شاکر حسین شاکرکالملکھاری

شہباز شریف کے منہ بولے بیٹے کی درفطنی؟(1)

26 جون 2018ءکی صبح مَیں مظفرگڑھ کے طیب اردگان ہسپتال کی ایک تقریب کے لیے ملتان سے روانہ ہوا تو خیال تھا کہ اس مرتبہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو وہ پذیرائی نہیں ملے گی جو اُن کو پہلے ملا کرتی تھی۔ ہسپتال پہنچ کر دیکھا کہ مظفرگڑھ کی انتظامیہ نے ایئرکنڈیشنڈ پنڈال کو بڑی خوبصورتی سے سجایا ہوا ہے جبکہ ضلع مظفرگڑھ پاکستان مسلم لیگ ن کے بےشمار اراکینِ اسمبلی نے اس تقریب میں آنے سے معذرت کر لی تھی انہی دنوں رکن قومی اسمبلی سیّد باسط سلطان بخاری نے ن لیگ چھوڑ کے تحریک صوبہ محاذ میں شمولیت کا اعلان کر دیا تھا جبکہ ان کے چھوٹے بھائی سیّد ہارون احمد سلطان بخاری شہباز شریف کی کابینہ میں صوبائی وزیر تھے۔ اس تقریب میں اُن کی شرکت بھی مشکوک تھی لیکن وہ شہباز شریف کے ساتھ جب طیب اردگان ہسپتال کی تقریب میں داخل ہوئے تو تمام افواہیں دم توڑ گئیں جن کے بارے میں یہ کہا جا رہا تھا کہ وہ اپنے بھائی کے ساتھ تحریک صوبہ محاذ میں شمولیت کا اعلان کر ہی دیں گے۔ تقریب شروع ہوئی تو مختلف صوبائی وزراءاور اراکینِ اسمبلی میاں شہباز شریف کی شان میں قصیدے پڑھتے رہے۔ اس دوران ٹھنڈے پنڈال میں سیّد ہارون بخاری کبھی نیند سے آنکھیں بند کر لیتے تو کبھی تالیوں کی آواز سن کر آنکھیں کھول کر چاق و چوبند بیٹھ جاتے۔
ایسے میں ہم نے دیکھا کہ ہارون سلطان بخاری لنگڑاتے ہوئے ڈائس پر آئے اور اپنے خطاب میں کہا کہ مَیں شہباز شریف کو اپنے والد کی جگہ پر دیکھتا ہوں اس لیے نہ مَیں کبھی مسلم لیگ ن چھوڑوں گا اور نہ ہی کوئی اپنا والد تبدیل کرتا ہے۔ ان کا یہ اعلان اصل میں اپنے بڑے بھائی باسط بخاری کے خلاف بغاوت کی سی صورت اختیار کیے ہوئے تھا۔ ان کی اس بات پر پنڈال میں موجود لوگوں نے خوشی کا اظہار کیا اور شہباز شریف کے چہرے پر مسکراہٹ آئی کہ کم از کم ضلع مظفرگڑھ میں سیّد ہارون سلطان بخاری ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ تقریب ختم ہوئی اور سب لوگ اپنے اپنے گھروں کی طرف روانہ ہوئے۔
ملک میں الیکشن کا دور دورہ ہوا ہر طرف صف بندی شروع ہوئی۔ تو سیّد ہارون بخاری کے بڑے بھائی سیّد باسط بخاری کو PTI نے ٹکٹ دینے کا اعلان کیا تو الیکشن کمیشن نے انہیں الیکشن لڑنے سے منع کر دیا۔ باسط بخاری نے اپنی اہلیہ سیّدہ زہرا باسط بخاری کو اپنی جگہ پر PTI کا ٹکٹ دلایا جو اپنے دیور کے مقابلے پر حلقہ NA184 میدان میں آ گئیں۔ باسط بخاری کی اہلیہ کا تعلق بھی پاکستان کے بڑے سیاسی خانوادے سے ہے۔ وہ سینئر پارلیمنٹیرین سیّد خاور علی شاہ کی بیٹی اور فخر امام کی بھانجی ہیں۔ سیاست میں حصہ لینا ان کا اگرچہ پہلا تجربہ ہے لیکن وہ اس مصرعے کی تفسیر بھی تو ہیں:
ع …. عمر گزری ہے اس دشت کی سیاحی میں
جیسے ہی انتخابی مہم کا آغاز ہوا تو سیّد ہارون بخاری کو ان کی بھابھی نے دن میں تارے دکھا دیئے۔ اب کیا ہوا کہ قبلہ سیّد ہارون بخاری کو وہی پرانا حربہ یاد آ گیا جو ایسے موقعوں پر ہر وہ شخص آزماتا ہے جو شکست کو اپنے سامنے دیکھ رہا ہوتا ہے۔ کہ ہارون سلطان نے اپنے حلقے میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو ووٹ دینا حرام ہے۔ جیسے ہی اُن کا یہ بیان منظرِ عام پر آیا تو سب سے پہلا احتجاج شہباز شریف کی اہلیہ تہمینہ درانی کی طرف سے پڑھنے کو ملا جس میں انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کو فوری طور پر ہارون سلطان بخاری سے جان چھڑانی چاہیے۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ ہارون سلطان سے ٹکٹ واپس لیں کیونکہ یہ شخص ن لیگ کے لیے بے عزتی کا باعث بن رہا ہے اور اس نے پارٹی کی سیاسی پالیسی کے خلاف بیان دیا ہے اس لیے ن لیگ کے قائد اور صدر کو اس معاملے کا فوری نوٹس لینا چاہے۔ تہمینہ درانی نے مزید کہا کہ خواتین ن لیگی اُمیدوار ہارون سلطان بخاری کو ہرگز ووٹ نہ دیں کہ یہ شخص کسی بھی صورت میں فلاح و بہبود اور ترقی کے لیے بہتر نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیّد ہارون سلطان بخاری عوام کا حقیقی نمائندہ نہیں ہے اور جو شخص 53فیصد آبادی خواتین کو برابر نہیں سمجھتا اُسے نااہل ہونا چاہیے۔
تہمینہ درانی نے اگرچہ یہ مطالبہ اپنے سرتاج شہباز شریف سے کیا لیکن اس مطالبے کو ان سے کیے ہوئے دوسرا ہفتہ ہو گیا لیکن ابھی تک شہباز شریف نے اپنے منہ بولے بیٹے کے خلاف کوئی نوٹس نہ لیا ہے لیکن الیکشن کمیشن نے سیّد ہارون سلطان بخاری کی وہ ویڈیو منگوا کر فرانزک لیبارٹری کو بھجوا دی ہے جس کے بعد یہ معلوم ہو سکے گا کہ یہ بات واقعی سیّد ہارون سلطان بخاری نے کی ہے یا اُن سے منسوب بیان جعلی ہے۔ الیکشن کمیشن کے اس نوٹس کے بعد سیّد ہارون سلطان بخاری نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ مَیں نے خواتین کے بارے میں ایسی کوئی بات نہیں کہی لیکن ایک بات تو حقیقت ہے کہ سیّد ہارون سلطان بخاری کا تعلق مذہبی طور پر اُس جماعت ہے جو عورتوں کو اپنے پاؤں کی جوتی سمجھتا ہے اسی لیے بخاری صاحب نے اپنی بھابھی کے خلاف یہ بات کرتے ہوئے ذرا سی بھی جھجک محسوس نہیں کی۔ (جاری ہے)
فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker