سائرہ راحیل خانسرائیکی وسیبکالملکھاری

عاصمہ : مکتب سے مقتل تک۔۔ سائرہ راحیل خان

“اماں پریشان مت ہوں کچھ
دنوں تک تنخواہ مل جائے گی مجھے ۔ انشااللہ سب بہتر ہو جائے گا”
اس نے ماں کو پریشان حال دیکھ کر تسلی دی۔
“انشااللہ”
ماں نے اس کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔
“اور آپی میری فیس کا کیا بنے گا؟ پرنسپل صاحب کہہ رہے تھے جو اس ماہ بھی فیس جمع نہ کرائی تو میرا نام سکول سے خارج کر دیا جائے گا”
بھائی نے رونی صورت بناتے ہوئے اس کی پریشانیوں کی لامحدود فہرست میں ایک اور پریشانی درج کر دی۔۔۔۔۔
“فکر مت کرو نہیں ہونے دوں گی تمہارا نام خارج”
چہرے پر بکھرے فکر و غم کے تاثرات سمیٹتے ہوئے اس نے ہونٹوں پر بمشکل مسکراہٹ سجائی اور اپنے چھوٹے بھائی کا کاندھا تھپتھپایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے مفلسی کے بادلوں میں گھِرے حالات میں جنم لیا تھا ۔ ماں باپ نے اسے اچھی تربیت کے علاوہ اپنی حیثیت کے مطابق کچھ تعلیم بھی دلوائی تھی۔ جو اس کا سب سے قیمتی اثاثہ تھا۔ اسی کے بل بوتے اس نے ایک پرائیویٹ سکول میں نوکری حاصل کی ۔ تنخواہ کے طور پر ملنے والے چند روپے اگرچہ اس کے بےشمار مسائل کا مکمل حل نہیں تھے مگر چند مشکلات سے نمٹنے کا ذریعہ ضرور تھے۔ ۔۔۔۔۔۔
لفظ “خواہش” تو اس نے ابھی فقط پڑھنا اور لکھنا ہی سیکھا تھا کہ “ضرورتوں” کے بوجھ نے اس کا قد خواہشوں تک پہنچنے ہی نہیں دیا۔۔۔۔۔ خواب اس کی آنکھوں کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی تھے کہ زندگی کی تلخ حقیقت انہیں واپس دھکیل کر ان میں رتجگوں کی تھکان بھر دیتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسائل صرف گھر تک محدود نہیں تھے۔ جہاں چند روپوں کے عوض چھ، سات گھنٹوں کی غلام تھی وہاں بھی اسے آئے دن بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ مگر ان حالات میں یہ نوکری اس کا واحد آسرا تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر کا راشن، ماں کی دوا ، بھائی کی فیس۔۔ اور نجانے کتنی الجھنوں کے تعاقب نے اس کی نیند کو رات بھر دوڑائے رکھا ۔
آج اسے تنخواہ ملنی تھی۔ امید کی اس کرن کے ساتھ ہی سورج طلوع ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ تیار ہو کر سکول کے لیے نکلی، رات بھر کی سوچیں تھکاوٹ بن کر اس کے چہرے کی رنگت زرد کیے دیتی تھیں۔۔۔۔۔۔
۔ سکول پہنچ کر اسے یاد آیا کے آج اسے ایک پریزنٹیشن تیار کرنا تھی۔ جسے وہ گھر کی پریشانی میں یکسر بھلا چکی تھی ۔ ابھی وہ اس کے متعلق سوچ ہی رہی تھی کہ پرنسپل آفس سے اس کا بلاوا آگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“جی مس! دکھائیے کہاں ہے آپ کی پریزنٹیشن ؟”
پرنسپل نے دریافت کیا۔
“مم مم میڈیم! میں بہت معذرت خواہ ہوں کہ کچھ گھریلو مسائل کے باعث ابھی تیار نہیں کر پائی”
اس نے نظریں جھکائے، لڑکھڑاتی زبان سے جواب دیا۔۔۔۔۔۔۔
” تم یہاں نوکری کرنے آتی ہو یا آئے دن نئے بہانے گھڑنے؟ اسقدر مسائل ہیں اگر تمہارے گھر کے تو گھر بیٹھو، یہاں آنے کی تکلیف کیوں کرتی ہو”
پرنسپل بھنویں سکیڑتے ہوئے اس پر غرائی۔۔۔۔۔۔
“میڈم میں کل تک انشااللہ تیار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مجھے ابھی کچھ دیر کے اندر اندر کام مکمل چاہئے ، ورنہ کل تک پریزنٹیشن تو کیا میں تمہیں بھی سکول میں برداشت نہیں کروں گی ، اب دفع ہو جاؤ یہاں سے”
اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی، پرنسپل اس بار اتنی زور سے گرجی کہ اس معصوم کا پورا وجود لرز کر رہ گیا۔ ۔۔۔۔۔
رات بھر کی پریشانیوں کے بعد اب اس نئی مصیبت نے اس کے ہوش و حواس جیسے کسی شکنجے میں جکڑ لیے۔ شدید دباؤ کے باعث اس کا دماغ ماؤف ہونے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنا ٹوٹا بکھرا بے جان ہوتا وجود بمشکل ڈھوتے ہوئے کلاس روم تک پہنچی ہی تھی کہ دھڑام سے زمین پر ڈھیر ہو گئی۔ گرتے وقت اس کا سر اس بری طرح سے کرسی پر لگا کے ماتھے سے بےتحاشہ خون بہہ نکلا۔ ۔۔۔۔۔۔ کلاس روم میں موجود بچوں نے باقی ٹیچرز اور پرنسپل کو فوراً اس حادثے سے آ گاہ کیا۔۔۔۔۔۔
اس کی ایک کو لیگ سہیلی نے جلد از جلد ایمبولینس بلوانے کی درخواست کی جس پر پرنسپل نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کے سکول میں ایمبولینس آنے سے سکول کی ریپیوٹیشن کو خدشہ لاحق ہو سکتا ہے۔ ۔۔۔۔ معاملہ سکول کے مالکان تک پہنچایا گیا اور ان کی گاڑی مانگی گئی۔ مگر افسوس کے اس غریب کا بہتا خون سکول مالکان کی برانڈ ڈ کار سے کہیں زیادہ سستا اور بے وقعت نکلا، تاہم تیزی سے ڈوبتی اس معصوم کی سانسوں کو مزید تاخیر کے حوالے کر دیا گیا اور مالکان نے اپنی ذاتی سواری دینے سے صاف انکار کر دیا۔ بلآخر اس غریب کی وقعت و حیثیت کے مطابق اسے ایک معمولی رکشے میں شہر کے تھرڈ کلاس اسپتال تک لے جایا گیا۔ جہاں تاخیر کے باعث مریض کی بگڑتی حالت اور علاج معالجے کے اعلیٰ انتظامات کی عدم موجودگی کے باعث انتظامیہ نے اسپتال میں داخل کرنے سے انکار کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے اس وقت فوری طور پر کسی اچھے اسپتال اور بہترین علاج کی اشد ضرورت تھی۔ مگر جس بد بخت کی زندگی میں کبھی کچھ اچھا نصیب میں نہیں لکھا تھا بھلا اس کی دم توڑتی زندگی کو اب کس “اچھے” کی امید تھی؟
وہ اکھڑتی سانسوں کے ساتھ لہولہان ، اسٹیچر پر پڑی سسکتی رہی ۔ دوسری طرف پرنسپل صاحبہ جو پہلے ہی اسے یہاں تک لانے کا احسانِ عظیم کر چکی تھیں ، اب اسے مزید کسی اچھے اسپتال منتقل کرنے کے موڈ میں نہیں تھیں۔ تاہم محترمہ نے وہیں رہ کر کچھ دیر اور رکنے کی زحمت فرمائی ۔ اسکی زندگی کی گھڑیاں تیزی سے ختم ہونے کی پرواہ کیے بغیر اس کے لواحقین کو مطلع کیا کہ وہ آکر اپنی ذمہ داری سنبھالیں تاکہ وہ اس جھنجھٹ سے جلد از جلد بری الذمہ ہو سکیں۔
افسوس! کہ جب تک اسکے بدنصیب لواحقین پہنچے ، اس معصوم کی بہادری وقت اور سماج کی سنگدلی سے تنہا لڑتے لڑتے بلآخر اپنے گٹھنے ٹیک چکی تھی۔ وہ زندگی کی بازی ہار چکی تھی۔
غمزدہ ماں جس نے پھولوں سی نازک بچی کا جو بدن سرخ جوڑے سے سجانے کے خواب دیکھے تھے، جب لہو سے سنا دیکھا تو اس کی بوڑھی آنکھیں پتھرا گئیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔ بھائی نے پیاری بہن کے اُن شفیق ہاتھوں کو آخری بوسہ دیا جو آج صبح ہی اس کے کاندھے پر تھپتھپائے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک بیٹی ایک بہن کے ساتھ ساتھ آج ان غریبوں کی ایک آس نے بھی دم توڑ دیا تھا۔۔۔۔۔۔
معاشرے کی گھٹن زدہ سوچ، زمین بوس اخلاقیات، سرد رویے اور فرعونیت سے بھرپور تکبر ،،، سب کے سب ایک مجبور اور معصوم کے اجتماعی قتل میں ملوث تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور وہ درسگاہ جہاں وہ تعلیم بانٹنے کے عوض ملے چند روپوں سے اپنے گھر کے حالات سدھارنے نکلی تھی ، آج اس کے ناحق خون سے رنگی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جن آنکھوں کو عرصے سے پرسکوں نیند نصیب نہیں ہوئی تھی آج
“مکتب سے مقتل” تک کا سفر طے کیے ابدی ننید سو چکی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker