سید مجاہد علیکتب نمالکھاری

اوسلو میں انیس احمد کے ناول ’نکا‘ کی تعارفی تقریب ۔۔ سید مجاہد علی

پاکستان فیملی نیٹ ورک کے زیر اہتمام ہفتہ 12 اکتوبر کی شام کو صحافی، براڈ کاسٹر اور ادیب انیس احمد کے نئے ناول ’نکا‘ کی تعارفی تقریب منعقد ہوئی۔ اوسلو میں مقیم پاکستانیوں کی کثیر تعداد نے اس موقع پر انیس احمد کو خراج تحسین پیش کیا۔



تقریب کا آغاز فیملی نیٹ ورک کے مدار المہام نثار بھگت نے حاضرین کو خوش آمدید کہتے ہوئے کیا۔ تقریب کے آغاز پر چند روز پہلے انتقال کرجانے والے راولپنڈی اسلام آباد یونین کے صدر اور اوسلو کی نہایت مقبول شخصیت ذولفقار مرزا کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی۔ اس موقع پر ویژن فورم کے سربراہ ارشد بٹ نے مرحوم ذولفقار مرزا کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ مرزا صاحب ہمہ جہت شخصیت تھے اور ہمیشہ ناروے میں پاکستانیوں کی بہبود اور پاکستان کی نیک نامی کے لئے سرگرم عمل رہے۔



نثار بھگت نے تقریب کی نظامت کے لئے یاسمین مجاہد کو مدعو کرنے سے پہلے ناول ’نکا‘ کے بارے میں مختصر بات کرتے ہوئے اسے اردو ناولوں میں اہم اضافہ اور دلچسپ کہانی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ انیس احمد کو اپنے قلم کا جادو جگاتے رہنا چاہئے۔ اس کے بعد انہوں نے تقریب کی نظامت کے لئے یاسمین مجاہد کو مدعو کیا جنہوں نے تقریب کو آگے بڑھایا۔



یاسمین مجاہد نے بتایا کہ یہ انیس احمد کا دوسرا ناول ہے۔ انیس احمد نے 2014 میں اپنا پہلا ناول ’جنگل میں منگل‘ لکھ کر اردو افسانوی ادب میں اپنی شناخت کروائی تھی۔ اہل ناروے کے لئے یہ اعزاز کی بات ہے کہ انیس احمد کےپہلے ہی ناول کوپاکستان کے ادبی حلقوں میں وسیع پذیرائی نصیب ہوئی ۔ ’جنگل میں منگل‘ کو 2014کے بہترین ناول کے طور پر خالد احمد ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ یاسمین مجاہد نے بتایاکہ تقریب کے تین حصے ہوں گے۔ پہلے حصے میں ناول کے اقتباسات سے اس کا تعارف کروایا جائے گا، دوسرے حصے میں ناول نگار سے تعارف کے لئے مضامین پیش ہوں گے اور تیسرے حصے میں ناول نگار انیس احمد سے مکالمہ اور سوال و جواب کا سلسلہ ہوگا۔



تقریب کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے یاسمین مجاہد نے کہا کہ اس ناول کی جو خوبی مجھے اسے پڑھنے کے دوران محسوس ہوئی ، وہ کہانی کا تسلسل اور بیان کی دلچسپی ہے۔ اس سے پہلے امریکی افغان ناول نگار خالد حسینی کا ناول ’ کائیٹ رنر ‘ پڑھتے ہوئے ، اسی کیفیت کا احساس ہؤا تھا کہ ناول شروع کرنے کے بعد مکمل کئے بغیر اسے چھوڑنے کو دل نہیں چاہتا۔ انہوں نے ناول کے تین نسوانی کرداروں کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ ناول ’ نکا‘ کی زندگی میں آنے والے تین کردار، اس کی دادی بھاگ بھری، اس کی ماں امیر مائی اور اس کی محبوبہ نازو ناول کی کہانی پر چھائے ہوئے ہیں۔ یہ تینوں کردار غریب روہی سماج کا حصہ ہیں، جن کی زندگیاں غلامی، غربت اور مصائب کا سامنا کرتے گزرتی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ان نسوانی کرداروں میں حوصلہ ، خودداری اور عزت نفس کی جو خوبیاں سمو دی گئی ہیں ، وہ جدید معاشرے کی عورت کے لئے بھی رہنمائی کا سامان لئے ہوئے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے ان کرداروں کی خصوصیات کو نمایاں کرنے کے لئے ناول کے اقتباسات بھی پیش کئے۔



انیس احمد اور ناول ’نکا ‘ سے تعارف کے سلسلہ میں پہلا مضمون پنجابی و اردو کے اہم ادیب اور شاعر خالد تھتھال نے پڑھا اور اقتباسات کے حوالے سے کہانی کے پس منظر اور اس معاشرے کے اہم پہلوؤں اور کرداروں کی نفسیات کو واضح کیا جنہیں انیس احمد نے مشاقی سے ناول میں سمویا ہے۔ ممتاز شاعر اور ادیب مسعود منور نے انیس احمد کے بارے میں سوانحی مضمون پیش کیا اور بتایا کہ کس طرح گھر سے لے کر تدریسی ماحول تک انیس احمد کا تعلق ادب شناس اور علم دوست لوگوں سے رہا۔ اس ماحول میں شعور سنبھالنے کے بعد ادب، انسانوں اور معاشروں سے آگاہی کا یہ سفر جاری رہا تاہم وہ صحافت سے ریٹائر ہونے کے بعد ناول نگاری کی طرف آئے اور ’جنگل میں منگل‘ کے بعد اب ’نکا‘ کی صورت میں اردو ادب کو ایک قابل ذکر اور اعلیٰ معیار کا ناول دیا ہے۔

تعارفی حصہ کے بعد ناروے میں مقیم پاکستانی نژاد اداکار و ہدایت کار ٹونی عثمان اور اداکارہ و گلوکارہ ارم حسن نے ناول ’نکا‘ کے کچھ حصے ڈرامائی انداز میں پڑھ کر سنائے اور سامعین سے خوب داد وصول کی۔ پروگرام کے آخر میں ناروے کی قومی براڈ کاسٹنگ کارپوریشن این آر کو کے صحافی اور ڈاکومنٹری بنانے پر انعام یافتہ فلمساز عطا انصاری کو انیس احمد کے ساتھ مکالمہ کرنے کی دعوت دی گئی۔ عطا انصاری نے بتایا کہ انہوں نے انیس احمد کی دعوت پر این آر کو کی اردو سروس سے اپنے صحافتی سفر کا آغاز کیا تھا۔ اس طرح انیس احمد ان کے استاد بھی رہے ہیں۔ انہوں نے مصنف سے ناول کے موضوع اور کرداروں کے حوالے سے دلچسپ سوالات کئے اور اس دوران حاضرین کو بھی گفتگو میں شرکت کی دعوت دی۔



اوسلو میں مقیم اردو کے استاد اور دانشور حیدر حسین نے اس دوران گفتگو کرتے ہوئے ناول ’نکا‘ کو اردو ادب میں گراں مایہ اضافہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اردو کے دس بہترین ناولوں کی فہرست مرتب کریں تو ’نکا‘ کو اس میں شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جدید اردو ناول ابلاغ کے حوالے سے کمزوری کا شکار رہا ہے اور ناول نگار غیر ضروری علمی اور فلسفیانہ مباحث کی وجہ سے ناولوں کی کہانی کو الجھا دیتے ہیں۔ تاہم انیس احمد کا ناول ’نکا‘ ایک خاص سماج سے متعلق لوگوں کی ایک مکمل کہانی ہے جس کے سب کردار زمین سے جڑے ہوئے ہیں اور مل جل کر کہانی کو مکمل کرتے ہیں۔



انیس احمد نے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے اپنی گفتگو میں بتایا کہ ادب سے ان کا تعلق بچپن سے ہی رہا ہے تاہم زندگی کی جد و جہد اور ملازمت کے دوران وہ لکھنے کی طرف پوری توجہ مبذول نہیں کرسکے۔ البتہ صحافت سے ریٹائر ہونے کے بعد انہیں لکھنے کا وقت میسر آیا تو وہ یہ کام کرسکے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ نہ بائیو گرافیکل ناول ہے اور نہ ہی کسی خاص کردار کو ذہن میں رکھ کر اسے لکھا گیا ہے بلکہ روہی اور چولستان کے بارے میں ان کے مشاہدے، معلومات اور روابط کی وجہ سے ناول کے کردار تلاش کرنے اور انہیں ایک کہانی کی صورت میں پیش کرنے کا موقع ملا ہے۔



سوال کیا گیا کہ چالیس برس سے زائد ناروے میں رہنے کے باوجود انہوں نے مقامی معاشرے کی بجائے ایک ایسے معاشرے کے بارے میں کیوں لکھا ہے جسے وہ چھوڑ آئے تھے؟ انیس احمد کا جواب تھا کہ مقامی معاشرے کے بارے میں لکھنے کا کام تارکین وطن کی وہ نسل کرے گی جو یہاں پیدا ہوئی ہے اور جسے مقامی زبان اور ثقافتی وسماجی پس منظر پر بہتر دسترس حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس ماحول اور معاشرے کو موضوع بنایا ہے جس کے بارے میں انہیں بہتر اور براہ راست معلومات حاصل تھیں۔ اس کے علاوہ وہ چونکہ اردو میں لکھتے ہیں ، اس لئے برصغیر کے پس منظر پر کہانی استوار کرنا فطری بھی تھا۔



اس رنگارنگ تقریب کا اختتام پاکستان فیملی نیٹ ورک کی طرف سے مہمان خصوصی انیس احمد کو سندھی اجرک کی سوغات پیش کرنے اور پاکستانی ضیافت پر ہؤا۔
( بشکریہ کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker