ظہور احمد دھریجہکالملکھاری

صدیوں کا شاعر۔۔ظہوردھریجہ

شاہ صدر دین ڈیرہ غازی خان میں منعقد ہونے والی سئیں احمد خان طارق کی برسی کے موقع پر ایوارڈز بھی دیئے گئے ‘ اس موقع پر تقریب کے میزبان پروفیسر شبیر ناز اور شیراز شبیر نے درست کہا کہ ہم اپنے وسیب کے لیجنڈ کی شاعری اور ان کے پیغام کو عام کرنے والوں کو ہر سال ایوارڈز دیں گے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس مرتبہ معروف سنگر نسیم سیمی ‘ معروف ٹی وی اینکر عارف ملغانی اور نوجوان صحافی قاسم رضا کو بھی ایوارڈ دیئے گئے ۔ یہ ٹھیک ہے کہ سئیں احمد خان طارق زیادہ پڑھے لکھے نہ تھے لیکن آج وہ ایم اے سرائیکی کے نصاب میں پڑھائے جا رہے ہیں اور ان پر ایم فل کا مقالہ لکھا گیا ہے اور بہت سے دیگر طلباء ان کے کلام پر ریسرچ کر رہے ہیں ۔ اس لئے میں سئیں احمد خان طارق کے بارے میں گزارشات پیش کر کے اپنی طرف سے خراجِ عقیدت پیش کرنا چاہتا ہوں اور عرض کرنا چاہتا ہوں کہ سندھ کنارے بستی شاہ صدر دین میں 1924ء کو بخش خان کے گھر پیدا ہونے والے عظیم شاعر سئیں احمد خان طارق نے 1945ء میں شاعری شروع کی اور اپنا استاد سئیں نور محمد سائل کو بنایا ۔ سئیں احمد خان طارق نے آخری وقت تک بہت مضبوط اور خوبصورت شاعری کی ۔ عموماً نوجوان شاعر پرانی باتیں کرتے ہیں لیکن ہمارے اس درویش صفت اور قلندر مزاج شاعر نے حوصلے اور ہمت والی باتیں کی ، وہ آخری وقت تک ہر وسیبی کو اپنے ہونے کا شعور د دیتے رہے ۔ ان کی تصانیف میں گھروں در تانْی، طارق دے ڈٖوہڑے ، متاں مال ولے، میکوں سی لگٖدے ‘ ہتھ جوڑی جُٖل، بٖیٹ دی خوشبو ، عمراں دا پورہیا ، سسی ، میں کیا آکھاں شامل ہیں ۔ سندھو سئیں کا پانی شربت ہے ، ماں دھرتی سے محبت کرنے والے درد مند وں نے اس کو اپنے لئے ہمیشہ اکسیر سمجھا، سرائیکی شاعری سندھ دریا کی محبت سے بھری ہوئی ہے ۔ سندھو سئیں سے محبت سرائیکی وسیب کے لوگ اس لئے کرتے ہیں کہ ازل سے سندھ دریا ان کا جگر گوشہ ہے ۔
وسیب کے لوگ اپنے دریاوں کی مٹی حتیٰ کہ جڑی بوٹیوں سے بھی پیار کرتے ہیں ۔ یہ بات سرائیکی شاعری میں ہر جگہ ملتی ہے ، شاعر اور وسیب کے لوگ سندھ دریا سے پیار کیوں نہ کریں ۔ وہ تو سندھ تہذیب کے ازل سے وارث ہیں ، ایک علمی مغالطے کی وضاحت دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ سرائیکی میں دریا کا معنی سندھ ہے ، خواجہ فرید سئیںنے اپنے دیوان میں اس لفظ کو اس معنی میں کئی دفعہ استعمال کیا ۔ مثال کے طور پر جے تئیں پلہر پانْی نہ کھٹسی کون بھلا سندھ جلے اگر ’’ آر پار ‘‘ کی بات آئے ‘ یہ مسائل بھی کچھ بندوں کے اپنے ہیں ۔ احمد خان ایسی باتوں کو پسند نہیں کرتے تھے ۔ کوئی اُدھر کا ہو یا اِدھر کا ، اچھے شعر اور اچھی شاعری کو داد دینے میں کبھی بخیل سے کام نہیں لیتے تھے اور نئے لکھنے والے نوجوانوں کی دلجوئی تو اس طرح کرتے کہ ملنے سے پہلے دعائیہ کلمے ’’ سدا جیویں ، شالا خیر ہووی ، آباد تے شاد راہویں ‘‘ ان کے منہ سے نکلتے تھے ۔ میں کہہ رہا تھا کہ جو لوگ ’’ آر پار ‘‘ کی باتیں کرتے ہیں وہ اپنی سوچ کو بڑا کریں ، اپنے وسیب میں اپنے ہاتھوں سے نکھیڑے پیدا نہ کریں ، اگر کرنی ہے تو دریا تو کیا ’’ سات سمندر پار ‘‘ کی بات کریں ، ہمیں کنویں کا مینڈک بننے کی بجائے اپنی سوچ ، اپنی فکر کو سارے جہان تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔ اگر سرائیکی ڈوہڑے کی بات آئے تو یہ اعزاز سئیں احمد خان طارق کو ملا کہ انہوں نے سرائیکی کی خالص صنف کو شان اور وقار بخشا ، اپنی چیز اپنی ہوتی ہے ، دوسری چیز کو جتنا اپنا بناؤ ، نہیں بنتی ۔ سئیں احمد خان طارق نے اپنی شاعری کو اشتہار نہیں بنایا پر اس کی شاعری میں وسیب کے دکھ کا حال ہے اور وسیب کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف احتجاج بھی ۔ ان کی شاعری میں یادوں کی بات بھی ہے اور فریاد بھی ۔ اصل شاعری دراصل وہ ہوتی ہے جو ہوا اور خوشبو کی طرح محسوس ہو ۔ شاعری سر پر لکڑ نہیں ہوتی کہ جب تک وہ نہ لگے ‘ خون نہ بہے پتہ نہیں لگتا کہ شعر کہا گیا ۔ شاعر ہمیشہ محبت کی بات کرتا ہے ، نفرتوں سے روکتا ہے۔ فرقہ بندی کے مقابلے میں اس کا مسلک اور عقیدہ محبت ہوتا ہے۔ سئیں احمد خان طارق کی شاعری صرف شاعری ہی نہیں ، بلکہ وہ کود سراپا محبت ہیں ۔ سئیں احمد خان طارق دو صدیوں کا شاعر ہے اور آج کا عہد سئیں احمد خان طارق کا عہد ہے اور ان کی شاعری صدیوں بعد بھی زندہ رہے گی ۔ پیاں سندھاں لگدین سِندھو کوں جگ سندھو وَہنڑ نہ ڈیسی اساں اللہ راس ہمسائے لوکو کوئی سہاپ سہنڑ نہ ڈیسی اساں بیڑی بیڑی وچ رہسوں کوئی منڑ تے بہنڑ نہ ڈیسی کوئی طارقؔ بہنڑ وی ڈیسی تاں سُکھ نال رہن نہ ڈیسی تاریخ میں سرائیکی وسیب کو سپت سندھو یعنی سات دریاؤں کی سر زمین بھی کہا گیا ہے ۔ اگر کوئی کہے کہ سندھ کے مالک صرف صوبہ پختونخواہ، یا سندھ کے ہیں تو یہ بات سوفیصد غلط ہے ، سندھ دریا کی ملکیت کے دعوؤں سے ہٹ کر میں اپنی بات ختم کرتا ہوں کہ دریاؤں کا نام سرائیکی وسیب اور سرائیکی وسیب کا قدیم نام وادی سندھ ہے ۔ سندھ کو سرائیکی وسیب سے سرائیکی وسیب کو سندھ سے جدا نہیں کیا جا سکتا ۔ اس کے کنارے رہنے والے اور اس کا پانی پینے والے سندھ کی طرح بڑی سوچ اور بڑے فکر کے مالک ہوتے ہیں ۔ سئیں احمد خان طارق نے اپنی شاعری کے ذریعے ہمیشہ مظلوم طبقے کی بات کی ۔ انہوں نے ادب کو اشتہار نہ بنایا پر انہوں نے چڑیا کو مثال بنا کروسیب کے کمزور اور مظلوم لوگوں کو بہت بڑا پیغام دیا ، یہی پیغام در اصل اپنے وسیب اور اپنے لوگوں کیلئے ہے ۔ چڑیاں اٹھو کوئی دھاں کرو چپ نہ کرو چپ نہ کرو ہتھ وچ جے کوئی ہتھیار نی چیں چیں کرو چاں چاں کرو (ختم شد )
(بشکریہ: روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

مزید پڑھیں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker