شاکر حسین شاکرکالملکھاری

مارک ٹیلی کون ہے ؟ کہتا ہوں سچ / شاکر حسین شاکر

رضا علی عابدی کا شمار بی بی سی ریڈیو کے ان براڈکاسٹرز میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی محنت سے اس شعبہ میں نام کمایا۔ جناب رضا علی عابدی سے گزشتہ دنوں ملتان میں طویل نشستیں رہیں۔ ان نشستوں میں گفتگو کے دوران بی بی سی کے ایک معروف لیکن پاکستان دشمن براڈ کاسٹر ولیم مارک ٹیلی کا تذکرہ بھی ہوا۔ جیسے ہی مارک ٹیلی کے بارے میں ہم نے رضا علی عابدی سے دریافت کیا تو وہ کہنے لگے اس رپورٹر کی شہرت تو ایشیا میں بہت زیادہ رہی لیکن اس کے پسِ پردہ کچھ ایسے عوامل بھی ہیں جس کی وجہ سے انہیں بہت جلدی شہرت مل گئی۔ ان کی اس بات کے جواب میں میرا مؤ قف یہ تھا کہ مارک ٹیلی کو شہرت اس وجہ سے ملی جب ملکی میڈیا پر اصل حقائق چھپائے جاتے تھے۔ تو تب اہلِ پاکستان بی بی سی ریڈیو کی طرف رجوع کرتے تھے۔ ایسے میں مارک ٹیلی جیسے صحافی جو بھی جھوٹ موٹ خبریں ریڈیو بی بی سی پر بیان کرتے پاکستانی اس کے خود ساختہ جھوٹ کو سچ سمجھ کر آگے پھیلا دیتے۔ یہی مارک ٹیلی اور بی بی سی کی کامیابی تھی۔
مارک ٹیلی کون ہے؟ اس کو کس ایجنڈے کے تحت پاکستان، نیپال، بھارت اور سری لنکا بھیجا گیا؟ پھر مشرقی پاکستان کا جو سانحہ ہوا اس پر مارک ٹیلی نے پاکستان دشمنی پر رپورٹنگ کی وہ سب کے سامنے ہے۔ دوسری جانب جب بھی مارک ٹیلی سے بنگلہ دیش بننے کا احوال پوچھا جاتا ہے تو وہ واضح طور پر پاک فوج کے خلاف اپنا مؤ قف بیان کرتا ہے۔ بی بی سی کی پاکستان دشمنی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب مارک ٹیلی نے بنگلہ دیش بننے کی خبر فائل کی تو بی بی سی کے دفتر میں بھارتی عملے نے مٹھائی تقسیم کی۔ اندرا گاندھی کے دور میں جب بھارت میں ایمرجنسی لگی تو تب بھی مارک ٹیلی نے کوریج کی۔ مارک ٹیلی کے کریڈٹ میں ایک اور کوریج بھی ہے جو افغانستان اور روس کے درمیان جنگ کی ہے۔ اس کوریج نے بھی مارک ٹیلی کو بہت شہرت دی۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستان میں ضیا حکومت نے اخبارات پر سنسر شپ نافذ کر رکھا تھا۔ اور اخبارات میں اس کی مرضی کی خبریں اور پالیسی بیان شائع کیے جاتے تھے۔ پرائیویٹ میڈیا میں بی بی سی کو اتھارٹی سمجھا جاتا تھا۔ ایسے میں مارک ٹیلی جیسے پاکستان دشمن کی خبریں بھی پاکستان میں بڑی دلچسپی سے سنی جاتی تھیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس دور میں پاکستانیوں کے پاس کوئی دوسرا ذریعہ نہیں تھا جو پاکستان اور اردگرد کے حالات کی مصدقہ خبر دے سکے۔ ایسے میں مارک ٹیلی اپنی جھوٹی سچی خبروں کی وجہ سے پاکستان میں مقبول ترین شخص بن چکا تھا۔
مارک ٹیلی کی شہرت میں اس وقت بہت اضافہ ہوا جب اس نے اپنے نشریاتی ادارے بی بی سی کو بھٹو کی پھانسی کی خبر سب سے پہلے دی۔ پوری دنیا اور پاکستان میں یہ خبر فائل کرنے کا اعزاز بھی مارک ٹیلی کو حاصل ہوا کہ وہ پھانسی کی رات پنڈی جیل کے باہر موجود تھا۔ انگریز ہونے کے باوجود اس کے تعلقات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسے یہ معلوم تھا کہ چار جولائی کی رات پھانسی کی رات ہے اور ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی گھاٹ میں لٹکایا جائے گا۔اس خبر کے نشر ہونے کے بعد پاکستانی اخبارات نے پانچ جولائی کی صبح جو ضمیمے شائع کیے ان کا اصل کریڈٹ بی بی سی کو جاتا ہے۔ اس زمانے میں بی بی سی کا مطلب مارک ٹیلی ہوتا تھا۔
