علی نقویکالملکھاری

ایک روتا پیٹتا خوش معاشرہ ۔۔ علی نقوی

دو انسانوں کے درمیان بہترین تعلقات یہی ہو سکتے ہیں کہ جب وہ ساتھ ہوں تو لڑائی جھگڑے سے پرہیز کریں اور اگر الگ ہوجائیں تو ایک دوسرے کی اچھی باتوں کو یاد رکھیں اور تلخ لمحات بھول جائیں۔ جس طرح ہر انسان کی ایک یادداشت ہوتی ہے بالکل اسی طرح معاشرہ بھی یادداشت رکھتا ہے جو اس میں رہنے والوں کی اجتماعی یادداشتوں کا مجموعہ ہوتی ہے ۔ مثال کے طور پر جن لوگوں نے تقسیم کے وقت ہجرت کی تھی ان سب کی جہاں بہت ساری انفرادی یادیں ہوں گی وہیں کچھ یادیں ایسی بھی ہوں گی کہ جن کو اجتماعی کہا جا سکتا ہے۔ یاد کا تعلق رجحان سے ہے آپ کو وہ بات زیادہ دیر تک یاد رہتی ہے جس میں آپکی دلچسپی زیادہ ہو اور وہ بات ہم جلدی بھول جاتے ہیں جو ہمارے رجحانات سے میل نہ کھاتی ہو…ہم میں سے کتنے ہیں کہ جنہوں نے اپنے معاشرے کے رجحانات پر غور کیا ہے میں جب بھی اس معاشرے کے بارے میں سوچتا ہوں ایک بات واضح طور پر نظر آتی ہے کہ یہ ایک غم کا معاشرہ ہے یا یوں کہیے کہ کم از کم خوشی کا معاشرہ نہیں ہے۔ یہ معاملہ جو میں آپ کے سامنے رکھنے لگا ہوں ذرا تفصیل اور حوصلے کا متقاضی ہےہم نے اپنے بچپنے میں یہ عام طور پر دیکھا کہ ہمارے بڑوں کو کھیلتے ہوئے بچے اچھے نہیں لگتے تھے میری بچپن کی یادوں میں کوئی ایک بھی بزرگ ایسا نہیں آتا کہ جو کھیل کی حوصلہ افزائی کرتا ہو ، ہم گلی میں بھی کھیلے، سکول میں بھی اور گراونڈ میں بھی لیکن کسی کو ایسا شفیق نہیں پایا کہ جو ہمیں کھیلتا دیکھ کر خوش ہوتا ہو ۔ گلی میں کرکٹ کھیلتے ہوئے بال اگر کسی گھر میں چلی جاتی تھی تو اندر سے نکلنے والا بزرگ بال کے علاوہ سب دیتا تھا، آہستہ آہستہ ہم نے یہ سمجھ لیا کہ اگر بال کسی گھر میں جائے تو اسکا مطلب کھیل کا اختتام ہے یا جس نے بال ادھر اُدھر پھینکا وہ نئی بال کے پیسے بھرے گا یعنی ہر صورت نقصان چھوٹے چھوٹے بچوں کا۔ ہمارے بچپن میں گھر کے عقب میں وسیع و عریض کھیت ہوا کرتے تھے ہمارے بڑے ہوتے تک وہاں سے فصلیں غائب ہوگئیں اور خالی پلاٹ رہ گئے ہم بڑے ہوئے تو ان پلاٹوں کو آباد کرنے کا سوچا کیونکہ گلی محلوں میں کھیلنا بزرگانِ محلہ کی وجہ سے مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا تھا خالی میدانوں کو پلے لینڈ بنایا باؤنڈریز بنائیں، پچ بنائی، چاک مٹی سے وائیڈ اور نو کے نشانات لگائے جب ہم بچے یہ محنت کر رہے تھے تو ایک انکل ساتھ بنی ایک منڈیر پہ اکڑوں بیٹھ کر سگریٹ پیتے پیتے یہ سب دیکھا کرتے تھے جب ہم سب کچھ بنا چکے تو پچھلے محلے کے لڑکوں سے ایک میچ طے کیا اگلے دن وہ میچ ہونا تھا لیکن جب ہم گراونڈ پہنچے تو دیکھا کہ ہماری بنائی ہوئی پچ توڑی جارہی تھی انہی انکل کے ہاتھ میں ایک کدال تھی جس سے وہ اس کو کھود رہے تھے جب ہم نے احتجاج کی کوشش کی تو وہ بولے کہ یہ میرا پلاٹ ہے اگر کوئی یہاں کھیلنے کی کوشش کرے گا تو میں اسی کدال سے اسکی ٹانگیں بھی توڑ ڈالوں گا… ہم دو محلوں کے بیس پچیس بچے دیکھتے رہے اور ان انکل نے اپنا کام جاری رکھا ہم سارے بہت دنوں تک یہی سوچتے رہے کہ جب ہم وہ پچ بنا رہے تھے تب ہی انہوں نے ہمیں کیوں نہ روک دیا لیکن آج تک اس سوال کا جواب نہ مل سکا وہ انکل مجھے اس دن سے آج تک اس دیو کی مانند لگے جس نے اپنے باغ میں پرندوں کا داخلہ اس لیے بند کر دیا تھا کہ اس کی نیند ان کے شور سے خراب ہوتی تھی بڑے ہونے پر پتہ چلا کہ وہ انکل ہیروئین پیتے اور بیچتے تھے اور انہوں نے محلے کے کچھ نوجوان بھی اس کام پر لگائے تھے….سکول میں بہت بار ایکسٹرا کلاس کے نام پر ہمارے کھیل اور تفریح کا وقت غصب کیا گیا۔آہستہ آہستہ جب بڑے ہوئے تو یہ احساس بھی بڑھتا رہا کہ ہم خوشی نہیں منا سکتے ہمارے ہی معاشرے کا محاورہ ہے کہ

“پڑھو گے لکھو بنو گے نواب
کھیلو گے کودو گے ہو گے خراب”
ہمارے بچپن میں جس کام سے بچوں کو گلی محلوں کے بزرگ روکا کرتے تھے آج کے بچوں کو ان کاموں سے گورنمنٹ روکتی ہے مثال کے طور پر “شب برات کے پٹاخے” اور “بسنت”…
کسی بھی معاشرے کے بیمار ہونے کی ایک یہ علامت کافی ہے کہ اس میں تفریح کے مواقع نہ ہونے کر برابر ہوں آپ ذرا سا غور کریں تو آپ کو یہ معلوم ہوجائے گا کہ ہمارے ملک میں تفریح کے کتنے مواقع ہیں؟ ہماری تفریح کل ملا کر یہ رہ گئی ہے کہ کسی فاسٹ فوڈ کے ریسٹورنٹ میں جاکر ہم بچوں کو پلے ایریا میں گھسا دیں، خود بھی کچھ کھا لیں اور انکو بھی کھلا دیں یا بڑے بڑے اکٹھے ہوکر سنیما جاکر فلم دیکھ لیں اس طرح کی جتنی بھی تفریحات ہیں ان کے لیے آپکی جیب میں معقول سے زیادہ پیسے ہونے ضروری ہیں لاہور، کراچی اور اسلام آباد کو چھوڑ کر پورے ملک میں کہیں اچھے پارکس کا کوئی تصور نہیں ہے، ہاں لڑنے بھڑنے کا وافر انتظام ہر قریے ہر گاؤں میں میسر ہے…ذرا تہواروں کی بات کرتے ہیں آج ہم رمضان اور عید کیسے مناتے ہیں ابھی رمضان شروع بھی نہیں ہوتا کہ بازار بھرنا شروع ہو جاتے ہیں اور رمضان کے شروع ہوتے ہی قیمتیں اور رش دونوں دس گنا ہو جاتے ہیں سمجھ سے باہر ہے کہ وہ کیا شاپنگ ہے جو عید کی صبح تک ختم نہیں ہوتی پندرہویں روزے سے ایک اور روٹین یہ ہوجاتی ہے کہ ساری رات بازار کھلے رہتے ہیں اور لوگ ان میں گھومتے پھرتے رہتے ہیں کسی بھی ریسٹورنٹ میں نہ تو سحری کے لیے ٹیبل ملتی ہے نہ افطاری کے لیے ٹی وی دیکھو تو ایک وحشت کا سماں ہے ہر چینل کروڑوں کا سیٹ لگا کر لوگوں کو پاگل بنانے پر تلاُ ہوتا ہے دکانداروں کا عالم یہ ہوتا ہے کہ وہ چاند رات دکان پر گزارتے ہیں اور صبح عید کی نماز پڑھ کر گھر جاتے ہیں عید کیسے ہوتی ہے عید ایسے ہوتی ہے کہ صبح آپ عید کی نماز پڑھیں مسجد کو چندہ دیں اور گھر آکر سو جائیں سہہ پہر کو یا شام کو اٹھیں اور جس بھی ریسٹورنٹ میں جگہ مل جائے بچوں کو کھانا کھلا دیں اور اگر بہت ہی اچھا اور نفیس خاندان ہو تو کسی کے گھر اکھٹا ہوکر تکے اور کباب اڑائیں غریبوں کی عید کیسے گزرتی ہے مجھے کوئی اندازہ نہیں ہے …بڑی عید ذرا سی مختلف رہتی ہے لیکن کوفت کا سامان اس میں بھی ہم پورا رکھتے ہیں عید نماز پڑھتے ہی قربانی کا جانور لٹا دو اور اسکے بعد اسکے گوشت سےفرج بھر لو، کھال شوکت خانم کو دے کر جنت میں گھر خریدو اور انتڑیوں کو محلے میں جہاں داؤ لگے وہیں پھینک دو یہ ہوتی ہے بڑی عید اس سب میں فیسٹیویٹی کہاں ہے میں آج تک نہیں سمجھ سکا؟ ہاں اب ایک اور کام شروع ہوا ہے وہ ہے سیلفیاں کہ نماز پڑھنے سے لے کر رات کو ریسٹورنٹ میں کھانا کھاتے تک بے پناہ سیلفیاں کھینچی جائیں اور “عید مبارک” اور “مائی عید ڈریس” کے ہیش ٹیگ کے ساتھ سوشل میڈیا پر لگائی جائیں کیا یہ ہے ان دو بڑے مذہبی تہواروں کی اصل روح شاید ہو….
اب آئیے ذرا محرم کی طرف یہ ایک غم کا تہوار ہے اور ایک خاص مکتبہ فکر کے لوگ ہی اس میں متحرک ہوتے ہیں لیکن جو ہوتے ہیں وہ اس کی خوب تیاری اور خرچہ کرتے ہیں ایک اندازے کے مطابق صرف دس محرم کے دن کا بجٹ ہمارے ملک کے کئی مہینوں کے بجٹ جتنا ہے جہاں شیعہ کمیونٹی مجلسوں، جلوسوں، تعزیوں، علم اور ذوالجناح سجانے میں مصروف ہوتی ہے وہیں دوسری طرف اہل سنت برادری اپنے بزرگوں کی قبروں کی فکر کرتی نظر آتی ہے جبکہ لنگر نذر و نیاز دونوں اطراف سے جاری رہتے ہیں لیکن جو متحرک شرکت ہمیں لوگوں کی محرم میں نظر آتی ہے وہ اس سے کم از کم دس گنا زیادہ ہے جو ہم عیدوں پر دیکھتے ہیں اسکی ایک وجہ شاید ہمارا غم و اندوہ سے والہانہ لگاؤ ہے…
یہ تو ہو گئی مذہبی تہواروں کی بات ذرا ثقافتی تہواروں پر نظر ڈالیں کتنے آرام سے حکومت نے میری آنکھوں کے سامنے دیکھتے ہی دیکھتے بسنت بند کردی جو لاہور کا ثقافت کا سب سے بڑا حوالہ بن چکی تھی اور ہم اس پر خاموش رہے اور جواز یہ کہ دھاتی ڈور سے لوگوں کے گلے کٹ رہے تھے بجائے آپ اس پر قانون سازی کرتے آپ نے بسنت ہی بند کر دی لاہور ہی میں ہمارے بچپن میں میلہ مویشیاں ہوتا تھا نہ جانے اس سے کس کا گلا گھٹ رہا تھا کہ وہ بھی بند کر دیا گیا
ہمارے ملک میں پی ٹی وی کے ڈرامے نے ایک مدت لوگوں کو معیاری تفریح فراہم کی لیکن آج جب کہ دس دس چینل چوبیس چوبیس گھنٹے ڈرامہ دکھا رہے ہیں عالم یہ ہے کہ ایک اچھا مزاحیہ ڈرامہ سٹکام کسی چینل پر نہیں ہے مزاح کے نام پر خبرناک، مزاق رات اور حسبِ حال جیسا پھکڑ پن خوب بک رہا ہے اور آہستہ آہستہ ہوگا یہ کہ لوگ اسی کو کامیڈی سمجھنا شروع کر دیں گے جیسے لوگوں نے حسن نثار، سمیع ابراہیم، عامر لیاقت، کاشف عباسی، روف کلاسرا، شاہد مسعود، مبشر لقمان اور ارشد شریف جیسوں کو دانشور سمجھنا شروع کر دیا ہے..
ہم بحیثیت قوم اچھی سے زیادہ بری خبر کے لیے تیار رہتے ہیں اور اگر اشخاص کا ایک گروہ مسلسل اس کیفیت میں رہے تو وہ اسی میں سکون محسوس کرنا شروع کر دیتا ہے مثال کے طور پر یہاں ایک بات عام طور پر کی جاتی ہے کہ اپنے اچھے حالات کا تذکرہ کسی سے نہ کرو بلکہ اپنے رونے روتے رہو کیونکہ جب ہم کسی کو یہ بتاتے ہیں کہ حالات اچھے ہیں تو نظر لگ جاتی ہے ہر دوسرے شخص کے گلے میں آپکو اسی لیے تعویذ نظر آتے ہیں کیونکہ ہر کوئی خدشات کا شکار ہے ہر کسی کو ہر کسی سے خطرہ ہے، ترقی یافتہ معاشروں میں اگر آپکی کسی سے نظریں مل جائیں تو سامنے والا ایک شاندار مسکراہٹ چہرے پر سجا کر آپکو دیکھتا ہے اور گزر جاتا ہے، جبکہ یہاں آپ کسی سے بھی نظریں ملا کر دیکھ لیجیے مجال ہے کہ کوئی پھیکی سی مسکراہٹ بھی آپکو دکھ جائے اور اگر آپ نے سڑک پر جاتے ہوئے کسی بڑی کار والے کو ہارن دے کر راستہ مانگ لیا ہے تو ایک قہر آلود نگاہ آپ پر ڈالی جاتی ہے جس سے لگتا یہ ہے کہ اگر اس کا بس چلے تو یہ مجھے یہیں کچا چبا جائے اس معاشرے کے ہر آدمی کے اندر ایک خدا موجود ہے اور ہر کوئی اپنے اندر پلنے والے خدا کی پرستش میں مصروف ہے یعنی وہ خود ہی ایک خدا ہے…
میری رائے میں اگر ہم اس معاشرے کو ایک بہتر معاشرہ بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں خوشیوں کی طرف لوٹنا ہوگا اور جو خوشیاں ہم سے گم ہوگئیں ہیں انہیں کھوجنا ہوگا، اور اسکے ساتھ ساتھ نئی خوشیاں تراشنی ہونگی، جہاں تک میں اس معاشرے کو سمجھا ہوں تو اس میں آپ بہت بڑے گروہ کو اس بات پر قائل نہیں کر سکتے لہذا اپنے ہم خیال لوگوں کو اکھٹا کیجیے اور خوشی کے چھوٹے چھوٹے جزیرے آباد کیجئے چاہے یہ جزیرے آپکو اپنے ڈرائنگ روم میں بنانے پڑیں، آفس میں یا فٹ پاتھ پر خوشیوں کو محسوس کرنا شروع کیجیے اس سے پہلے کہ ہم خوشی کی خوشبو اور ذائقہ بھول کر ایک دوسرے کو کھا جائیں…

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker