اطہر ناسک کی غزل : تو ہم سفر نہیں تو سفر کس لیے کریں خود کو کسی کی راہگزر کس لیے کریں تو ہم سفر نہیں…
Browsing: شاعری
ابھی جو مست ہیں اپنی مستیوں میں بہت طاقت ہے ان کے ہاتھ میں اور لہوبھر گیا ہے ان کی آنکھوں میں چہروں پران کے معصوم…
اب تو بس کچھ اس طرح سے ہی وطن کی خیر ہو میتوں کی خیر ہو ، ہر گورکن کی خیر ہو خوں بہا کر بھی…
رضی الدین رضی کی غزل : زندگی جھٹک دوں گا ادھار مانگی ہوئی روشنی جھٹک دوں گا میں ضد میں آؤ ں گا تو زندگی جھٹک…
یا تو سوج جھوٹ ہے یا پھر یہ سا یا جھوٹ ہے آنکھ تو اس پر بھی حیراں ہے کہ کیا کیا جھوٹ ہے مدتوں میں…
رضی الدین رضی کی غزل : وعدہ کم ہے تجھ سے ملنے کا اسی واسطے وعدہ کم ہے اس دفعہ اپنا بچھڑنے کا ارادہ کم ہے…
رحمان فراز کی نظم : یہی بہت ہے اس سے بڑھ کر تیرے لیے اب اور فنا کیا ہو سکتی ہے موت – مسلسل موت ۔۔…
کبھی ہم دھند میں بھی دور تک منظر میں ہوتے تھے جب آنکھیں ساتھ دیتی تھیں تو ہر پیکر میں ہوتے تھے کسی دریا، کسی صحرا،…
میں اک کاغذ کا ٹکڑا ہوں کہ جس کے اک طرف جاناں بہت سے نام لکھے ہیں پھر ان مٹتے ہوئے بے رنگ ناموں پر جلی…
بہادری، عزم، حوصلہ اور صلیب ، دارورسن، سلاسل اسے وراثت میں سب ملا تھا اسے حقیقت میں سب ملاتھا وہ رہنما تھی کہ جس کی آنکھوں…
