ارشد چوہدریتجزیےلکھاری

مسجد وزیرخان میں نکاح کا سین ’گانے کی شوٹنگ‘ میں کیسے بدلا؟۔۔ارشد چوہدری کی خصوصی رپورٹ

حال ہی میں پاکستانی فلم ‘انار کلی’ میں شامل نکاح کے ایک سین کی شوٹنگ لاہور میں واقع تاریخی مسجد وزیر خان میں ہوئی، جس کے حوالے سے سوشل میڈیا پر کافی تنقید و تبصرے کیے جارہے ہیں۔
28 جولائی کو ہونے والی اس شوٹنگ کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوئیں، جن میں مسجد کے اندر اداکارہ صبا قمر اور بلال سعید ایک گانے پر بظاہر رقص کرتے ہوئے نظر آئے۔
اداکارہ صبا قمر نے بھی انسٹاگرام پر ایک تصویر شیئر کی تھی، جس کے کیپشن میں انہوں نے لکھا تھا: ‘قبول ہے۔’
سوشل میڈیا پر تو اس عمل کی خوب مذمت کی ہی گئی، لیکن سابق حکمران جماعت مسلم لیگ ن کی رکن صوبائی اسمبلی سنبل مالک نے اس شوٹنگ کے خلاف پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع کراتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ‘مسجد کی بے حرمتی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔’
سنبل مالک نے اپنی قرارداد میں موقف اختیار کیا کہ ‘مسجد وزیر خان میں فلم ‘انار کلی’ کی شوٹنگ کے دوران ساؤنڈ سسٹم لگا کر سرعام رقص و سرور کی محفل منعقد کی گئی۔’
قرارداد کے متن کے مطابق:’ 28 جولائی کو فلم انارکلی کی شوٹنگ کی ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ مسجد کے تقدس کی دھجیاں بکھیری گئی ہیں۔’
مزید کہا گیا: ‘مہراب جس جگہ امام مسجد امامت کرواتے ہیں اور موذن اذان دیتے ہیں وہاں پر موسیقی اور رقص کی محفلیں کروانے سے نہ صرف مسجد کا تقدس پامال ہوا بلکہ دنیا میں رہنے والے مسلمانوں کی دل آزاری کی گئی۔’
قرارداد کے مطابق: ‘اس عمل کی تمام مسلمان شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ ایسےگھناؤنے اور شیطانی عمل میں شامل لوگوں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرکے سخت قانونی کارروائی کی جائے۔’
سنبل مالک نے اپنی قرارداد میں موقف اختیار کیا کہ ‘مسجد وزیر خان میں فلم ‘انار کلی’ کی شوٹنگ کے دوران ساؤنڈ سسٹم لگا کر سرعام رقص و سرور کی محفل منعقد کی گئی۔’
قرارداد کے متن کے مطابق:’ 28 جولائی کو فلم انارکلی کی شوٹنگ کی ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ مسجد کے تقدس کی دھجیاں بکھیری گئی ہیں۔’
مزید کہا گیا: ‘مہراب جس جگہ امام مسجد امامت کرواتے ہیں اور موذن اذان دیتے ہیں وہاں پر موسیقی اور رقص کی محفلیں کروانے سے نہ صرف مسجد کا تقدس پامال ہوا بلکہ دنیا میں رہنے والے مسلمانوں کی دل آزاری کی گئی۔’
قرارداد کے مطابق: ‘اس عمل کی تمام مسلمان شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ ایسےگھناؤنے اور شیطانی عمل میں شامل لوگوں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرکے سخت قانونی کارروائی کی جائے۔’
انہوں نے کہا: ‘ہمارے قوانین کے تحت فلموں کے سین کو مسجد میں عکس بند کرنے کی اجازت ہے، تاہم اس میں قواعد وضوابط واضح ہیں جن کے مطابق کسی بھی اوقاف کے زیر انتظام مسجد میں قابل اعتراض لباس پہننا یا رقص کرنا منع ہے۔’
آصف اعجاز نے مزید بتایا کہ ‘فلم میں شامل اداکارہ صبا قمر اور بلال سعید کے نکاح کی تقریب کا سیٹ مسجد وزیر خان میں لگا کر سادہ ریکارڈنگ کی گئی۔ اس دوران نہ گانا چلایا گیا اور نہ ہی رقص ہوا، لیکن اس تقریب کی تصاویر کو جوڑ کر اور اس میں گانا شامل کرکے بعض افراد نے اسے گانے کی ویڈیو ظاہر کیا اور اسے سوشل میڈیا پر وائرل کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ مسجد میں امام مسجد کے منبر کے سامنے رقص کیا گیا اور گانا ریکارڈ ہوا ہے۔’
انہوں نے کہا کہ ‘ہماری مانیٹرنگ ٹیم وہاں موجود تھی۔ یہ ایک دن کی ریکارڈنگ تھی، لہذا یہ ممکن ہی نہیں کہ مسجد میں گانے یا رقص کی ویڈیو ریکارڈ ہوسکے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ سوشل میڈیا پر یہ مہم کیوں چلائی جارہی ہے۔’
صبا قمر کا موقف
اداکارہ صبا قمر نے بھی بعدازاں انسٹاگرام پر اپنے پیغام میں واضح کیا کہ ‘مسجد وزیر خان میں صرف نکاح کا سین شوٹ کیا گیا تھا اور اس میں کوئی موسیقی شامل نہیں ہے۔’
اداکارہ نے مزید بتایا کہ ‘سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو پوسٹر میکنگ کے دوران کی ہے، میں مزید وضاحت نہیں دینا چاہتی، گیارہ اگست کو مکمل ویڈیو آجائے گی۔’
ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ‘ کسی مقدس مقام کے تقدس کی پامالی میرے لیے اتنی ہی تکلیف دہ ہے جتنی ایک عقلمند شخص کے لیے۔ اگر ہم نے اپنی لاعلمی میں کسی کی دل آزاری کی ہے تو ہم اس کے لے معذرت خواہ ہیں۔’
(بشکریہ: انڈپینڈنٹ اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker