میری نظر سے پاکستان کے پہلے وزیراعظم کی ایک تقریر گزری جو کہ دراصل اپنی نوزائیدہ کابینہ سے ان کا پہلا خطاب تھا، باقی تو تقریر جو تھی سو تھی لیکن ایک جملے پر میں اٹک گیا اور وہ جملہ یہ تھا کہ تحریک پاکستان میں حصہ لینے والے وہ افراد جو قائداعظم محمد علی جناح کے وفادار ساتھی ہیں (جو اس وقت انکی کابینہ کے مختلف عہدوں پر براجمان تھے) اس مملکت کا اصل اثاثہ ہیں اگر میں اس وقت موجود ہوتا تو شاید مجھے یہ جملہ درست معلوم ہوتا لیکن آج جب یہ مملکت چوہتر سال کی ہو چکی اس جملے پر ہنسی آتی ہے کیونکہ یہ جملہ لیاقت علی خان کے بعد آنے والے ہر حاکم نے اپنے حساب سے بولا اور جب بھی پاکستان کے کسی حاکم نے کسی بھی چیز کو اثاثہ قرار دیا تو مجھے یا تو غصہ آیا یا ہنسی…. غصہ اس لیے کہ میری گردن پر مسلط یہ حکمران اتنے جاہل ہیں کہ ان کو یہ تک معلوم نہیں کہ قوموں کے اثاثے کیا ہوتے ہیں؟؟ اور ہنسی اس لیے کہ میں بھی کس بات کی امید کس سے لگائے ہوئے ہوں؟ کیونکہ استاد نے بتایا کہ حاکم سے حکیمانہ بات کی امید لگانے والے کو حکیم کے پاس جانا چاہئے…
تو چلیے ذرا یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ کسی قوم کے اثاثے کیا ہوسکتے ہیں؟؟
ہم چونکہ ایک کیپیٹلسٹ دنیا میں رہتے اس لیے ہماری ڈکشنری میں اثاثے کا لفظ پیسوں اور جائیدادوں سے مخصوص ہو چکا ہے اور یہ کسی طور پر غلط بھی نہیں ہے کہ ایک آدمی کے اثاثوں میں روپے پیسے، جائیداد، مال مویشی سب ہوتا ہے لیکن کیا کسی کا کُل اثاثہ صرف مادی چیزیں ہوتی ہیں یا اس میں کچھ اور بھی شامل ہے؟ اگر فردِ واحد کی بات کریں تو میری رائے میں ہر آدمی کے اثاثوں میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا ہے مثلاً ایک بچہ جس کی عمر دو سال ہے اور وہ ہر روز ایک نیا لفظ سیکھتا ہے میرے نز دیک اس کے اثاثوں میں ہر روز اضافہ ہو رہا ہے، جب کوئی بچہ کھڑا ہونا سیکھتا ہے، چلتا ہے، بھاگنا شروع کرتا ہے، پہلے دن سکول جاتا ہے، باتھ روم سے متعلق معاملات اپنے ہاتھ میں لیتا ہے، باہر نکلتا ہے، دوست بناتا ہے، کھیلنا، پڑھنا، لکھنا، سوچنا، سمجھنا، یہ تمام اس بچے کے اثاثے ہیں پھر اسی طرح وہ علم حاصل کرتا ہے اسی تعلیم کی بنیاد پر نوکری پاتا ہے، پیسے کماتا ہے، اس سے اپنی جائیداد یا جمع پونجی اکٹھی کرتا ہے، شادی کرتا ہے بچے ہوتے ہیں وہ بھی اثاثہ ہیں (ہاں بیوی سے متعلق میں اپنی رائے محفوظ رکھتا ہوں) اس طرح اس شخص کے اثاثے بڑھتے بھی جاتے ہیں اور اپنی نوعیت بھی تبدیل کرتے رہتے ہیں، یہ تو ہوگئی ایک فرد سے متعلق بات…. قوموں کے اثاثے کیا ہو سکتے ہیں اور ہمارے حکمران ہمیں کیا کیا چیز اثاثے کے طور پر گنواتے رہے اس سب پر ذرا تفصیل سے بات کرتے ہیں…
ابھی میں نے آپ کو یہ بتایا کہ جنابِ لیاقت علی خان نے قائد کے ساتھیوں کو اس ملک کا اصل اثاثہ قرار دیا کیونکہ وہ تحریک پاکستان کے وقت قائد کے ساتھ کھڑے تھے اور پاکستان میں بننے والی پہلی کابینہ کا حصہ تھے، کاش لیاقت علی خان آج ہوتے تو میں ان سے دست بستہ یہ پوچھتا کہ حضور کیسے 1949 میں آپ اور قائد کے ان نظریاتی ساتھیوں کی موجودگی میں قرار داد مقاصد منظور ہوئی؟؟ وہ قرار داد جس نے پاکستان کو اس سمت کےمخالف دوڑا دیا جس کا تعین قائد نے خود کیا تھا، کیا جنابِ لیاقت علی خان اور انکے ساتھی قائد کے نظریے کو اثاثہ نہیں سمجھتے تھے؟؟ کہ ان کے جانے کے محض ایک سال کے اندر اندر وہ قرار داد منظور ہوگئی کہ جس کا مسودہ اگر قائد کو دکھایا جاتا تو یا تو وہ اس کو پھاڑ دیتے یا جلا دیتے جو ملک قائد کے بقول ایک سیکولر ملک بننا تھا ان کے جانے کے محض ایک سال کے اندر ایک جنونی ملک بننے لگا، جب کہ لیاقت علی خان کے بقول وہ تمام نظریاتی لوگ ابھی موجود تھے کہ جنہوں نے قائد کے ساتھ مل کر اس ملک کی بنیاد رکھی تھی…
1947 سے لیکر پہلے مارشل لاء 1958 تک پاکستان میں سات وزراء اعظم تبدیل ہوئے اور یہ وہ تمام لوگ تھے کہ جنہوں نے پاکستان بنانے میں اہم ترین کردار ادا کیا تھا لیکن یہ تمام نظریاتی لوگ اس نظریے کے سامنے تنکوں کا محل ثابت ہوئے کہ جو طاقتوروں نے 1949 میں قرار داد مقاصد کے نتیجے طور پر نافذ کیا، یہاں تک کہ اسکندر مرزا پاکستان کے پہلے صدر بنے وافقان حال کہتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو کو پہلی بار اقوام متحدہ جانے والے وفد کے ساتھ اسکندر مرزا نے بھیجا پہلی بار بھٹو ایک رکن کے طور پر اور دوسری مرتبہ اس وفد کے سربراہ کےطور پر اقوام متحدہ گئے وہ خطوط آج بھی تاریخ کا حصہ ہیں کہ جو بھٹو صاحب نے امریکہ میں بیٹھ کر اسکندر مرزا کو لکھے اور تعریفوں کے پُل باندھتے ہوئے بھٹو صاحب نے اسکندر مرزا کو ایک ایسا اثاثہ قرار دیا کہ جس کا نام تاریخ میں قائداعظم سے بھی اوپر لکھا جانا تھا، ذوالفقار علی بھٹو نے ہی ایوب خان کو ایک قیمتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے کبھی انکو پاکستان کا جمال عبد الناصر تو کبھی کمال اتا ترک قرار دیا یہ بھٹو صاحب ہی تھے کہ جب ڈھاکہ میں "آپریشن سرچ لائٹ” کے بعد پاکستان تشریف لائے تو یہ فرمایا کہ پاکستان کو بچا لیا گیا ہے اور اسی سانس میں افواج پاکستان کو پاکستان کا قیمتی اثاثہ قرار دیا، جب ایٹم بم بنانا شروع کیا تو یہی کہا کہ یہ ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہوگا، بھٹو صاحب کے ایک اثاثے کا نام جنرل ٹکا خان تھا ، جو ایسا ٹکا کہ بینظیر کی حکومت میں بھی گورنر پنجاب تھا …. ضیاء الحق نے بھٹو کو پھانسی دی تو یہاں کے لوگوں نے کہا کہ بھٹو صاحب ہمارا قیمتی اثاثہ تھے، جو بھٹو مخالف تھے انکے لیے ضیاء الحق اثاثہ تھے اور ضیاء الحق کے لیے افغان جنگ، جنگ لڑنے والے مجاہدین اور امریکی چاپلوسی اثاثہ تھی، ضیاء الحق جہاز کے دھماکے میں ہلاک ہوئے بم آم کی پیٹیوں میں رکھے گئے تھے جو بھی کوئی کہے لیکن وہ آم واقعی ایک اثاثہ تھے…..
بینظیر بھٹو کی حکومت قائم ہوئی بینظیر کے اثاثے کیا تھے یہ انہوں نے کبھی بیان نہیں کیا، لیکن ہاتھ میں تسبیح اور سر پر دوپٹے نے یہ بتایا کہ یہ ایمان ایک اثاثہ ہے جو انہیں فضل الرحمن سے ملا تھا، بی بی نے تمغہ جمہوریت دے کر یہ بھی بتایا کہ جنرل اسلم بیگ بھی اثاثہ تھے، گورنری دے کر بتایا کہ جنرل ٹکا خان بھی اثاثہ تھے اور وزارت دے کر یہ بتایا کہ صاحبزادہ فاروق بھی…..
میاں نواز شریف کی تو کیا ہی بات ہے میاں صاحب نے پنجاب کی چیف منسٹری ملک کے گیارہ اثاثہ برداروں کی مدد سے ہی حاصل کی تھی، میاں صاحب خود بھی جنرل ضیا الحق اور حمید گل کا انمول اثاثہ تھے، میاں صاحب نے قومی اثاثے بھی کچھ ایسے ترتیب دئیے کہ وہ انکے ذاتی اثاثوں کا شاپر ضرور ڈبل کراتے رہیں نوے کی دہائی میں میاں صاحب نے جو بھی پراجیکٹ شروع کیا وہ قوم کے لئے اثاثہ تھا مثال کے طور پر قرض اتارو ملک سنوارو، پیلی ٹیکسی اور موٹر وے وغیرہ وغیرہ….
بی بی بینظیر کی دوسری حکومت آئی تو بی بی کا سب سے قیمتی اثاثہ کہ جس کے بھروسے وہ بہت پُر اعتماد تھیں اسکا نام فاروق لغاری تھا جس کو وہ بھائی کہا کرتیں تھیں، یہ اور بات ہے کہ سگے بھائی کی سرِراہ موت پر وہ صرف ماتم کر سکیں کیونکہ شاید مرتضیٰ بھٹو بی بی کا اثاثہ تو تھا لیکن متنازعہ تھا، اور اسکے فوراً بعد انکے بھائی فاروق لغاری نے انہی کی حکومت بر طرف کر دی، اسی دور حکومت میں بی بی نے ایک انٹرویو میں سینہ ٹھوک کر کہا کہ Yes I am the Mother of Taliban یہ وہ واحد اعلان تھا کہ جو انہوں نے اپنے اثاثوں سے متعلق واضح طور پر کیا تھا، اس کے بعد یہ ہوا کہ بی بی ملک بدر ہو گئیں اور انکے اثاثے جن میں لاڑکانہ اور کراچی کے جائیدادیں اور آصف زرداری شامل تھے ریاست نے گروی رکھ لیے….
پرویز مشرف تو خود ایک اثاثہ تھے کمال بات تو یہ ہے کہ ضیاء الحق نے اسلام کا علم بلند کیا اور پرویز مشرف نے "ماڈرن انلائٹمنٹ” کا، 180 کے زاویے پر مختلف بلکہ مخالف نظریات کے باوجود یہ دونوں اس ملک کے لوگوں کے ہیروز بھی ہیں اور اثاثے بھی پرویز مشرف نے عتیقہ اوڈھو سے لیکر گلبدین حکمت یار، انجیلینا جولی سے لیکر ملا عمر، ایشوریا رائے سے لیکر بیت اللہ محسود اور امریکی ڈرونز سے لیکر امریکی فوج کے ائیر بیسز تک سب کو اثاثہ ہی قرار دیا، پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہے کہ جہاں بینگن ہی نہیں چیف جسٹس، آرمی چیفس اور صدر بھی کانے نکلتے ہیں پرویز مشرف کا ایک ایسا ہی اثاثہ افتخار چوہدری بھی تھا جس کی تاثیر کانے بینگن کی سی تھی کہ جو کھانے کے گھنٹوں بعد بھی سینے پر مونگ دلتا رہتا ہے یہی کچھ اس چیف جسٹس نے کیا مدت ختم ہونے کے کئی سال بعد تک یہاں یہ ثابت کرتا رہا کہ انصاف صرف اندھا ہی نہیں بھینگا بھی ہو سکتا ہے، یہ اور بات ہے کہ یوسف رضا گیلانی کو تیس سیکنڈ میں نا اہل کر دینے والے چیف جسٹس سے پرویز مشرف کا کیس سماعت تک کے لیے منظور نہ ہو سکا…. پرویز مشرف کے اثاثوں کی اگر بات کریں تو پرویز مشرف کو انکے کچھ لعل جو انہوں نے لال مسجد میں چھپا رکھے تھے جلانے پڑے کیونکہ ان لعلوں کی کچھ حرکتوں کی وجہ سے پرویز مشرف لال پیلے ہو گئے تھے، مختصر بات یہ کہ کچھ عرصے کے بعد ملک کے سب سے طاقتور ادارے نے پرویز مشرف کو قیمتی اثاثہ ڈکلئیر کرتے ہوئے ملک سے باہر منتقل کردیا…
اس کے بعد دو گورنمنٹس آئیں ایک زرداری کی دوسری نواز شریف کی انکے اپنے اثاثے تو تھے ہی کچھ اثاثے ان دونوں کو ریاست نے دئیے کسی کو اثاثے کے طور پر بینظیر کی لاش اور پرویز کیانی ملا تو کسی کو راحیل شریف اور ثاقب نثار، کسی کو میمو گیٹ ملا تو کسی کو پانامہ اسکینڈل ذاتی اثاثوں کی بات کریں تو ایک کا اثاثہ اسکا ڈپٹی پرائم منسٹر پرویز الہی تھا اور دوسرے کا وزیر داخلہ چوہدری نثار…..
کیوں نکالا ہوا اور حکومت آئی اس ملک سے سب سے قیمتی اور قدیمی اثاثے عمران خان کی… عمران خان اس قوم ، دنیائے کرکٹ ، ضیاء الحق، حمید گُل، نواز شریف، پرویز مشرف، جنرل پاشا، ثاقب نثار، مولانا سمیع الحق، علامہ طاہر القادری، حسن نثار، سمیع ابراہیم، صابر شاکر، مبشر لقمان، شاہد مسعود، سر گولڈ سمتھ، جمائما گولڈ سمتھ ،پاکستان کی ہر دوشیزہ، ہر وہ نوجوان جو پلے بوائے بننے کا شوقین ہو، جو نشے کا شوقین ہو سب کا مشترکہ اثاثہ ہیں یہ وہ اثاثہ ہے کہ جس پر یہاں کے لوگوں نے پیسے اور عورتوں نے زیورات کی بارش کی ہے، جس کی ہر خطا معاف ہے یہ وہ اثاثہ ہے کہ جس نے اگر کھیلنے کو چاند مانگا تو لوگوں نے کہکشاں دی وہ ابھی چند روز قبل کہتا پایا گیا کہ پاکستان کا اصل اثاثہ باہر ملک میں رہنے والے پاکستانی ہیں…. ایک اطلاع یہ ہے کہ اس وقت پاکستان کی کل برآمدات کا حجم ان پیسوں سے کم رہ گیا ہے کہ جو باہر ملک میں رہنے والے پاکستانی پاکستان بھیجتے ہیں اسی لیے تو قائد اعظم ثانی یہ کہتے ہیں کہ باہر ملک میں رہنے والے پاکستانی اصل اثاثہ ہیں یہ عمران خان کی انکساری ہے کیونکہ ایک ایسا آدمی کہ جس کی ہمرکابی شیخ رشید، شاہ محمود، فیصل واڈا، خاور مانیکا ،فیاض الحسن چوہان ،فردوس عاشق اعوان، زرتاج گل، فواد چوہدری، شہریار آفریدی، علی محمد خان، مراد سعید جیسے ان گنت اثاثے کرتے ہوں اور وہ ان سب کو نظر انداز کر کے باہر ملک میں رہنے والے پردیسیوں کا سوچے اور ان کو ترجیح دے تو وہ کیا اثاثہ نہیں ہے، کاش کہ اس ملک میں کوئی ہوتا جو عمران خان کو بتا پاتا کہ جن کو آپ اثاثے کہہ رہے ہو یہ اس قوم کے حکمرانوں کی کوتاہیاں ہیں کہ ہر اعلیٰ دماغ اس ملک سے نکل نکل کر باہر جاتا رہا اور آپ کو احساس تک. نہ ہوا کہ یہ کیا ہو رہا ہے لیکن آپ تو آپ ہیں کہ انکے کمائی کہ کچھ حصے پر خوش ہیں ….
کاش کہ اس ملک کے اثاثوں میں کلاشنکوف اٹھانے والے جنونیوں کی بجائے ایک بھی انٹرنیشنل لیول کی یونیورسٹی ہوتی جہاں صحیح معنوں میں ریسرچ ہو سکتی، ایک ایسا ہسپتال ہوتا کہ جہاں غریب کا علاج عزت دار طریقے سے ہو پاتا، کاش اس ملک کے لوگوں نے مل کر ایک بھی باوقار ادارے کی بنیاد رکھی ہوتی، اور کچھ نہیں تو کاش ہم ایک ایسا بیانیہ ہی ترتیب دے پاتے کہ جو قوم کی ترقی کی راہوں کا تعین کر سکتا، کاش ہم نے وہ اثاثے بنائے ہوتے جن سے ہماری نسلوں کا فائدہ ہوتا، کاش ایک ایسا نصاب ہی بنا لیا ہوتا جو ہمیں انسان رہنے دیتا، کاش ہم نے وہ اثاثے نہ خریدے ہوتے کہ جن کی وجہ سے اس ملک میں گذشتہ بیس سالوں میں ایک لاکھ پاکستانیوں کی جانیں گئیں…
لیکن اس سب کے باوجود مایوسی کی کوئی بات نہیں ملک کے رکھوالوں نے جو اثاثے رہ گئے ہیں ان کی حفاظت کا بندوبست کر لیا ہے اب اگر کسی کے پاس کچھ بھی بچ گیا ہے تو اسکو چاہیے کہ اس سے ڈی ایچ اے میں جائیدادیں خریدے، گھر بنانا ہو تو عسکری سیمنٹ سے بنائے تاکہ گھر مضبوط ہاتھوں میں رہے، باہر نکلے تو کار میں پیٹرول عسکر پیٹرولیم سے ڈلوائے، حفاظت کو مد نظر رکھتے ہوئے کچن کی چیزیں فوجی فوڈز سے خریدے، باہر سے کچھ کھانے کا دل کرے تو پاپا جونز کا پیزا کھائے اور اس کی پیمنٹ عسکری بینک کے کریڈٹ کارڈ سے کرے کیونکہ اب یہی کچھ ہے ملت کے مقدر کا ستارہ…..
فیس بک کمینٹ

