قصور کی کمسن زینب کے اغواسے قتل تک ایک ظلم کی داستان ہے اور پھر 14دن تک قاتل کیسے قانو ن کی آنکھوں میں دھول جھونکتا رہا یہ ایک الگ کہانی ہے۔ہمارا معاشرہ اتنا بے حس کیوں ہو چکا ہے ،اتنی ہوس پرستی ہم میں کیسے آ گئی۔قاتل کیسے ڈھٹائی سے مظلوم بچی کے جنازے میں بھی شریک ہوا اور پھر اس کے قتل کے خلاف ہونے والے مظاہرے میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔یہ سب ایک اندوہناک داستان ہے جوگزشتہ سال 4جنوری 2018سے شروع ہوتی ہے۔جب ننھی زینب نجانے کس آس پرقاتل کے اشاروں پر بھاگتی دوڑتی اس کے پیچھے جا رہی ہوتی ہے۔4جنوری کو ہی زینب لاپتہ ہو جاتی ہے۔جس کے بعد گھر والے زینب کو تلاش کرتے رہے مگر بے سود ۔
زینب کو تلاش کرنے کے لیے پولیس کو اطلاع کی گئی تو پولیس نے اپنی روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آئیں بائیں شائیں سے کام لیا۔زینب کے والدین جو کہ عمرے کے سلسلے میں سعودی عرب تھے ان کو بھی زینب کی گمشدگی اطلاع دے دی گئی۔والدین جب حرم میں تڑپ تڑپ کر بیٹی کے لیے دعائیں کر رہے ہوں گے اسی وقت کمسن زینب اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے باعث جو آہ و بکا بلند کر رہی ہو گی اس نے عرش ہلا دیا ہوگا۔سب کوششیں کی گئیں مگر زینب بازیاب نہ ہوئی۔آخر کار9جنوری کو زینب مل گئی لیکن بے حس و بے حرکت ۔شائد اپنے اوپر ہونے والے ظلم پر چیخ چیخ کر تھک چکی تھی ۔لاش برآمد ہوئی تو زینب کے گھر قیامت آ گئی ۔10جنوری کو جم غفیر نے مظلومہ بچی کا جنازہ پڑھا اور انہی لوگوں میں کہیں کھڑا زینب کا قاتل بھی جنازہ پڑھتا رہا اور نہایت ڈھٹائی سے زینب کے لواحقین کو تسلیاں دیتا رہا۔10جنوری کو اسی دن زینب کے قتل کے خلاف قصور میں مظاہرے پھوٹ پڑے۔10جنوری کو اس وقت کے ڈی پی او قصور ذوا لفقار احمد کو عہدے سے ہٹا دیا گیا اور واقعے کی تحقیق کے لیے جے آئی ٹی بنا دی گئی۔
ملزم پکڑا گیا اور عدالتی کاروائی کے بعد اسے تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔یوں زینب قتل کیس کی یہ کہانی ختم تو ہوگئی مگر ایک لمبے عرصے تک کے لیے معاشرے میں بہت سے سوال چھوڑ گئی جس میں سے سب سے اہم سوال یہ تھا کہ ایسے دور میں جب جنسی درندے آپ ہی کے پاس آپ ہی میں سے آپ ہی کے اردگرد ہوں تو پھر اپنے بچوں کو کیسے محفوظ بنایا جائے ۔کیسے انکو ایسے ہوس پرستوں کا شکار ہونے سے بچایا جائے ۔اعداد شمار اکٹھے کیے گئے تو معلوم ہواکہ پاکستان میں 15 سے 20فیصد بچے جنسی زیادتی کا شکار بنتے ہیں جن کی تعداد لاکھوں میں ہے۔
اعداد وشمار پریشان کن تھے۔یہ موضوع ایک حساس بحث بن گیا۔۔۔ٹی وی چینلز پر ایوان اقتدار میں دفاتر، گھر یہاں تک سکولوں میں بھی اسی موضوع پر بات ہونے لگی۔ کہیں جنسی زیادتی کے واقعات کی روک تھام کے لیے قانون سازی کی بات کرنے لگا تو کوئی مجرم کو قرار واقعی سزا دینے پر زور دینے لگا۔ ہر جگہ ایک ہی بحث تھی کہ کب کیوں اور کیسے اس لعنت سے جان چھڑوائی جائے پڑھے لکھے طبقے کے ایک بڑے حصے نے اس بات پر زور دیا کہ اب اس موضوع کو معاشرے کا ٹیبو بننے سے روکنا ہوگا اس پر بحث کرنی ہوگی اور اپنے بچوں کو جنسی مسائل سے متعلق آگاہی دینا ہوگی۔۔میں بھی ایک کمسن بچے کی ماں ہوں اور اپنے بچے کی حفاظت کے حوالے سے فکرمند تھی اور میری سمجھ سے باہر تھا کہ ہم والدین کو اس موضوع پر کتنی بات کرنی چاہیے اور کیسے کرنی چاہیے۔آخر کیسے معلوم ہو کہ کہیں ہمارا بچہ بھی تو ایسے مسائل کا شکار نہیں پھر ایک نجی ادارے کا کتابچہ میری نظر سے گزرا جس میں اس موضوع سے متعلق سیر حاصل بحث کی گئی تھی ، مجھے اس کتابچے سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔
کتابچے کے مطابق تشدد پر مبنی واقعات کو روکنے کے لیے والدین اور اساتذہ کو بھر پور کردار ادا کرنا چاہیے۔اس مقصدکے لیے بہت ضروری ہے کہ جنسی تشدد کا شکارہونے والے بچے یا بچی کو شناخت کیا جاٸے۔۔جنسی تشدد کا نشانہ بننے والے بچے اور بچیوں کو مختلف علامات سے پہچانا جا سکتا ہے۔جنسی تشدد کا نشانہ بننے والا بچہ یا بچی ذہنی و جذباتی طور پر شدید مجروح ہوتے ہیں جس کے باعث وہ پڑھائی پر توجہ نہ دینے کے ساتھ ساتھ پریشان رہتے ہیں۔ایسے بچے مختلف لوگوں اور جگہوں سے خوفزدہ رہتے ہیں اور انکی خود اعتمادی بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ایسے بچوں بچیوں کا رویہ جارحانہ ہوجاتا ہے اور وہ اپنی عمر سے چھوٹے بچوں جیسی حرکات شروع کر دیتے ہیں۔جنسی تشدد کا نشانہ بننے والے بچے یا بچی میں مختلف جسمانی تبدیلیاں ظاہر ہونے لگتی ہیں مثلا معدے میں خرابی, جنسی اعضا سے رطوبت کا اخراج ، ڈراونے خواب آنا،پیشاب و پاخانے پر قابو نہ ر ہ پاناشامل ہیں۔والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ جنسی تشدد کے خلا ف آگاہی پھیلانے میں مدد دے،بچوں کو بتایا جائے کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے کسی کو اجازت نہ دیں کہ وہ انکے جسم کو چھوئے۔ایسا ہونے کی صورت میں مزاحمت کریں اور چیخیں چلائیں ۔ بچوں کو سکھائیں کہ وہ ایسا کرنے والے کو خبردارکریں کہ آپ اسکی شکایت اپنے بڑوں سے کر سکتے ہیں۔بچوں کو سمجھایا جائے کہ اگر وہ جنسی تشدد کا نشانہ بن چکے ہیں یا بن رہے ہیں تو ان میں انکا قصور نہیں اور انکو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اپنے بڑوں کو اس معاملے سے آگاہ کریں۔۔۔مجھے یہ ساری تجاویز نہ صرف قابل عمل نظر آئیں بلکہ انتہائی مناسب بھی لگیں۔میں ایک ماں ہونے کی حیثیت سے اس مسئلے کو سمجھ سکتی ہوں اور مجھے لگتا ہے کہ ہمیں ہر ذمہ داری حکومت کے کاندھوں پر ڈال دینے کی بجائے خود عملی میدان میں قدم رکھناہوگا اور اپنے بچوں میں اس حساس موضوع سے متعلق حساس آگاہی پیدا کرنا ہوگی۔

