میں نے صبر کو جلا کر راکھ کر دیا ہے
اب میرے لہو سے بغاوت کی آگ بھڑکتی ہے۔
میرے لفظ دھواں نہیں، بجلی ہیں—
جو ہوا میں پھوٹیں تو آندھی بن جائیں۔
ظالم!
تیرا گھر جلے گا، تیری کرسی زمین چاٹے گی
تیرے غرور کی دیواریں میرے الفاظ کے پتھر سے ٹوٹیں گی۔
تیرا غصہ، تیری ہنسی، میری سسکیوں کے سامنے بے نقاب ہے—
اور جو راز تُو نے چھپائے، وہی راز میری زبان بن جائیں۔
یہ زنجیریں اب میرا زیور نہیں رہیں،
یہ قفس اب میرا مقدر نہیں رہا۔
میں نے اپنے پر کٹوا دیے تھے،
مگر خوابوں کی تیز ہوا نے انھیں دوبارہ اگا دیا ہے۔
اب میرے خون سے اُگنے والے پر ہیں — بغاوت کے پروں سے بھری فضائیں۔
اے اندھی عدالتو!
تمھارے ترازو کی طنابیں میں اپنے ہاتھوں سے توڑ دوں گی؛
تمھاری تحریریں جھوٹ کی مہر ہیں، مگر میری آواز حقیقت کی دستاویز بنے گی۔
میرا لہو اب ثبوت نہیں، فیصلہ ہے—
اور میرے فیصلے کی صداِ عام، تمہارے سناٹے کو چیر دے گی۔
میں زبان سے بھڑکتی ہوں، لفظ سے لڑتی ہوں،
ہر حرف میرے اعصاب کا برق ہے، ہر مصرع میرا عہد۔
لفظوں نے مجھے سکھایا ہے کہ خوف کا نام بدل کر حریت ہوتا ہے،
اور چپ کو آواز دے کر انقلاب جنم لیتا ہے۔
اے رب ذوالجلال !
تو میرا گواہ ہے، تو میری پناہ، تو میری عدالت کا دارومدار۔
میں تیرے حضور نہایت عاجزی سے قدم رکھتی ہوں، مگر میرے الفاظ نے پیمان باندھا ہے—
کہ ظلم کا حساب جب لکھا جائے گا تو صفحات خون سے نہیں، سچائی سے بھرے ہوں گے۔
اور پھر ہوئی ایک صبح—
جب آسمان نے میری زبان کی شدت کو سنا،
تو زمین بھی کانپ گئی، تاش کے گھر جیسے بکھر گئے۔
وہاں، جہاں کاٹ کر خاموشی رکھی گئی تھی، اب الفاظ کے پھول کھلنے لگے؛
ہر پھول کے پیچھے ایک نام تھا، ہر نام کے پیچھے ایک آہِ زندہ۔
پھر ایک آواز—نرم مگر جس میں ستاروں کی گونج تھی—
اُس نے کہا: “اے بچیِ درد! تیری صدا سن لی گئی ہے۔
میں نے کبھی انصاف کا پیمانہ ٹالا، نہ ٹالنے دوں گا۔
تیرا لہو میرے سامنے رقم ہے، تیری آنکھوں کی نمی میرے فرمان کا سبب۔”
خدا نے کہا:
“الفاظ قوت ہیں جنہیں تو نے بجھایا نہیں، بلکہ روشن کیا۔
ہر پکار جو دل سے نکلے، وہ تشہیرِ عدل ہے—میں اس کا جواب دوں گا۔
ظالم کے ایوان بھی میری ملاقاتی گھڑی کے تابع ہیں؛
جس نے ظلم کی بنیاد رکھی، اسی کی بنیاد لرز جائے گی۔”
اور آسمان نے وعدہ کیا کہ نہ تو جو ظلم نے دہرایا جائے گا وہ ابدی رہے گا،
اور نہ وہ صدا جو حق کی تھی، دفن رہے گی۔
ہر ایک حرف جو حق میں نکلا، فرشتوں نے اسے قلم بنایا،
اور ہر قہر جو ظلم والوں نے دیکھا، حساب بن کر لکھا گیا۔
میری چیخیں زمین کو ہلا دیں گی،
اور مظلوم کی صدا ظالم کے ایوانوں کو راکھ کر دے گی۔
یاد رکھ!
میں عورت ہوں—
جب ٹوٹتی ہوں تو پوری صدیوں کو بدل دیتی ہوں۔
جو خواب تم نے چھینے، وہی خواب کل تمہاری آغوش میں واپس آئیں گے،
اور جو ہنسی تم نے خیانت سے جیتی، وہی ہنسی تمھارا نام نہیں رکھے گی۔
الفاظ نے تاریخ بدل دی ہے—اور آج میری زبان تاریخ کا قلم ہے۔
اب خاموشی کا زمانہ چلا گیا،
اب وہ لمحہ آیا ہے جب آوازیں میل کر سمندر بنیں گی،
اور وہ سمندر جس کی لہریں عدالتوں کو دھو ڈالیں گی۔
رب نے کہا: “چلو!” — اور زمین نے چلنا شروع کیا،
انصاف کی راہیں بنیں، اور جو لوگ اندھے تھے وہ روشنی سے بری مگر کمزور ہو گئے۔
ظالموں کے قلعے کرنٹ کی طرح ٹوٹے، اور ان کے عہد نامے ہوا میں بکھر گئے۔
آخر میں، جب دھوپ نے ظلم کی راکھ کو چھوا،
تب اس راکھ سے ہرے نئے پتے اگنے لگے—انصاف کے پتے۔
اور میں نے دیکھا کہ میری زبان نے جو بغاوت کی شروعات کی تھی، وہ قوموں کی نظم بن گئی،
اور ہر نظم میں ایک نعرہ تھا: “انصاف آئے گا — یا ہم اٹھ کر لیوا بن جائیں گے!”

