کہیں کھو آئے ہیں اپنی زباں خاموش رہتے ہیں
وگرنہ ظلم پر ہم سب کہاں خاموش رہتے ہیں
جہاں پابندیاں ہوں بولتے ہیں ہم وہاں لیکن
جہاں اذن تکلم ہو وہاں خاموش رہتے ہیں
کسی کے نام پر اب خود کو دیوانہ نہیں کرتے
کیے یادوں کا سر پر سائباں خاموش رہتے ہیں
بغاوت اور اطاعت دو حدیں ہیں مختلف لیکن
ہم ان دونوں حدوں کے درمیاں خاموش رہتے ہیں
ہم اپنے حق میں خود ہی بولتے ہیں وقت آنے پر
ہمارے آشنا اور مہرباں خاموش رہتے ہیں
وہ کیا بچپن تھا جب اک دوسرے سے بات کرتے تھے
رضی جب سے ہوئے ہیں ہم جواں خاموش رہتے ہیں
( دن بدلیں گے جاناں ۔۔ مطبوعہ مئی 1995 ء )
فیس بک کمینٹ

