صائمہ نورین بخاریکالملکھاری

انٹری ٹیسٹ : تعلیمی دہشت گردی اور اکیڈمی مافیا ۔۔ صائمہ نورین بخاری

ایف آئی اے نے پنجاب بھر کے تریسٹھ ہزار طلباء کا مستقبل داؤ پر لگانے والوں کو دھر لیا۔ میڈیکل انٹری ٹیسٹ کا پرچہ آؤٹ کرنے میں ملوث ملزم کی بیرون ملک فرار کی کوشش بھی ناکام بنا دی گئی ۔ پرچہ دوبارہ لینے کی تاریخ کا اعلان بھی کردیا گیا ہے
یہ وہ خبر ہے جس کا انتظار میڈیکل کالجز کے لئے انڑی ٹیسٹ کے ستائےہوئے ان طلبہ و طالبات اور ان کے والدین کو شدت سے تھا جو ڈاکٹر بننے اور بنانے کے روایتی خواب دیکھ چکے تھے ۔۔اور اسے ایک تکلیف دہ خواب سمجھ کر ایک ”نائٹ میئر “کی طرح سہنے کی کوشش کررہے تھے۔
جو اکیڈمی مافیا کے ستائے ہوئے والدین اور طالب علم ہیں وہ اس کرب سے بخوبی واقف ہیں کہ آج کسی بھی پروفیشنل ڈگری کا حصول صرف ہمارے ملک میں ہی نہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی ایک دقّت طلب خواہش ہے ۔۔۔لیکن جس طرح تعلیم کے مقدس شعبے کو ہم نے بیوپار بنا ڈالا ۔۔۔ تعلیم کا تقدس تاجروں کے حوالےکرکے اس کی شفافیت پہ خواہ مخواہ مطمئن ہوگئے ۔۔ایسا کبھی اور کہیں بھی نہیں ہوتا ۔۔۔ایف ایس سی کے لئے پہلے نا مہربان موسم کی سختیاں برداشت کیجیئے پھر پرائیویٹ کالجز کے تاجروں کی من مانیاں جھیلتے ہوئے ،سرکاری سکولوں اور کالجوں کی ناگفتہ بہ صورت حال میں جاکر پیپرز دلوائیے ۔۔۔پھر پریکٹیکلز کے نمبرز لگوانے کے لیے اس عملے کی چاپلوسیاں کجیے جو علم بانٹنے کے دعویدار ہیں ۔۔۔پھر نمبروں کے تھوک کے حساب سے آنے کا انتظار کیجیئے جو میڑک میں پوزیشنوں کی دوڑ میں آپ کے بچے پہلے ہی ڈھیروں کے حساب سے لے چکے ہیں۔۔۔۔aggregate percentage میں آپ کو میڑک دس فی صد ،ایف ایس سی پری میڈ چالیس فیصد اور انڑی ٹیسٹ کی پچاس فیصد والی تلوار کا سامنا کرنا پڑے گا ۔۔۔۔پھر اکیڈمی مافیا کی للکار پہ کمربستہ ہوجائیے اس دوران اگر آپ کی یا طالب علم کی کمر فیسوں اور پڑھائی کے بوجھ تلے دب چکی ہے تو پھر سے ڈھیٹ بن کر اٹھنے کے عمل میں یہی اکیڈمی مافیا آپ کی اپنے چکنے چپڑے دعووں سے مدد کرے گا ۔۔صاحب ِاستطاعت تو گھر بیچیں یا پلاٹ ،غریب بے چارے اپنی گائے بیچیں یا بکریاں یا خود اپنے دل ودماغ گردے جگر ،سب ہی رہن رکھ دیں مگر یہ تعلیم کے بیوپاری آپ کے دکھ سے ناواقف ہی رہیں گے کیوں کہ انہوں نے اپنے کرائے کے بھوت بنگلوں کو اکیڈمی کا درجہ دیکر آپ کے خرچے سے آپ ہی کو درے لگانے کا فیصلہ جو کیا ہوا ہے ۔۔اب اس تکلیف دہ تصویر کی بدصورتی اس وقت تکمیل پائے گی جب ایک دیہاتی سا میلہ ”انڑی ٹیسٹ “کے نام پہ بپا ہوگا ۔۔۔گرد نواح اور چھوٹے بڑے شہروں سے ،حبس آلود بدترین موسم اگست میں پھر تھوک کے حساب سے نمبر لینے والے بچوں اور ان کو ڈاکڑ بنانے والے والدین کےصبر و ضبط کا امتحان لیا جائے گا۔۔۔۔وہ تعلیمی بارہ سال کے نمبر ایک طرف اور ان اعصاب شکن گھنٹوں کے نمبر ایک طرف ۔۔۔
۔۔۔سر چکراتے سفر سے بچی کھچی توانائی سبنھالتے ہوئے ،برائلر اور سپرے والی سبزیاں کھاکے جینے والے بچوں کے اعصاب کا امتحان ۔۔۔اگر اسی طرح لینا تھا تو کیا بورڈ کو زحمت اکیڈمی مافیا کے ڈرم ایسے پیٹ بھرنے کے لیے دی گئی تھی؟؟ پھر ہزار نمبر لینے والے بھی جوابی پیپر کی مدد سے اپنے ایسے ایسے نمبرز دیکھیں گے جو ان کی سوچ سے بھی پرے تھے ۔۔۔پھر والدین کی ڈانٹ پھٹکار کا ماتم شروع ہوگا ۔۔۔خودکشیوں کی نوبت آئے گی ۔۔۔باپ اپنی لٹی ہوئی کمائی اور ماں اپنے بچے کو ڈاکٹر نہ بنانے کا عزم پلو سے باندھ کر پھوٹ پھوٹ کے رو دے گی ۔۔۔پھر ان میں سے کچھ ادھ موؤں کو پرائیویٹ میڈیکل کالجز کی لوٹ مار کا ”سہارا “تلاش کرنا ہوگا ۔۔یعنی بارہ سال کی تعلیمی جدوجہد ایک طرف اور تین گھنٹے کا ڈرامہ ایک طرف ۔کیا کہیے کہ یہ الگ سے ایک کمر توڑ مافیا کا گروہ تھا ۔جس پر توجہ دینا پی ایم ڈی سی کا کام تھا ۔یا والدین کا ۔۔۔۔یا اسا تذہ کرام کا ۔۔۔جنہوں نے سرکاری کالجز میں نہ پڑھانے کا عزم مصمم کرتے ہوئے ان اکیڈمی مافیا کی فصلوں کو پھلنے پھولنے کا موقع دیا ۔۔۔خواب لے لو ۔۔خواب ۔بکیں گے ۔۔۔مگر خواب تو نور ہیں یہ کالے پہاڑوں سے ڈرتے نہیں صاحبو !!!پھر پانچ چھ سال بعد وہ طالب علم جو ڈاکڑ بن کے نکلے گا وہ عملا “ہڑتالی“ ہے اور بے زار سوالی ہے ۔؟؟؟؟۔۔۔کیا ہے یہ سب کچھ ۔۔؟منصفو؟؟؟؟؟؟۔۔تعلیمی دہشت گردی ۔۔؟ علمی تجارتی کھلواڑ یا مستقبل کے معماروں کی صلاحیتوں اور خوابوں کا قتل عام ۔۔۔خیر ان معصوم بچوں اور ان کے ان سے بھی ز یادہ معصوم والدین کو نوید ہو کہ ان کے صبر کی بھی سنی گئی اور اس بارتریسٹھ ہزار طلبا کے مستقبل سے کھیلنے کی کوشش مہنگی پڑگئی۔ میڈیکل انٹری ٹیسٹ کا پرچہ آؤٹ کرنے میں ملوث (مصدقہ نیوز چینلز کے مطابق )ملزم ملتان ائرپورٹ سے پکڑا گیا ہے ڈاکڑز اور پروفیسرز کے اس گروہ میں سےپرچہ آؤٹ کرنے کے الزام کے تحت لاہور پولیس نے بارہ افراد کو پہلے ہی گرفتارکررکھا ہے جبکہ رحیم یار خان سے گرفتار پروفیسر دس روزہ ریمانڈ پر جیل میں ہے۔
واضح رہے کہ بیس اگست کو ہونے والے انٹری ٹیسٹ کا پرچہ آؤٹ ہونے کی تصدیق کے بعد حکومت نے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے قائم مقام وائس چانسلر کو ہٹا کر پروفیسر ڈاکٹر فیصل مسعود کو چارج سونپ دیا تھا۔تمام طلباء سے میڈیکل کا انٹری ٹیسٹ اس ماہ کے آخری ہفتے میں دوبارہ لیا جائےگا۔لو پیارے بچو !!!بن جاؤ ڈاکٹر کہ ابھی اس نام نہاد عشق کے امتحان اور بھی ہیں ۔۔۔۔لیکن گزشتہ کئی سالوں سے جو مذموم کاروبار ،انڑی ٹیسٹ کی خریداری نام پر اور طلبہ کی میڈیکل کالجز میں داخلے کے نام پر جاری ساری تھا ان کا حساب کون لے گا ۔۔۔۔بیچنے والے یا خریدنے والے یا اس حشر کو بپا کرنے والے ؟؟؟؟اور میرا تعلیمی حکام بالا سے سوال ہے کہ بیس سال پہلے جب انٹری ٹیسٹ کو رائج کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا تو کہا جاتاتھا کہ بوٹی مافیا کا راج تھا مگر آج دیکھیے تو اکیڈمی مافیا کی حکمرانی ہے ؟؟؟یہ اخلاقی سطح پہ تعلیم کی پائمالی ہے یا نہیں ؟؟؟طالب علموں کو ایک مرتبہ امتحانات کے” شفاف “ مرحلے سے گزارنے کے بعد ان کے راستے میں مزید رکاوٹ
ڈالنے کے لیے انڑی ٹیسٹ کا کوئی اور فائدہ ہو تو بتائیے ؟؟

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker