سید مجاہد علیکالملکھاری

بادشاہ سلامت کا قصیدہ درباری پڑھتے ہیں، صحافت کا فریضہ کچھ اور ہے۔۔سید مجاہد علی

پاکستان کی داخلی سیاست ہو، معاشی معاملات ہوں، کشمیر سے متعلق صورت حال ہو یا معاشرے میں پیدا ہونے والا افتراق، ملک اس وقت شدید بحران کا شکار ہے۔ تاہم ملک کے حکمران اپنے طرز عمل، گفتگو اور طریقہ کار سے یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ حالات ان کے قابو میں ہیں اور بحران یا پریشانی کی بات کرنے والے لوگ ملک دشمن عناصر ہیں جو ملکی مفاد کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ حکمرانوں کی یہی بے حسی دراصل اس وقت ملک کو درپیش مسائل میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
قوموں کو مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ مسائل سے نبرد آزما بھی ہوتی ہیں لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہوتا ہے جب کوئی قوم درپیش مسائل سے آگاہ ہو اور ان کے حل کے لئے متوازن اور قابل عمل حکمت عملی تیار کرسکے۔ پاکستان کی صورت حال پر نگاہ ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ حکمرانوں میں اس شعور کا دور دور تک سراغ نہیں ملتا۔ یہی وجہ ہے کہ مسائل میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے اور قیادت کے منصب پر فائز لوگوں کا کہنا ہے کہ صبر سے کام لیا جائے اور عمران خان جیسے ’ناد ر روزگار‘ قائد کے ہوتے کسی کو ’گھبرانے کی ضرورت‘ نہیں ہے۔


اسلام آباد میں میڈیا کے حوالے سے ایک کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے اطلاعات و نشریات کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے اسی مزاج کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے عمران خان کو زیرک اور مؤثر لیڈر قرار دیتے ہوئے یا تو اقوام متحدہ کی اسی تقریر کا قصیدہ بیان کیا جسے اب ماضی کا حصہ ہوئے بھی دو ہفتے ہونے کو ہیں۔ یا پھر ملکی میڈیا کو متنبہ کیا ہے کہ وہ ’حکومت پر ضرور تنقید کریں کیوں کہ یہ ان کا جمہوری حق ہے لیکن حکومت پر نکتہ چینی کی آڑ میں قومی مفاد کو ٹھیس نہ پہنچائی جائے‘ ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب درجنوں ٹی وی چینلز پر ملک کے بارے میں منفی خبریں نشر ہوں گی تو قوم پر بھی مایوسی طاری ہوگی اور بیرون ملک رہنے والے پاکستانی بھی پریشان اور بدحواس ہوں گے۔ اس لئے میڈیا اور صحافیوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔
فردوس عاشق اعوان پہلی سرکاری عہدیدار نہیں ہیں جو حکومت اور ریاست میں فرق کرنے سے انکار کرتے ہوئے حکمرانوں کی بے اعتدالیوں کی نشاندہی کو قومی مفاد پر حملہ قرار دے رہی ہیں۔ ہر آمرانہ دور حکومت میں سرکاری عمال یہی رویہ اختیار کرتے رہے ہیں۔ پاکستان میں چونکہ کبھی جمہوری روایت مستحکم نہیں ہوسکی، اس لئے اس کے سب ادوار میں میڈیا کسی نہ کسی طرح جبر و استبداد اور سرکاری پابندیوں کا شکار رہا ہے۔ ستر اور اسی کی دہائی میں سابق فوجی حکمران جنرل (ر) ضیا الحق کا دور حکومت اس حوالے سے بدترین دور کہا جاتا ہے جب نہ صرف اخبارات کو شدید پابندیوں اور سنسر شپ کا سامنا کرنا پڑا بلکہ آزادی اظہار کے لئے احتجاج کرنے والے صحافیوں کو سر عام کوڑے مارنے کی شرمناک روایت بھی قائم کی گئی۔
اطلاعات و نشریات کی مشیر یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ ’حکومت میڈیا کو ریاست کا چوتھا ستون سمجھتی ہے کیوں کہ میڈیا نظریاتی سرحدوں کا امین ہوتا ہے‘ ۔ گویا میڈیا اور اس کے ساتھ وابستہ لوگوں کو اس بات کا حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی مرضی و صوابدید کے مطابق صورت حال کا جائزہ لے سکیں اور قومی مفاد یا اس نظریاتی بنیاد کا تعین کرسکیں جو پاکستان کے لئے ضروری ہے بلکہ اس حوالے سے حکومت کی ہدایت اور رہنمائی میں کام کیا جائے۔


یعنی اگر حکومت مدینہ ریاست کا جعلی نعرہ بلند کرتے ہوئے جھوٹ پر مبنی اسلامی تاریخ اور اخلاقی اقدار کا ایک جابرانہ خاکہ پیش کرے تو اسے تاریخ ساز کارنامہ قرار دیتے ہوئے، قبول کیا جائے اور انہی خطوط پر قوم کو گمراہ کرنے کے کام کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔ اس بھونڈے مقصد کو ’قومی مفاد‘ قرار دے کر اس کے پرچار کا تقاضہ کرنا، استبداد کی بدترین صورت ہے۔ بدنصیبی سے ملک کی موجودہ جمہوری حکومت اسی پالیسی پر گامزن ہے اور ملکی صحافیوں کو جھکانے اور سرکاری پالیسی کا بھونپو بنانے کے ہتھکنڈے اختیارکیے جا رہے ہیں۔
ملک کے صحافی، ماہرین، میڈیا کی قومی و عالمی تنظیمیں اور انسانی حقوق کے ادارے اس وقت پاکستان میں میڈیا کی صورت حال کو ابتر اور افسوسناک بتا رہے ہیں۔ لیکن حکومتی ترجمان پھر بھی مطمئن نہیں ہیں۔ ان کا تقاضہ ہے کہ عمران خان کی مدح سرائی کی جائے اور ان کی لغزشوں کو کامیابی، غلط بیانی کو بہادری اور ناکامی کو غیر معمولی کارنامہ بنا کر پیش کیا جائے۔ حکومت کو جو ریاستی اختیارات اور اقتصادی دسترس حاصل ہے، اسے پوری بے رحمی سے میڈیا کا گلا گھونٹنے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔
اس کے باوجود خوشامد پسند حکمرانوں کی خود پسندی کا یہ عالم ہے کہ وہ اس سے مطمئن اور خوش نہیں ہیں اور مسلسل مزید ’تابعداری‘ مطالبہ سامنے آتا رہتا ہے۔ فردوس عاشق اعوان کا تازہ بیان اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ حالانکہ سرکاری میڈیا کے علاوہ نجی ملکیت میں چلنے والے بیشتر میڈیا ہاؤسز کو تحریص یا دھونس کے ذریعے کہیں پوری طرح اور کہیں جزوی طور سے زیر کرلیا گیا ہے۔ اس کے باوجود حکومت کو لگتا ہے کہ اس کی تعریف میں کمی دراصل ریاستی مفاد سے گریز اور نظریاتی سرحدوں سے انحراف ہے۔
میڈیا کے بارے میں جمہوری کہلانے والی حکومت کا یہ رویہ افسوسناک ہے ۔ اس کی مزاحمت کرنے کی ضرورت ہے لیکن پاکستانی میڈیا میں یہ مزاحمت دن بدن کمزور پڑ رہی ہے۔ یہ صورت حال شہریوں کی آزادی، انصاف کی فراہمی اور جمہوریت کے تسلسل کے حوالے سے نئے اندیشوں کو جنم دیتی ہے۔ میڈیا پر حکومت کے کنٹرول کی سب سے بڑی وجہ عمران خان کی یہ ’تفہیم‘ ہے کہ وہی اس ملک کو درست راستے پر ڈال سکتے ہیں باقی سب لوگ مفاد پرست اور بدعنوان ہیں۔ جو شخص بھی اس ’فہم‘ سے انکار کرے یا اس کی اصابت تسلیم نہ کرے ، اس کی حب الوطنی کو مشکوک قرار دیا جاتا ہے۔ عمران خان بزعم خویش پاکستانی عوام کا مسیحا بننا چاہتے ہیں لیکن وہ اس کے لئے مکمل اختیارات کا تقاضہ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت سنبھالنے کے فوری بعد اٹھارویں ترمیم کے خاتمہ اور صدارتی نظام کے محاسن پر مباحث کا آغاز کیا گیا تھا۔ جب ان دو امور پر پوری قوم کی طرف سے مزاحمت سامنے آئی تو اب مطلق العنان چینی صدر جیسے اختیارات کی خواہش سامنے لائی گئی ہے تاکہ ہر قسم کی سیاسی مخالفت کا خاتمہ کیا جاسکے۔


