Browsing: ڈاکٹر صلاح الدین حیدر

ایک شام میں نے بھٹہ بلڈنگ پر نیشنل عوامی پارٹی کے دفتر کا سائن بورڈ دیکھا اور فوراً اندر جانے کا فیصلہ کر لیا۔ دفتر کی تلاش میں جب اندر پہنچا تو دیکھا کہ چھ سات کارکن ایک دری پر بیٹھے ہیں۔ یہیں میرا تعارف اشفاق احمد خان، راؤ سلیمان، حشمت وفا اور جہاں تک مجھے یاد ہے معروف دانشور اشفاق سلیم مرزا سے ہوا۔
میں نے ان دوستوں اور سیاسی کارکنوں کو التمش روڈ کے ایک ریسٹورنٹ میں مدعو بھی کیا، لیکن کالج میں اساتذہ اور دوستوں کے ساتھ میری سیاسی گفتگو پروفیسر ایف ایم خان کو پسند نہ آئی

جدوں جہاز تو لتھا تے شیروانی میرے ڈھڈ تے لش لش کردی پئی سی، میں ایمرجنسی لئی بریف کیس وچ دھوتی وی رکھی ہوئی سی۔ خیر میرے ایتھاں اپڑن دا ایہ مقصد وی سی جے قومی ترقی وچ دیگاں دی اہمیت تے چانن پاواں۔۔۔۔
مینوں دیگاں نال نکے ہوندیاں تو بڑا پریم سی، دیگاں گلی دی نکر تے پیاں ہوندیاں سی تے میں اُنہاں نوں ہلا ہلا کے سائنسی تجربے کردا رہندا سی۔

"مقدس آمریت” کے دور میں فلم، موسیقی، رقص اور دیگر فنونِ لطیفہ سے وابستہ تمام لوگوں کی کڑی چھان بین اور بازپرس کی جاتی تھی۔ اور ہر وہ شخص جو میری طرح ریاضی میں کمزور تھا، اس ’’ مقدس حکم ‘‘ کا پیروکار بن گیا۔ موسیقی اور دیگر فنونِ لطیفہ کو مختلف طریقوں اور ذرائع سے مبتذل بنا دیا گیا۔