ملتان آرٹس کونسل کی ادبی بیٹھک کے روح رواں سلیم قیصر اور زاہد اقبال کا یہ اقدام خوش آئندہے کہ وہ ایسے لوگوں کے لیے محفلیں آراستہ کرتے ہیں جوکبھی خود محفل سجایا کرتے تھے اور جن کے بغیر تقریبات ادھوری تصورکی جاتی تھیں۔ جنہوں نے اس خطے اور اس شہر کے علمی،ادبی اورثقافتی منظرکو اجالنے میں بھرپور کردار ادا کیا لیکن کبھی صلے یا ستائش کی تمنا بھی نہیں کی۔حبیب فائق ایسی ہی ہستیوں میں سے ایک تھے۔وہ محکمہ انہارسے منسلک تھے ۔کلرک کی حیثیت سے ملازمت شروع کی اورپھر آفس سپرٹنڈنٹ کے عہدے سے ریٹائرہوگئے۔ محکمہ انہار کوآج کے دور میں بہتی گنگا سمجھا جاتا ہے لیکن اس زمانے میں جب نہ چیزیں کمپیوٹرائزتھیں اور نہ قواعد وضوابط اتنے مشکل تھے اس محکمے سے وابستہ افراد نے نہ صرف یہ کہ اس بہتی گنگا سے ہاتھ دھوئے بلکہ کمال ہنر سے پارسائی کا دامن بھی ہاتھ سے نہ جانے دیا اور جلال لکھنوی کے اس شعر کی عملی تصویر بنے رہے
شب کو مے خوب سی پی صبح کو توبہ کر لی
رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی
1980کے عشرے میں حبیب فائق سے میرا ابتدائی تعارف ہوا۔ وہ ہمارے لڑکپن کازمانہ تھا اور میں انہیں اردو اور سرائیکی کے مشاعروں اورتقریبات میں باقاعدگی کے ساتھ شرکت کرتے دیکھتا تھا ۔لیکن ان کے ساتھ میرا اصل تعارف اس زمانے میں ہوا جب میں 1985ءمیں ملتان سے لاہورمنتقل ہوا ۔لاہور میں میری بیٹھک محکمہ انہار کے ایکسین اور نامور نقاد ومحقق ڈاکٹر انور سدید کے ساتھ ہوتی تھی۔ڈاکٹر صاحب کا حبیب فائق کے ساتھ ایک محکمانہ تعلق بھی تھا۔اور فائق صاحب ابھی ریٹائرنہیں ہوئے تھے۔انورسدید صاحب سے ملاقات کے بعد میرے دل میں فائق صاحب کی قدرومنزلت میں اضافہ ہو گیا۔ ڈاکٹر صاحب کی زبانی معلوم ہوا کہ وہ کیسے کرپشن کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے تھے۔اورکیسے وہ اپنا کام لگن اوردیانت داری سے کرتے تھے۔ڈاکٹر انورسدید نے مجھے بہت سی ایسی کہانیاں سنائیں جن سے معلوم ہوا کہ ایماندری کے ساتھ کام کرنے والوں کومحکمہ انہار میں کن رکاوٹوں اور کرپٹ افسروں کے کیسے عتاب کا سامنا کرناپڑتا ہے۔ڈاکٹر انور سدیدکو ملنے سے پہلے میں انہیں صرف حبیب سمجھتاتھااورصرف ان کی لیاقت کاقائل تھا لیکن میرے لیے حبیب فائق انورسدید سے ملاقات کے بعد صرف لائق ہی نہ رہے فائق بھی ہوگئے۔
فائق صاحب کی ایک اورخوبی یہ تھی کہ وہ اپنی مادری زبان سے محبت تو کرتے ہی تھے لیکن ہم بہت عرصہ انہیں اردو شاعر کی حیثیت سے ہی جانتے رہے۔ جولسانی تعصبات ہم نے بعد کے زمانوں میں دیکھے وہ اس خوبصورت زمانے میں نہیں تھے۔حبیب فائق پرلکھنا مجھ پر ایک طویل عرصے سے قرض تھا۔ ان سے ملاقاتیں چونکہ زیادہ نہیں تھیں وہ میری کسی محفل یا مجلس کااقبال ارشد، حسین سحر، حیدرگردیزی اورارشد ملتانی کی طرح حصہ بھی نہیں تھے ۔ اس لیے وہ رفتگان ملتان میں شامل بھی نہ ہوسکے۔آج ملتان آرٹس کونسل نے مجھے یہ موقع بھی فراہم کردیا کہ میں ان کی یاد میں مضمون تحریر کروں اوراسے رفتگان ملتان کے اس تیسرے ایڈیشن کاحصہ بنادوں جوچند ماہ میں نئے اضافوں کے ساتھ منظرعام پرآنے والا ہے۔
فائق صاحب کے فن کی کئی جہتیں تھیں ۔وہ اردو اور سرائیکی کے شاعر بھی تھے ۔ریڈیو کے فیچر نگاربھی۔ انہوں نے کئی سرائیکی ڈرامے تحریر کیے۔ علامتی افسانے لکھے۔ انشائیے تحریر کیے۔ ان کی کچھ کتابیں شائع ہوگئیں لیکن شعری مجموعہ منظر عام پر نہ آسکا۔حبیب فائق نے علامہ عتیق فکری ،ارشد ملتانی، اسلم انصاری ، کیفی جام پوری، امید ملتانی، کیف انصاری، حزیں صدیقی، ایاز صدیقی، حیدرگردیزی،ممتاز العیشی ، حسن رضا گردیزی،ممتاز اطہر، عامرفہیم اور انور جمال جیسی ہستیوں کی قربت میں زندگی گزارنے کا ہنرسیکھا۔ان کے جد امجد منشی محمد بخش فائق فارسی، اردو اور سرائیکی کے شاعر تھے۔ ان کا کتب خانہ حبیب فائق کے مطالعے کاذریعہ بنا۔ یوں انہیں لفظوں اور ان کے مفاہیم سے ایسی آشنائی حاصل ہوئی جس نے ان کے کلام اورتحریر میں خوبصورت رنگ بھردیئے۔ دہلی مسلم ہوٹل ان کی مجلسی زندگی میں انتہائی اہمیت کاحامل تھا۔ 14اگست 2001ءکو یوم آزادی کے موقع پر ریڈیو پاکستان ملتان میں انہوں نے اپنی زندگی کاآخری مشاعرہ پڑھا اوراگلے روز 15اگست 2001ءکو وہ اس جہان فانی سے کوچ کرگئے۔اطمینان کی بات یہ ہے کہ ان کے داماد پروفیسر ڈاکٹر ریاض حسین ان کی روایت کو آگے بڑھارہے ہیں۔ حبیب فائق کے چند اشعار آپ سب کی نذ ر کرتاہوں۔
مفلسی جرم ہے زمانے میں
زندگی کا یہ راز پایاہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب لوگ پانیوں کی طلب میں نکل پڑے
سائے نکل کے دھوپ کی کشتی میں چل پڑے
صحرائے دل کو پیش ہے جاں کاسفر ابھی
کس کوخبر کہ کس گھڑی رہ میں اجل پڑے
فیس بک کمینٹ