حکومت کی اس بدحواسی اور غیر روائیتی اختیارات کی خواہش کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ اقتدار سنبھالنے کے بعد کوئی تبدیلی لانے ، معاملات درست کرنے اور معاشی سہولتیں فراہم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ خارجہ محاذ پر کشمیر کے معاملہ پر ہر آنے والے دن کے ساتھ حکومت کی پسپائی ، اس کی کمزور اور ناکام سفارتی حکمت عملی کی داستان بیان کرتی ہے۔ لیکن عمران خان کی حکومت ان ناکامیوں کی وجوہ سمجھنے اور ان سے نمٹنے کی بجائے ، آزادی رائے کا گلا دبا کر اور مخالفین کو ملک دشمن اور بدعنوان قرار دے اپنی مقبولیت برقرار رکھنے کی ناکام کوشش میں مبتلا دکھائی دیتی ہے۔ عمران خان کے پاس اس وقت فوج کی حمایت کے سوا کوئی دوسرا ترپ کا پتہ نہیں ہے۔ تاہم اگر ناکامیوں کا یہ سلسلہ جاری رہا اور معاشی احیا کا کوئی قابل عمل منصوبہ سامنے نہ لایا جاسکا تو اس ہم آہنگی کو برقرار رکھنا بھی آسان نہیں رہے گا۔
فوج نے اس سال حکومت کی مجبوریوں کی وجہ سے اپنے بجٹ میں کمی قبول کرلی ہے۔ حکومت نے کشمیر کے مسئلہ پر سفارت کاری کو جنگ جوئی کا معاملہ بنا کر پاکستان کی بقا کا سارا بوجھ فوج پر ڈال دیا ہے۔ قرضوں میں ہوشربا اضافہ کے بعد اگر قومی پیداوار اور آمدنی میں زوال کی موجودہ صورت حال برقرار رہی تو اگلے بجٹ میں فوج کے اخراجات پورے کرنے کے لئے بھی وسائل کم پڑ جائیں گے۔ لیکن وزیر اعظم اقوام متحدہ میں تقریر کرتے ہوئے خون کے آخری قطرے تک لڑنے کا عزم ظاہر کرتے ہیں۔ خدا نخواستہ اگر جنگ کی کوئی صورت پیدا ہوتی ہے تو عمران خان کلمہ پڑھتے ہوئے محاذ پر توپوں کا سامنا نہیں کریں گے بلکہ فوج کو ہی دشمن سے لڑنا پڑے گا۔


تحریک انصاف کی حکومت وہ وسائل اور سفارتی و سیاسی زاد راہ فراہم کرنے میں ناکام ہورہی ہے جو کسی جنگ کی صورت میں ازحد ضروری ہوتے ہیں۔
پاک فوج کے سربراہ صورت حال کو سنبھالنے کے لئے تاجروں کو دھمکی نما تسلی دینے کے علاوہ ہر سفارتی مشن کا حصہ بننے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ کسی طرح یہ حکومت کامیابی کا سفر شروع کرسکے۔ لیکن جلد یا بدیر فوج اور اس کے سربراہ کو سمجھنا ہوگا کہ جمہوریت کے نام پر فوجی حکمرانی کا تماشہ بہت دیر تک نہیں چل سکے گا۔ ملک کو اس وقت جن مسائل کا سامنا ہے اس کی بنیاد سول معاملات میں عسکری بالادستی ہی نے استوار کی تھی۔ اب یہ معاملات براہ راست فوج کی نگرانی میں انجام دیے جارہے ہیں۔ اس لئے ناکامیوں کی صورت میں انگلیاں بھی فوج ہی کی طرف اٹھیں گی۔ قومی مفاد کے علاوہ فوج کی شہرت اور وقار کے لئے بھی سول ملٹری تال میل کی موجودہ صورت حال پر نظر ثانی کرنا ضروری ہے۔ ورنہ سول حکومت کی طرح فوج کی استعداد اور صلاحیت پر بھی سوال اٹھنے لگیں گے۔
اس دوران وزیر اعظم چین سے واپس آکر ایران اور سعودی عرب میں ثالثی کے مشن پر روانہ ہونے کے لئے پر تول رہے ہیں۔ لگتا ہے ایسے ’مشن امپاسیبل ‘ کی ذمہ داری لینے والے عمران خان اب صرف لنگر خانوں کا افتتاح کرنے کے لئے ہی ملک آیا کریں گے۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

مزید پڑھیں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker