چئیرمین سینیٹ کا الیکشن ریاست اور حکومت کے امیدوار نے جیت لیا، اگر ایک جملے میں بیان کروں تو گیلانی سات ووٹوں اور چھ کیمروں سے ہارے، صادق سنجرانی اٹھارہ میں جب جیتے تو وہ صرف ریاست کے امیدوار تھے اب انکی ترقی ہوئی اور وہ حکومت کے امیدوار بھی بن گئے جس کی پیشن گوئی ریاستی اداروں کے وزیر داخلہ پہلے ہی کر چکے تھے، کل فواد چوہدری نے فرمایا کہ سینیٹ کے پورے الیکشن کا تاثر مثبت نہیں بن پایا میں فواد چوہدری سے مکمل اتفاق کرتا ہوں سینیٹ میں نہ کوئی سیاسی جماعت ہاری نہ کوئی جیتی سینیٹ الیکشن میں وہی ہوا جو اس ملک میں ہوتا آیا ہے اسٹیبلشمنٹ جیت گئی، جمہوریت اور سیاست ہار گئی….. بندوق، پیسے اور غیر اخلاقی وڈیوز جیت گئیں ووٹ، سیاسی وابستگیاں اور ایوان کی حرمت ہاری، اور یہ کوئی نئی بات نہیں یہ پاکستانی سیاست کی وہ تاریخ ہے جو ہر الیکشن میں دہرائی جاتی ہے، پاکستان کے ایوانِ بالا کے الیکشن سے چند گھنٹے پہلے ایوانِ بالا سے چھ سپائی کیمرے برآمد ہوئے لیکن نہ تو ملک کے رکھوالوں کو تشویش ہوئی نہ وزیر داخلہ کو نہ وزیراعظم کو، ہو بھی کیسے کہ انکا سیاسی و جمہوری نظام سے تعلق ہی کیا ہے؟؟؟ اسی الیکشن سے ایک رات پہلے ملک کے تین بار کے وزیراعظم نے کہا کہ میری بیٹی کو "کرش” کرنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں اور اگر اسکو کچھ ہوا تو عمران خان، آرمی چیف، آئی ایس آئی چیف اور ایک اور حاضر سروس جنرل ذمہ دار ہونگے لیکن نہ وزیراعظم نے کوئی ٹوئیٹ کیا نہ وزیر داخلہ نے کوئی بڑھک ماری اور ISPR بھی خاموش رہا۔
اس پر مجھے یاد آیا کہ یہی گھمبیر خاموشی تب بھی تھی جب بینظیر بھٹو نے کارساز کے دھماکے کے بعد پرویز مشرف، پرویز الہی اور بیت اللہ محسود کا نام لے کر کہا تھا کہ اگر مجھے کچھ ہوا تو یہ تین لوگ ذمہ دار ہونگے لیکن نہ صرف بینظیر قتل ہوئیں بلکہ جن تین لوگوں کا انہوں نے نام لیا تھا ان میں سے ایک آج پنجاب اسمبلی کا اسپیکر ہے، ایک ملک سے فرار ہے اور تیسرے کا غم پارلیمنٹ منا چکی….. یہی تب بھی ہوا جب بھٹو صاحب نے جیل میں بیٹھ کر If I am Assassinated لکھی اپنی موت کی پیشین گوئی کے ساتھ ساتھ اسکے ملک پر پڑنے والے اثرات کی پیشین گوئی بھی کی لیکن نہ صرف بھٹو کو عدالتی حکم سے قتل کیا گیا بلکہ ملک کے ساتھ اس سے بھی بدتر ہوا جو بھٹو لکھ کر گئے تھے…..
سوال یہ ہے کہ ہر بار اس ملک میں اسٹیبلشمنٹ ہی کیوں جیت جاتی ہے؟؟ تو بھائی اس کا سیدھا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ اس ملک میں کبھی سیاست دان پیدا نہیں ہوا اس لیے، جو بھی منظرِ عام پر آیا وہ کسی طاقتور کا منظورِ نظر تھا، کالونائزڈ خطوں کے طاقتوروں سے کبھی انکے کالونائزرز بھلائے نہیں جاتے انگریز اس خطے میں میری رائے میں تین ایسی چیزیں چھوڑ کر گیا کہ جنہوں نے یہاں کے سیاسی نظام کو ہر گزرتے دن کے ساتھ پراگندہ اور بد صورت کیا ایک فوج، دوسری عدلیہ اور تیسرا وہ طبقہ کہ جو ہر وقت بکنے کو تیار رہتا ہے، کل تک فوج ڈنڈے کے زور پر سیاست کو گالی بناتی رہی اب اس میں پیسے، پریشر اور ویڈیو بھی شامل ہو گئی ہے کسی کی پیسے لیتے کی ویڈیو تو کسی کی سیکس ٹیپ، ورنہ کسی کی بیٹی، بیوی، بہن کی سیکس ٹیپ اور کسی کسی کے کیس میں یہ تینوں چیزیں ایک ساتھ، باقی دو طبقے شراکت دار (کلابورئیٹر) رہے فوج نے انہی تینوں چیزوں کے بل بوتے پر عدلیہ بھی قابو میں رکھی اور یہ بکاؤ مال بھی…
موجودہ صورتحال میں تو میں صرف یہی کہنا چاہتا ہوں کہ حکومت تو ہے نہیں صرف ایک ریاست ہے جس کو ریاستی اداروں نے یرغمال بنا رکھا ہے، یہ ادارے ریاست سے بڑے اور زیادہ با اختیار ہیں وزیراعظم انہی اداروں کا ہے اور انہی کی مرہون منت ہے، وزیر داخلہ اداروں کا ہے جس کا وہ برملا اعلان بھی کرتا ہے، وزیر اطلاعات اداروں کا ہے اور کمال ہے کہ آج بھی ہم اسکے باپ کو انقلابی شاعر مانتے ہیں (جس دن سے مجھ پر فیض احمد فیض اور احمد فراز کی اولاد کے کرتوت واضح ہوئے ہیں کم از کم مجھے اب فیض صاحب اور احمد فراز کے بارے کسی قسم کی کوئی خوش فہمی نہیں رہی کہ جن سے انکے بچوں کو انقلاب کی تعریف تک نہ سمجھائی گئی وہ کہاں سے اور کیسے انقلاب کی علامت ہوئے؟؟ )
بات ہو رہی تھی اسٹیبلشمنٹ کی جیت کی؟؟ میرے نزدیک اسکی وجہ یہ ہے کہ یہاں جن کو سیاست دان بنا کر پیش کیا گیا وہ سیاست دان نہیں تھے بلکہ ہمیں اداروں نے بتایا کہ یہ لوگ سیاست دان ہیں یہ جن لوگوں نے گزشتہ برس حاصل بزنجو کو، ابھی کل پرسوں حفیظ شیخ کو اور کل یوسف رضا گیلانی کو ووٹ نہیں دیا یہ وہ کوڑا ہے جو پنڈی سے اسلام آباد کی طرف اڑُایا جاتا ہے اور پھر اس کو سیاسی میٹیریل بنا کر وہ ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں کہ جن کا ایجنڈا سیاست کو گالی بنانا، سیاسی نظام سے عوام کو نفرت کرا دینا، یہ ثابت کرنا کہ یہ ہیں وہ کہ جن کو تم ووٹ دے کر لاتے ہو، اور اس سب سے اوپر ملک میں کیوس جو کہ انہی کا پیدا کردہ ہے کی بڑھوتری پر کام کرنا اور مسلسل کام کرنا ہے….
کاش کہ اس ملک میں سیاستدان ہوتے تو وہ اس صورت حال کو سمجھ پاتے کہ ہم کیوں جیت کر بھی ہارتے ہیں اور ہار کر بھی؟؟؟ لیکن یہ سوچنے کے لئے سٹیٹس مین شپ کے حامل افراد ہونے چاہیں نہ کہ طاقتور کے کلوبوریئٹرز، میر صادقوں اور میر جعفروں پر مشتمل اسمبلیاں آپکو افکارِ افلاطون و ارسطو پر عمل کرتے نظر بھی آئیں تو کیسے؟؟ جب میں کہتا ہوں کہ یہ لوگ مزاحمت کے قابل نہیں ہیں تو جمہوریت پسند دوست برا مناتے ہیں، اس کا جواب سنیے اور مجھے اجازت دے دیجیے مثال کے طور پر میں ایک طاقتور شخص ہوں اور کسی بھی علاقے یا ادارے کے سیاہ و سفید کا مالک ہوں اور ایسے میں کوئی شخص میرے سے کچھ فائدے اور کچھ رعایتیں حاصل کر لیتا ہے جو کہ اسکے بنتے نہیں تھے تو کیا وہ میرے سامنے کل کو بظاہر کسی اصولی موقف کی آڑ میں آنکھ اٹھانے کا سوچ بھی سکتا ہے جبکہ وہ جانتا ہو کہ آج بھی میں اسی طاقت کا حامل ہوں؟؟ جبکہ وہ یہ جانتا ہو کہ میرے صحن میں اس جیسوں کی ایک لائن کھڑی ہے؟؟ جبکہ وہ یہ جانتا ہو کہ میرے پاس اس کے ایسے ایسے راز ہیں کہ جن کے افشاں ہو جانے پر وہ ایک گھنٹے میں نشانِ عبرت بن سکتا ہے؟؟ جبکہ وہ یہ بھی جانتا ہو کہ اس بار بھی اگر وہ میرا ساتھ دے تو اس کو اس سے کہیں بڑے فائدے اور رعایتیں مل سکتی ہیں جو کل ملیں تھیں… آخر میں ایک بات مجھے قائد اعظم کے وہ ساتھی کہ جن کی موجودگی میں قرارداد مقاصد منظور ہوئی طاقتوروں کے شراکت دار لگے تھے، وہ کہ جو کسی بھی وجہ سے فاطمہ جناح کا ساتھ نہ دے سکے وہ بھی کلابورئیٹرز تھے، ذوالفقار علی بھٹو اس وقت کلوبوریئٹر ہی لگے تھے جب انہوں نے بنگال کے قصاب ٹکا خان اور پاکستان کے قصاب ضیاء الحق کو اپنے فائدے کے لیے آرمی چیف بنایا تھا، مجھے بینظیر بھٹو اس وقت کلوبوریئٹر ہی لگیں تھیں کہ جب انہوں نے گیارہ غیر جمہوری طاقتوں کو ہرانے کے بعد بھی اسلم بیگ کو تمغہ جمہوریت دیا تھا، نوے اور ستانوے کا نواز شریف ایک بد ترین کلوبوریئٹر تھا، وہ الطاف حسین کہ جس نے کراچی میں نوجوانوں کے خون کی ندیاں بہائیں ایک غلیظ ترین کلوبوریئٹر تھا، وہ آصف علی زرداری کہ جس نے اشفاق پرویز کیانی کو ایکسٹینشن دی ایک کلوبوریئٹر تھا، وہ نواز شریف کہ جس نے اس ملک سے صحیح و سلامت پرویز مشرف کو جانے دیا ایک کلوبوریئٹر ہی تھا، لیکن آج جوکرسی پر مسلط ہے کلوبوریئٹر بھی نہیں ہے یہ ایک ایساشخص ہے جس نے عوام کے ساتھ اب تک کا کیا جانے والا سب سے بڑا دھوکہ کیا ہے، ایک ایسا آدمی کہ جس کو اگر کلوبوریئٹر کہا جائے تو شاید یہ لفظ بھی برا مان جائے ایک ایسا ایماندار کہ جس کے سامنے بے ایمانی زانو تہہ کرے، ایک ایسا جاہل کہ جس کی جہالت پر وہ خود اور اس کے حامی فخر کرتے ہوں ایک ایسا بد صورت کہ جس نے منہ پر "بٹاوکس” کرایا ہو اور کردار پر "بوٹ اوکس”…… کیوں عمران خان بھول گیا کہ ابھی کل ہی حفیظ شیخ کے الیکشن میں اسٹیبلشمنٹ سے اس سے ناک سے لکیر کھینچوائی ہے، کیوں عمران خان کو اسکے سر پر لٹکتی تلوار اب بھی نظر نہیں آ رہی؟؟ اس کیوں کا بہت سیدھا سا جواب ہے کہ عمران ایک ایسا جاہل اور تاریخ سے نا بلد پپٹ ہے کہ جو تاریخ کے کوڑا دان میں ایک کلوبوریئٹر کی جگہ بھی نہیں پا سکے گا….
فیس بک کمینٹ

