رضی الدین رضیکالملکھاری

رضی الدین رضی کا کالم ”مرے پر نہ باندھو “ : ڈاکٹر غزالہ خاکوانی کی آخری پرواز

لوگ اسے مغرور بھی کہتے تھے اور اس سے خوفزدہ بھی رہتے تھے ۔ لیکن ڈاکٹر غزالہ خاکوانی بنیادی طور پر ایک معصوم لڑکی تھی ۔ جو بہت بے ساختگی کے ساتھ بھری محفل میں‌کسی سے کوئی بھی سوال کر دیتی تھی ۔ اور لوگوں کو خوف ا س لیے آتا تھا کہ اس کے سوالوں اور جملوں سے معززین کا پول کھل جاتا تھا ۔کئی برس پہلے اس نے ایک صحافی سے بہت معصومیت کے ساتھ ایک محفل میں یہ پوچھ لیا تھا کہ آج اپنی بیگم کی موجودگی میں تم مجھ سے بات کرتے ہوئے گھبرا کیوں رہے ہوعام حالات میں تو بہت بے تکلف ہو تے ہو ؟
غزالہ خاکوانی کی جیون کہانی میں دکھ زیادہ ہیں ۔ کچھ معصومانہ خواہشیں اس کے لا حاصل جیون کا حاصل تھیں ۔ پانچ اپریل کو غزالہ خاکوانی تمام دکھوں سے آزاد ہو گئیں‌۔ غزالہ خاکوانی کو بہت کم عمری میں شہرت مل گئی ۔وہ خوبصورت بھی تھی اور ذہین بھی ۔ ملتان کے روایتی جاگیردار خاندان سے تعلق رکھنے والی غزالہ خاکوانی کا پہلا شعری مجموعہ ہی کھلی فضا میں‌پرواز کی خواہش ظاہر کرتا تھا ۔ ”مرے پر نہ باندھو “ اس کے شعری مجموعے کا چونکا دینے والا نام تھا ۔ 1980 کے عشرے میں جب ابھی عورت کی آزادی کے نعرے بھی بلند نہ ہوئے تھے غزالہ خاکوانی نے اپنی پہلی کتاب کے ذریعے سب کو چونکا دیا تھا ۔ وہ آزاد فضاؤں میں اڑنا چاہتی تھی ۔ اپنی مرضی سے بلندی کی طرف جانا چاہتی تھی اور ایک ایسے سماج میں جو 1980 کے عشرے میں بہت گھٹن کا شکار تھا اور یہ وہ زمانہ تھا جب ایسا جرات اظہار خال خال ہی دکھائی دیتا تھا ۔ غزالہ خاکوانی جرات کے ساتھ دو ٹوک بات کرتی تھی کسی لگی لپٹی کے بغیر ۔ کسی بھی محفل میں جب وہ بلند آواز سے بات کرتی تو سب اس کی جانب متوجہ ہو جاتے تھے ۔ لیکن اسے اس کی پروا ہی کب ہوتی تھی کہ اس کی گفتگو سے کسی پر کیا بیت رہی ہے ۔ لودھراں کے ایک سرکای مشاعرے میں جب اسے لاہور سے آئی ہوئی مہمان شعرا ء کے مقابلے میں کم اعزازیہ دیا گیا تو اس کے بے ساختہ جملے پر میزبانوں اور دیگر شعراء کو منہ چھپانے کی جگہ نہ مل رہی تھی
غزالہ خاکوانی کو پہلی بار میں نے 1986 میں ڈاکٹر انور سدید صاحب کے گھر دیکھا تھا اس زمانے میں وہ لاہور میں ہاؤس جاب کرتی تھیں اور میں بشریٰ رحمان کے پبلشنگ ہاؤس ”وطن دوست “ کے ساتھ منسلک تھا ۔لاہور کے ادبی حلقوں میں غزالہ کا طوطی بولتا تھا ۔ اسےاہم مشاعروں میں‌مدعو کیا جاتا تھا اور اس کے اعزاز میں تقریبات منعقد ہوتی تھیں ۔ غزالہ کو اس زمانے میں ہی شہرت کی اس بلندی پر پہنچا دیا گیا کہ پھر اس کی وہاں سے واپسی ممکن نہ رہی ۔
منیر نیازی ، جمیل الدین عالی ، حمایت علی شاعر ، انیس ناگی ، عبادت بریلوی عطاء الحق قاسمی ، عرش صدیقی سب اس کے معترف تھے ۔
اس کے پہلے شعری مجموعے نے دھوم مچا رکھی تھی ۔ ملتان کے روایتی خاندان سے تعلق رکھنے والی خوبصورت لڑکی جب کھل کر بات کرتی تھی اور رسم و رواج کے بندھن توڑنے کا اعلان کرتی تھی تو لوگ حیرت سے اسے دیکھتے تھے اور بے پناہ داد دیتے تھے ۔
ڈاکٹر جمیل جالبی کی رائے تھی
”ڈاکٹر غزالہ خاکوانی کی شاعری میں بے چہرگی کو دور کرنے کی خواہش تخلیقی جذبے کی صورت میں ان کی شاعری کا بنیادی موضوع بن گئی ہے”
ڈاکٹر انور سجاد کا کہنا تھا کہ
”غزالہ اپنے ارادوں میں ضد کی حد تک پکی ہے ۔ جس منزل کی تلاش میں وہ بچپن سے نکلی ہے وہ منزل اس سے بچ کر نہیں جا سکتی“ ۔
اور جیلانی کامران کا کہنا تھا
”اس نو عمر شاعرہ کے پردے میں اس عورت کی آواز بھی شامل ہے جسے آزادی سے محروم رکھا گیا اور جس کے لیے زندگی کا کوئی مفہوم ہی نہیں ہے“
اس کا دبنگ اور خود سر رویہ اس کے سینئرز کو بھی پریشان کرتا تھا ۔
ڈاکٹر عرش صدیقی استادوں کے استاد اور نظم کے بے پناہ شاعر تھے ۔ لیکن غزالہ خاکوانی کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا انداز کس قدر محتاط تھا اس کا اندازہ آپ کو ان کی اس رائے سے ہو جائے گا جو غزالہ کے دوسرے شعری مجموعے ” خود آشنائی “ کے پیش لفظ میں شامل ہے
”غزالہ جیسی خود سر شاعرہ کو کوئی مشورہ دینا خطرے کی بات ہے لیکن شاعری کے لا محدود امکانات ہیں اسے جلد بازی اور فوری کامیابی کی دلکشی کے سحر سے آزاد ہونا بہت کچھ نظر انداز کرنا اور اور بہت کچھ معاف کرنا ہو گا ۔“
لیکن شہرت کی اس بلندی پر پہنچنے والی اور” مرے پر نہ باندھو “کا اعلان کرنے والی غزالہ اپنی پرواز اسی رفتار سے جاری کیوں نہ رکھ سکی ۔ یہ ایک ایسا سوال ہے کہ جس کا جواب خود غزالہ کے بعض انٹرویوز میں موجود ہے ۔ غزالہ خاکوانی کا کہنا تھا کہ میں نے جب غیر معمولی پذیرائی کرنے والوں کی خوا ہشات کی تکمیل نہ کی تو پھر انہوں نے میرے راستے میں رکاوٹیں ڈالنا شروع کر دیں۔
اپنے بعض انٹرویوز میں انہوں نے نام ور شخصیات کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات بھی کیے ۔ ان کے ان انٹرویوز کی باز گشت طویل عرصہ سنائی دیتی رہی ۔ 1990 کے عشرے میں معروف صحافی اور کالم نگار ادیب اور ”مون ڈائجسٹ“ کے مدیر ادیب جاودانی کو انٹرویو دیتے ہوئے غزالہ خاکوانی نے اس زمانے کی ادبی اشرافیہ کے بارے میں کھلی باتیں کیں ۔ اس انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ مجھے میرے عاشقوں نے بہت نقصان پہنچایا ۔ بات یہیں تک رہتی تو شاید اتنا رد عمل بھی سامنے نہ آتا لیکن غزالہ نے ان عاشقوں کے نام بھی بتا دیے ۔ اسی دور میں جنوبی پنجاب سے افشاں عباس اور نوشی گیلانی کا بھی ادبی منظر پر ظہور ہوا تھا ۔ غزالہ خاکوانی کی ان کے ساتھ یک طرفہ معاصرانہ چشمک بھی ادبی حلقوں میں خوب زیر بحث رہی ۔غزالہ کا کہنا تھا کہ میرا راستہ روک کر ہم عصر شعرا کاراستہ ہموار کیا جا رہا ہے ۔ غزالہ خاکوانی کے شعری سفر کو ان کے ان بلند آہنگ انٹرویوز نے بھی بہت نقصان پہنچایا۔
1986 میں‌غزالہ کی کتاب ” مرے پر نہ باندھو “ کی تعارفی تقریب ہوئی تو صدارت کے لیے اس وقت کے صوبائی وزیر چوہدری عبدالغفور ملتان آئے انہوں نے محفل میں‌ڈاکٹر غزالہ کے والد یوسف خاکوانی کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلق کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی بتا دیا کہ اس کتاب کی اشاعت میں انہوں نے بطور وزیر اپنا کردار ادا کیا تھا ۔ بقول ان کے وہ مشاعروں میں شرکت کے لیے غزالہ کی راہ بھی ہموار کرتے رہے ۔
غزالہ خاکوانی نے اپنی شاعری کے ذریعے معاشرتی تضادات اور لوگوں کے دکھوں کواجاگر کیا ۔ ۔ وہ اپنی جرات اظہار کے حوالے سے پہچانی جاتی تھیں ۔
تمہارے بدن کی حدت
مری روح کی یخ بستگی کا علاج
مری روح پھر سے ٹھٹھرنے لگی ہے
مری ہی رگوں میں یہ جمنے لگی ہے
( حصار یار چاہیے)
میں جو کرنا چاہتی تھی وہ کر گزری
تم جو کرنا چاہتے تھے وہ کر نہیں پائے
میں عرش کو چھونا چاہتی تھی
سو میں نے چھو کے دیکھ لیا
تم ساری زمیں پہ اپنا قبضہ چاہتے تھے
تمہارے حوالے کی میں نے بھی اپنی زمیں
( فتح ؟ )
غزل انہوں نے کم کہی لیکن غزل میں بھی ان کا ایک اپنا اسلوب تھا
تا عمر میں رہی ہوں وفاؤں کے بھنور میں
ڈھونڈا ہے انہیں اپنی دعاؤں کے بھنور میں
دل نے ہے ابھرنے کا عمل ڈوب کے سیکھا
رہتا ہے سدا تیری اداؤں کے بھنور میں
ڈاکٹر غزالہ خاکوانی کے دو شعری مجموعے منظر عام پر آئے ۔ ” مرے پر نہ باندھو“ 1986 اور ”خود آشنائی“ 1989 میں منظر عام پر آیا ۔ ڈاکٹر غزالہ خاکوانی کے افسانوں کا مجموعہ ” در تو کھولیے کے نام سے شائع ہوا تھا ۔غزالہ خاکوانی کا اصل نام غزالہ تبسم تھا وہ ملتان میں پیدا ہوئیں اور اسی شہر سے ابتدائی تعلیم حاصل کی ۔ ایف ایس سی کے بعد انہوں نے قائد اعظم میڈیکل کالج بہاول پور سے ایم بی بی ایس کیا اور پھر ہاؤس جاب کے لیے لاہور چلی گئیں ۔لاہور سے واپسی کے بعد انہوں نے نشتر ہسپتال کے فیملی وارڈ میں‌رجسٹرار کی حیثیت سے خدمات انجام دیں‌۔ ڈاکٹر غزالہ خاکوانی طویل عرصہ ذیابیطس کا شکار رہیں ۔ ان کے لیے چلنا پھرنا بھی دشوار ہو گیا تھا ۔
ghazala khakwani
چوبیس فروری کو انہوں نے آخری بار ملتان کی کسی تقریب میں شرکت کی ۔یہ تقریب ادبی بیٹھک میں ڈاکٹر قاضی عابد کی یاد میں منعقد ہوئی تھی ۔ ڈاکٹر غزالہ خاکوانی کو گلہ تھا کہ ان کے دوست بھی اب ان کے فون کا جواب نہیں دیتے ۔ تقریب کے بعد وہ لاٹھی کے سہارے آرٹس کونسل سے باہر آئیں ۔ ایک بہت خوبصورت اور جرات مند لڑکی کو آخری بار اس حال میں دیکھنا بہت تکلیف دہ تھا ۔ وہ بہت سے سوال اور بہت سے شکوے دل میں لیے رخصت ہو گئی ۔ پانچ اپریل کی شب جب ہمیں مرے پر نہ باندھو کی شاعرہ کی آخری پرواز کی اطلاع ملی اس وقت تک اس کی تدفین بھی ہو چکی تھی ۔
(‌بشکریہ : روزنامہ ایکسپریس )

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker