Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
بدھ, جون 24, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • سید مجاہد علی کا تجزیہ : ایرانی صدر کا دورہ پاکستان کو کیا ملے گا ؟
  • محرم، کربلا اور ایران میں مزاحمت کی سزا : ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
  • بابا فرید کا عرس : بہشتی دروازے پر بھگدڑ میں 89 افراد زخمی ، 25 کی حالت تشویش ناک
  • ماہ رنگ بلوچ کو سزا : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • گوادر میں سکیورٹی اہلکار کی ہلاکت کے مقدمے میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو عمر قید کی سزا
  • کراچی : تیز رفتار گاڑی مجلس عزا کے دوران امام بارگاہ کے احاطے میں جا گھسی 20 افراد زخمی
  • کُکّڑ دی لَت اور پپو دا چُوچا : سہیل وڑائچ کا کالم
  • 9 مئی کے بھوت سے کب نجات ملے گی؟ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • بنوں بم دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد سات ہو گئی
  • روسی ناول:ایک فکری اور ادبی سفر : ڈاکٹر صلاح الدین حیدر کی نئی کتاب شہزاد عمران خان کا اختصاریہ
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»علاقائی رنگ»بلوچستان»کیا سیاحت صرف پہاڑوں سے مخصوص ہے؟؟ ۔۔ علی نقوی
بلوچستان

کیا سیاحت صرف پہاڑوں سے مخصوص ہے؟؟ ۔۔ علی نقوی

ایڈیٹرستمبر 11, 202011 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
Hunza is probably Pakistan's most visited valley, by the tourists. It is a fairy tale land surrounded by beautiful rugged & snow capped mountains. Only at a distance of 100 km from Gilgit Hunza is a small town on Karakorum Highway. At the altitude of 7000-800 feet it is the first main town or stop if you are entering Pakistan from China.
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

جب بھی کوئی سیاحت کا تذکرہ کرتا ہے تو پاکستانیوں کے دماغ میں عموماً شمالی علاقوں کا خیال آتا ہے، اس کی ایک سب سے بڑی وجہ شاید اس خطے کا گرم موسم ہے کہ گرمی کے ہاتھوں تنگ آئے لوگ جب بھی چھٹیوں پر جانے کا سوچتے ہیں تو وہ کسی پُر فضا مقام پر جانے کی خواہش کرتے ہیں اور ظاہر ہے کہ کسی گرمی کے ستائے ہوئے شخص کے لیے پُر فضا مقام وہی ہو سکتا ہے جہاں موسم ٹھنڈا ہو….
عام لوگ ہی نہیں ریاست بھی جب کبھی سیاحت کی بات کرتی ہے تو اس کی کُل توجہ شمالی علاقہ جات پر ہی مرکوز رہتی ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے شمالی علاقوں کو قدرت نے حسن سے مالا مال کیا ہے لیکن کیا قدرتی حسُن یک رخی ہوتا ہے؟؟ کیا صرف سر سبز اور فلک بوس پہاڑ، ابر آلود موسم، دھند اور ٹھنڈ ہی انسان کو تازگی کا احساس دلا سکتی ہے یا سیاحت کے کچھ اور ذرائع بھی کھوجے جا سکتے ہیں؟؟ آئیے اس سب کو تفصیل سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں…..
کہتے ہیں کہ بلوچستان سیاحوں کی جنت ہے، ایک امریکی سیاح Isaac Pinzu نے کہا تھا کہ امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا کے جنوبی حصے میں موجود مشہور ترین Death Valley (موت کی وادی کہ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ دنیا کے گرم ترین مقامات میں اہم ترین ہے انسان، چرند پرند اور مخلوقات کا وہاں رہ کر گزارہ کرنا ہر وقت موت سے نبرد آزما رہنے کے مترادف ہے) سے لے کر St. Cloud, Minnesota جوکہ امریکہ کا چوتھا ٹھنڈا ترین مقام سمجھا جاتا ہے کے بیچ جو جو کچھ ہے وہ سب کچھ صرف بلوچستان کے دو شہروں کوئٹہ اور سبی کے بیچ میں موجود ہے اس کو یوں سمجھیے کہ کوئٹہ کہ جہاں سردی میں درجہ حرارت منفی 18 اور سبی کہ جہاں گرمیوں میں درجہ حرارت 53 درجے سینٹی گریڈ تک چلا جاتا ہے کا درمیانی فاصلہ محض 160.3 کلومیٹر ہے یہ بات اپنے آپ میں کسی عجوبے سے کم نہیں،
اگر میں بلوچستان کے قدرتی تفریحی مقامات پر لکھنے بیٹھوں تو یہ کم از کم ایک پانچ سو صفحات کی کتاب بنے، اس مختصر سی تحریر میں بلوچستان کے صرف ایک ساحلی شہر لسبیلہ کے بارے میں مختصر ترین بات کر کے آ گے بڑھ جاؤں گا لسبیلہ مکران کوسٹل ہائی وے پر واقع ہے جس کا کراچی سے 144 کلومیٹر کا فاصلہ ہے اور یہ جگہ دنیا پر کسی عجوبے سے کم نہیں یہاں کئی ایک مشہور قدرتی تفریح گاہیں ہیں مثلاً ساکران، ہنگول نیشنل پارک، حب ڈیم جوکہ پاکستان کا تیسرا بڑا ڈیم ہے، زیرو پوائنٹ، فش ہاربر، دنیا کا تیسرا بڑا شپ بریک یارڈ گڈانی شپ بریکنگ یارڈ، صحرائے اوتھل، کنڈ ملیر کا ساحل، سسی پنوں کا مزار، سونمیانی بیچ، گڈانی بیچ، کیرتھر نیشنل پارک، دنیا کا سب سے اونچا مڈ والکینو (مٹی کا خاک فشاں)، بلوچستان اسپینکس، پرانسز آف ہوپ،
Pakistani Great Canyon, شہر روغان (Cave city), بھوانی کا قبرستان اور نانی مندر وغیرہ یہ تمام جگہیں آپ انٹر نیٹ پر سرچ کر کے دیکھ سکتے ہیں ایک دو پر بات کرتے ہیں میرے لیے حیرت کی انتہا نہ رہی جب میں نے پہلی بار شہر روغان کی تصاویر دیکھیں یہ پہاڑوں کی وادی میں غاروں کا ایک شہر ہے انگریز نے یہاں پندرہ سو غاروں کی تعداد بتائی تھی جس کے بارے میں اب کہا جاتا ہے کہ پانچ سو بھی سلامت نہیں ہیں کیونکہ پہاڑ بیٹھتے رہے اور غاروں کے منہ بند ہوتے رہے انکی تاریخ کے بارے کہا جاتا ہے کہ یہ غار اللہ کے نبی حضرت سلمان علیہ السلام کے زمانے سے یہاں موجود ہیں اور ان سے متعلق بہت سے جناتی اور دیومالائی قصے مشہور ہیں لیکن اس کی صحیح تاریخ جو بھی ہو یہ جگہ انسان کو مبہوت کر دینے کے لیے کافی سے زیادہ ہے کہ جب آپ غاروں کے اندر مزید غار اور اسی طرز پر بنا پورا شہر دیکھتے ہیں تو آپ حیرت سے انگلیاں چبا جاتے ہیں کہ یہ کیا کرشمہ ہے، اسی طرح ہنگول نیشنل پارک اپنے اندر موجود پہاڑوں اور انکی عجیب و غریب اشکال کے وجہ سے دنیا بھر کی توجہ سمیٹ چکا ہے یہاں کی ایک پہاڑی کہ جس کو پرانسز آف ہوپ (امید کی شہزاری) کہا جاتا ہے ایک عورت کی مورتی معلوم ہوتی ہے جبکہ حقیقت میں وہ ایک پہاڑی ہے ،صوبہ سندھ میں موجود مکلی کے قبرستان سے تو سب واقف ہیں لیکن اسی طرح کے کئی قبرستان بلوچستان میں بھی موجود ہیں جن میں سب سے زیادہ مشہور بھوانی کا قبرستان ہے جو لسبیلہ میں موجود ہے اور سترہویں صدی عیسوی کے اس قبرستان میں بھی اسُی طرز کی قبریں موجود ہیں کہ جیسی ہمیں مکلی کے قبرستان میں دیکھنے کو ملتی ہیں، لسبیلہ میں جہاں ایک طرف کنڈ ملیر جیسا خوبصورت ترین ساحل موجود ہے وہیں دوسری طرف اس جگہ پر صحرائے اوتھل موجود ہے تو تیسری جانب دنیا کا سب سے بلند خاک فشاں ہے کہ جس سے شاید کبھی لاوا نکلتا ہو اب اس میں سے مٹی کا اخراج ہوتا ہے, یہ ایک شہر ہے کہ جس کو قدرت کے آبشاروں، جھرنوں، جھیلوں، پہاڑوں، غاروں، گھاٹیوں، سمندر، صحرا، کھیت، باغات اور نہ جانے کس کس سے نوازا ہے لیکن صورتحال یہ ہے کہ اگر آپ انٹرنیٹ پر لسبیلہ میں موجود ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز ڈھونڈنے کی کوشش کریں تو آپ تین رہائش گاہیں ملتی ہیں جو لسبیلہ شہر میں ہیں اور شاید ان میں سے ایک بھی ایسی نہ ہو کہ جہاں فارن ٹورسٹ آ کر رہیں اور محفوظ محسوس کریں، لسبیلہ تو پھر کراچی کی قربت کے باعث ہماری نظروں میں آگیا اور کنڈ ملیر کے ساحل نے کچھ فلم سازوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرالی، آپ جیسے جیسے بلوچستان میں اندر داخل ہوتے جائیں گے آپکی حیرت کی انتہائیں بھی بڑھتی جائیں گی کہ جب فیروزی، میرون، نارنجی، کالے، ہرے اور نہ جانے کس کس رنگ کے پہاڑ آپکو نظر آئیں گے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان میں سے کوئی پہاڑ فیروزے کا ہے تو کوئی عقیق کا کوئی کسی اور قیمتی پتھر سے لدا ہوا ہے تو کوئی کسی دھات سے کہتے ہیں کہ اگر آپ کسی ایسے ہی پہاڑ کو گولی ماریں تو ان میں سے قیمتی پتھر گرنا شروع ہو جاتے ہیں، سوئی ایک خزانہ ہے گیس کا جو آج تک ہم نے دریافت کیا ہے نہ جانے کتنے اور اسی طرح کے قدرتی گیس، آئل کے ذخائر ہی جو بلوچستان میں دفن ہیں لیکن مجھے یہ لگتا ہے کہ ہماری حکومتیں وہ یا تو بیچ چکیں ہیں یا ہمیں ان کی ضرورت ہی نہیں ہے…. واللہ اعلم
کراچی کو ہم اس کالم میں زیرِ بحث نہیں لائیں گے ہم مختصر بات کرتے ہیں اندرون سندھ کی صوبہ سندھ میں سات قدیمی قلعے ہیں جن میں سے چھ اندرون میں اور ایک کراچی میں ہے رانی کوٹ فورٹ سندھ کا سب سے مشہور قلعہ ہے اس کی دیوار بالکل دیوار چین سے مشابہت رکھتی ہے اس کا کُل علاقہ بتیس کلومیٹر ہے اور اپنے علاقے کے حساب سے یہ دنیا کے قدیم قلعوں میں دوسرے نمبر پر آتا ہے لیکن اس پر محمکہ آثار قدیمہ سمیت کسی کی توجہ نہیں ہے، اسکے علاوہ نو کوٹ فورٹ، کوٹ ڈیجی فورٹ، پکو قعلو، شیر گڑھ فورٹ، امر کوٹ فورٹ، منوڑہ فورٹ وہ قلعے ہیں کہ جن کی عمارات ابھی اپنی جگہ موجود ہیں، اس کے علاوہ اندرون سندھ میں آپکو جاہ بجا کھنڈرات نظر آتے ہیں جن کے بارے میں مقامی لوگوں اور تاریخ دانوں کا خیال یہی ہے کہ یہ کھنڈرات بھی کبھی آباد عمارات تھیں جو حملہ آوروں اور وقت کے ستم نے ختم کر دیں، لیکن ہمیں بھی اللہ نے یہ توفیق نہ دی کہ ہم اس پر توجہ کرتے، قدرت نے ہمیں سندھ میں موہنجوداڑو اور پنجاب میں ہڑپہ جیسے دو عظیم الشان شہر دئیے کہ جن کی تاریخ پانچ ہزار سال پرانی ہے اور اگر ہم انکو دنیا پر آشکار کر سکتے تو آج صرف ان دو بستیوں کے کھنڈرات دیکھنے اتنی دنیا آتی کہ ہم سے سنبھالی نہ جاتی لیکن کتنے ہی افسوس کی بات ہے کہ سال بھر میں موہنجوداڑو میں بیس ہزار اور ہڑپہ میں دس ہزار لوگ بھی نہیں آتے اور اس میں غیر ملکیوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ حکومت کے لیے انکی سیکورٹی کو ممکن بنانا بہت مشکل ہے اس لیے زیادہ تر کو ان علاقوں میں جانے کی حکومت اجازت ہی نہیں دیتی، جبکہ رانی کوٹ فورٹ کی طرز پر بنے انڈیا کے صوبہ راجستھان میں موجود قلعے پر فلمیں شوٹ ہوتی ہیں اور اسکے ارد گرد بائیس گیسٹ ہاوسز موجود ہیں اور کیمپنگ کی سہولیات بھی ہیں، ہم میں سے کتنے جانتے ہیں کہ سندھ کے بیچ و بیچ دادو شہر سے کچھ دوری پر ایک پہاڑی علاقہ ہے کہ جس کا موسم مری جیسا ہے؟؟ اس کا نام گورکھ ہل سٹیشن ہے یہ جگہ سطح سمندر سے پانچ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے اور یہاں کی آب و ہوا بالکل مری کے جیسی ہے یہاں کا جون کی دوپہر کا اوسط درجہ حرارت 21 ڈگری اور دسمبر کی رات کا اوسط درجہ حرارت – 6 ڈگری ہے حالات یہ ہیں کہ 1954 میں جس ترقیاتی منصوبے کا اعلان ہوا تھا وہ 1998 میں شروع ہوا اور 2007 میں یہاں بجلی اور سڑک پہنچی اب جاکر یہاں ایک دو گیسٹ ہاوسز بنے ہیں لیکن سیکیورٹی کی صورتحال کیا ہے اللہ ہی بہتر جانتا ہے… اسکے علاوہ نگر پارکر کا گوری مندر ہو، جام شورو کا گڈو بیراج ہو، ٹھٹھہ کی کینجھر جھیل ہو، سیہون شریف میں موجود شہباز قلندر مزار ہو، مکلی کا قبرستان ہو، شہرِ بھنبھور کے آثار قدیمہ ہوں، چھرنا کا سمندری جزیرہ ہو، ہلاجی جھیل ہو، شاہ لطیف یا کینجھر جھیل کے بیچ و بیچ گہرے پانی میں مائی نوری جام تماچی کا حیرت انگیز مزار سب دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے، ہالہ میں موجود ایک ہزار سال سے زیادہ پرانی مساجد ہوں یا ہالہ سے شروع ہونے والے کھجور اور کیلے کے وہ باغات جو سندھ کی حدود پھلانگتے ہوئے پنجاب میں داخل ہو جاتے ہیں ان لوگوں کے لیے کسی عجوبے سے کم نہیں جو باہر کے ملکوں سے یہاں آتے ہیں، ہمارے ملک میں لوگ کراچی کے تین یا چار ساحلوں اور گوادر پورٹ کے علاوہ کسی ساحل سے واقف نہیں ہیں لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ آٹھ سو کلومیٹر کی پاکستانی ساحلی پٹی پر حیران کن مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں لیکن وہاں تک جانے کو ہم سڑک تک نہ بنا سکے تو ٹورسٹ کیا کرے، کہا جاتا ہے کہ اندرون سندھ اور پنجاب میں راجہ داہر اور اسکے حامیوں کے کئی شاندار قلعے تھے جن کو مسلمانوں نے کفر کے آثار سمجھ کر گرا دیا او اب وہاں کچھ نشانیاں تو ہیں عمارات نہیں…
بات کرتے ہیں میری اپنی جنم بھومی شہروں کے شہر ملتان کی، مجھے نہیں معلوم کہ اندرون پنجاب میں کیا کیا کچھ ایسا ہے کہ جس کو ٹورسٹ کے لیے توجہ کا مرکز بنایا جا سکتا ہے؟؟ لیکن مجھے یہ معلوم ہے کہ ملتان اور اسکے کے گرد و نواح میں بہت کچھ ہے جو دیکھنے کے قابل ہے، ملتان کو ہم سب جانتے ہیں کہ مدینۃ اولیاء کہتے ہیں جس بھی ولی کا آپ تذکرہ پڑھیں تو وہ نو سو سال یا ہزار سال کے آس پاس کا زمانہ بنتا ہے چاہے وہ حضرت بہا الدین زکریاہوں، شاہ شمس سبزواری ہوں، شاہ یوسف گردیز ہوں، حضرت موج دریا ہوں یا کوئی اور اب سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ ہزار سال پہلے آخر اتنی بڑی تعداد میں یہاں اللہ کے ولی کیوں سکونت اختیار کر رہے تھے؟ آخر کیا وجہ تھی کہ ان نیک بندوں کا رخ ملتان کی جانب تھا؟؟ اس کا جواب تو کوئی تاریخ کا عالم دے گا میں یہ جانتا ہوں کہ ملتان چونکہ ایک آباد بستی تھی اسی لیے لوگوں کا رخ اس طرف تھا اور ملتان کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہندوؤں کی مقدس کتب ریگ وید اور آتھرو وید بھی اسی ملتان کے سر آمین پر بیٹھ کر لکھی گئیں اسی لیے آپ کو ملتان اور اس کے نواحی علاقوں میں مندروں کی عمارتیں اور کھنڈرات بڑی تعداد میں ملتے ہیں، تاریخ کے علماء ملتان میں موجود آٹھ سو سال اور ہزار سال پرانے ولیوں کے مزارات کو اس شہر کی نئی تعمیرات مانتے ہیں کیونکہ تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ ملتان کی تاریخ کم از کم پانچ ہزار سال سے زیادہ پرانی ہے یعنی یہ موہنجوداڑو اور ہڑپہ کے وقت میں بھی ایک آباد بستی تھی…
آج ملتان ماڈرن شہر ہے پاکستان کا پانچواں بڑا اور چوتھے نمبر کا ماڈرن شہر میں کہتا ہوں کہ صرف ملتان اور اس کے گردونواح پر اگر تھوڑی توجہ دی جائے تو اس میں وہ سب کچھ کئی گنا بڑھ کے موجود ہے جس کو انجوائے کرنے لوگ دبئی جاتے ہیں میرے گھر سے بیس کلومیٹر شمال میں لق و دق عظیم صحرائے تھل ہے جو ہیڈ محمد والا سے شروع ہو کر بھکر، ڈی آئی خان اور بنوں تک پھیلا ہوا ہے، اس کے ساتھ ساتھ سڑک کے اسُ پار عظیم دریائے چناب ہے صرف دریا کو گہرا کرکے اور صحرا کو تھوڑا بہت مینٹین کر کے اس جگہ کو ٹورسٹ کے لیے ایک بہت بڑا شہر جو دبئی سے ہر حساب سے بہتر ہو بنایا جا سکتا ہے، واٹر سپورٹس سے لیکر Desert safari تک نہ جانے کیا کیا اس علاقے میں ہو سکتا ہے، اسی صحرا میں جانوروں کی وہ وہ نسلیں آباد ہیں کہ جن کو نیشنل جیوگرافک ڈھونڈتا پھرتا ہے، صرف ملتان میں پچاس طرح کا آم پیدا ہوتا ہے ایک بار ایک آسٹریلیا سے آئے ہوئے فارمر نے ضد پکڑ لی کہ انہوں نے ایک رات آم کے کسی گھنے باغ میں گزارنی ہے اور اسکے لیے وہ ڈالرز میں پیمنٹ کرنے کو بھی تیار تھے اس دن میں نے سوچا کہ ہم تو اگر چاہیں تو یہ آم کے باغات ہمارے ٹورسٹ کھینچ کر لا سکتے ہیں اسی طرح میں نے جن جن علاقوں کا تذکرہ کیا ان میں سے ہر ایک علاقے کے اپنے کھانے ہیں، اپنی موسیقی ہے، اپنے اپنے مخصوص علاقائی لباس ہیں اور ان میں سے ہر ایک چیز علامت بننے کی صلاحیت رکھتی ہے بشرطیکہ ہماری مقتدرہ قوتیں انسانوں پر مبنی ہوں…..
میں ان لوگوں سے جو ہر وقت یہاں ٹورازم کے فروغ کی باتیں کرتے ہیں ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں؟؟ یہ بتائیے کہ ایک ایسا غیر ملکی کہ جو شراب پیتا ہو، ہو، جب بھی سیاحت پر جاتا ہو تو رات کسی عورت کے ساتھ گزارنا اس کا مشغلہ ہو، کلب میں ناچنا اسکی روٹین ہو، مساج اسکی ضرورت ہو، اور وہ یہاں چھٹیاں گزارنے نئی جگہیں دیکھنے انجوائے کرنے آیا ہو تو وہ یہاں کیا یہ سب کچھ کرسکتا ہے؟؟ جواب ملتا ہے کہ یہ اسلامی ملک ہے… اس پر میرا ایک اور سوال یہ ہے کہ یہاں کیا نہیں ہوتا؟؟ کیا یہاں کے مقامی لوگ شراب نہیں پیتے؟؟ کیا یہاں پر لڑکیاں سیکس ورکرز نہیں ہیں؟؟ بھائی اگر آپ فارن ٹورسٹ یہاں بلانا چاہتے ہیں تو آپکو سب سے پہلے انکی سیکیورٹی یقینی بنانی ہوگی یہاں تو حال یہ ہے کہ لاہور اور گوجرانوالہ کے درمیاں موٹر وے پر کل رات ایک عورت کا اسکے بچوں کے سامنے ریپ ہوا اور پولیس نہ پہنچ سکی تو دور دراز علاقوں کی سیکورٹی کا اندازہ آپ خود کر لیں، اور دوسری بات جب تک آپ اس ملک میں شراب، کلب کلچر اور ایک کھلا ڈلا ماحول مہیا نہیں کریں گے یہاں ٹورسٹ نہیں آئیں گے جب تک یہاں کلب تھے شراب عام ملا کرتی تھی تو یہاں جا بجا فارنرز بھی نظر آتے تھے جب تک ہم اس جگہ کو ایک امن پسند جگہ نہیں بناتے تب تک یہاں ٹورازم کو کبھی فروغ نہیں مل سکے گا….

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

سیاحت
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleموٹر وے ریپ کیس ، مدعی راہ گیر کا ایف آئی آر سے اظہار لاتعلقی : ارشد چوہدری کی خصوصی رپورٹ
Next Article سید مجاہد علی کا تجزیہ : جنگوں کی پانچویں نسل اور پاکستان کی پریشانی
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

علی نقوی کا کالم : شراب اور نائٹ کلبوں پر پابندی سے معاشرتی بگاڑ اور ہمارے سیاحتی مراکز

جون 13, 2022

مری سیاحوں کے لیےبند :شدید برف باری ، ہزاروں افراد پھنس گئے

جنوری 8, 2022

27 ستمبر ، سیاحت کا عالمی دن: صدائے عدل / قیصر عباس صابر

ستمبر 27, 2019

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • سید مجاہد علی کا تجزیہ : ایرانی صدر کا دورہ پاکستان کو کیا ملے گا ؟ جون 24, 2026
  • محرم، کربلا اور ایران میں مزاحمت کی سزا : ڈاکٹر علی شاذف کا کالم جون 24, 2026
  • بابا فرید کا عرس : بہشتی دروازے پر بھگدڑ میں 89 افراد زخمی ، 25 کی حالت تشویش ناک جون 23, 2026
  • ماہ رنگ بلوچ کو سزا : سید مجاہد علی کا تجزیہ جون 23, 2026
  • گوادر میں سکیورٹی اہلکار کی ہلاکت کے مقدمے میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو عمر قید کی سزا جون 22, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.