل کیا گیا ہے—جس میں ملتان بھی شامل ہے۔ ملتان ضلع میں اب تک 10,800 سے زائد افراد کو ریسکیو کیا جا چکا ہے، جن میں سے 2,343 افراد صرف گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملتان سے محفوظ علاقے منتقل ہوئے ہیں۔ انتظامیہ نے تقریباً 350,000 افراد اور 300,000 جانوروں کو ایواکیویٹ کیا ہے تاکہ دریا کے قریب لوگوں کی جان و مال کو بچایا جا سکے۔
سیلاب سے زرعی نقصان بھی تباہ کن ہے۔ پنجاب میں تقریباً 1.84 ملین ایکڑ یعنی لاکھوں ایکڑ زمین پر اگنے والی فصلیں تباہ ہو چکی ہیں، جن میں چاول، گنا، کپاس اور سبزیاں شامل ہیں۔ زرعی ماہرین کے مطابق صرف جنوبی پنجاب میں تقریباً 400,000 ایکڑ زمین متاثر ہوئی ہے، جس میں ملتان، شجاع آباد اور جلال ہوڑ کے علاقے سرِفہرست ہیں۔ اس نقصان کا تخمینہ کم از کم 250 ارب روپے لگایا جا رہا ہے۔ صرف کپاس اور گنے کی فصلوں کو 35 سے 40 فیصد نقصان پہنچا ہے، جبکہ سبزیوں اور چارہ جات کی پیداوار تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے۔ یہ صورتحال کسانوں کے لیے شدید تشویشناک ہے، کیونکہ دوبارہ آباد کاری مشکل ہوگی—زمین کی مرمت، زرعی بیج، کیڑوں کا علاج، پانی کی نکاسی، اور مناسب چارہ نہ ملنے کے باعث مویشیوں کے بیمار ہونے کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔
انسانی صحت پر منفی اثرات واضح ہیں: سیلاب کے پانی میں جراثیم کی بہتات، گندی صورتحال اور ناقص صفائی کی حالت میں وبائی امراض مثلاً ملیریا، بخار، جلدی بیماریاں اور دیگر انفیکشنز پھیلنے کے شدید امکانات ہوتے ہیں۔۔ حاملہ خواتین ایسی نازک صورتحال میں خوراک، صاف پانی یا طبی سہولت نہ ملنے کی صورت میں نامساعد حالات کا شکار ہوسکتی ہیں۔ رکنے کے قابل چھت نہ ہونا، صرف بانجھ زمینوں پر خیموں میں پناہ، بارش اور موسم کی شدت—سب مل کر خطرہ بڑھاتے ہیں۔
طاقت ور افراد کے لیے بھی کربناک وقت وہ ہوگا جب نہ گھروں کا سہارا رہے گا، نہ چارہ کے لیے خوراک کا بندوبست ہوگا، نہ اپنے جانوروں کو محفوظ رکھ سکیں گے۔ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ صرف ملتان اور اس کے نواحی علاقوں میں 70 ہزار سے زائد مکانات یا تو مکمل تباہ ہو گئے ہیں یا جزوی طور پر ناقابلِ رہائش ہو چکے ہیں۔ اس سے تقریباً ساڑھے تین لاکھ لوگ براہِ راست متاثر ہوئے ہیں۔
ملتان اور اسی مضافاتی علاقے جیسے شجاع آباد یا جلال ہوڑ کے مقامات میں، جہاں سے فصلیں، مویشی، گھریلو سامان پانی میں بہہ گیا یا گھس کر تباہ ہوا، وہاں صبح شام کی زندگی اجڑی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ لوگ اپنی بچی خوراک، پانی اور چھپنے کی جگہ کی تلاش میں ہیں۔ یہ صرف کچھ دنوں کا المیہ نہیں، بلکہ برسوں تک اثرات باقی رہیں گے۔ زراعت کی دوبارہ سرگرمی، بچوں کی تعلیم، نفسیاتی سکون، سماجی ڈھانچہ—سب کو ایک بار پھر ویسی حالت میں لانا آسان نہیں ہوگا۔
اس تناظر میں کچھ عملی تجاویز سامنے آتی ہیں۔
سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ سیلاب زدگان کو صرف خیموں میں محدود نہ رکھا جائے، کیونکہ یہ ستمبر کا مہینہ ہے اور چند ہفتوں بعد نومبر اور دسمبر میں سردیوں کا آغاز ہو جائے گا، جو ان متاثرین کے مسائل کو کئی گنا بڑھا دے گا۔ حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر سیلاب متاثرین کو سرکاری عمارتوں جیسے ملتان نیو کچہری، یونیورسٹیوں اور کالجوں کے ہوسٹل، بڑی مساجد اور شادی ہالوں میں رہنے کا بندوبست کرے تاکہ وہ سخت موسمی حالات سے محفوظ رہ سکیں۔ اس طرح نہ صرف ان کی زندگیوں کو خطرے سے بچایا جا سکتا ہے بلکہ انہیں وقتی سکون اور تحفظ بھی فراہم کیا جا سکتا ہے۔
یقیناً یہ المیہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ بروقت حفاظتی اقدامات نہ کیے جائیں تو قدرتی آفات انسانوں کے لیے کتنی خطرناک صورت اختیار کر سکتی ہیں۔ آج یہ وقت ہے کہ حکومت اور عوام مل کر ایک ایسی حکمت عملی تیار کریں جو متاثرین کو فوری سہارا بھی دے اور مستقبل میں ایسے سانحات سے بچنے کے لیے مستقل حل بھی فراہم کرے۔
فیس بک کمینٹ