مارک ٹیلی نے یکے بعد دیگرے جنرل ضیاءکے خلاف خبریں فائل کیں تو اسے ضیاءحکومت نے پاکستان میں ناپسندیدہ شخص قرار دے کر ملک سے باہر کر دیا۔ حکومت نے اگرچہ یہ فیصلہ تو کر دیا لیکن عوامی سطح پر جب بھی لوگ کسی گورے کو دیکھتے تو وہ اسے مارک ٹیلی ہی سمجھتے۔ دوسری جانب بی بی سی کی طرف سے مارک ٹیلی کو یہ ٹاسک دیا جا چکا تھا کہ وہ پاکستان کے بارے میں سچی جھوٹی خبریں ارسال کرے تاکہ بی بی سی میں جو بھارتی عملہ تھا وہ اپنے مذموم عزائم کو پورا کر سکے۔
مارک ٹیلی کی پاکستان میں شہرت اتنی ہوئی کہ اس زمانے میں کوئی بھی گورا اپنے آپ کو مارک ٹیلی کہہ کر عزت کروا لیتا تھا۔ ریڈیو پر آواز سننے والے بھلا تصویر تک کیسے پہنچ سکتے تھے۔ ایسے میں بے شمار مارک ٹیلی پاکستان کے مختلف علاقوں میں پھیلے ہوئے تھے جبکہ اصل مارک ٹیلی تو پاکستان کے خلاف جھوٹی خبریں گھڑ کے اپنے نشریاتی ادارے کو بھجوا رہا تھا۔ مارک ٹیلی کو ایشیا میں رہنے کا فائدہ یہ ہوا کہ اس کا اُردو اور ہندی زبان پر بہت عبور ہو گیا۔ جب مارک ٹیلی نے افغانستان روس جنگ کے دوران دہلی آنے والے متاثرین سے ملنے کے بعد بی بی سی کو من گھڑت کہانیاں رپورٹ کرنی شروع کیں تو ایک طرف اس کی شہرت تو بہت ہوئی لیکن جب لوگوں کو مارک ٹیلی کی رپورٹنگ کی اصل حقیقت معلوم ہوئی تو انہوں نے بی بی سی سے احتجاج کیا جس کے بعد بی بی سی نے مارک ٹیلی کو افغان روس جنگ کی کوریج سے منع کر دیا۔
جیسے جیسے مارک ٹیلی کا پاکستان اور ہندوستان میں قیام بڑھ رہا تھا اس کے تعلقات بھی دونوں ممالک کے لوگوں سے بڑھتے جا رہے تھے۔ ہندوستان میں جب اس کا قیام بڑھا تو اس نے دوسری شادی ایک مسلمان اُردو بولنے والے گھرانے میں کر لی۔ جس کا علم مارک ٹیلی کی پہلی بیوی کو ہوا تو وہ برطانیہ سے دہلی آ گئی جس نے آ کر وہاں خوب ہنگامہ کیا جس کے نتیجہ میں اس نے پہلی بیوی کو بھی اپنے پاس رکھ لیا۔
24 اکتوبر 1935ءکو پیدا ہونے والامارک ٹیلی اب بھارت میں سر پروفیسر ولیم مارک ٹیلی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ وہ 30 برس تک بی بی سی کے ساتھ وابستہ رہا۔ 1994ءمیں جب مارک ٹیلی نے بی بی سی سے علیحدگی اختیار کی تو تب وہ شہرت کی وہ منازل طے کر چکا تھا جس کی ہر صحافی خواہش کرتا ہے۔
1964ءمیں جب مارک ٹیلی نے بی بی سی جوائن کیا تو وہ اپنی خواہش پر بھارت آ گیا جہاں پر اس کا بچپن گزرا تھا۔بھارت میں قیام کے دوران اس نے بھوپال گیس سانحہ کی کوریج کی۔ پاک بھارت جنگ میں اس کا جھکاؤ بھارت کی طرف رہا۔ آپریشن بلیو سٹار۔ سانحہ بابری مسجد۔ راجیو گاندھی کے قتل پر بھی اس کی کوریج کو توجہ سے سنا گیا۔ بھارت نوازی کی وجہ سے حکومت بھارت نے اسے اپنے ملک کا سب سے بڑا ایوارڈ پدماشری 1992ءمیں دیا۔ مارک ٹیلی کی اب تک بے شمار کتب شائع ہو چکی ہیں ان سب کا موضوع بھارت کی سیاست ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ذہنی طور پر بھارت سے محبت کرتا ہے۔ پاکستان جب بھی آیا اس نے ملک کو نقصان پہنچانے کی سازش کی۔ آج بھی مَیں اخبارات، ٹی وی اور سوشل میڈیا پر جب کوئی جھوٹی خبر دیکھتا یا پڑھتا ہوں تو یوں لگتا ہے اب مارک ٹیلی ہمارے ملک کے گلی محلوں میں پھیل گئے ہیں اور وہ اتنے طاقتور ہو گئے ہیں کہ ان کو اب غیر پسندیدہ قرار دے کر ہم اپنے ملک سے بے دخل بھی نہیں کر سکتے۔ جس طرح کبھی ہم نے مارک ٹلی کو بے دخل کیا۔ آج ہم کتنے بے بس ہو گئے ہیں کہ ملک دشمنوں کو گلے سے لگائے بیٹھے ہیں۔

( بشکریہ : روزنامہ ایکسپریس )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker