عید خوشیاں تو لاتی ہےلیکن کچھ زخم بھی تازہ کر دیتی ہے ۔ ہر مرتبہ ہم اپنے ان پیاروں کو یاد کرتے ہیں جو پچھلے برس اور اس سے پہلے توعیدین پر ہمارےدرمیان موجود تھے لیکن اب ہم نے ان کے بغیر عید منائی اور اگلے برسوں میں بھی وہ صرف ایک یاد کی صورت ہی ہمارے درمیان ہوں گے ۔ ان میں سے کوئی ہمیں فون کرتا تھا ۔ کوئی عید کارڈ بھیجتا تھا ۔ کسی سے ہم عیدی لیتے تھے اور کسی کو عید دیتے تھے اور کچھ لوگوں کے ساتھ ہمارا تحائف کا تبادلہ ہوتا تھا ۔ جیسےہم ہر نئےسال عیسوی کےآغاز پر دکھوں کا گوشوارہ مرتب کرتے ہیں اور سال گزشتہ میں بچھڑ جانے والوں کو یاد کرتے ہیں اسی طرح ہر عید پر بھی زخم شماری بھی ضرور ہوتی ہے ۔ اس برس تو یوں لگا جیسے یہ پرسے دینے والی عید ہے ۔اپنا ہی ایک شعر یاد آ گیا
مبارک باد دینا چاہتے تھے
مگر لوگوں کو پرسہ دے رہے ہیں
اس عید پر ہمارا پہلا پرسہ برادرم شاکر حسین شاکر کے لیے جن کی والدہ پچھلی عید پر ان کے لیے دعا گو تھیں لیکن آج وہ ان کے بغیر ہیں اور عید پر ان کے ساتھ گزرے لمحات کو یاد کر رہے ہیں ۔ ابھی شاکر بھائی کو پرسہ دینے کا سوچ ہی رہا تھا کہ برادرم قیصر عباس صابر کی والدہ کےانتقال کی خبر آ گئی چاند رات کو قیصر کے جیون میں ایسی تاریکی آئی جسے وہ کبھی فراموش نہیں کر سکے گا ۔ اک چراغ بجھ گیا جس کی لو میں وہ اپنے گاؤں سے نکلا اور پھر اس پر سب راستے کھلتے چلے گئے ۔ وہ ماں رخصت ہوئی جس نے غربت کے عالم میں اپنے بچے کی اس طرح سے پرورش کی کہ اسے بے پناہ خود اعتمادی میسر آ گئی ۔ قیصر بڑے بڑوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جرات کے ساتھ بات کرنے کا ہنر جس ماں کی گود سے لایا تھا وہ اسےجاتے ہوئے یوم ِ عید پر اپنا جنازہ دے گئی ۔۔ ماں کی موت تو یوں بھی نہیں بھولتی لیکن عید کے روز ماں کا جنازہ تو اسے عمر بھر یاد رہے گا ۔اور یہ عید مجھے بھی کبھی نہیں بھولے گی کہ میں نے چاند رات اپنی ماں کے ساتھ جاگ کر اور وسوسوں کو جھٹکتے ہوئے گزاری ہے ۔ میرے دوست جانتے ہیں کہ مجھے سبق یاد کرانے والی ماں اب اپنی یادداشت کھو چکی ہے ۔ وہ ماں جو بچپن میں مجھے کہانیاں سناتی تھی اب رات بھر میں اسے بیٹھ کر کہانیاں سناتا ہوں ۔ اس کی ضدیں پوری کرتا ہوں ۔ اسے بتاتا ہوں کہ ہم جلیل آباد میں اپنے ہی گھر میں بیٹھے ہیں لیکن ماں ضد کرتی ہے کہ مجھے جلیل آباد لے جاؤ میں تو محلہ مروچاں وارڈ نمبر چھے گلی پتراں والی میں اپنی ماں کے پاس بیٹھی ہوں اور پھر میں اس کا ماتھا چومتا ہوں اس کی خالی اور ویران آنکھوں میں دیکھتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ میرے لیے دعائیں کرتی ماں ہمیشہ سلامت رہے ۔ لیکن مجھ سے اب ماں کی ا ذیت اور بے بسی بھی برداشت نہیں ہوتی ۔۔ اور ہاں اس خطے میں سفر نگار ی کو رائج کرنے اورمستنصر حسین تارڑ صاحب سے داد وصول کرنے والے میرے بے موسمے دوست ڈاکٹر عباس برمانی کے والد بھی تو پچھلے برس نماز عید پر اپنے بچوں کے ساتھ تھے ۔ پھر ایک روز قبل ہی تو ہم نے اپنےشہر کے اس منصور کو رخصت کیا جو کریم بھی تھا جس کےدم سےشب نوردوں کی محفل آباد رہتی تھی۔ جو اس شہر میں قومیتی سیاست کو متعارف کرانے والوں میں شمار ہوتا تھا اور جس کے ساتھ بیٹھ کر ہم سیاست ، ادب اور ثقافت پر گفتگو کرتے ، سرائیکی صوبے کے خوب دیکھتے اور اپنے خطے کی محرومیوں پر بات کرتے ، ہم اسے مٹھی بھینچ کر سگریٹ کا ایسے کش لگاتے دیکھتے کہ جیسے وہ سامراج کی طرح سگریٹ کا بھی دم نکال کر رہے گا ۔
ہم منصور کریم کو محمود نظامی اور فدا حسین گاڈی کے ساتھ دھواں دھار بحث کرتے اور باقاعدہ جھگڑتے دیکھتےاور یہ سوچ کر اس ڈیرے سے رخصت ہوتے کہ اب یہ دوبارہ کبھی نہیں ملیں گے ، لیکن اگلے روز وہاں جاتے تو ماحول ایسا ہوتا کہ جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہیںتھا ۔ ۔ ہم ان کی محفل میں کامریڈوں کی آخری نسل کی گفتگو سنتے ۔ ان کی امید ، یقین اور حوصلے پر رشک کرتے ۔ منصور کریم سےپہلے ڈاکٹر اے بی اشرف نے ترکی سے آ کر ملتانی مٹی اوڑھی اور ان سے بھی پہلے ہمارے اور آپ کے ڈاکٹر اسلم انصاری اور راشد سیال یکے بعد دیگرے رخصت ہوئے ۔ستمبر میں ہمارے پیارے دوست الفراق جیسے خوبصورت شعری مجموعے کے خالق اجمل سراج ہمیں داغ فرقت دے گئے ۔چند ماہ قبل نام ور سپورٹس رپورٹر عمران عثمانی کی ہمشیرہ نے کینسر کے خلاف طویل جنگ ہاری ۔ گزشتہ ماہ ترقی پسند صحافی کامریڈ ارشد بٹ نے رخت سفر باندھا ۔۔ سو اس عید پر ہم نے بہت سے پرسے دیئے ، بہت سے دوستوں کو حوصلہ دیا ، فلسطینیوں پرسحری اور افطاری کے لمحات میں بمباری پر آنسو بہائے ۔ جعفر ایکسپریس میں لقمہ اجل بننے والے شہریوں اور جوانوں کو یاد کیا لیکن ان لاپتا بلوچوں کو یاد نہیں کیا جن کے ورثاء کئی روز سے ان کی تصویریں ہاتھوں میں لےکر دھرنا دیئے بیٹھے ہیں ۔ ہم نے ان اشک بہاتی ماؤں ، بہنوں اور بیٹیوں کے لیے اس لیےبھی آنسو نہیں بہائے کہ عید خوشی کا تہوار ہے اور عید پر رونا منع ہے ۔
فیس بک کمینٹ

