ظہور احمد دھریجہکالملکھاری

ظہور دھریجہ کا کالم : پرہلاد مندر اور پاکپتن یونیورسٹی کا معاملہ

چیف جسٹس سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ کرک مندر کے ساتھ ساتھ پرہلاد مندر کو بھی تعمیر کیا جائے ، گذشتہ دور حکومت میں پرہلاد مندر کی تعمیر کا فیصلہ ہوا مگر مندر کی بحالی نہ ہو سکی ۔ موجودہ حکومت نے پرہلاد مندر کی بحالی کافیصلہ کیا تو مذہبی حلقوں کی طرف سے اعتراضات آنا شروع ہو گئے ، ملتان کی انتظامیہ کی طرف سے علماء کرام کا اجلاس بلایا گیا اور کمشنر ملتان کی طرف سے بیان جاری ہوا کہ اجلاس میں علماء کرام نے مندر کی تعمیر پر اتفاق کیا ہے جبکہ اخبارات میں یہ بھی خبریں شائع ہوئیں کہ ڈپٹی کمشنر ملتان نے اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا ہے کہ مندر کی تعمیر سے مسائل پیدا ہونگے ۔ اس سے ظاہر ہوا کہ علماء کی بات اپنی جگہ رہی ملتان کی انتظامیہ ایک پیج پر نہیں ہے ۔
جو بات میں عرض کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ نہ جانے کیوں پرہلاد عمارت کو مندر کا نام دے دیا گیا حالانکہ پرہلاد کی ہسٹری یہ ہے کہ وہ توحید پرست تھا بتایا جاتا ہے کہ پرہلاد1500قبل مسیح کے زمانے سے تعلق رکھتا ہے ، پرہلاد کا زمانہ قبل از اسلام ہے اور یہ بھی دیکھئے کہ جس عمارت کی بنیادیں توحید پرستی کی ترویج کے لئے رکھی گئیں ، آنے والے وقتوں میں اسی عمارت کی شناخت ایک مندر کے طور پر کی جاتی رہی ہے۔ (بحوالہ :ملتان صدا آباد ‘جلد اول‘ صفحہ50)۔ یہ حقیقت ہے کہ پر ہلاد مندر حکومت کی طرف سے بین المذاہب ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ تاریخی ورثے کو محفوظ کرنے کی غرض سے تعمیر کیا جا رہاہے ، اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے ، ایک بات یہ بھی ہے کہ قلعہ کہنہ قاسم باغ پر جہاں پرہلاد کی عمارت موجود ہے اسی قلعے پر انگریز حملہ آوروں کے بڑے بڑے مقبرے بھی موجود ہیں ، اُن پر آج تک کسی نے اعتراض نہیں کیا ۔ لاہور میں گرد وارے بحال ہوئے ،مسلمانوں کے قاتل ایک سکھ مہاراجے کامجسمہ بنا کر حال ہی میں لاہور میں ایک ہیرو کے طور پرنصب کیا گیا ہے ، بابا گرو نانک کامقبرہ تو کیا اُن کے نام سے یونیورسٹی بھی بنائی جا رہی ہے کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیاجبکہ ملتان کے آثار کی بحالی پر اعتراض ہو رہاہے جو کہ ایک لحاظ سے دوہرا معیار ہے عمران خان نے دو نہیں ایک پاکستان کی بات کی۔
آئین بھی ہر طرح کے دوہرے معیار کی مخالفت کرتا ہے ،کوئی مانے نہ مانے یہ حقیقت ہے کہ پرہلاد عمارت کی تعمیر کے مسئلے پر لوگ حیران ہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ حکومت یہ مسئلہ حل کرنا چاہی ہے یا اس مسئلے پر اختلاف کرانا چاہتی ہے ؟ یہ اہم مسئلہ ہے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کو اس مسئلے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے مگرایسا لگتا ہے کہ اُن کی ترجیحات میں وسیب شامل نہیںلیکن میں واضح کرنا چاہوں گا کہ حکومت کو واضح پالیسی اختیار کرنا ہو گی تاکہ لوگ مخمصے کا شکار نہ ہوں ۔ کرک مندر کو آگ لگانے کے واقعے پر معروف عالم دین مولانا طاہر اشرفی کا بیان آیا تھاکہ اس واقعے سے پاکستان کا بین الاقوامی سطح پر تشخص مجروح ہوا ہے اور مندر کو آگ لگانے کا واقعہ اسلامی اور پاکستانی اقدار کے منافی ہے ۔ اس کے برعکس کچھ لوگ پرہلاد عمارت کی تعمیر کے خلاف یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم ہندوئوں کو ہولی نہیں کھیلنے دیں گے جبکہ اس طرح کی بات کرنے والوں کو یہ بات بھی سامنے رکھنی چاہیے کہ ہندوستان میں بھی مسلمان آباد ہیں اور وہاں بھی ہم مسلمانوں کی عبادت گاہیں موجود ہیں اور وہاں انتہا پسند ہندو جنونی مودی برسراقتدار ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہولی کی جو تاریخ بتائی گئی ہے وہ بھی در اصل توحید پرستی پر مشتمل ہے ، تاریخ کی کتابوں میں یہ بات درج ہے کہ ’’ ہزاروں سال پہلے ملتان کا متکبر حکمران ہرنایک سپو خود خدا بن بیٹھا، اس کے گھر پرہلاد پیدا ہوا، کچھ بڑا ہوا تو باپ کی طرف سے ’’وشنو ‘‘ (خدا) کا انکار اسے کو پسند نہ آیا، ایک دن اپنے استاد کے ساتھ پرہلاد باپ کے دربار میں حاضر ہوا، وہ شراب کے نشے میں تھا، پرہلاد نے جھک کر سلام کیا تو اس نے پوچھا تم نے کیا پڑھا ہے، پرہلاد نے کہا میں نے اس ہستی کی حمد پڑھی ہے جس کی نہ ابتدا ہے نہ انتہا، جو کل کائنات کا مالک ہے،یہ سن کر پرہلاد کاباپ سخت غصے میں آ کر بولا میں تین بادشا ہتوں کا خدا ہوں ، میرا بیٹا میرا منکر ہے ،اسی غصے کی حالت میں ہرنا نے حکم دیا کہ پرہلاد کو آگ میں زندہ جلا دو ، کہا جاتا ہے کہ آگ کے لاؤ میں اسے ڈالا گیا ، مگر آگ گلزار بن گئی ، اس خوشی میں خدا پرستوں نے جشن منایا اور خوشی میں ایک دوسرے پر رنگ ڈالے گئے،اور خوشی کے اس عمل کو ہولی کا نام دیا گیا۔ ‘‘
پرہلاد کی توحید پر مبنی سوچ کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے ، تاریخی عمارتیں کسی بھی خطے کا اثاثہ سمجھی جاتی ہیں اور سیاحت کے حوالے سے بھی ان کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ،آثار کو محفوظ بنانا بھی ضروری ہے اور راستے کھولنا بھی ضروری ہے۔ راستے کھولتے وقت اس تاثر کو ختم ہونا چاہیے کہ تمام راستے سکھوں کے لئے کھولے جا رہے ہیں اور مسلمانوں کے لئے اب بھی پابندیاں ہیں ، میں یہ بار بار کہتا ہوں کہ امروکا بٹھنڈہ بارڈر بھی کھلنا چاہئے کہ یہ راستہ حضرت خواجہ نور محمد مہاروی ؒ اور حضرت معین الدین ؒچشتی اجمیری کا راستہ ہے ، اس کا بھی مسلم آبادی کو فائدہ ہے ، میں نے پہلے بھی لکھا تھا کہ قیام پاکستان سے پہلے سمہ سٹہ تا دہلی براستہ امروکہ بٹھنڈہ بہت بڑا ریلوے روٹ تھا اور یہاں سے چلنے والی پسنجر و گڈز ٹرینوں کی تعداد دوسرے روٹوں سے کہیں زیادہ تھی اور بہاولنگر اس روٹ کا بہت بڑا اسٹیشن اور تجارت کا بہت بڑا مرکز تھا۔ بہاولنگر کا ریلوے اسٹیشن اتنا وسیع اور خوبصورت تھا کہ سیاح محض اسے دیکھنے کیلئے آتے تھے ۔ مگر قیام پاکستان کے بعد امروکہ بٹھنڈہ روٹ بند ہونے سے سب کچھ اجڑ گیا ۔ آج اگر اس سٹیشن کی زبوں حالی اور بربادی کا نظارہ کیا جاتا ہے تو سنگدل سے سنگدل آدمی کی آنکھوں میں بھی آنسو آ جاتے ہیں ۔ دوسری جانب اپر پنجاب میں بہاولنگر سے کم حیثیت کے شہروں کو بہت زیادہ ترقی دے دی گئی ۔عجب بات ہے کہ لاہور میں بابا گرونانک یونیورسٹی بنائی جا رہی ہے مگر بابا گرو نانک کے مرشد حضرت بابا فرید الدین گنج شکر کے نام پر پاکپتن میں یونیورسٹی کیوں نہیں بن سکتی ؟

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker