ڈاکٹر انوار احمدکالملکھاری

خواجہ فرید کالج میں تین برس کا یادگار قیام : وعدہ خلافی / ڈاکٹر انوار احمد

گورنمنٹ کالج کوئٹہ میں تقریباً ڈیڑھ برس بطور ایڈہاک لیکچرر اُردو ہنگامہ خیز وقت گزارنے کے بعد میں دسمبر 1972ء میں پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ایک منتخب اُمیدوار کے طور پر رحیم یار خان ایسے پہنچا کہ میں وہاں بظاہر کسی کو نہیں جانتا تھا نہ میرے علم میں تھا کہ کالج شہر کے کس حصے میں واقع ہے ، کالج کے پرنسپل کون ہیں، مگر ایک موہوم سا آسرا تھا کہ اس شہر میں قیام ِ پاکستان سے پہلے میرے دادا سب پوسٹ ماسٹر کے طور پر یہاں موجود تھے اور شاید میرے والد کی پیدائش بھی یہاں ہوئی تھی یا پھر میں نے سنا تھا کہ ایمرسن کالج ملتان میں بی اے میں ہمیں فارسی آپشنل پڑھانے والے خوش مزاج پروفیسر عبدالعزیز جاوید اسی شہر کے رہنے والوں میں ہیں ، ایک آدھ کلاس فیلو نے یہ بھی بتایا تھا کہ ہمیں بی اے میں ہی اُردو پڑھانے والے استاد سید ریاض حسین زیدی بھی اس کالج میں ہیں۔ یہ وہ استاد ہیں کہ جن کی وجہ سے ملتان میں ایم اے اُردو میں میرا داخلہ ممکن ہوا میرے پاس ہر یتیم اور کم وسیلہ بچوں کی طرح فیس کےلئے پیسے نہیں تھے البتہ بی اے میں میرے اتنے اچھے نمبر آئے تھے کہ ہر شخص دلاسا دیتا تھا کہ ایف اے اور بی اے کی طرح تمہیں سرکاری وظیفہ مل جائے گا، چنانچہ ریاض حسین زیدی کی ضمانت پر پرنسپل نے ایک روپیہ فیس کی ادائیگی کے ساتھ مجھے داخلے کی اجازت دی اور یہ شرط عائد کی کہ وظیفہ ملتے ہی میں بقایا واجبات ادا کروں گا ورنہ یہ واجبات ضامن اُستاد کی تنخواہ سے وضع کئے جائیں گے۔ اسی طرح کچھ مشترک دوستوں نے بتایا تھا کہ انگریزی کا ایک مجلس آرا اُستاد مبارک احمد مجوکہ بھی اُس کالج سے تبدیل ہوکر ملتان کےلئے پابہ رکاب تھا، شاید آتے جاتے ملاقات ہو جائے ۔یہ بھی میرے علم میں تھا کہ ملتان کے بہت سے اساتذہ اور دوست اس کالج سے وابستہ رہے ہیں جن میں سید صفدر امام، پروفیسر لطیف الزمان خان، پروفیسر انوار انجم اور پروفیسر فیاض تحسین نمایاں ہیں، مگر میرے دل میں یہ خلش تھی کہ گورنمنٹ کالج کوئٹہ میں مجھے اپنے اُستاد پروفیسرخلیل صدیقی ، بلوچستان یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلر اور پاکستان کے ایک عظیم دانشور پروفیسر کرار حسین سے فیض پانے کا جو موقع ملا تھا اور جو اچھے اچھے دوست کوئٹہ میں ملے تھے جہاں کتابوں کی شاندار دکانیں تھیں ، جہاں ادب وشعر کا ذوق رکھنے والے بلوچ قوم پرست شاندار باتیں کرتے تھے اور کوئٹہ جیسا پُر فضا شہر پھر نصیب نہیں ہوگا، مگر ہوا یہ کہ اس اجنبی شہرکے نام میں ’یار‘ کا جو جادوئی لفظ آیا ہے،وہ کیسا فیضان پرور ہے۔
پہلی رات سٹیشن کے قریب ایک ہوٹل میں قیام کے بعد ہی اس شہر میں باہمی محبت اور دوستی کے ایسے دروازے کھلے کہ میں مبہوت ہوکر رہ گیا۔ صدر شعبہ اُردو محمد لطیف اُسی روز میرا سامان اٹھا کر اپنے گھر میں لے آئے اور چند ایام کےلئے میرے ایسے میزبان بنے کہ میں ،اُن کی بیگم صاحبہ اور بچوں کی محبت میں اسیر ہوگیا (اگرچہ اُن کی یہ دَم ساز کچھ برسوں کے بعد فوت ہو گئیں)۔ سید ریاض حسین زیدی نے اپنے مالک مکان شاہ صاحب سے نا صرف تعارف کرایا بلکہ کرایہ وغیرہ بھی طے کرایا یوں میں پہلے ہی ہفتے اسی گھر میں مقیم ہوگیا۔ اس دوران کوئٹہ میں مقیم میری بیوی نے تار بھیجا (اُس زمانے میں ٹیلی فون کی سہولت نہ ہونے کے برابر تھی) کہ ایک رات جب وہ اپنے اور میرے اُستاد خلیل صدیقی کے گھر میں تھی تو اس کی غیر حاضری میں سریاب روڈ پر ایریگیشن کالونی میں ہمارے کرایے کے گھر میں کوئی شخص جھاڑو پھیر گیا تھا (بتانے کی ضرورت نہیں کہ اپنے ایک بلوچ شاگرد کی مدد سے میں نے یہ گھر اس طرح حاصل کیا تھا کہ ایریگیشن کے ایک بلوچ ملازم نے اپنے نام الاٹ یہ گھر مجھے سو روپے مہینہ کرایے پر دیا تھا)۔ میں نے اپنی بیوی کو دلاسہ دیا کہ اس طرح اس چور نے ہمیں اس خلجان سے نجات دی کہ ہم اپنے پیسوں سے ٹرک کا انتظام کرکے کوئٹہ سے رحیم یار خان اپنا سامان کس طرح لے جائیں گے؟۔ تب میری بیوی نے کہا کہ جھاڑو پھیرنے والے نے بھاری سامان یعنی ….فرنیچر، کپڑے، لحاف اور برتن نہیں اٹھائے البتہ وہ میری بیوی کا زیور (جو اللہ کی خاص عنایت سے کبھی بھی دو تین تولے سے بڑھنے نہیں پایا ) اور میرا عزیز ترین کھلونا یعنی 4 بینڈ کا ریڈیو لے گیا تھا اور ہم دونوں کو تصورِ زماں سے رہائی دینے کےلئے گھر میں موجود دو ٹائم پیس بھی۔ بہرطور میں نے واپس کوئٹہ جاکر فلسفے کے اُستاد آغا جلیل الرحمن سے 5 سو روپے قرض لے کر کوئٹہ کی مارکیٹ سے 5 بینڈ کا ریڈیو سیٹ خریدا جس کو ایک مرتبہ پھر رحیم یار خان سے غائب ہونا تھا۔ اپنے ایک اور دوست غلام باری کے سسرالی عزیزوں کی مدد سے مال گاڑی میں اپنا وہ فرنیچربُک کرایا جسے میرے ایک اور دوست عطا میراں کے والد نے بڑی محبت کے ساتھ بہت کم اُجرت میں اس طرح تیار کیا تھا کہ اُن کی بنائی ہوئی چھ کرسیاں، ایک بُک شیلف اور ایک سنگھار میز 1970ءسے اب تک میرے پاس ہیں۔ میں نے اور میری بیوی نے بیشتر فرنیچر کو اپنے گھر میں آویزاں پردوں اور چادروں سے اس طرح پیک کیا تھا کہ اُوپر اخباروں کی کئی تہوں اور ڈوریوں کے ساتھ یہ پردے چھپ جائیں تاکہ ریلوے کے کسی غیر ذمہ دار کارکن کی نظر ان پردوں پر نہ پڑے۔ لُطف کی بات یہ ہے کہ جب یہ سامان رحیم یار خان کے سٹیشن پر پہنچا تو میں کسی سامان شناس کارکن کی محنت کا قائل ہوگیا کہ اُس نے ساری ڈوریوں کو کھول کر اخباروں کے نیچے پڑے پردوں کو نکالا پھر اُن کرسیوں اور میزوں پر وہ اخبار چڑھائے اور ڈوریاں اُسی سلیقے سے باندھیں کہ اب تک میں اُسے بے اختیار داد دیتا ہوں۔ بہر طور اس کالج کے پرنسپل سید اشرف علی شاہ علیگڑھ کے گریجوایٹ تھے اور ایک علمی گھرانے کے چشم وچراغ تھے۔ بہت نستعلیق ، شائستہ اور سادہ انسان تھے مگر کم وبیش 95 فیصد علیگیوں کی طرح بزدل یا شرمیلے تھے، حاکموں کا دباﺅ برداشت نہیں کرسکتے تھے۔ اسی کالج میں عربی زبان، فلسفہ، تاریخ اور ادبیات کا ایک ذوق رکھنے والے محمد رفیق تھے جو اسلامیات کے استاد تھے اور ایک دو لوگوں نے اُن کے زمانہ شباب کی دو ایک حکایتیں بھی سنائیں جن کے مطابق وہ قصابوں کی دیوار پھاند کر اپنی ایک مداح کو عربی کے کچھ اشعار سمجھانے کےلئے یا انسانیت کے لطیف نکتے بتانے کےلئے گئے تھے مگر اُس لڑکی کے علم دشمن اور استاد دشمن قصاب رشتہ داروں نے اُن سے کافی بدسلوکی کا مظاہرہ کیا۔ یہ اور بات ہے کہ اس ضعیف روایت کی خیالی رنگ آمیزی نے میرے دل میں محمد رفیق کےلئے دیرپا محبت پیدا کردی۔ سَو اسی شہر کے ڈسٹرکٹ ہسپتال میں میری پہلی اولاد یعنی وہ بیٹی پیدا ہوئی جو آج ڈاکٹر ہے ،میں اپنے نام کی مناسبت سے اُس کا نام کرن رکھنا چاہتا تھا اور اپنی بیوی طلعت نشاط کی دلجوئی بھی کرنا چاہتا تھا جسے اُس کے ماں باپ نے مجھ سے شادی کی وجہ سے عاق کردیا تھا۔ محمد رفیق نے تب میری مدد کی اور میری بیٹی کا نام نویرہ نشاط رکھا اس کا فائدہ یہ ہوا کہ جب میری دوسری بیٹی ملتان میں پیدا ہوئی تو میں نے ”رفیقی قاعدے “ کے مطابق اُس کا نام عذیرہ نشاط رکھا اور جب کئی برسوں کے بعد تیسرے بچے کا امکان ہوا تو میں نے اُس کےلئے ”وغیرہ نشاط “ تجویز کررکھا تھا یہ اور بات کہ وہ بیٹا ہوگیا ،تب ملتان کے عربی شناس سید اصغر علی شاہ سے میری دوستی ہوگئی تھی ، اُنہوں نے اس کا نام احمد تمثال تجویز کیا، بہرطور میں شاید پہلا اور آخری پاکستانی شوہر ہوں جس نے اپنی بیٹیوں کے نام میں اپنی بجائے اپنی بیوی کے نام کو شامل کیا اور یہی وجہ ہے کہ جب 1986ء میں شالیمار کالونی میں میں نے اپنا گھر بنوایا تو اُس کا نام گوشہ نشاط رکھا حالانکہ میں جانتا تھا کہ اس نام پر پھبتی کسنے والے یا مسکرانے والے بھی بہت سے باذوق لوگ ہونگے۔
ٹھیک 3 برس رحیم یار خان میں میرا قیام رہا۔ میری خوش قسمی ہے کہ میں اپنے استاد عبدالعزیز جاوید کا چند ماہ کے بعد ہی کرایہ دار ہوگیا تب کوئٹہ سے آنے کے سبب میری تنخواہ اے جی آفس لاہور کی اُس پے سلپ کو ترس رہی تھی جسے کنٹرولر آفس کوئٹہ سے جاری ہونے والی لاسٹ پے سلپ کی روشنی میں جاری ہونا تھا اور یوں تختِ لاہور کی سفاکی سے میرا واسطہ پڑسکتا تھا مگر میرے اُستاد ، مالک مکان اور عزیز ترین ’دوست‘ عبدالعزیز جاوید نے ایسا اہتمام کیا کہ میری متوقع تنخواہ کے لحاظ سے کرایے سمیت مجھے قرضِ حسنہ دینا شروع کیا۔ وہ ہمارے گھر کے ایک بزرگ کا درجہ بھی رکھتے تھے اور جانتے تھے کہ میری بیوی بہت جزرَس ہے اس حد تک کہ وہ رات کو گیس کا چولہا بند نہیں کرتی تھی تاکہ ایک ہی دیا سلائی زیادہ دیر تک استعمال ہو سکے (بتانے کی ضرورت نہیں کہ جاوید صاحب نے گیس کا بل ازراہ محبت ہمیں معاف کررکھا تھا) چنانچہ ایک مرتبہ جاوید صاحب نے مجھے ماچسوں کا ایک پیکٹ لا کر دیا اور کہا کہ ہر مہینے میں ایسا تحفہ آپ کو پیش کروں گا جسے میں اپنے حساب میں درج نہیں کروں گا ۔
کالج میں قیام کے دوران بہت اچھے طالب علم ملے، مجھے بتانے کی ضرورت نہیں کہ مجھے پڑھاتے ہوئے کبھی بھی تھکن کا احساس نہیں ہوتا ( یہ اور بات کہ میرے شاگرد نڈھال ہوجاتے تھے)۔ اُس وقت ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت تھی جس کے لئے میرے دل میں بہت محبت تھی مگر میری محبت کبھی بھی مجھے آنکھیں بند کرنے پر مجبور نہیں کرسکتی اور اپنے محبوب کے تمام عمل یا کرتوت پر میری بد زبانی کو جو تحریک ملتی ہے وہ مجھے ہر خوف سے آزاد کردیتی ہے۔ چنانچہ غلام مصطفی کھر گورنر پنجاب کے ایک مشیر کے اُکساوے یا بہکاوے میں آکر سٹوڈنٹس یونین کا الیکشن ہارنے والی ایک طالب علم تنظیم کی قیادت نے پی ایس ایف کا لبادہ اوڑھا اور کالج میں ایک ایسے مسلح تصادم کےلئے شہ پائی کہ حکومت وقت ایک دو ہلاکتوں کے بعد اسلامی جمعیت طلبہ کے جیتے ہوئے الیکشن کو منسوخ کرسکے۔ کسی ایجنسی یا ذمہ دار افسر نے سید اشرف علی شاہ کو یہ بات بتائی، انہوں نے رات کے وقت اساتذہ کی ایک ہنگامی میٹنگ بلائی جس پر ہم سب نے فیصلہ کیا کہ ہم میں سے ایک تہائی اساتذہ مسلسل کلاس روم میں رہیں، ایک تہائی اساتذہ کالج کے ہاسٹل، گراﺅنڈ ، کینٹین ، گیٹ اور برآمدوں کی پاسبانی کریں اور ایک تہائی صحت مند اساتذہ سٹاف روم یا پرنسپل آفس میں اس طرح موجود رہیں کہ ناگہانی صورتحال کا جسمانی سامنا بھی کر سکیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کالج میں اسلحے کا استعمال نہ ہوسکا، البتہ بعض طالب علموں نے عبدالعزیز جاوید کے ساتھ بہت زیادہ گستاخی کی کہ اُن کی شہرت اسلامی جمعیت طلبہ یا جماعت اسلامی سے وابستگی یا یگانگت کی تھی۔ ہم لوگوں نے اس واقعے کے بعد ہڑتال کردی اور اس بحران میں مجھ جیسے ایک نووارد ، مہم جو، پمفلٹ باز اور کسی قدر قیادت کے شوقین اُستاد کو لیکچررز ایسوسی ایشن کے مقامی یونٹ کا سیکرٹری بنا دیا گیا۔ ہماری قیادت انگریزی کے اُستاد نسیم الرحمن کررہے تھے جو بے حد نفیس انسان تھے ۔ میں اُن سے بہت محبت کرتا تھا اور کم وبیش دو برس کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ وہ بھی جماعت اسلامی کے مداحوں میں سے ہیں۔ تب کالج کونسل نے ہنگامہ پرور طالب علموں کو کالج سے نکال دیا۔ کالج کے اس اقدام پر کسی قدر فرعون صفت یا نیم فرعون صفت صوبائی وزیر تعلیم عبدالحفیظ کاردار ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے رحیم یار خان پہنچے اور سرکٹ ہاﺅس میں ہمارے پرنسپل سید اشرف علی شاہ کو طلب کیا۔ اُن کے وہاں جانے سے پہلے مجھ سمیت پورے سٹاف نے اُن کی ذات کے لئے محبت اور احترام کے باوجود عرض کیا کہ شاہ جی آپ نرم خو اور شرمیلے ہیں۔ کاردار جیسے تُند خو کا مقابلہ کرتے وقت ذہن میں رکھیے گا کہ اس وقت ہم 40 اساتذہ آپ کے دم ساز ہیں آپ کی طرف بڑھنے والے ہر ہاتھ کو کاٹ پھینکیں گے وغیرہ وغیرہ۔ مگر شاہ صاحب نے وزیر تعلیم کی دھمکی کے بعد علیٰ الصبح اپنی نمناک آنکھوں کے گوشے صاف کرتے ہوئے ایک نوٹس لگا دیا کہ کالج کونسل کا فیصلہ واپس لیاجارہا ہے۔ ہم نے ایک لمبی اور خوفناک ہڑتال کی جس میں ہر روز ہم ایک پمفلٹ نکالتے تھے جو ہمارا پریس ریلیز بھی تھا، دھمکی نامہ بھی تھا، باشعور لوگوں کےلئے اپیل بھی تھی اور میرا کام روزانہ اس طرح کے پمفلٹ کو ڈرافٹ کرنا، اپنے ہینڈ رائٹنگ میں اسے لکھنا اور تمام اساتذہ سے دستخط کراکے اسے سائیکلوسٹائل کرانا تھا۔ اس بیچ ہم میں سے کچھ اُستادوں کو ٹرانسفر کیا گیا کچھ کو دھمکایا گیا کچھ کو ایک دوسرے سے بدظن کیا گیا۔ مقامی ایم پی اے اور دیگر بڑوں نے اُستاد کی عظمت کے واسطے دئیے اور اُن گستاخ شاگردوں کو معاف کرنے کی فضیلت پر لیکچر دئیے مگر ہمارا مؤقف یہ تھا کہ سزا دینا اور معاف کرنا ایک ہی اختیار کے دو رُخ ہیں جب آپ نے اُستاد اور درسگاہ کو سزا دینے کے اختیار سے محروم کردیا تو ہم معاف کرنے کے اختیار سے بھی محروم ہوگئے۔ ہم لوگوں کی ثابت قدمی نے طاقتور حکومت کو آخر کار جھکا دیا اور طویل مذاکرات کے بعد یہ طے پایا کہ اُن ’گستاخ‘ طالب علموں کو واپس رحیم یار خان کالج میں لینے کے بجائے اُن کی جبری مائیگریشن کرکے بہاولپور کالج میں بھجوا دیا جائے،یوں جب اُن طالب علموں کو اپنے محافظوں کی کسی قدر بے اختیاری کا احساس ہوا تو وہ عبدالعزیز جاوید کے گھر پہنچے اُن کے قدموں پر گر کر معافی مانگی اور جاوید صاحب نے اُنہیں معاف کردیا ،ہم نے بھی ہڑتال ختم کردی اور اُن طالب علموں کو معاف کردیا کہ ہمارا اُن سے کوئی دشمنی کا رشتہ تو نہیں تھا صرف اُن کو بتانا تھا کہ معاف کرنے کےلئے اصل اختیار اُن کے اُسی استاد کے پاس ہے جس کی وہ دل آزاری کربیٹھے ہیں۔
اسی طرح میں بھلا نہیں سکتا کہ اس کالج کی لائبریری میں نول کشور لکھنؤ کے مطبوعہ رتن ناتھ سرشار کے شاہکار ناول فسانہ آزاد کی چاروں جلدیں مجھے میسر آئیں جو زمانہ طالب علمی میں مجھے نہ مل سکی تھیں۔ ( تب رئیس احمد جعفری نے اُس کی جو ضخیم تلخیص کی تھی ہم نے اُس پر ہی اکتفا کیا تھا) اب میرے وارے نیارے ہوگئے چنانچہ رحیم یار خان میں موسم گرما کی تعطیلات میرے لئے باثمر ہوگئیں۔ یہاں چوہدری محمد اسلم جیسے لائبریرین سے دوستی ہوئی کالج کے ڈائریکٹر فزیکل ایجوکیشن چودھری علی محمد سے دوستی ہوئی جس کا لب ولہجہ کافی مہذب لوگوں کو ناگوار گزرتا تھا۔ انگریزی کے ایک اُستاد حسین احمد زبیر سے دوستی ہوئی جنہوں نے پی سی ایس کیا تھا اور وہ نارووال میں زیر تربیت ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر تھے مگر لیکچرار منتخب ہونے کے بعد اس طرح کے جاوہ جلال والی کرسی کو چھوڑ کر ہمارے رفیق کار ہو گئے تھے ۔ چنانچہ ایک عرصے تک بطور سٹاف سیکرٹری میّں ہر آنے جانے والے سے حسین احمد زبیر کا تعارف یوں کراتا تھا کہ یہ وہ شخص ہے جس نے افسری کو لات ماری ،پی سی ایس کو چھوڑا اور اُستادوں کی صف میں آگیا، تاآنکہ ہمارے پاس شمالی علاقہ جات اور کشمیر کے وزیر مملکت غالباً سردار جہانگیر کالج میں آئے اور میرے اس طرح کے تعارف کے بعد حسین احمد زبیر کو غور سے دیکھا اور پنجابی میں پوچھا ’کیوں تہاڈا دماغ خراب سی؟ ‘ اس واقعے کے بعد حسین احمد زبیر مرحوم نے میرے آگے ہاتھ جوڑ کر درخواست کی کہ میں کسی بھی شخص کے سامنے اُس کا تعارف کرانے سے باز رہوں۔ یہیں قیام کے دوران میری ایک مرتبہ پھر چوری ہوئی کہ میں کالج میں تھا بیوی میری بازار سے کچھ سامان لینے گئی تھی واپس آئی تو حیرت انگیز طور پر اُس کا ایک آدھ زیور، حافظ جلیل سے اُدھار کی رقم سے خریدا ہوا ریڈیو ، البتہ میرے تمام تر کپڑے ( اُس جوڑے کے سوا جو میں پہن کر کالج میں گیا) کوئی لے گیا تھا تب میں نے انتقاماً کھدر کے دو کُرتے اور لٹھے کے دو پاجامے سلوائے اور گرمیوں، سردیوں میں دو برس اس طرح سے پہنے کہ میرا نام ہی ایک کھدر پوش ملتانی اُستاد کا ہوگیا۔ یہاں ہفتہ وار ادبی مجالس بھی منعقد کرتے تھے جس میں میں نے اپنے ابتدائی افسانوں میں سے ایک افسانہ ’نوں جی‘ سنایا ، ایک دفعہ رفیق خاور جسکانی مرحوم آئے تو انہوں نے اس محفل میں قرآنِ مجید کا منظوم ترجمہ سنایا۔ ایک دفعہ محمد رفیق نے اقبال پر مضمون پڑھا ، ایک دومرتبہ حسین احمد زبیر اورمحمد لطیف نے اپنے مقالات پیش کئے۔ اس وقت یادوں کا ایک ہجوم مجھ پر یورش کررہا ہے بہت سے مہرباں اُستاد ذہین شاگرد، ہمدرد ہمسائے اور اپنی بیٹی نویرہ کی توتلی باتیں یاد آرہی ہیں۔ عربی کے اُستاد اللہ بخش قادری کے بہت سے واقعات، عترت حسین کاظمی کے بعض استخارے ،جغرافیے کے عبدالحق کی باتیں، رشید انگوی کا اپنے طالب علموں سے لگاﺅ، شیخ بلال احمد کے معصوم بیٹے کی محبت بھری لاچاری، الطاف بخاری،رستم الرحمن ،حشمت وفا، چودھری عبدالحمید، ایک سے ایک بڑھا ہوا انسان اور استاد۔پھر تاش کی محفلیں غرض کیا کیا سمیٹا جائے بس یوں سمجھئے کہ مجھے دسمبر 1975ء تک وہاں تین برس رہنے کا اعزاز حاصل ہوا اور وہاں کے رہنے والوں کےلئے میرا تعارف ایک ایسے اُستاد کے طور پر تھا کہ جو جماعت اسلامی سے وابستہ اُستادوں کی صف میں بیٹھتا تھا۔ پیپلز پارٹی کی امان میں آئے ہوئے بعض طالب علموں کی گستاخی کو نظر انداز کرنے پر تیار نہیں تھا، سَو اِس کے بعد مجھے ملتان آنا تھا ایک برس ایمرسن کالج میں گزار کر زکریا یونیورسٹی میں جانا تھا، چند ماہ کے بعد ہی ذوالفقار علی بھٹو کا تختہ اُلٹا جانا تھا اور میری اُس سے اُمید بھری محبت کو پھر جاگنا تھا اور اسلامی جمعیت طلبہ نے ہماری یونیورسٹی کو ضیاءالحق کی سرپرستی میں یرغمال بنانا تھا اور میری مزاحمت نے میرے لئے ایک سرخے، کمیونسٹ اور شاید بے دین اُستاد کے القابات وضع کرنے تھے اور ہاں میں یہ بتانا تو بھول ہی گیا کہ جب دسمبر1972ء میں میں اس کالج میں وارد ہوا تھا تو اس کا نام گورنمنٹ کالج رحیم یار خان تھا، تین برس بعد میں یہاں سے جارہا تھا تو اس کا نام خواجہ فرید کالج ہوچکا تھا۔ ہمارے پرنسپل سید اشرف علی شاہ نے ایک سٹاف میٹنگ میں نام کی تبدیلی کے بعد مجھ سے پوچھا تھا کہ خواجہ فرید کا کوئی ایسا مصرعہ بتاﺅں جو کالج کے گیٹ پر لکھوایا جاسکے۔ میں نے جب یہ بیت تجویز کیا ۔
جڈاں عشق فرید اُستاد کیتم ، سب علم عمل برباد کیتم
تو انہوں نے ایک دردناک مسکراہٹ کے ساتھ میری یہ تجویز مسترد کردی۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker