ماہرِ امراضِ قلب ڈاکٹرمسعود پزشکیان کل جب امریکہ اور ایران کی جنگ بندی کے بعد پاکستان آئے تو یہ معمول سے ہٹ کر دورہ تھا۔بے شک ایک معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں مگر اسکی وقفے وقفے سے جو توضیح امریکی صدر کرتے ہیں ،ایران کا کوئی ترجمان اس کا جواب دیتا ہے پھر صدر ٹرمپ کا ایک بیان آتا ہے لبنان اور اسرائیل کے مابین مسئلے تب حل ہوں گے جب شام حزب اللہ کی سرکوبی کرے گا ،تب ڈاکٹر علی شریعتی کی کتاب ما و اقبال یاد آتی ہے ،علامہ اقبال کے اشعار،مکاتیب اور خطبات یاد آتے ہیں۔ اسلئے ایرانی صدر نے کل اپنے خطاب میں اقبال کے یہ دو شعر بہت زور دار طریقے سے پڑھے:
ملتِ ما را اساسِ دیگر است
این اساس اندر دلِ ما مضمراست
ماز نعتمھائی او اخوانِ شدیم
یک زبان و یک دلو یک جان شدیم
(اسرارِ بے خودی)
(ہماری ملت کی بنیاد دوسری قوموں سے مختلف ہے،یہ بنیاد ہمارے دلوں میں پیوست ہے کہ ہم اس کی نعمت سے بھائی بھائی ہیںاور یوں ہم یک زبان،یک دل اور یک جان ہو گئے ہیں)
آپ میں سے بعض احباب ضرور جانتے ہوں گے کہ جب شاہِ ایران لاہور آئے تو انہیں علامہ اقبال کے مزار پر لے جایا گیا اور وہاں درج فارسی رباعیات بآوازِ بلند سنائی گئیں تو ان کا ایک استہزائیہ فقرہ بعض دلوں میں چھید کر گیا کہ کس زبان کے یہ شعر ہیں؟ ظاہر ہے ایک تو شہنشاہ اور دوسرے اہلِ زبان ہونے کا زعم مگر انقلابِ ایران نے ایک اور اقبال کو دریافت کیا ۔ جب شاہِ ایران کے خلاف نوجوان شاعروں نے تحریک شروع کی تو انہوں نے اقبال کے زبورِ عجم کے بہت سے اشعار کو سرنامہ بنایا اسی لئےایران کی نئی نسل اس انقلابی اقبال سے آشنا ہوئی جس سے پاکستان کی ڈکٹیٹر شپ اور انکی اطاعت گزار قوتیں خوف زدہ تھیں۔ اور تو اور جب کربلا کا سانحہ پیش ہوا تو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا سر تن سے کاٹنے اور اور ان کے قافلے کی بیبیوں کو بے چادر اوربیماروں کو بھی پا بہ زنجیر کر کے دمشق روانہ کیا گیا اس سانحے کو "تقدیر” کا کرشمہ کہہ کے اس کی معنویت بدلنے کی کوشش کی تو اقبال نے اپنے خطبات میں برملا کہا کہ امویوں کے دور میں محراب و منبر کو ہدایت کی گئی کہ تقدیر کے سلبی یا انفعالی تصور پر زور دیا جائے اور کہا جائے کہ کربلا برپا کرنے والے بے چارے مجبور تھے،قافلہ حسین رضی اللہ عنہ پر پانی بند کرنے والے اور معصوم لاشوں پر گھوڑے دوڑانے والے بے بس تھے۔
اس سانحے کے درد و گداز کو سلام اور مرثیے کی صنف نے گہرائی دی اور یہ اردو مرثیوں میں ہی نہیں ملتانی مرثیوں میں صدیوں سے محفوظ ہے۔انقلاب کے بعد پاکستان میں جہاں جہاں خانہ فرہنگ ایران قائم تھے نوحے،سوز خوانی اور مجالس عزا کو محفوظ کیا گیا۔ہمیں ماننا چاہئے کہ ایران مصوری،فلمسازی اورجمال آفرینی میں ہم سے آگے ہے اس لئے ایک مشترک سرمایہ وہاں ڈاکیومنٹ ہو گیا بڑے البم اور آڈیو اور وڈیو کیسٹ بن گئے۔ یہی نہیں جب یومِ عاشور پر تعزیہ داری نے رواج اختیار کیا۔عام طور پر تیمور لنگ(چودہویں صدی عیسوی) کو اس کا بانی خیال کیا جاتا ہے تو ملتان اور لکھنؤ نے علم اور تعزئیے کو ہی نہیں ایامِ عاشورہ کی مجالس کو بھی کئی اسالیب دئیے خاص طور پر زنانہ مجالس میں اس سانحے کے عرب کرداروں کو مقامی تہذیب اور ثقافت میں رنگ دیا۔
ملتان اور لکھنؤ کی کئی مماثلتیں ہیں،واجد علی شاہ نے وہاں علم داری اور امام باڑوں کو وسعت اور زینت دی ملتان میں بھی شاہ یوسف گردیز کا پورا محلہ کاشی گری اور لکڑی کے نادر کام کا مرقع ہے شربت اور دودھ کی سبیلوں کے ساتھ دس دن تک نیاز بٹتی ہے دوسری طرف موجودہ لکھنؤ میں بہت کچھ بدل گیا مگر وہاں ملتان کی زردوزی کی طرح کپڑوں پر چکن کی کڑھائی کا رواج ہے اور اس مرتبہ تو دونوں شہروں میں ان ایام میں آتش زدگی کے واقعات بھی ہوئے۔عام طور پر گمان ہوتا ہے کہ کسی مخالف فرقے کی یہ شرارت ہے مگر تفصیلات آئیں تو معلوم ہوا کہ برصغیر کے ان دونوں پرانے شہروں میںبجلی کی پرانی وائرنگ کو تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی اس لئے شارٹ سرکٹ وجہ بنتی ہے آگ لگنے کی ۔
لاہور اور ملتان کے ثقافتی مزاج کا ایک فرق ہے کہ لاہور میں سکھ آتے ہیں کبھی بیساکھی کے میلے میں ،کبھی رنجیت سنگھ کی سمادھی پر حاضری کیلئے کبھی حسن ابدال میں پنجہ صاحب کی زیارت کیلئے لیکن ملتان کے لوگ خاص طور پر پٹھان نواب مظفر کو اپنا ہیرو خیال کرتے ہیں جواپنی بیٹی اورسات بیٹوں کے ساتھ سکھوں سے لڑتے ہوئے شہید ہوا اور جس کا مزار بہا الدین زکریا ؒکے مزار کے احاطے میں ہے۔
شہادت امام حسین پر مولانا محمد علی جوہر کا شعر بہت معروف ہوا ہے
قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
تاہم اقبال کے یہ شعر فارسی میں ہیں مگر بہت آسان اور قابلِ فہم ہیں:
شاہ است حسین،بادشاہ است حسین
دین است حسین ،دین پناہ است حسین
سر داد، نہ داد دست در دستِ یزید
حقا کہ بِنائے لا الہ است حسین
(سر دے دیا مگر بیعت کیلئے ہاتھ نہ دیایقین کیجئے امام حسین نے لا الہ کی بنیاد رکھ دی)
( بشکریہ :روزنامہ جنگ )
فیس بک کمینٹ

